دورۂ قرآن کی بھاری ذمہ داری لینے والوں کے نام - فرح رضوان

مجھے لگا کہ جس بات کا خدشہ ہے اسے آپس میں کر ہی لیا جاۓ تو یہ اس سے بہت بہتر ہوگا کہ بعد میں کوئی کہے کہ آپ پہلے کہتیں - آپ نے بھی یقینا محسوس کیا ہوگا کہ ہم فرقوں ،مسلکوں میں تو پہلے ہی بٹے جارہے تھے -ساتھ ہی مزید بٹوارہ یہ ہوا ہے کہ ایک طرف انتہائی مذہبی لباس میں،انتہائی برے اخلاقی رویوں والے افراد ہیں ،جن کی زبان ،لہجہ انداز ،الفاظ کوئی ایک بھی مصلحت و حکمت کیا سرے سے اسلام ہی کے منافی ہوتا ہے ؛اور یہ مخلص خیرخواہ مسلمان ساتھیوں یا اساتذہ سے انتہائی بدظن کردینے کا کام پہلے ہی بہت تندہی سے ہر ہر سطح پر انجام دے ہی رہے تھے کہ آگیا کرونا -

اب دوسری طرف ہے ایک ایسا طبقه جو بہت ذہین بھی ہے(دنیا کےلحاظ سے) ،اور معاشرے کی ترقی میں جی جان سے کردار بھی ادا کرنا چاہتا ہے، اور پیدائشی مسلم ہونےکے ناطے گھروں یا سلیبس سے اسلامی یاداشتیں تو کہیں موجود ہیں ذہن و عمل میں، کردار میں بھی ہیں ساتھ ہی ان میں اللہ سے محبت بھی موجود ہے لیکن سال کے گیارہ ماہ انکی صحبت زیادہ تر مذھب بیزار افراد ہی کی ہوتی ہے،جاب ،بزنس یا اینٹرٹنمیٹ اور سماجی /سیاسی تقریبات کی وجہ سے ،اسلیے لباس معیشت معاشرت مصلحت من و عن اسی طرز فکر کی حامل ہوجاتی ہے- تو اب جب کہ کرونا سے قبل دنیا بھر میں مسلمانوں کے حالات اور جراثیم پر مبنی اللہ کے اس غیبی لشکر کی تباہ کاری ،اور کارگزاری کے بعد،دل پر ان تمام اثرات کو لیۓ اور پہلی بار انسانی جانیں محفوظ رکھنے کی خاطر سوشل ڈسٹینسنگ مینٹین کرتے تن تنہا آن لائن جب دورۂ قرآن شروع ہوگا تو یہ نہ ہو کہ بہت زیادہ معلومات ،اور یقین اورعذاب کے خطرے کے احساس کے ساتھ آپ اپنے سامعین سے سختی سے مخاطب ہونے کو ترجیح دیں ! یہاں یہ بات واضح رہے کہ اللہ کی آیات میں جہاں سختی ہے اسے بدل کر نرم یا ہلکا کرنے کی بات ہرگز نہیں ہو رہی ہے،بلکہ صرف دو تین باتیں جن سے نقصان ہونے کا امکان ہے اس کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے -

پہلی یہ کہ قرآن عام افراد سے سخت بات کرنے سے روکتا ہے،کہیں یہ بات کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کو سراہا جارہا ہے کہ اگر آپ تند خو ہوتے تو لوگ آپکے پاس سے چھٹ جاتے،پھر یہ کہ موسی علیه السلام کو تاکید کہ فرعون سرکش تو ہوگیا ہے مگر آپ بات لطیف پراۓ میں ہی کیجیۓ گا-حدیث سکھاتی ہے جو نرمی سے گیا ہر خیر سے محروم ہوگیا -اور صبح شام کی دعاؤں میں ہم دل سے مانگتے ہیں کہ ہم کبھی کسی مسلمان کو برائی کی طرف نہ کھینچ لائیں- پھر اہم بات یہ کہ کسی کو دین سے روکنے کا وبال،اور شروع ہی میں سخت سست کہنا ،لباس پر معاش پر یہ کسی بھی دنیا کی جھوٹی محبتوں والے جملوں سے متاثر انسان کو دین سے روکنے ہی کے جیسا ہو سکتا ہے نا!...دیکھیں دورہ قرآن میں بلا شبہ آپکے سامعین پرانے ہوں مگر وہ آپکے شاگرد بھی نہیں ہوتے ہیں،پھر یا تو کسی پوسٹ پر انکو خاصی عزت سے بلایا جاتا ہے ،یا وہ پہلے ہی اپنی جابز یا گھروں میں خاصی بے عزتی برداشت کر رہے ہوتے ہیں -پھر یہ کہ یہ وہ لوگ نہیں ہوتے جو دین میں پورے کے پورے داخل ہونے کا مطلب سمجھیں،بلکہ یہ تو ہوتے ہی کنارے پر ہیں،تو بھلا کیا ہوتا ہے اس قیمتی نایاب گلاس کا جو کنارے پر رکھا ہو اور کوئی مقرر ہاتھ ہلا ہلا کر دھواں دھار طریقے سے ٹھنڈے پڑے دلوں کو گرمانے کی کوشش کر رہے ہوں ؟

