کیا "حکومت" کو "اقتدار" حاصل ہے - حبیب الرحمن

عمران خان ملک کے کتنے با اختیار وزیر اعظم ہیں یا ان کے ہاتھ پاؤں کتنی بری طرح جکڑے ہوئے ہیں یہ تو وہ خود ہیں بتادیں تو بہت اچھا ہے اس طرح ممکن ہے کہ ان کا سچ ان کو بہت سارے دباؤ سے آزاد کر دے جس کے نتیجے میں مخالفین کا منھ بند ہو جائے یا ممکن ہے کہ حمایت کرنے والوں کا منھ کھلا کا کھلا رہ جائے۔

موجودہ صورت حال کو سامنے رکھا جائے تو بہت سارے تضادات ایسے ہیں جنھیں نہ تو قوم آسانی سے قبول کر سکتی ہے اور نہ ہی عمران خان کو اس معاملے میں غیر سنجیدہ ہونا چاہیے۔ اگر دیانتداری سے دیکھا جائے تو یوں لگتا ہے کہ موجودہ صورت حال سے جس انداز میں عمران خان نمٹنا چاہ رہے ہیں وہ انداز اس سے یکسر مختلف ہے جو اداروں کی جانب سے دیکھنے میں آ رہا ہے۔ پرسوں آئی ایس پی آر کی جانب سے جن اقدامات کو اٹھانے کا اعلان کیا گیا ہے وہ اس سوچ سے یکسر مختلف ہے جس کا اظہار وزیر اعظم متعدد بار کرتے چلے آ رہے ہیں۔ وزیرِ اعظم عمران خان مسلسل یہی بات کہتے آئے ہیں کہ وہ کسی بھی شہر کو مکمل طریقے سے لاک ڈاؤن کرنے کے حق میں نہیں جبکہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جن اعلانات اور اقدامات کے اٹھائے جانے کا کہا گیا وہ وزیر اعظم کے خیالات کے بالکل برعکس ہے۔

قوم نے یہ گمان کر لیا کہ شاید شام کے کسی پہر وزیر اعظم کی مشاورت کے بعد وزیر اعظم کے خیالات میں کوئی تبدیلی آ گئی ہو اس لئے سب نے خاموشی اختیار رکھی لیکن ابھی آئی ایس پی آر کی جانب سے اعلان کو 24 سے بھی کم گھنٹے گزرے ہونگے کہ وزیر اعظم نے میڈیا کے اہم نمائندوں کو بلا کر ان کے سامنے جس انداز میں میڈیا کے نمائندوں کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کا جواب دیا وہ ایک مرتبہ پھر آئی ایس پی آر کے اٹھائے جانے والے اقدامات کے اعلان کی نفی کرتا ہوا نظر آیا اور انھوں نے ایک مرتبہ پھر اپنے سابقہ مؤقف کو دہراتے ہوئے اس بات کو واضح کیا کہ شہروں کو بالکل سر بمہر کر دینا شاید اس سے بھی کہیں زیادہ خطرناک نتائچ دے سکتا ہے جو کورونا کے پھیلاؤ کی صورت میں قوم کے سامنے آنے والے ہیں۔ ان کی میڈیا کے نمائندوں کے سامنے جو کچھ بھی بات چیت ہوئی اس کا نچوڑ یہی تھا کہ مکمل لاک ڈاؤن پاکستان کے حق میں نہیں اور جہاں اس معاملے میں اتنی تاخیر ہوگئی ہے وہاں کچھ دن اور صورتِ حال کا جائزہ لینے میں کوئی ہرج نہیں۔

