موجودہ تباہی کی وجہ عالمگیریت ہے - پروفیسر جمیل چودھری

متعدی امراض صدیوں پہلے بھی پھوٹتے تھے اس سے انسانوں اور جانوروں کا نقصان بھی ہو تا تھا۔لیکن ایسے امراض ایک حاص علاقے اور ملک تک محدود رہتے تھے ۔حضرت عمر کے زمانے میں طاعون بارے پڑھا جاتا ہے۔لیکن یہ وباء صرف شام کے علاقے تک محدود تھی ۔

یورپ میں بھی طاعون نے بڑی تباہی کی تھی۔لیکن پورے کرہ ارض تک نہیں پہنچی تھی۔تاریخ میں اور بھی وبائوں کا ذکر آتا ہے ۔لیکن جس طرح کرو نا وائرس چند ہفتوں میں پوری دنیا میں پھیل گیا اسکی مثال تاریخ میں نہیں ہے۔یہ صورت حال عالمگیریت کی وجہ سے ہے۔گزشتہ ایک صدی میں کرہ ارض ہر پہلو سے connectہوگیا ہے۔یہ ایک گائوں کی شکل اختیار کر گیا ہے ۔جیسے گائوں کی بات یا واقعہ تیزیسے پورے گائوں میں پھیلنے میں دیر نہیں لگاتا ایسے ہی کرو نا وائرس نے بھی دیر نہیں لگائی بہت سے عناصر رابطہ پیدا کر رہے تھے ۔ سازو سامان ، خدمات، سرمایہ، کارکن، انرجی کے وسائل ۡنظریات،اور ماحولیات وغیرہ۔عالمگیریت میں اضافہ سے ان عناصر کی حرکات میں بھی تیزی آرہی تھی۔ نقل و حمل کے ذرائع جتنے ا ب تیز ہیں ۔ آج سے 2 سویا 5 سو سال پہلے نہ تھے۔۔ایسے ہی ذرائع رسل و رسائل نے تو لمحوں لحاظ سے پوری دنیا کو جوڑا ہوا ہے ۔ قومی ریاستوں کا کنٹرول بھی اب
اس طرح سے نہیں ہے جیسے 100 سال پہلے تھا بہت سے اختیارات اب عالمی اداروں کے کی طرف منتقل ہو گئے ہیں ۔

عالمی اداروں میں ذمہ داری کا فقدان ہے۔۔امریکہ اگرچہ عالمی قوت شمار ہوتا ہے ۔لیکن وہ اپنے محدود مفادات کا خیال رکھتا ہے۔۔اس کامقصد اپنے ملک کی بین ا لاقوامی کمپنیوں کوفائدہ پہنچانا ہوتا ہے۔ امریکہ نے wto کے قوانین بناتے وقت بھی اپنی کمپنیوں کا خیال رکھا ۔ترقی پذیر ملکوں کے مفادات کو۔ ignore کیا۔جب چین اور بھارت جیسے بڑے ملکوں نے اپنی برآمدات بڑھائیں تو امریکہ نے دو طرفہ معاہدوں کی طرف توجہ دینی شروع کردی ۔ عالمی سطح پر سرمایہبھی امریکی مفادات کیلئے حرکت کر تا ہے ترقی پذیر ملکوں کو ملنے والی امداد کا فائدہ بھی آخرکارامریکہ کو ہی ہوتا ہے ۔موجودہ تباہی کو سمجھنے کیلئے دو طرح کے flow اہم ہیں۔پہلا گرین گیس جواوزون کی تہہ کو نقصان پہنچاتی ہے۔ دوسرا flow بیا لو جیکل ہے ۔

اس سے مختلف وائرس پھیلتے ہیں ان دونوں تباہی کو روکنے کیلئے عالمی سطح پر کچھ بھی نہیں ہو رہا ۔ موجودہ کرو نا وائرس کی ابتدا اگر چہ چین کے ایک شہر کی گوشت مارکیٹ سے نظر آتی ہے ۔چند دنوں میں یہ چین کے بڑے حصے کو کنٹرول میں لے لیتی ہے۔ چین دور جدید میں اشیاء سازی کی مشین شمار ہو تا ہے دنیا بھر کی کمپنیاں وہاں کام کر رہی ہیں یو رپ اور امریکہ کی کمپنیوں وہاں سستی لیبر اور سستے سرمایہ کی وجہ سے ڈیرے لگائے ہوئے ہیں ۔ بےشمار اشیاء بنکر بذریعہ سڑک ، ریل۔ بحری جہاز اور ہوائی جہازپورے کرہ ارض پر پھیل رہی ہیں۔ وہاں کام کر نے کیلئے کروڑوں کارکن گئے ہو ئے ہیں۔ مال و اسباب ،خدمات اور کارکنوں ں کا آنا جانا بہت تیزی سے ہو تا ہے ۔انہی ذرائع سے یہ وائرس دنیا میں تیزی سے پھیلا ۔عالمی تجارت سے فائدہ بھی ہے لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہ تجارت وائرس پھیلا نے کا سبب بھی بن رہی ہے۔ امریکی افواج بھی اس علاقے میں فوجی مشقوں کیلئے موجود تھیں ۔ان مشقوں
کی طرف بھی انگلیاں اٹھ رہی ہیں۔ بیا لو جیکل ہتھیار سے ہر کوئی واقف ہے۔

کچھ لوگ چین کو ہی ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔ یہ بھی امکان ہے کہ وائرس وہاں قدرتی طور پر پیدا ہوا ہو۔ 190 ملکوں تک تیزی سے پھیلنے کی سمجھ تیز رفتار نقل وحمل سے آتی ہے ۔عالمگیریت اسکا سبب واضح طور پر بن
رہی ہے۔اس کو روکنا صرف۔ ویکسین۔ سے ممکن ہے ۔لیکن ابھی تک ویکسین تجرباتی مرحلے میں ہے ۔اس کے فائنل ہو نے میں ابھی وقت لگے گا۔ تمام سات عناصر جن کا شروع میں ذک ہوا ،انکی حرکیات بہت تیز ہیں۔ ماحول خراب ہو رہا ہے۔ عالمگیریت کی وجہ سے سرحدیں کراس کرنے کا عمل بہت تیز ہے ۔اس تیزی سے اس وائرس کا کرہ ارض پر چند دنوں میں پھیل جانا سمجھ میں آتا ہے۔ حکومت پاکستان نے کافی احتیاطی تدابیر اختیاکرلی ہیں۔ غریبوں اور صنعتکاروں کیلئے سہولتوں کا اعلانہو گیا ہے ۔۔۔اللہ سے دعا ہے کہ اس آفت سے جلد جان چھوٹ جائے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com