حیوانات اور جمادات کی تسبیح اور شعور - مفتی محمد مبشر بدر

کعبۃ اللہ میں پرندوں کی ویڈیو وائرل ہوگئی ہے جس میں صاف دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ فضا میں اڑتے ہوئے خانہ کعبہ کا طواف کررہے ہیں۔ سبحان اللہ بہت ہی حسین منظر ہے ساتھ ہی دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم انسانوں سے کیا خطاء ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے گھر کے قریب آنے سے ہی روک دیا ، اب وہ پرندوں سے اپنی عبادت کروا رہا ہے۔

ہم سب انسانوں کو استغفار کرنا چاہیے۔ اس ویڈیو پر کچھ لوگ اعتراض کررہے ہیں کہ پرندے کہاں سے مکلف ہیں جو وہ طواف کررہے ہیں؟ وہ اس ویڈیو پھیلانے کو بھی گمراہی قرار دے رہے ہیں۔ جب کہ یہ اعتراض ہی غلط ہے۔ پرندے بلاشبہ مکلف نہیں لیکن ان کی تسبیح و عبادت کا ذکر قرآن مجید سے ثابت ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتے اور اس کی عبادت بجا لاتے ہیں چنانچہ سورۂ نور میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يُسَبِّحُ لَهُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالطَّيْرُ صَافَّاتٍ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهُ وَتَسْبِيحَهُ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِمَا يَفْعَلُونَ
ترجمہ: " کیا تم نے دیکھا نہیں کہ آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں، اللہ ہی کی تسبیح کرتے ہیں، اور وہ پرندے بھی جو پر پھیلائے ہوئے اڑتے ہیں۔ ہر ایک کو اپنی نماز اور اپنی تسبیح کا طریقہ معلوم ہے۔ اور اللہ ان کے سارے کاموں سے پوری طرح باخبر ہے۔"

اس آیت سے معلوم ہوا کہ ہر جاندار و بے جان چیز اللہ کی عبادت کرتی ہے اور ہر ایک کی عبادت کا طریقہ مختلف ہے۔ ہر چیز بخوبی جانتی ہے کہ اسے کس طرح اپنے خالق کی عبادت کرنی ہے۔ آیت میں ہوا میں اڑتے پرندوں کی عبادت کو بھی بیان کیا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتے ہیں۔ اس آیت کو پڑھ کر کعبۃ اللہ کا طواف کرتے پرندوں کا معاملہ سمجھ آجاتا ہے کہ وہ بھی پہچانتے ہیں کہ اللہ کی عبادت کیسے کرنی ہے۔ سائنس آج اس بات کو تسلیم کررہی ہے کہ ہم جن چیزوں کو بے حس سمجھتے ہیں ان میں بھی کچھ نہ کچھ حس موجود ہے۔ اسی طرح سورۂ اسرائیل میں اللہ فرماتا ہے:

تُسَبِّحُ لَہُ السَّمٰوٰتُ السَّبۡعُ وَ الۡاَرۡضُ وَ مَنۡ فِیۡہِنَّ ؕ وَ اِنۡ مِّنۡ شَیۡءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمۡدِہٖ وَ لٰکِنۡ لَّا تَفۡقَہُوۡنَ تَسۡبِیۡحَہُمۡ ؕ اِنَّہٗ کَانَ حَلِیۡمًا غَفُوۡرًا ﴿۴۴﴾

ترجمہ: "ساتوں آسمان اور زمین اور جو بھی ان میں ہے اسی کی تسبیح کر رہے ہیں ۔ ایسی کوئی چیز نہیں جو اسے پاکیزگی اور تعریف کے ساتھ یاد نہ کرتی ہو ۔ ہاں یہ صحیح ہے کہ تم اس کی تسبیح سمجھ نہیں سکتے ۔ وہ بڑا برد بار اور بخشنے والا ہے۔"

پرندوں کے طواف پر اعتراض کرنے والوں اور اسے ایک مضحکہ خیز چیز سمجھنے والوں کو آیت میں غور کرنا چاہیے کہ یہ تو پرندے ہیں جب کہ حیوانات، جمادات، نباتات، حشرات اور زمین و آسمان میں موجود ذرّات تک خالقِ کائنات کی حمد و ثنا میں مشغول ہیں اور اسی عظیم ذات کی عبادت بجالاتے ہیں لیکن ہم اس کا ادراک اور شعور نہیں رکھتے۔ یہ شعور تو اسطوانہء حنّانہ سے ثابت ہے جس پر نبی کریم ﷺ ٹیک لگا کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے۔ ایک انصاری کی تجویز پر منبر بنوایا گیا۔ نبی اکرم ﷺ اس تنے کو چھوڑ کر منبر پر تشریف لے گئے۔ وہ تنا بچے کی طرح بلک بلک کر رونے لگا جس پر آپ علیہ السلام نے منبر سے اتر کر اسے سینے سے لگایا۔ تنے کا یہ رونا فراق محبوب اور ذکر اللہ سے محرومی کی بنا پر تھا۔