وزیر اعظم کی میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ جو بھی گفتگو ہوئی وہ اس بات کی جانب واضح اشارہ ہے کہ وزارت دفاع کے حوالے سے آئی ایس پی آر کی جانب سے جو بھی اعلان کیا گیا اس میں شاید ان کی مشاورت شامل نہیں رہی تھی یا جس انداز میں اقدامات اٹھائے جانے کا اعلان کیا گیا وہ اس مشاورت سے، سہواً ہی سہی، یا تو بر عکس تھا یا مشاورت کے بعد اس کو کسی اور زاویہ نگاہ سے سمجھا گیا تھا۔اپنے سابقہ بیان ہی کی تائید میں ایک مرتبہ پھر میڈیا کے نمائندوں کے توسط سے نہ صرف عوام کو بلکہ پاکستان کے با اختیار ادارے کو وزیر اعظم نے واضح کر دیا کہ شاید آنے والے دنوں میں وہی کچھ کرنا پڑ جائے جس کا اعلان سامنے آیا ہے لیکن ابھی وہ وقت نہیں آیا ہے جب ہم ایسے اقدامات اٹھانے کا اعلان کر بیٹھیں جن کو سب سے آخر میں اٹھانا پڑتا ہے۔ انھوں نے متعدد بار اپنی بات کو دہراتے ہوئے کہا کہ کہ لاک ڈاؤن یا کرفیو ایسے اقدامات ہوتے ہیں جو ہر ہنگامی صورت حال میں سب سے آخر میں اٹھائے جاتے ہیں جبکہ ہم ان اقدامات کو صورت حال کی سنگینی سے قبل اٹھانا چاہتے ہیں۔

وزیر اعظم موجودہ بحرانی مسئلے کو کس انداز میں دیکھ رہے ہیں اور ادارے کس انداز میں سوچ رہے ہیں یہ بحث الگ ہے لیکن جو بات سمجھ سے باہر ہے وہ یہ ہے کہ کیا صوبے اپنے اپنے قانونی اختیارات وفاق کو اعتماد میں لئے بغیر استعمال کرنے میں اتنے خود مختار ہیں کہ وہ جس قسم کے بھی اقدامات چاہیں بنا وفاق کو بتائے یا اعتماد میں لئے استعمال کر سکتے ہیں؟۔ اگر ایسا ہی ہے تو کیا وزیرِ اعظم کی حکومت صرف دارالحکومت اسلام آباد تک ہی محدود ہے۔وزیر اعلیٰ سندھ بہت پہلے اپنے تئیں اقدامات اٹھا چکے تھے لیکن ایسا لگا کہ وفاق کو اس پر کسی بھی قسم کا کوئی اعتراض نہیں تھا۔ دیکھا دیکھی تاخیر ہی سے سہی بلوچستان نے بھی اپنے صوبائی اختیارات کا فائدہ اٹھا کر بلوچستان کو لاک ڈاؤن کیا۔

پنجاب اور کے پی کے شش و پنج میں ضرور نظر آئے اور دو دن پہلے تک وہ بھی وفاق کی طرح پنجاب کو لاک ڈاؤن کرنے کے حق میں دکھائی نہیں دیتے تھے لیکن اچانک نہ صرف ان کا ارادہ بدلا بلکہ پنجاب کے چیف منسٹر نے فوج بھی طلب کر لی اور ٹی وی پر آ کر باقائدہ لاک ڈاؤن کا اعلانن کیا۔ کے پی کے کی حکومت بھی پیچھے نہ رہی اور اس نے بھی پنجاب حکومت کی پیروی کرتے ہوئے صوبہ لاک ڈاؤن کر دیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک جانب وزیر اعظم کی سوچ لاک ڈاؤن کے بر عکس ہے لیکن پاکستان کے چاروں صوبوں کے علاوہ گلگت اور بلتستان بھی نہ صرف لاک ڈاؤن کر دیئے گئے ہیں بلکہ ان سب میں فوج بھی طلب کر لی گئی ہے تو عمران خان کس بنیاد پر مسلسل یہ کہے جا رہے ہیں کہ ہمارا پورے پورے صوبوں کو لاک ڈاؤن کرنے کا کوئی پروگرام نہیں۔ان ساری باتوں سے جو چیز سامنے آ رہی ہے وہ پاکستان کیلئے شاید بہت مناسب نہیں اس لئے کہ صوبے، وفاق اور ادارے ایک سوچ کے ساتھ کام نہیں کر رہے بلکہ صوبے ہوں یا ادارے، وفاق کو اپنے اعتماد میں لئے بغیر فیصلے کئے جا رہے ہیں اور انتظامیہ ان کے فیصلوں کو بالکل اسی طرح مان رہی ہے جیسے یہ سارے فیصلے وفاق کی جانب سے کئے گئے ہوں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب وزیر اعظم اسی قسم کے سوال کے جواب میں یہ کہتے ہوئے فرمائے گئے ہیں کہ میں نے صوبوں سے یہ کہا ہے کہ وہ حالات کا جائزہ لیتے ہوئے جو قدم بھی مناسب سمجھتے ہیں وہ اٹھائیں تو پھر ملک لاک ڈاؤن تو ہو گا۔ یہ بات بھی ایک معما لگتی ہے کہ افواج پاکستان کو جس آرٹیکل کے تحت طلب کیا گیا ہے اس کے تحت تو سارے سول اختیارات اس کو منتقل ہوجاتے ہیں۔ اب جبکہ آئین پاکستان کے تحت سارے سول اختیارات افواج پاکستان یا با الفظِ دیگر آرمی چیف کو منتقل ہو چکے ہیں تو پھر یہ کیسے مان لیا جائے کہ اب جو اقدامات بھی اٹھائے جائیں گے اس میںوفاقی حکومت کی اجازت لینا لازمی ہوگی؟۔

ایک جانب یہ مشکل آن پڑی ہے کہ اس مشکل کی گھڑی میں کس کو "حکومت" میں اور کس کو "اقتدار" پر سمجھا جائے تو دوسری جانب لاک ڈاؤن کے دوران پولیس اور رینجرز کے رویے کئی مسائل پیدا کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ اب یا تو عوام کو اس بات کا علم نہیں کہ لاک ڈاؤن اور کرفیو میں کیا فرق ہے اور دوسری جانب پولیس اور ریجرز اس کو لاک ڈاؤن کی بجائے کر فیو سمجھ بیٹھے ہیں۔ جب محدود پیمانے پر، میڈیکل اسٹورز، ہسپتال، بینک، گوشت، سبزی کی دکانیں اور دیگر ضروری اشیا کے بازار کھلے ہوئے ہوں تو لوگ لازماً گھروں سے باہر نکلیں گے لیکن پولیس اور رینجرز اس لاک ڈاؤن کو کرفیو کی طرح عمل کرتے ہوئے باہر نکلنے والوں کو تشدد کا نشانہ بنانے لگے گی تو پھر معاملہ کسی بھی وقت کوئی اور صورت بھی اختیار کر سکتا ہے۔ اسی بات کو سامنے رکھتے ہوئے روزنامہ جسارت نے اپنے اداریئے میں لکھا ہے کہ "سندھ میں ایک طرف لاک ڈاؤن جاری ہے تو دوسری طرف وفاقی حکومت کے ماتحت ادارے کھلے ہوئے ہیں۔

ان اداروں میں کراچی پورٹ ٹرسٹ، بینک اور بندرگاہ پر کام کرنے والے دیگر ادارے شامل ہیں ۔ حکومت سندھ چاہتی ہے کہ صوبے میں خصوصی طور پر کرفیو جیسی صورتحال ہو اور کوئی بھی شخص گھر سے باہر نہ نکلے۔ سندھ حکومت نے پٹرول پمپ ، کریانے کی دکانیں ، سپر اسٹورز ، تنور، سبزی و پھل کی دکانوں، پتھاروں، دودھ کی دکانوں اور میڈیکل اسٹورز وغیرہ کو لاک ڈاؤن سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ شاید سید مراد علی شاہ یہ ہدایات آئی جی سندھ اور ڈی جی رینجرز تک پہنچانا بھول گئے ہیں کہ پولیس و رینجرز نے اپنے قانون پر عملدرآمد شروع کردیا ہے۔ ادارے کھلے ہوں گے تو ان میں کام کرنے والے گھروں سے باہر بھی نکلیں گے اور اپنی شفٹ کے خاتمے کے بعد گھروں کو واپس بھی آئیں گے۔

مگر پولیس اور رینجرز کے اہلکاروں کو اس سے کوئی غرض نہیں ہے، وہ صرف آنے جانے والے افراد کو روک کر ان پر تشدد کرنے، انہیں سڑک پر مرغا بنانے اور ان سے بھاری رشوت کی وصولی میں مصروف ہیں"۔ ان سارے حالت کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات سمجھنا کوئی مشکل نہیں کہ پاکستان کے صوبے ہوں یا ادارے، سب کے سب مختارِ کل ہو چکے ہیں اور حکومت کا ان پر کوئی قابو نہیں رہ گیا ہے۔ اس قسم کے حالات میں پولیس اور رینجرز کا رویہ کوئی اچھی علامت نہیں اس لئے وفاقی حکومت کو ان سب باتوں کا جائزہ لینے کے بعد حالات اور اداروں کو اپنے قابو میں کرنا پڑے گا ورنہ صورتِ حال کوئی بھی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */