کرونا وائرس اور پاکستان - ریان احمد حمزہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"جب کسی قوم میں اعلانیہ فحش (فسق و فجور اور زناکاری) ہونے لگ جائے تو اُن میں طاعون اور ایسی بیماریاں پھوٹ پڑتی ہیں جو اِن سے پہلے کے لوگوں میں نہ تھی"(سنن ابن ماجہ ٢٠١٩)

بے شک تمام تر وائرس چاہے وہ اِیبولا ہو یا کرونا وائرس، اللہ تعالی کا قوموں پر عذاب ہی ہے۔ جس کی صرف ایک ہی وجہ ہے، اللہ تعالی کی نافرمانی۔ کچی کلاس کے بچوں کو نصاب میں پڑھایا جاتا ہے کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ مگر مطلب شاید ہی کوئی سمجھاتا ہو۔ اِس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالی نے دین اسلام کے ذریعہ ہمیں دنیا میں رہنے اور زندگی بسر کرنے کے تمام تر تعلیمات دے دی ہیں۔ کرونا وائرس کے احتیاطی تدبیروں میں ایک تدبیر یہ بھی ہے کہ ہمیں ہر کچھ دیر بعد اپنے ہاتھوں کو دھونا چاہیے۔ جبکہ اسلام ہمیں پانچوں نمازوں اور طعام سے قبل اپنے ہاتھ دھونے کی صورت یہ حدایت پہلے ہی دے چکا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جب ہم اِن اسلامی تعلیمات پر عمل کریں گے تو آزاد خیال لوگ ہمیں اَن پڑھ اور گوار سمجھیں گے۔ اُس وقت تو مسلمان کچھ دیر کے لیے پریشان ضرور ہوگا۔

اپنے آپ کو احساسِ کمتری میں ضرور سمجھے گا۔ مگر آخرت میں اِن مسلمانوں کے لئے اللہ تعالی نے ضرور کوئی نہ کوئی اجر و ثواب رکھا ہوگا، انشاءاللہ۔ ایسے مسلمان آخرت میں ضرور کامیاب ہو جائیں گے۔ مگر ساتھ اللہ تعالی نے ہمیں خود دیکھا بھی دیا ہے کہ وہ آزاد خیال عناصر جو کہتے تھے کہ دنیا چاند پر پہنچ گئی ہے اور علماء طہارت کے طریقے بیان کر رہے ہیں، آج وہی دنیا چاند چھوڑکر کرونا وائرس سے بچنے کے لیے طہارت کے طریقے بیان کر رہی ہے۔ یہ وہی آزاد خیال لوگ ہیں جو اسلام کو ساری زندگی ہیچ سمجھتے ہیں، لیکن جب انجانے میں طلاق دے بیٹھے ہیں تو فوراً مساجد اور مدارس پہنچ جاتے ہیں کہ مولوی صاحب ہمارے گھر بچا لیں۔ مگر جب طلاق کا سبب بننے والے عوامل میں سب سے اہم سبب پر بحث کرنی ہو تو کہتے ہیں مذہبی تبصرے مت کریں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"جب تم سن لو کہ کسی جگہ طاعون کی وباء پھیل رہی ہے تو وہاں مت جاؤ، لیکن جب کسی جگہ یہ وباء پھوٹ پڑے اور تم وہی موجود ہو تو اس جگہ سے نکلوں بھی مت۔" (صحیح بخاری ٥٧٢٨)
حکومت پاکستان نے اِسی حدیث کی روشنی میں چائنہ میں تعلیم کی غرض سے گئے پاکستانی طالب علموں کو واپس نہ بلانے کا اعلان کیا۔ جو کہ درست فیصلہ تھا۔ مگر یہی حکومت بعد میں اس حدیث کو بھولا کر ایران سمیت مختلف ممالک سے لوگوں کی پاکستان آمد و رفت کو نہ روک سکی یا یوں کہہ لیجیے کہ پاکستان میں داخل ہونے والے لوگوں کی سکریننگ نہ ہوسکی۔ اِسی دوران سندھ حکومت نے بروقت درست عملی اقدامات کرکے اپنی ناقص کارکردگی کے حوالے سے تمام تر داغ دھوڈالیں۔ جبکہ سندھ حکومت مسلسل وفاقی اور پنجاب حکومت کو بتلاتی رہی کہ ایران سے آنے والے زائرین کو بغیر سکریننگ کے گزار دیا گیا ہے۔ مگر وفاق اور پنجاب کے عہدیداروں کے سر پر ایک جوں تک نہ رینگی۔