بے ارادہ ہی سہی ایک دل ٹوٹتا ہے اور بازگشت سو تک پہنچتی ہے کہ "دین والے " سخت بہت ہوتے ہیں ہم نے نہیں جانا اور تم بھی نہ جانا کبھی دین سیکھنے ،ویسے بھی تو سبھی کچھ آتا ہے نا ! ….ایک بار غور کیجیے گا کہ ساڑھے نو سو سال کی تبلیغی مشقت کے بعد نوح علیہ السلام نے بیٹے کو آخری بار ڈپٹ کر کشتی میں آنے کہا ہوگا یا اولاد سے التجا ہی کر پاۓ ہونگے ! اس لیۓ براہ کرم دعا اور کوشش حتی الامکان یہی رکھیے کہ کسی دل پر چڑھا غفلت کا سخت ترین خول بھی محبت اورمہارت سے الگ کیا جاسکے - لہٰذا سنت پرعمل کرتےآسانی کیجیۓ دشواری نہیں خوشخبری دیجیۓ متنفر نہ کیجیۓ - اب سوال یہ کہ کیا کیا جاسکتا ہے ؟وقت کی اشد ضرورت تو ہے دلوں کا دین پر مائل ہونا تاکہ رب تعالیٰ ہم سبھی پر مائل بہ کرم ہو -

تو کیا یہ ممکن نہیں کہ سورہ المائدہ تک جوصرف پانچ چھ دن کا سفر ہوگا اس میں مختصر تفسیر کے دوران خوشخبریوں پر زیادہ فوکس رکھا جاۓ! یعنی صدقات کی فضیلت ،باہمی محبت اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ تعالیٰ بندے کو قتل جیسے گناہ پر بھی گلٹ میں نہیں رکھتے،توبہ میں آسانی وغیرہ وغیرہ - ساتھ ہی مسنون دعاؤں کی اہمیت سمجھا کر کچھ کی پکی عادت بنانے پر تاکید ،جیسے اللہ تعالیٰ کی محبت ،دیدار رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی رفاقت -----اور پھر خود مطمئن ہو جائیں کہ ہدایت آپکے ذمہ نہیں،اگر آج نہیں تو کل جب بھی یہ دعائیں قبول ہونگی تو بندے کا طرز معاشرت ،ذریعہ معاش،مستی، مزے ،مصلحت سب کا ذوق بدل ہی جانا ہے -

اور اللہ جسے ،جب ،جیسے چاہے ہدایت دے اور گناہ بخش دے - اب ایک سبق سورہ یوسف سے؛کہ انہوں نے اپنے بھائیوں کو اتنا کچھ ہونے پر بھی مورد الزام نہیں ٹہرایا سارا مدعا شیطان پر ڈال دیا -آپ بھی یہ کرسکتے ہیں کہ جب بھی سختی سے تنبیہہ کرنے کا وقت آئے تو فورا شیطان کی دشمنی اور اسکے وعدے ہائیلائٹ کیجیۓ کہ اس نے تو اللہ تعالیٰ کی عزت کی قسم کھا کر کہا تھا "سیدھی راہ پر بیٹھ کر لوگوں کو اغوا کروں گا " بچے اغوا کیسے ہوتے ہیں ؟ محبت یا کینڈی کے لالچ میں ….تو اب خواہ بے حیائی ہے یا ڈھٹائی ہے بہت سے معاملات سامع پر براہ راست رکھ کر اسے گلٹ میں ڈالنے کے بجاۓ،توبہ کے کھلے در کی جانب توجہ دلائیں -اور شفاعت کے جھوٹے دعویداروں کے چنگل سے نکال کر مستند معلومات کا شوق بیدار کیجیۓ - ایک بہت اچھا کام یہ ہو سکتا ہے،جس میں اگر ایکسٹرا وقت لگا بھی تو پانچ منٹ سے زائد نہیں ہوگا جسے برداشت یا مینٹین کیا جاسکتا ہے - وہ ہے ہلکی پھلکی گرامر سے تعارف ،جس سے سامنے والے کی ذھانت کو متوجہ کیا جاۓ کہ کلام الہی سمجھنے کی لگن بڑھ جاۓ ،جیسے ضمائر بتا دیے جائیں