کشمیر پیراڈائز لاسٹ - سہیل بشیر کار

‌کشمیر پیراڈائز لاسٹ خالد اختر کی انگریزی میں لکھی 14 کہانیوں کا مجموعہ ہے۔ یہ کہانیاں کشمیریوں کے درد کا بیان ہے۔ ہر کہانی کا پلاٹ، کردار، زبان اور رواج کی تفصیل ایسی کہ محسوس ہی نہیں ہوتا کہ لکھنے والا کوئی غیر کشمیری ہے۔ کتاب کا حسن یہ ہے کہ محض واقعات ہی صفحوں کی زینت نہیں ہیں بلکہ ہر کردار اور کردار میں بسا احساس ہر صفحے پر بکھرا پڑا ہے۔ اگرچہ کتاب فکشن ہے لیکن ہر کہانی حقیقت سے قریب تر ہے۔ اہلیان کشمیر کا ایثار، ان کی ہمدردی ، کرب، اذیت اور کشمیری تہذیب کو مصنف بیان کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ خالد اختر صاحب ہندوستان کی ریاست راجستھان سے تعلق رکھتے ہیں۔ کئی کتابوں کے مصنف ہیں، انہوں نے انگریزی میں ایم اے کیا ہے، اور معلم ہیں۔

پہلی کہانی بشیر محمد کی ہے جس کے جواں سال بیٹے کو سکیورٹی فورسز نے ہلاک کیا ہے۔ بشیر ڈل میں شکارا چلاتے ہیں۔ کہانی میں بشیر کے درد کو ایسا بیان ملا ہے کہ قاری اس درد کو محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ کہانی بیان کرتے ہوئے کشمیر کے حسن کو بھی نہایت ہی عمدہ طریقے سے بیان کیا گیا ہے۔ کہانی پڑھتے ہوئے قاری یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ کشمیر کی خوبصورت وادی کا سیر کر رہا ہے۔ ڈل جھیل کے خوبصورت قدرتی مناظر کو بیان کرکے وہ درد بھی محسوس ہوتا ہے جس کا سامنا عام کشمیری کو ہے۔

دوسری کہانی فضل کی کہانی ہے جو ایک گھوڑا بان ہے اور اپنے گھوڑے پر امرناتھ یاتریوں کو ان کے مقدس مقام تک لے جاتا ہے۔ کہانی میں کشمیر کے مسلمانوں کے اس کردار کو اجاگر کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کشمیری کس طرح مذہبی ہونے کے باوجود non communal ہیں۔

تیسری کہانی میں دکھایا گیا کہ جب کشمیری پنڈت واپس وادی لوٹا تو کس قدر گرم جوشی سے یہاں کے لوگوں نے ان کا استقبال کیا اور آئے روز ایسے واقعات دیکھنے میں ملتے ہیں۔ حالانکہ یہی پنڈت جب کشمیر سے جموں ایک سازش کے تحت بھاگے تو انھوں نے کشمیری لوگوں کے خلاف خوب پروپیگنڈا کیا۔ کہانی میں اس مکسڈ کلچر کی خوبصورت تصویر کو بھی دکھایا گیا ہے۔

چوتھی کہانی میں کشمیر کے لوگوں کی نفسیات کو اجاگر کیا گیا کہ موجودہ حالات سے ان کی نفسیات پر کیسا اثر پڑا۔ یہ شوکت علی کی کہانی ہے جس کے گاؤں کے سبھی مردوں کو ایک رات گھروں سے باہر نکالا گیا اور ایک جگہ جمع کیا گیا۔ اس واقعہ سے دلبراشتہ ہوکر شوکت گھر سے بھاگ جاتا ہے۔ وہ جوان تھا لیکن بےبس، لہذا وہ گھر کے افراد کا سامنا نہیں کر پاتا۔

گزشتہ کئی سالوں سے کشمیر میں ایسے ہزاروں نوجوان ہیں جن کی آنکھ کی بینائی پیلٹ گن کی وجہ سے چلی گئی۔ پیلٹ گن کا نشانہ بننے والے ہزاروں لوگ ہمیشہ کے لیے اپنی آنکھوں کی روشنی کھو بیٹھے۔ ان کی زندگی کسی کرب میں گزر رہی ہے۔ مصنف کی پانچویں کہانی میں دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ کہانی بارہ سالہ سلیم کی کہانی ہے جو پڑھنے میں ہمیشہ آگے رہتا تھا۔ ایک دن وہ چھت پر بیٹھا تھا اور باہر پولیس اور احتجاجیوں کے درمیان پتھر بازی چل رہی تھی کہ اسی دوران اس کی آنکھوں میں پیلٹ لگ گیا۔ سلیم ٹھیک نہیں ہو رہا تھا۔ کہانی میں اس واقع کے نتیجے میں سلیم اور اس کے گھر والوں پر کس طرح کی آزمائش آن پڑی۔ اس آزمائش اور مصیبت کو اپنی اس کہانی میں مصنف نے جگہ دی ہے۔

الیکشن کو کشمیریوں نے ہمیشہ ٹھکرایا۔ دیگر علاقوں کے برعکس یہاں الیکشن بوتھوں پر سناٹا ہوتا ہے۔ چھٹی کہانی میں ایک الیکشن بوتھ کا ایسا ہی منظر مصنف دکھانے میں کامیاب نظر آتے ہیں۔

ساتویں کہانی میں ایک بزرگ اپنے بچوں کو آدم علیہ السلام کے باغ سے نکلنے کی کہانی بہترین طریقہ سے بتاتے ہیں۔ کہانی کے آخر میں بچے سوال کرتے ہیں کہ ہمارے کشمیر، جو کہ مثل جنت ہے، سے کیا ہمیں بھی کسی غلطی کی وجہ سے نکالا گیا، دیگر کہانیوں کی طرح یہاں بھی بہترین پلاٹ دیکھنے کو ملتا ہے۔ 5 اگست 2019ء کو کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کیا گیا۔ ساتھ ہی لاک ڈاؤن کیا گیا۔ موبائل لینڈ لین، نقل و حرکت پر پابندی لگائی گئی۔ اس وجہ سے کئ مسائل پیدا ہوگئے۔

کتاب میں اسی طرح کے مسائل کو کہانی کی شکل دینے کی مصنف نے کوشش کی ہے۔ آخری کہانی میں ایک غیر مسلم IAS افسر کا ذکر ملتا ہے جو کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے نتیجے میں نوکری سے استعفی دیتا ہے۔ کہانی باضمیر انسانوں کو جھنجھوڑتی ہے۔

عام طور پر کشمیر کے لوگوں کو لگتا ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں نے کبھی بھی ہمارا درد محسوس نہیں کیا۔ لیکن خالد اختر مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے ہندی مسلمانوں کی طرف سے فرض کفایہ ادا کیا۔ یہ کتاب پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ کشمیریوں کی درد بھری داستان کا اظہار ہے یہ کتاب۔

Comments

سہیل بشیر کار

سہیل بشیر کار

سہیل بشیر کار بارہ مولہ جموں و کشمیر سے ہیں، ایگریکلچر میں پوسٹ گریجویشن کی ہے، دور طالب علمی سے علم اور سماج کی خدمت میں دلچسپی ہے۔ پبلشنگ ہاؤس چلاتے ہیں جس سے دو درجن سے زائد کتابیں شائع ہوئی ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.