بے جان اشیاء میں شعورسورۂ بقرہ کی اس آیت سے ثابت ہوتا ہے جس میں اللہ فرماتا ہے: وَإِنَّ مِنْها لَما يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ۔ یعنی " ان پتھروں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے خو ف سے گر پڑتے ہیں۔" مطلب واضح ہے کہ پتھر جیسی سخت اور بے جان مخلوق میں بھی اتنا شعور ہے کہ وہ اللہ کے خوف سے گر پڑتے ہیں۔ وہ اپنے خالق و مالک کو بخوبی جانتے ہیں، پرندے تو پھر بھی جاندار ہیں۔ اسی طرح سورۂ مریم میں اللہ پہاڑوں سے متعلق فرماتا ہے: تَكادُ السَّماواتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبالُ هَدًّا (90) أَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمنِ وَلَداً (91) یعنی: "کچھ بعید نہیں کہ اس کی وجہ سے آسمان پھٹ پڑیں، زمین شق ہوجائے اور پہاڑ ٹوٹ کر گر پڑیں۔" یہاں آسمانوں، زمین اور پہاڑوں کے شعور کو بیان کیا گیا ہے کہ جو لوگ اللہ کیلیے اولاد کا دعویٰ کرتے ہیں ان کی اس مذموم حرکت پرقریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑے، زمین شق ہوجائے اور پہاڑ تک ریزہ ریزہ ہوجائیں۔

سیدنا داؤد علیہ السلام جب زبور کی تلاوت کرتے تھے تو پہاڑ بھی ان کے ساتھ صبح و شام تسبیح و تحمید میں مشغول ہوجاتے تھے۔ چنانچہ سورۂ انبیاء میں ہے: وَسَخَّرْنَا مَعَ دَاوُودَ الْجِبَالَ يُسَبِّحْنَ وَالطَّيْرَ وَكُنَّا فَاعِلِينَ۔ ترجمہ: " اور ہم نے داؤد کے ساتھ پہاڑوں کو تابع دار بنا دیا تھا کہ وہ پرندوں کو ساتھ لے کر تسبیح کریں اور یہ سارے کام کرنے والے ہم تھے۔" اس آیت میں پہاڑوں کے ساتھ پرندوں کی تسبیح کا ذکر ہے جب کہ سورۂ ص میں ہے: إِنَّا سَخَّرْنَا الْجِبالَ مَعَهُ يُسَبِّحْنَ بِالْعَشِيِّ وَالْإِشْراقِ۔ یعنی "ہم نے پہاڑوں کو ان کے ساتھ مسخر کر رکھا تھا کہ صبح و شام ان کے ساتھ تسبیح کرتے تھے۔" اس کے علاوہ سورۂ نمل میں چیونٹیوں کا باہم گفتگو کرنا اور سیدنا سلیمان علیہ السلام کے لشکر کی اطلاع پا کر بلوں میں گھسنا، سیدنا سلیمان علیہ السلام کا جانوروں اور پرندوں سے بات کرنا جس پر ہدہد کا مشہور واقعہ، سیدنا صالح علیہ السلام کی دعا سے چٹان سے گابھن اونٹنی برآمد ہونے کا ذکر قرآن کریم میں موجود ہے۔

ابو داؤد کی روایت میں نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: الْمُؤَذِّنُ يُغْفَرُ لَهُ بِمَدِّ صَوْتِهِ وَيَشْهَدُ لَهُ كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ

ترجمہ: " مؤذن کی آواز جہاں تک پہنچتی ہے اس کی مغفرت کر دی جائے گی، اور تمام خشک وتر اس کی گواہی دیں گے"۔

مؤذن کے لیے ہر خشک و تر کا گواہی دینا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ جاندار اور بے جان چیز میں اللہ نے شعور رکھا ہے لیکن ہر چیز میں شعور کی سطح اسی چیز کے اعتبار سے ہے۔ سب سے زیادہ شعور انس ، جن اور ملائکہ میں رکھا گیا ہے اس کے بعد باقی حیوانات اور جمادات میں پایا جاتا ہے۔ بخاری کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لا رہے تھے، جبل احد آپ کے سامنے ظاہر ہوا تو آپ ؑ نے دیکھ کر فرمایا: هذَا جَبَلٌ یُحِبُّنَا وَنُحِبُّه، یعنی "یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔" صحیح مسلم کی روایت میں ہے : " إِنِّي لَأَعْرِفُ حَجَرًا بِمَكَّةَ كَانَ يُسَلِّمُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُبْعَثَ إِنِّي لَأَعْرِفُهُ الْآنَ" ترجمہ: میں ایک ایسے پتھر کو جانتا ہوں جو بعثت سے قبل مجھے سلام کیا کرتا تھا میں اسے اب بھی پہچانتا ہوں۔"

یہ تمام روایات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ مخلوق اپنے خالق سے غافل نہیں۔ وہ اپنے رب کو اچھی طرح جانتی ہے اور ہر ہر ذرہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا میں مشغول ہے۔ بس حضرت الانسان کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جب بے جان چیزیں اور چرند و پرند اپنے خالق و مالک کی عبادت اور حمد و ثنا میں محو ہیں تو انسان کو بدرجہ اولیٰ اپنے خالق و مالک کی یاد اور عبادت میں مشغول ہو نا چاہیے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */