کرونا کے بعد کی دنیا اور تیسری عالمی جنگ - معظم معین

اس وقت پوری دنیا ایک نئے تجربے سے گزر رہی ہے۔ یہ ایک نادر تاریخی واقعہ ہے۔ ایسا موقع جہاں دنیا ایک بڑا موڑ لیا کرتی ہے۔ یہ وہ تجربہ ہے جس کا کسی نے کبھی سوچا تھا نہ تیاری کی تھی ۔ انسانوں کے تمام حفاظتی ذرائع بموں ، جہازوں اور میزائلوں سے لے کر ڈرون اور روبوٹس کی تیاری تک محدود تھے۔ مگر ایک چھوٹے سے جرثومے کی طاقت کا کسی نے سوچا بھی نہ تھا۔ نہ اس کے لیے کوئی تیار ہی تھا۔۔۔ کیا تیسری دنیا تو کیا پہلی اور دوسری دنیا۔۔۔ حکمران بوکھلائے ہوئے ہیں اور عوام ہکا بکا۔۔۔ کسی نے اس کی تیاری کا تو سوچا ہی نہ تھا۔ عمارت میں ایک معمولی آگ کے خدشے کے پیش نظر باقاعدگی سے ڈرل کی جاتی ہے۔ پوری عمارت خالی کروائی جاتی ہے مصنوعی آگ بھجوائی جاتی ہے، مگر اس عالمی جان لیوا بحران کی نہ کوئی ڈرل ہوئی نہ کوئی ایس او پی موجود تھے۔ جب سر پر پڑی تب ہی سب بھاگے۔

دنیا واضح طور پر اس تجربے کے بعد ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ جیسے نو گیارہ سے پہلے اور بعد کی دنیا الگ تھی۔ اسی طرح اس وائرس کے بعد کی دنیا بھی بدلتی نظر آ رہی ہے۔ دنیا کے کاروباری، سماجی اور دفاعی ڈھانچوں میں بڑی تبدیلیاں آسکتی ہیں۔ ملکوں کو اپنی ترجیحات کا نئے سرے سے تعین کرنا ہو گا۔ وہ حیاتیاتی ہتھیار جن سے ڈرایا جاتا تھا ان کا پول بیچ چوراہے کھل رہا ہے کہ کوئی ایسے ہتھیار بنا کر استعمال کر بھی لے تو خود ان سے بچ نہیں سکتا۔ انسانیت کو اس سے آگے بڑھنا ہو گا۔ مشترکہ فلاح کا سوچنا ہو گا۔ انسانیت کی مشترکہ فلاح کا جو تصور اسلام دیتا ہے اس کا سبق تازہ کرنا ہو گا۔ دنیا کا گلوبل ولیج اور چھوٹا ہو چکا ہے۔اب دنیا کے ایک کونے میں اگر کوئی انسان کسی غلط شے کا غلط استعمال کر رہا ہے تو دنیا کے دوسرے کونے میں بیٹھا ہوا انسان اس کے شر سے نہیں بچ سکتا۔ کیسی ناقابل یقین داستان ہے کہ چین کے ایک شہر کی ایک مچھلی منڈی میں کوئی نظر نہ آنے والا جرثومہ یکلخت ابھرتا ہے اور دنیا کے سات ارب لوگ اپنے اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ جاتے ہیں۔ ایسی چھوٹی سی دنیا میں کہیں کچھ لوگ شہریت کے بل میں الجھے ہیں تو کہیں دیگر چھوٹے چھوٹے مفادات میں۔

بلا شبہ ہر شر میں خیر چھپا ہوتا ہے۔ ہر آزمائش انسان کو کوئی بڑا سبق دے کر جاتی ہے۔ اس شر میں چھپا سبق بڑا واضح ہے۔ دنیا کے بہت سے مسئلے ایسے ہو سکتے ہیں جنھیں بم اور میزائیل حل نہیں کر سکتے۔ جنھیں میڈیکل سائنس بھی فوری طور پر حل نہیں کر سکتی۔ ستاروں پر کمندیں ڈالنے والا انسان اپنی ہی زمین کے ایک جرثومے کے ہاتھوں یرغمال بنا بیٹھا ہے۔ جس نے چند سال بعد دو ہزار چوبیس میں مریخ کا قصد کرنا تھا فی الحال اپنے ہی گھر میں دبکا بیٹھا ہے۔ انسانوں کی تمام تر مصنوعی و قدرتی ذہانت کے باوجود کھربوں ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ اور اس مسئلے کا حل ہوتے ہوتے مزید کھربوں ڈالر کا ہو چکا ہو گا۔ یہ نقصان کسی تیسری عالمی جنگ کے ممکنہ نقصان سے بڑا نقصان ہو سکتا ہے۔ یہ وہ جنگ ہے جس میں کوئی اتحادی فوج تھی نہ کوئی غیرجانبدار ملک اور نہ ہی کوئی غیر جانبدار ہو سکتا تھا۔ جنگ میں کیا ہوتا ہے سوائے مال و جان کے نقصان کے۔ خوف و ہراس کے ، سرحدوں کی بندش ، لاک ڈاؤن ، کرفیو اور کاروبار زندگی کی معطلی کے۔۔۔ سو وہ سب ہو رہا ہے۔ ساری دنیا کا نظام معطل پڑا ہے۔ پروازیں بند، کاروبار بند، تعلیمی ادارے بند ، عبادت گاہیں، بند، سیر و سیاحت بند حتی کہ عام مریضوں کا علاج بھی بند، اسپتال چھوٹے موٹے مریضوں کو دیکھ ہی نہیں رہے۔ بلکہ لوگ خود بھی معمولی علاج معالجے کے لیے گھر سے اسپتال جانے کا رسک نہیں لے رہے۔ کئی ایسے شہروں میں بھی لاک ڈاؤن ہے جن سے کئی کئی کلومیٹر دور کرونا وائرس کا کوئی کیس نہیں لیکن وہ لوگ بھی گھروں سے نہیں نکل رہے۔

انسانوں نے سیکھا کہ کوئی ایسا مسئلہ یا بیماری بھی ہو سکتی ہے جو دنوں نہیں گھنٹوں کے حساب سے انسانوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ سیکھا کہ exponential rise کا کیا مطلب ہوتا ہے۔
دہشت گردی کا تصور کیا پورے کا پورا الٹ کر نہیں رہ گیا۔ گویا ایک چھوٹا سا گروہ ایسی کسی وبا کے ذریعے پوری دنیا کو تگنی کا ناچ نچا سکتا ہے۔
انسانوں نے فاصلاتی سرگرمی کس تیزی سے ان چند ہفتوں میں سیکھی وہ حیرت انگیز ہے۔ جس طرح اسکولوں اور جامعات نے فاصلاتی کلاسز کا آغاز کر دیا۔ کاروباری اداروں نے جنگی بنیادوں پر ملازمین کو گھروں سے کام کرنا سکھا دیا، بینکوں اور دیگر اداروں نے آن لائن خدمات مہیا کرنے کا آغاز کر دیا یہاں تک کہ ڈاکٹروں نے طبی خدمات بھی جیسے آن لائن مہیا کیں وہ حیران کن ہے۔
5G ٹیکنالوجی کی آمد سے ذرا پہلے ایسے بحران کا ظہور آئندہ کی ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

وبائیں پہلے بھی آتی رہی ہیں۔ کروڑوں لوگ موت کے منہ میں جاتے رہے ہیں۔ لیکن اس بار جیسے دیکھتے ہی دیکھتے اس کا دائرہ پوری دنیا میں پھیلا وہ بے مثال رہا ہے۔ آئندہ بھی کوئی ملک ایسی کسی وبا کو اپنے ہاں آنے سے نہیں روک سکے گا۔ اس کے لیے اسے اپنا ملک لاک ڈاؤن کرنا ہو گا جس کی قیمت ہزاروں جانوں اور اربوں ڈالروں کی صورت میں چکانا ہو گی۔ آج کوئی ملک اس بیماری کو اپنے ہاں آنے سے نہیں روک سکا۔ وائرس نے بارڈر دیکھے نہ ان پر لگی خاردار تاریں۔ پاسپورٹ دیکھا نہ ویزہ۔ اسلام نے جو عالمگیریت کا تصور انسان کو دیا ہے اور جو ایک لڑی میں انسان کو پروتا ہے اس کی سمجھ آج سے پہلے کس کو آئی ہو گی۔ قرآن میں تو اللہ تعالی صرف مسلمانوں کے بجائے کل انسانیت کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جو چیزیں میں نے حلال کی ہیں بس وہ کھاؤ۔ پہلے تعجب ہوتا تھا کہ سب انسانوں کو مخاطب کر کے اسلام کے حلال حرام کا خیال رکھنے کا کیوں کہا جا رہا ہے۔ اب سمجھ آئی کہ خالق کے حلال حرام میں انسانوں کے لیے ہی حکمتیں ہیں۔ آج سود چھوڑا جا رہا ہے، برطانیہ کی تین سو پچیس سالہ تاریخ میں شرح سود اپنی کم ترین سطح یعنی اعشاریہ ایک فیصد پر لائی گئی ہے۔ طہارت اپنائی جا رہی ہے کہ دن میں بار بار ہاتھ منہ دھونے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب کے بالکل آغاز میں ہی صرف مسلمانوں کو نہیں بلکہ پوری انسانیت کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ اے لوگو! اپنے رب کی بندگی کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا ، تمہارا بچاؤ اسی میں ہے۔

Comments

سید معظم معین

سید معظم معین

معظم معین پیشے کے اعتبار سے مہندس کیمیائی ہیں۔ سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ مشینوں سے باتیں کرتے کرتے انسانوں سے باتیں کرنے کی طرف آئے مگر انسانوں کو بھی مشینوں کی طرح ہی پایا، وفا مگر مشینوں میں کچھ زیادہ ہی نکلی۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.