کرونا وائرس اور بچوں کی مصروفیات - حمنہ عزیز

کرونا وائرس اس وقت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔میرے خیال میں اب دنیا کا کوئی بھی ملک نہیں جو اس وباء سے محفوظ ہو۔ کئی ممالک میں لاک ڈاؤن ہو چکا ہے۔ پاکستان میں بھی متاثر افراد کی تعداد ٩٠٠ کے قریب ہے٫ جس میں سب سے زیادہ مریض سندھ میں ہیں۔ ملک کے زیادہ تر علاقوں میں مکمل اور جزوی لاک داؤن کردیا گیا ہے جو کہ عوامی حق میں بالکل درست فیصلہ ہے۔

پڑھے لکھے اور باشعور شہری اسکی پاسداری کرنا ہمارا فرض ہے۔یہ احتیاطی تدابیر ہیں جو کے پوری دنیا میں اختیار کی جارہی ہیں صوبہ ووہان اسکا جیتا جاگتا ثبوت ہے ۔وہاں لاک داؤن اب ختم ہو چکا ہے اور کوئی نیا کیس بھی سامنے نہیں آیا۔ملک میں اسکولز کو بند ہوئے ٢ ہفتے سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے۔والدین خاص کر مائیں بہت زیادہ پریشان ہیں بچوں کو کس طرح کنٹرول کیا جائے ظاہر سی بات ہے وہ بچے جو تقریبا ٍ سارا دن ہی گھر سے باہر گزرتے تھے اب سارا دن ہی گھر میں ہوتے ہیں۔میرے آج کے مضمون کا موضوع بھی یہی ہےکہ گھر میں ہم بچوں کو کس طرح مصروف رکھ سکتے ہیں جس پر دونوں پارٹیز یعنی والدین اور بچے دونوں راضی ہوں۔

١) سب سے پہلے آپکو یعنی خاتونِ خانہ کو اپنے آپ کو راضی کرنا ہوگا کہ وہ بچوں کو پراپر ٹائم دیں۔انکے ساتھ مصروف رہیں۔یہ نہیں ہوسکتا کہ آپ خود سوشل میڈیا پر مصروف رہیں اور بچےگھر میں تباہی نہ پھیلائیں۔کوئی بھی ایکٹیویٹی کراتے ہوئے بچوں کی نگرانی سب سے زیادہ اہم ہے۔ورنہوہ نتائج حاصل نہیں ہونگے جو آپ چاہ رہی ہیں۔

٢) بچوں کو کرونا وائرس سے ڈرانے کے بجاۓ آپ اسکے متعلق معلومات دیں۔جو احتیاطی تدابير اور ہدایات حکومتی سطح اور ڈبلیو ایچ او کی طرف سے جاری کردہ ہیں انہی پر عمل کریں۔ بچوں کو بھی کروائیں مگر اپنی نگرانی میں تا کہ وہ چیزیں ضائع نہ کریں جیسے سنیٹائزر پانی وغیرہ۔انکو سمجھائیں کہ وباء ایک خاص وقت کے لئے آتی اور خود ہی ختم ہوجاتی ہے۔اسلئے اس سے ڈرنا نہیں بلکہ احتیاط ضروری ہے۔

٣) بچوں کو اللہ کے ہونے کا احساس دلائیں اور انکو جتائیں اللہ تعالیٰ ہی تمام جہانوں کے ملک ہیں۔انہی کے حکم سے سب ہوتا ہے۔ تقدیر کی اچھائی برائی اللہ کے ہی حکم سے ہے٫ ہمیں اللہ کو راضی کرنے والے کام کرنے ہیں۔بچوں کو نماز کی تاکید کریں۔وضو کی عادت ڈالیں اگر اپنے غور کیا ہو تو کرونا وائرس کی احتیاطی تدابير میں پورا ہی وضو ہوجاتا ہے۔ اپنی نیت اور عمل کو اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق کرکے دین و دنیا دونوں کا فائدہ اٹھائیں۔صبح و شام کی حفاظتی دعائیں اہتمام سے پڑھا کریں اور بچوں کو پڑھوایا کریں ۔انکو احساس دلائیں کہ اس وقت سب سے زیادہ طاقتور ہستی کی حفاظت میں ہیں اور فرشتے انکی حفاظت کر رہے ہیں۔

