کرونا وائرس، نماز با جماعت اور کندھے سے کندھا ملانا - محمد اویس حیدر

یہ وہ موضوع ہے جس پر ہمارے ہاں آج کل سب سے زیادہ بحث دیکھنے کو مل رہی ہے۔ کچھ علما اس کے کسی صورت بھی موقوف ہونے کے قائل نہیں اور اسی پر مسلسل ویڈیو بیانات بھی دے رہے ہیں جبکہ کچھ علما کے نزدیک اس موجودہ وقت میں پھیلی وبا اور انسانی جان کی حفاظت کے پیشِ نظر اسے عارضی طور موقوف کر دینے میں کوئی قباحت نہیں۔ ان خیال کے حامی علما کی وڈیوز بھی دیکھنے کو مل رہی ہیں۔
میں کوئی عالم فاضل نہیں اس لیے صحیح غلط یا افضل و کمتر کی نشاندھی نہیں کر سکتا۔ البتہ ایک بار ضرور کہنا چاہوں گا اور وہ یہ کہ دین نے ہمیں کندھے سے کندھا ملانے کا حکم آخر کیوں دیا ہے ؟ کیا یہ صرف ایک رسم ہے یا اس کے پیچھے کوئی خاص وجہ اور حکمت بھی پوشیدہ ہے ؟

جتنی وڈیوز دیکھنے کو ملیں ان میں صرف جذبات کو ابھارا جا رہا ہے کہ ٹخنے سے ٹخنہ اور کندھے سے کندھا نہ ملایا تو اللہ مزید ناراض ہو جائے گا کیونکہ اس کا تعلق دین کے بنیادی احکامات سے ہے۔
غور کرنے کی بات کہ عالمگیر حقائق کو سمیٹے ایک مکمل دین جسے مکمل ضابطہ حیات مانا جاتا ہے کیا اس کی دلچسپی صرف کچھ لوگوں کے کچھ دیر کے لیے کعبے کے رخ پر کھڑے ہو کر رکوع و سجود کرنے میں پوشیدہ ہے اور یہ کچھ لوگوں کا اکٹھا ہونے کا معاملہ اتنا نازک ہے کہ اللہ تعالیٰ کی فوری ناراضی کا سبب بن جاتا ہے ؟ کیا کہیں ایسا تو نہیں کہ کندھے سے کندھا ملا کر جماعت کی صورت اختیار کرنا صرف ظاہری گیسچر نہیں بلکہ ساتھ ساتھ کسی اور طرف بھی اشارہ ہو اور یہی اس حکم کی بنیاد ہو ؟

مجھے افسوس ہے کہ ابھی تک کسی ایک بھی عالم کی طرف سے یہ پیغام سننے کو نہیں ملا کہ تمام اہل علاقہ خواہ جس عالم کی بھی پیروی کرتے ہوئے نماز گھر یا مسجد جہاں بھی ادا کریں لیکن وبا اور خصوصاً لاک ڈاؤن کی اس صورتحال میں جہاں بیشتر افراد کے روزگار بند پڑے ہیں جبکہ بےشمار لوگ ایسے ہیں جن کے پاس چار دن سے زیادہ کا راشن گھر میں موجود نہیں، بے شمار لوگ اپنے گھروں کے کرایوں کو لے کر پریشان ہیں، دیہاڑی دار طبقہ منہ اٹھا اٹھا کر آسمان کو دیکھ رہا ہے، ریڑھی لگانے والے، رکشے چلانے والے، گھروں میں صفائی ستھرائی کا کام کرنے والی عورتیں، بازاروں میں غبارے، پین پینسلیں یا اس طرح کی چھوٹی چھوٹی اشیاء فروخت کر کے روزانہ کا سو ڈیڑھ سو کمانے والے، اور وہ سفید پوش لوگ جو اپنے چہروں سے اپنی مالی پریشانیاں عیاں ہونے نہیں دیتے جبکہ کئی لوگ تو ایسے ہیں جو بلڈ پریشر، شوگر جیسی تاعمر نبھنے والی بیماریوں میں مبتلا ہیں جبکہ روزانہ کے حساب سے ان بیماریوں کے لیے دوا خریدنے کے پیسے نہیں۔ ان سب احباب کو ساتھ لے کر مشکل کے اس وقت میں آپس میں کندھے سے کندھا ملاتے ہوئے ایک جماعت، ایک دوسرے کا سہارا ضرور بنیں۔

یہ بھی پڑھیں:   آپ کو گھبرانا نہیں - حبیب الرحمن

کیا یہ مشکل ہے کہ جن حضرات مکرمین کے پاس گھر میں موجودہ وقت کو گزارنے کے لیے پچاس ہزار روپے موجود ہیں وہ ان میں سے صرف دو ہزار روپے نکال کر اپنے کسی قریبی شخص کو دے کر اس سے کندھا ملا لیں۔ جن کے پاس لاکھ ہے وہ چار ہزار نکال لیں اسی طرح جن کے پاس اس سے زیادہ ہیں وہ اور زیادہ نکال لیں ؟ پچاس ہزار سے دو ہزار نکال کر اڑتالیس ہزار سے اگر آپ کا گزارا مشکل ہو جائے گا ؟ تو جس کے پاس ہو ہی دو چار ہزار یا چلیں دس ہزار وہ گزارا کیسے کر رہا ہے؟تیسویں پارے میں موجود سورۃ الماعون کا ترجمہ ہے

" اَرَءَیۡتَ الَّذِیۡ یُکَذِّبُ بِالدِّیۡنِ ؕ﴿۱﴾

کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جو دین کو جھٹلاتا ہے

فَذٰلِکَ الَّذِیۡ یَدُعُّ الۡیَتِیۡمَ ۙ﴿۲﴾

تو یہ وہ شخص ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے ( یعنی یتیموں کی حاجات کو ردّ کرتا اور انہیں حق سے محروم رکھتا ہے )

وَ لَا یَحُضُّ عَلٰی طَعَامِ الۡمِسۡکِیۡنِ ؕ﴿۳﴾

اور محتاج کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا ( یعنی معاشرے سے غریبوں اور محتاجوں کے معاشی اِستحصال کے خاتمے کی کوشش نہیں کرتا )

فَوَیۡلٌ لِّلۡمُصَلِّیۡنَ ۙ﴿۴﴾

پس افسوس ( اور خرابی ) ہے ان نمازیوں کے لئے

الَّذِیۡنَ ہُمۡ عَنۡ صَلَاتِہِمۡ سَاہُوۡنَ ۙ﴿۵﴾

جو اپنی نماز ( کی روح ) سے بے خبر ہیں ( یعنی انہیں محض حقوق اﷲ یاد ہیں حقوق العباد بھلا بیٹھے ہیں )

الَّذِیۡنَ ہُمۡ یُرَآءُوۡنَ ۙ﴿۶﴾

وہ لوگ ( عبادت میں ) دکھلاوا کرتے ہیں ( کیونکہ وہ خالق کی رسمی بندگی بجا لاتے ہیں اور پسی ہوئی مخلوق سے بے پرواہی برت رہے ہیں )

وَ یَمۡنَعُوۡنَ الۡمَاعُوۡنَ ٪﴿۷﴾

اور وہ برتنے کی معمولی سی چیز بھی مانگے نہیں دیتے"

ان آیات پر غور کریں کیا کہیں ایسا تو نہیں کہ ہماری یہ رسمی نمازیں اور ان پر موجود مباحث کچھ اور ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کے بتائے جماعت کے تقاضے کچھ اور ہیں ؟ آخر یہ کون سے نمازی ہیں جن کی نمازیں بھی جاری ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان نمازیوں پر افسوس کیا جا رہا ہے ؟

یہ بھی پڑھیں:   سعودی عرب کا بڑا فیصلہ، کورونا وائرس کے پھیلنے کا خدشہ۔۔۔پورا ملک لاک ڈاؤن

آزمائش اور بلا کے اس سخت وقت میں ضرور ٹخنے سے ٹخنہ اور کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوں لیکن صرف مسجد کی چار دیواری کے درمیان عبادت کی رسم نبھانے کے لیے نہیں بلکہ باہر معاشرے میں ایک دوسرے کا سہارا بننے کے لیے۔ تاکہ نماز محض پڑھی نہ جائے بلکہ ادا ہو اور اپنے پورے تقاضوں کے ساتھ قائم ہو۔ لوگوں کے ساتھ فیزیکلی ان ٹچ ہونا ہے قلبی طور پر نہیں۔
کوشش کریں اور نماز با جماعت کے مفہوم کو سمجھتے ہوئے ایک جماعت بن کر نماز قائم کریں۔