ایک اور محاذ جہاں حکومت کی نااہلی نظر آئی، وہ صوبائی اور وفاقی حکومتوں کا آپس میں تعاون نہ ہونے کی صورت میں تھا۔ ایک روز تین بجے وزیراعظم قوم سے خطاب میں لاک ڈاون کی مخالفت کرتے ہیں اور معیشت کی بدحالی اور غریبوں کی پسماندگی کی داستان سناتے ہیں۔ جبکہ اُسی روز چار بجے وزیراعلی سندھ صوبے بھر میں لاک ڈاون کا اعلان کرتے ہیں۔ اگلے ہی روز پاک فوج ملک بھر اور وزیر اعلی پنجاب صوبے بھر میں لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیتے ہیں۔
تحریک انصاف کی حکومت کا بنیادی مسئلہ ہی یہی ہے کہ یہ مل بیٹھ کر معاملات طے نہیں کرتے۔ چاہیے وہ سیاسی معاملات ہوں یا قومی۔ ایسی صورت میں اگر آپزیشن ہٹ دھرمی پہ اتر آئے تو وہ مسئلہ بحران کی شکل اختیار کر جاتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ملک بھر کے تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء سے رابطہ کرکے مسجد میں باجماعت نماز ہونے یا نہ ہونے، نماز جمعہ اور کرونا وائرس سے انتقال کرجانے والی میت کو غسل دینے یا نہ دینے جیسے معاملات طے کریں۔

اوّل حکومت کو کرونا وائرس ملک میں نہ لانے کی پرزور کوشش کرنی چاہیے تھی جو کہ نہ ہوسکی۔ مگر اب کے حکومتی اقدامات جن میں بجلی، گیس، اشیاء خردونوش اور صحت کی خاطر کیے جانے والے اقدامات خوش آئند ہیں۔ مشکل کی اِس گھڑی میں بقیہ جماعتوں کو بھی حکومت کا ساتھ دینا چاہیے۔ جس کی عملی مثال دینی جماعتوں نے دی۔ جمیعت علماء اسلام (ف) کی ذیلی تنظیم انصارالاسلام کے کارکنوں نے جگہ جگہ حفاظتی کٹس لوگوں میں تقسیم کیے۔ جبکہ جماعت اسلامی کی فلاحی تنظیم الخدمت فاونڈیشن نے اپنے 53 ہسپتال، 400 لیبارٹریاں، 300 ایمبولینس، 80 ہزار رضاکار اور اپنے تمام تر وسائل کرونا وائرس کے خلاف لڑنے میں لگا دیے۔ مشکل کی اِس گھڑی میں نہ تو میاں منشاء نظر آئے، نہ ملک ریاض اور نہ ہی کوئی سیاسی جماعت۔ اگر نظر آتی تو صرف دینی جماعتیں۔ میرے نزدیک یہی دینی جماعتیں اِس قوم کے ماتھے کا اصلی جھومر ہیں۔ جن کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں، پھر بھی یہ ملک و قوم کی خاطر یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • یہ سب دین دوری کا نتیجہ ے اور اللہ کا عزاب ے اللہ تعال یم سب پر رحم فرماے ارو اس مرض نجات دے امین

  • اللہ پاک سے بہت ذیادہ بہتر ی کی امید ہے۔اللہ پاک ھمارے گناہ معاف فرمائے امین

  • کورونا کے موضع پر آپ نے ایک آچھی تحریر لکھی ھے یہ سچ ھے انسان نے ہمشیہ اپنے کیے کی سزا پائی ھے لیکن اللَّهُ پاک غفور الرحیم ھے ہم سب اللَّهُ پاک کے حضور اپنے گناہوں کی توبا مانگتے ہیں اور اِس کورونا کے شر سے تمام انسانوں کو محفوظ فرمائے آمین ثم آمین
    اللَّهُ پاک سے دعا ھے آئندہ بھی اِس تحریر سے بہتر لکھنے کی کوشش کرتے رہنا