امداد غریب تک پہنچ جائیگی- حبیب الرحمن

حکومت اس بات کا مسلسل اعلان تو کر رہی ہے کہ وہ غربت کی لکیر سے نیچے والوں کی نہ صرف مدد کرے گی بلکہ ان کے گھر تک امدادی رقم پہنچائے گی۔ حکومت کا یہ اعلان کافی خوش کن ہی سہی لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اگر حکومت اعلان کردہ رقم کو واقعی کسی غریب تک پہنچانے میں کامیاب ہو بھی جائے گی تو کیا وہ رقم اتنی ہے کہ اس میں کسی خاندان کا ایک مہینے تک گزارا ہو سکے؟۔

امداد کی جس رقم کا اعلان کیا گیا ہے اگر اس سے غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والوں کا تخمینہ لگایا جائے تو وہ بصد مشکل فی گھر ڈھائی سے تین ہزار بنتی ہے۔ پاکستان میں ایک خاندان کے افراد کی اوسط 6 بنتی ہے۔ کیا 6 افراد پر مشتمل خاندان 30 دنوں تک صرف 3 ہزار روپوں میں پیٹ بھر کر 2 وقت کا کھانا کھا سکتا ہے؟۔ یہ تو رہا غربت کی لکیر کے نیچے والے گزارا کرنے والے ایک خاندان کا ایک ماہ کا راشن جس میں وہ 3 ہزار روپوں میں ایک ماہ تک اپنی دو وقت کی روٹی پوری کرے گا، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت کے پاس ایسا ڈیٹا بھی موجود ہے جس میں غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والوں کے سارے نام و پتے موجود ہوں؟۔

ایسے افرا یا خاندان کون ہیں، کیا کام کرتے ہیں، کن علاقوں کے ہیں، اپنے روز گار کیلئے انھیں اپنے اپنے علاقوں سے کن کن شہروں میں عارضی طور پر رہنا پڑتا ہے یا وہ اپنے علاقوں کو چھوڑ چھاڑ کر دیار غیر میں سکونت اختیار کر چکے ہیں۔ کرائے پر رہتے ہیں یا اپنے لئے کوئی چھوٹا موٹا سا مکان یا کوئی جھونپڑی بنا لینے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ ان میں کتنے ملکی ہیں اور کتنے غیر ملکی۔ کیا ان سب نے پاکستان کے شناختی کارڈ بنا بھی لئے ہیں یا نہیں۔ وہ اپنی ضرورت یا روزگار کی وجہ سے نقلِ مکانی بھی کرتے ہیں یا مستقل ایک ہی جگہ پڑے رہتے ہیں۔ اپنے علاقوں سے جب وہ دوسرے شہروں میں جاتے ہیں تو کیا ان کے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کا کوئی ریکارڈ بھی ہوتا ہے یا نہیں۔ اسی قسم کا وہ کونسا تفصیلی ریکارڈ ہے جس کو حکومت پاکستان یا حکومتِ پاکستان کا کوئی محکمہ اپ ڈیٹ رکھتا ہے۔

پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور معاشی حب کراچی ہے جس میں پاکستان کے ہر شہر، گاؤں دیہات اور صوبوں کے افراد اپنے اپنے پیٹ کی ضرورت کو پورا کرنے آتے ہیں۔ اس میں ہزاروں کی تعداد میں وہ بھی ہوتے ہیں جن کو عرفِ عام میں "چھڑا" کہا جاتا ہے۔ ان سب افراد کا زیادہ تر ایسے خاندانوں سے تعلق ہوتا ہے جو غربت کی لکیر سے بہت ہی نیچے کے ہوتے ہیں۔ ایسے افراد بہت ہی عارضی قیام کرنے والوں میں سے ہوتے ہیں۔ کچھ خاندانوں کے ساتھ بھی آتے ہیں لیکن ان میں بھی زیادہ تر عارضی قیام کرنے والے ہوتے ہیں لیکن کچھ خاندان ایسے بھی ہیں جو بیسیوں برسوں سے کراچی میں ہی آباد ہیں۔ ایسے خاندان زیادہ تر کرائے کے مکانوں میں رہتے ہیں لیکن خانہ بدوشوں کی طرح ایک علاقے سے سے دوسرے علاقے کی جانب منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ یہاں نوٹ کرنے کی بات یہ ہے کہ ان میں سے 90 فیصد سے زیادہ وہ لوگ ہیں جو انتخابی فہرستوں تک میں اپنا اندراج کراچی سے کرانا پسند نہیں کرتے بلکہ اپنے اپنے آبائی علاقوں ہی میں ان کے ناموں کا اندراج ہوتا ہے جس کا سب سے بڑا ثبوت مردم شماری میں کراچی کی کل آبادی کا نصف سے بھی کم شمار ہونا ہے۔ ایسے خاندانوں کی اکثریت کے پاس یا تو شناختی کارڈ ہی نہیں ہوتا یا پھر کم از کم کراچی کے پتے والا شناختی کارڈ تو ہوتا ہی نہیں ہے۔ ایسی صورت میں کیا حکومت بتا سکتی ہے کہ جن "مستحق" افراد تک اس نے تین ہزار روپوں کی ایک "قابل ذکر" خطیر رقم غربت کی لکیر سے نیچے والے خاندانوں تک پہنچانے کی بات کی ہے وہ واقعی ان لوگوں تک پہنچ جائے گی؟۔

غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والوں میں ایک بڑی تعداد کراچی میں آئے ہوئے دیگر صوبوں کے افراد بھی شامل ہیں لیکن موجودہ صورت حال میں لاکھوں افراد جو اب یہاں سے ہجرت کرکے اپنے اپنے آبائی شہروں میں نکل چکے ہیں اور اگر راہیں بالکل ہی مسدود نہیں کردی گئیں تو مزید لاکھوں افراد کراچی سے باہر اپنے اپنے علاقوں کی جانب نکل جانے کی کوشش کریں گے تو کیا حکومت کے پاس ایسا کوئی ریکارڈ ہے کہ کراچی میں عارضی یا مستقل قیام پزیر ایسے خاندان جو نہایت غریب اور حکومتی امداد کے مستحق تھے وہ پہلے کراچی میں کہاں کہاں رہا کرتے تھے اور اب وہ کن کن علاقوں کی جانب ہجرت کر چکے ہیں۔ اگر ایسا ریکارڈ موجود ہے تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ امدادی رقم لازماً مستحق افراد تک پہنچ جائے گی، بصورتِ دیگر غریبوں کا پیٹ بھرے یا نہ بھرے، کاغذات کا پیٹ ضرور بھر دیا جائے گا۔

ملک میں جس پارٹی کی حکومت ہے ایک تو اس کا "ووٹوں" کی ذریعے حکومت میں آنا ہی مشکوک ہے لیکن اگر مان بھی لیا جائے تو جو پارٹی "بھان متی کا کنبہ" سے زیادہ حیثیت ہی نہ رکھتی ہو اس کے پاس پورے ملک میں اتنے کارکن ہی کب ہوں گے جو کم از کم پورے پاکستان کے غریبوں کا علم بھی رکھتے ہوں اور وہ غریبوں کا دروازہ بجا کر کسی غریب تک پوری دیانتداری کے ساتھ ایسا نیک کام بلا کسی لالچ کر سکیں۔ عام طور پر ایسا کام فلاحی تنظیمیں، فلاہی ادارے، کراچی کی ایک سیاسی پارٹی یا پھر جماعت اسلامی کے کارکنان ہی کرتے نظر آئے ہیں۔ کیا حکومت ان ساری فلاحی تنظیموں، سیاسی پارٹیوں اور سماجی این جی اوز کو ایسے فنڈ منتقل کر سکتی ہے؟۔ اگر وہ ایسا کرسکتی ہے تو پھر اس بات کا امکان ہے کہ مقررہ رقم مستحق افراد تک پہنچ ہی جائے کیونکہ ایسی سب تنظیموں اور پارٹیوں کے کار کنان کو اپنے اپنے علاقوں کے مستحق افراد کا علم ہوتا ہے یا پھر وہ مستحق افراد کیلئے شہر بھر میں بڑے بڑے لنگر، فلاحی ہسپتال اور فلاحی ادارے بغیر کسی لالچ کے چلا رہے ہوتے ہیں۔

حکومت کے ان ہی اقدامات کے اٹھائے جانے پر نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان اور صدر مجلس قائمہ سیاسی امور لیاقت بلوچ نے کہاہے کہ "حکومت کے اعلانات کے ثمرات ابھی تک عوام کو منتقل نہیں ہورہے، حکومتی ریلیف کے کاموں کا عام غریب آدمی تک منتقل ہونے کا کوئی میکنزم نہیں"۔

جس حکومت کے پاس یہی ریکارڈ نہ ہو کہ ایک شہر سے دوسرے شہر جانے والے کون کون ہوا کرتے ہیں اور ان کے آنے اور جانے کا کہیں اندراج تک نہ ہوتا ہو، اسے اس بات کا اندازہ ہونے کے باوجود کہ پاکستان میں غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار نے والے 25 فیصد سے بھی زیادہ افراد ہیں لیکن اسے یہ معلوم ہی نہ ہو کہ ایسے افراد کون کون ہیں اور کہاں کہاں رہتے ہیں، وہ اگر چاہے بھی کہ ایسے افراد کی مدد کی جائے تو وہ کرے گی بھی تو کیسے کرے گی؟۔ ان حقائق کو اگر سامنے رکھا جائے تو لیاقت بلوچ کے تحفظات میں کافی وزن پایا جاتا ہے اور حکومت ہی کو نہیں، پاکستان کی ساری تنظیموں اور سیاسی پارٹیوں کو اس پر نہایت سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کی ضرورت ہے۔

ہر بات کا ایک حل ہوا کرتا ہے اس لئے اس بحث میں پڑے بغیر کہ حکومت کے پاس غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے کتنے خاندان ہیں اور موجودہ صورت حال میں اب وہ کہاں کہاں منتقل ہو چکے ہیں، کرنے کا کام یہ ہے کہ حکومت اپنی دشمنیاں بڑھانے کی بجائی دوستی کی جانب پیش قدمی کرے اور پاکستان کے ایک ایک فرد کو "پاکستان" سمجھے۔ اس مشکل کی گھڑی میں اس بات کی شدت سے ضرورت ہے کہ ہر سیاسی، سماجی، فلاحی تنظیموں، جماعتوں اور اداروں کے ساتھ ساتھ مخیر حضرات کو بھی اپنے اعتماد میں لے اور کسی کی بھی نیت، ایمانداری اور دیانتداری پر شبہ کئے بغیر ہر ایسا فنڈ جو عوامی فلاح و بہبود کیلئے مختص کیا جانا ہو یا باہر سے آنے والی امدادی رقم جو مشکل میں گھرے عوام پر لگانی ہو، اس کو ان سب میں بلا تاخیر تقسیم کر دے۔ یہ سب تنظیمیں، فلاحی ادارے، کچھ سیاسی و مذہبی جماعتیں اور مخیر حضرات اپنے اپنے علاقوں میں رہنے والے افراد کے متعلق نہ صرف وسیع معلومات رکھتے ہیں بلکہ ان کے پاس اپنے اپنے کارندوں اور کارکنوں کا ایک بڑا نیٹ ورک بھی موجود ہوتا ہے۔ ایسا کرنے سے نہ صرف قومی یک جہتی پیدا ہوگی بلکہ اس بات کا امکان موجود ہے کہ حکومت کی دی ہوئی امدادی رقوم یا اشیائے خورد و نوش مستحق افراد تک پہنچ سکیں گی جبکہ حکومت از خود شاید ایسا کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔

عمران خان کے متعلق لیاقت بلوچ کا ایسا کہنا "عمران خان انا ، ضد ، ہٹ دھرمی کے خول سے باہر نہیں آرہے" ان کا اپنا ایک نقطہ نظر تو ہو سکتا ہے لیکن عمران خان جس انداز میں سوچ رہے ہیں، وہ بھی ایک وزن رکھتا ہے۔ عمران خان کا یہ کہنا کہ مکمل لاک ڈاؤن یا کرفیو مشکلات میں اضافہ کر سکتا ہے، بہت غلط بھی نہیں۔ اس میں کسی ضد یا ہٹ سے زیادہ وہ درد ہے جو روز کما کر روز کھانے والوں کے دلوں پر گزرنے کا امکان ہے اس لئے وہ مخیر حضرات جن کے تعاون سے پاکستان کے سیکڑوں مزاروں، درگاہوں اور خانقاہوں پر 24 گھنٹے دیگوں پر دیگیں چڑھا کرتی تھیں ان سے گزارش ہے کہ وہ ایسی بستیوں کے قریب جہاں بہت غریب افراد زیادہ رہتے ہوں، وہاں دیگوں پر دیگیں چڑھانے کا انتظام کریں۔

ان کا یہ عمل ایک جانب ان کے اجر و ثواب میں اضافہ کریگا تو دوسری جانب لوگوں کے بھوکا رہنے کی امکانات بھی ختم ہو جائیں گے۔ حکومت، تنظیمیں، سیاسی و سماجی پارٹیاں اور مخیر حضرات اگر اسی طرح ذمہ داری کے ساتھ مل کر اور قومی یکجہتی کے ساتھ کام کرنے لگیں تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان اس آفتِ ناگہانی سے نکلنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com