٤) سوشل میڈیا اور خبریں دن میں صرف ایک بار دیکھیں باخبر رہنے کے لئے۔بار بار سننے سے صرف دل خراب ہوگا اور پریشانی بڑھے گی۔ سوشل میڈیا پر بہت ساری نیوز fake یا جعلی ہوتی ہیں۔

٥) خدانخواستہ اگر اپکا کوئی رشتےدار یا جاننےوالا isolation میں ہو تو اس کڑے وقت میں اسکو تنہا چھوڑنے یا ڈرنے کی ضرورت نہیں بلکہ سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ رکھ کر اسے ہمّت دلائیں۔

٦) بچوں کا ایک روٹین بنالیں۔ایک ٹائم ٹیبل کی شکل دے لیں کہ بچوں کو کس وقت کونسی ایکٹیویٹی کروانی ہے۔ایکٹیویٹیز کے سلسلے میں بچوں سے بھی مشورے لیں انکی دلچسپی کی چیزیں ڈالیں تاکہ انکو بوجھ نہ لگے۔ جیسے کھیل کا وقت کیا ہوگا پڑھائی کس وقت کرنی ہوگی قرآن کب پڑھنا ہوگا وغیرہ وغیرہ

٧) بچوں کو ڈسیپلین میں رکھنا بہت ضروری ہے صبح کا آغاز نماز سے کروائیں۔اگر بچے دوبارہ سونا چاہیں تو سلادیں۔انکی ایکٹیویٹیز ورزش سے شروع کروائیں جو کہ بہت ہیوی نہ ہو ہلکی پھلکی ہو اور بہت زیادہ وقت کے لئے بھی نہ ہو کہ بچے بور ہونے لگیں۔ناشتہ بناتے وقت بچوں سے مدد لیں پھر بچوں سے گھریلوں کام کروائیں جیسے کہ ڈسٹنگ چھوٹے موٹے برتن دھلوالیں۔یہ physical activity ہوجاۓ گی۔جسمانی طور پر بچوں کا تھکنا بہت ضروری ہے۔

٨) یہ ان ماؤں کے لئے سنہرا وقت ہے جنکو لگتا ہے انکے بچے کسی مضمون میں کمزور ہیں۔آپ اس وقت اس مضمون پر بھرپور توجہ دے سکتی ہیں۔ یہ یاد رکھیں کہ جو توجہ والدین اپنی اولاد پر دی سکتے ہیں وہ کوئی ٹیوٹر نہیں دے سکتا۔

٩)آج کل لوگ جس طرح گھروں میں راشن جمع کر رہے ہیں اسی طرح اپنے بچوں کے لئے بھی ایسا مواد جمع کریں جس سے انکی ذہنی اور جسمانی تعمیر ہو۔کتب بینی جو کہ اب ہمارے معاشرے سے ناپید ہوتی جارہی ہے۔اگر اس وقت آپ اپنے بچوں کو کتاب یا رسالے میں سے کہانی پڑھ کر سناتے ہیں تو وہ بچے کی satisfaction کے لئے بہت ہی اچھا ہے۔ڈرائنگ اور آرٹ اینڈ کرافٹ کے ذریعے بچوں کی چھپی ہوئی صلاحیتیں اجاگر کریں۔سمپل کے لئے آپ انٹرنیٹ سے مدد لے سکتے ہیں۔ nafty اور ٥منٹ کرافٹ اچھے اپ ہیں۔ آپ یوٹیوب سے بھی مدد لے سکتے ہیں لیکن اپنی نگرانی میں بچے کو دکھائیں تاکہ مثبت نتائج حاصل ہو نہ کہ منفی۔

١٠) ان ڈورز گیمز .. گھر میں ایک جگہ کو پلے ایریا بنا دیں جہاں صرف کھیلنے کی چیزیں ہوں۔یہاں میں نے گیمز کو دو گروپ تقسیم کیا ہے۔پہلے میں ٣سے٧ سال کے بچوں کے لئے ہیں۔جس میں باہر سے کوئی خاص چیز لینے کی ضرورت نہیں۔ پہلا گیم ہے charades اس میں اپ بچے کو اسکی تعلیم کے مطابق ٢-٣-٤ الفاظ دے سکتے ہیں جو کہ انگریزی اور اردو دونوں میں ہوسکتے ہیں جیسے ب __ ر __ یا انگریزی میں بھی اسی طرح لکھ کر بچوں دیں وہ حل کریں گے جو پہلے کر لے گا وہ جیتے گا ۔

ٹچ اینڈ فیل(touch and feel) گیم ایک بوری یا شاپر مختلف چیزیں ڈال دیں جس میں پھل اور سبزیاں ہوسکتی ہیں یا کھلونے ڈال پھر چیزوں کا نام بتائیں بچے بغیر دیکھیں نکالیں گے۔بالز اینڈ باسکٹ اس گیم میں بال کو باسکٹ میں ڈالنا ہوگا ہر بچے کو ٦ باریاں ملیں گی۔horse riding اس گیم کےلئے بچوں کے حساب سے گاؤ تکیے چاہئے ہونگے اور بچوں کی ریس کروانی ہوگی جسکا گاؤ تکیہ گرا وہ گیم سے آوٹ ہوجاےگا۔treasure hunt گھر میں مختلف جگہ پر چیزیں چھپا دیں اور بچوں سے ڈھونڈوائیں۔ باؤلنگ٫ چھپن چھپائی٫ میوزیکل چیئر اور جو گیمز پپرز پر ہوتے ہیں وہ بھی کھیل سکتے ہیں۔بڑے بچوں کے لئے لوڈو کیرم ماربلز بورڈ-ٹیبل گیمز وغیرہ کھیلاۓ جاسکتے ہیں اسکے علاوہ نام چیز جگہ٫ کراس ورڈز٫ کسوٹی اور کوئز گیمز بچوں کا IQ لیول بڑھانے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔فزیکل ایکٹیویٹی کےلئے پہل دوج٫ لنگڑی پالا٫ اے کنگ٫ چھپن چھپائی کھیلے جاسکتے ہیں۔

١١) بچوں کو ڈائریکٹ gedgts دینے کے بجاۓ۔انکو LCD پر اپنے سامنے دیکھائیں جو بھی وہ دیکھنا چاہیں۔کیونکہ یوٹیوب پر اکثر اچانک ایسی چیزیں آجاتی ہیں جوکہ قابلِ اعتراض ہوتی ہیں۔ چھوٹے بچوں کو اندازہ بھی نہیں ہوتا کے وہ کیا دیکھ رہے ہیں اور ہمارے لئے باعث شرمندگی ہوتی ہیں۔ آجکل بچوں کے جس طرح کے vlogs ہوتے ہیں وہ صرف بچوں کی اندر منفی تحریک پیدا کررہے ہیں اور مثبت سوچ سے دور کر رہے ہیں۔

١٢) بچوں کے ساتھ بیکنگ کریں ڈیکوریشنز ان سے کروائیں یہ بھی بچوں کے لئے بہت ہی دلچسپ سرگرمی ہوتی ہے۔بن یا بریڈ کی ڈو سے مختلف اشکال بنائی جاسکتی ہیں۔اللہ تعالیٰ پاکستان ملتِ اسلامی اور پوری دنیا کو اس مصیبت سے نکالے اور ہم سب کو ہر بلا سے محفوظ رکھے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */