ڈالر بھی ایک وائرس ہی ہے - پروفیسر جمیل چودھری

کرو نا وائرس پوری دنیا میں پھیلا چکا ہے۔ متاثرین اور اموات کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے ۔اس پر قابو پانے کی کوششیں حکومتیں بھی کر رہی ہیں اور میڈیسن کے ماہرین بھی جد و جہد میں مصروف نظر آتے ہیں۔ ویکسین کی تیاری کی خبریں بھی آرہی ہیں۔

مکمل حل تو ویکسین کی تیاری ہی ہے۔پہلے بھی متعدد امراض ویکسین نے ہی ختم کئے ہیں پاکستان میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں کہ یہ مزید نہ پھیلے۔ اللہ سے دعا ہے کہ اس کا پھیلا ئو رک جائے۔میرے نذدیق تو ڈالر بھی ایک وائرس ہی ہے ۔اسکی شروعات پہلی جنگ عظیم سے ہو ئیں اور دوسریجنگ عظیم کے بعد عالمی بنک آئ ایم ایف کے ذریعے پوری دنیا تک پہنچ گئیں۔مد تو ں سے ہر عالمی لین۔ دیں میں ڈالر کا استعمال ہو رہا ہے۔ تمام ممالک ذ ر مبادلہ کے ذخائر ڈالر میں رکھتے چلے آرہے ہیں۔جس ملک کے پاس جتنے ڈالر بنکوں کے پاس ہوتے ہیں اس ملک کی معیشت اتنی مستحکم شمارہو تی ہے۔امریکہ میں موجود مختلف مالیاتی ایجنسیاں کسی بھی ملک کی ریٹنگ طے کر تے وقت یہی دیکھتی ہیں کہاس کے پاس ڈا لڑکوں کا کتنا ذخیرہ ہے۔

عالمی مالیاتی ادارے اس ذخیرے اور ملک کی جی ڈی پی کو دیکھ کر قرض دیتے ہیں۔دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکی ڈالر وا حد کرنسی ہے جو پورے کرہ ارض پر راج کر رہی ہے۔ کوئ شخص کسی بھی ملک میں چلا جائے اگر اس کی جیب میں ڈالر ہیں تو اسے کسی فکر کی ضرورت نہیں ہوتی۔ تمام ممالک میں ہر دوکاندار ڈالر کے بدلے ہر چیز فروخت کرنے کیلئے تیار ہو جا تا ہے ۔ڈالر کے ذریعے امریکہ نے کرہ ارض پر اپنی حکومت قائم کی ہوئ ہے۔دنیا کی دوسری کر سنیوں پر دباو ڈالتا ہے کمزور کرتا ہے اور اوپر نہیں اٹھنے دیتا ۔چند دہائیاں پیشتر جب یورپ والوں نے اکھٹے ہو کر یورپی یونین بنالی۔ اور کافی غور وحوض کے بعد 15 ممالک نے اپنے علیحدہ علیحدہ سکوں جگہ ایک سکہ " یورو" بنالیا لیا تو امریکی ڈالر یہاں سے فارغ ہو گیا
اب یورپی ممالک یورو میں تجارت کرتے ہیں ۔اس سے امریکی ڈالر کو پہلی دفعہ نقصان ہوا ۔

عالمی اداروں نے بھی اپنی کرنسی باسکٹ میں یورو کو شامل کر لیا ۔۔پونڈ پہلے ہی ایک بڑی کرنسی کی حیثیت سے باسکٹ میں شامل تھا۔۔گزشتہ کئ سالوں سے ایشیا کے کئ ممالک میں یہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے کہ ڈالر کے وائرس سے جان چھڑا بی جائے ۔اور اپنی کرن سیوں۔میں تجارت کی جائےبڑا ملک روس بھی یہی سوچ رکھتا ہے۔چین اور روس دونوں کی یہ کوشش ہے کہ ڈالر کو دیس نکالادیا جائے۔روس اور ایران دو ایسے ممالک ہیں جن کے پاس تیل اور گیس کے بڑے ذخائر ہیں۔ یہ دونوں اپنا تیل اب ڈالر کی بجائے دوسرے سکوں میں فروخت کرتے ہیں ۔بنکوں میں محفوظ ذخائر بھی یہ ملک اب دوسرے سکوں میں رکھ رہے ہیں۔دنیا میں اب یورو اور چینی سکہ یو آن زر مبا بدلہ کے طوراستعمال کئے جا رہے ہیں۔

چین اور ایران دونوں کی یہ کوشش ہے کہ ڈالر کو عالمی تجارت سے خارجکر دیا جائے۔ امریکہ اسی وجہ سے دونوں ملکوں پر پابندیاں لگاتا رہتا ہے۔برکس جو 5 بڑے ممالک کا اتحاد ہے انکی بھی کوشش ہے کہ ڈالر سے جا ن چھڑا ء ی جائے۔کوئ وقت ایسا بھی آسکتا ہے کہ صرف ڈالر میں اشیاء فروخت کرنے والی کمپنیوں سے اشیاء خریدنا بند کر دیا جائے۔ امریکہ نے اس وقت کافی خوشی محسوس کی جب بر طا نیہ یورپی یونین سے علیحدہ ہوا۔ امریکہ کا تبصرہ یہ تھاکہ اب بر طا نیہ اور امریکہ آسانی سے بڑے پیمانے پر روائتی تجارت کر سکتے ہیں۔برطانیہ سے باہر
یورپی یونین چھوڑنے کی خوشی صرف امریکہ کو ہوئ۔اس کی بڑی وجہ دونوں ملکوں پر انگریز نسل کی حکومت ہے۔ایک سال پہلے تک دنیا دو حصوں میں تقسیم تھی۔ایک حصہ جو امریکی بر اعظموںپر مشتمل ہے یہ عالمی تجارت میں ڈالر کو رکھنا چاھتے ہیں۔باقی ممالک جو ڈالر کو عالمی تجارت سےنکالنا چاہتے ہیں۔

دوسرے حصے والے ممالک ڈالر کا کوئ ایک متبادل تلاش کرتے رہتے ہیں ۔ایسے ممالک میں چین سرے فہرست ہے۔پیپلز بنک آف چائنہ اب ڈالر پر انحصار کم کرتا جارہا ہے۔چین کی یہ کوشش ہے کہ اپنے سکے یو آن کو عالمی تجارت میں استعما کیا جائے۔چین کے دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن جا نے کے بعد اس کی اشیاء کی طلب میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے اس کے ساتھ ہی یو آن
کی قدر میں بھی اضافہ ہو رہا ہے چین اب ہر پہلو سے امریکہ کے مقابل کھڑا ہے اب آئ ایم ایف کی باسکٹ میں "یوآن" بھی شامل ہو گیا ہے۔دنیا کے مالیاتی نظام میں یہ ایک بڑی تبدیلی ہے۔چین نے اپنےسکے کو سونے میں بدل پذیر بنادیا ہے۔۔چین دنیا میں تجارت کے ساتھ ساتھ روڑ بیلٹ منصوبے کے ذریعے یو آن کا استعمال بڑھا رہا ہے۔ چین نے 16 ملکوں کو ایک علاقائی معاشی معاہدہ میں شامل کیا ہے۔

دنیا کی نصف آبادی اس یونین میں شامل ہے۔ان تمام ممالک کی معیشت49 بلین ڈالر پر مشتمل ہےیہ دنیا کی 40 فیصد جی ڈی پی بنتی ہے۔اس معا ہدہ میں بھارت اور پاکستان بھی شامل ہیں۔بھارت نے بھی ڈالر کی بجائے دوسرے سکوں میں تجارت شروع کردی ہے۔روس سے ائر ڈیفنس سسٹم خرید تے وقت روسی سکہ "ربل" استعمال کیا گیا۔ایسے ہی بھارت نے ایرانی تیل کی قیمت بھارتی روپیہ میں ادا کی۔ اب ڈالر پس منظر میں جارہا ہے۔ ترکی نے بھی اعلان کر دیا ہے کہ روس ، چین اور یوکرائن سے تجارت میں مقامی سکوں کو استعمال کیا جائے گا۔2016 میں جب ترکی میں فوجی بغاوت ہوئ تھی تب اس بغاوت میں امریکہ کا ہاتھ تھا ۔ یہ بغاوت امریکہ میں مقیم فتح اللہ گولن کے ذریعے کرائ گئ تھی۔ اسی لئے جب ترکی نے روس سے ایئر ڈیفنس سسٹم خریدا تو ادائیگی رو بل میں کی گئ۔ایران بھی ڈالر کو عالمی تجارت سے دور رکھنے کی کوشش کر تا رہتا ہے۔ لڑائی تو امریکہ اور ایران میں انقلاب کے بعد سے ہی شروع ہے ۔عراق کے ساتھ تجارت اب بارڈر سسٹم کے ذریعے ہوتی ہے۔

روس اب یورپ سے تجارت یورو۔ سے کر تا ہے اور اپنے ذر مبا د لہ کے ذ ذخائر سونے اور چاندی میں رکھتا ہے۔کبھی روس ڈالر کے ذ خا ئر میں ٹاپ 10 میں شمار ہوتا تھا ۔3 جنوری 2018 کو سٹیٹ بنک آف پاکستان نے یو آن میں تجارت کی اجازت دےدی تھی ۔اب چین اپنے سکے میں پاکستان میں سرمایہ کاری بھی کر سکتا ہے ۔دونوں ملکوں میں یہ طے ہو گیا ہے کہ
باہمی تجارت میں ڈالر استعمال نہیں کیا جا ئے گا۔ باہمی تجارت میں یو آن استعمال کرنے کا فیصلہ ہوا ۔پاکستان میں یو آن اب منظور شدہ سکہ ہے۔ اس میں محفوظ ذ ذخائر کا ایک حصہ رکھا جا سکتا ہے۔ اب چائنہ بنک کی اسلام آباد لاہور اور کراچی میں بر انہیں ہیں۔ 2019 تک 11 ارب یو آن کی تجارت دانوں ملکوں میں ہو رہی تھی ۔ یہ تجارت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ 22 مارچ 2020 کو ایک یو آن پاکستان کے 22 روپے کے برابر تھا ۔اس کے مقابل ایک ڈالر 158 روپے کا ہو چکا ہے۔

ڈالر نے پورے ایشیاء اور افریقہ کے سکوں کو دبایا ہوا ہے ۔اس کا حل یہی ہے کہایشیاء اور افریقہ کے ممالک باہمی تجارت اپنے سکوں میں کریں۔زر مبا د لہ کے محفو ظات یو آن میں رکھیں۔اس طرح ڈالر یہاں سے نکل جا ئے گا۔ چین نے چند سال پہلے AIIB بنک بنا تھا یہ انفرا سٹرکچر میں سر ما کاری کیلئے بناتھا۔اس سے بھی۔ یو آن کا استعمال بڑھ رہا ہے۔عرب ممالک ابھی ڈالر کے اثرات سے نکلنےکیلئے تیار نہیں ہیں۔ ڈالر کے استعمال میں کمی کے معنی امریکی اثرات میں کمی ہوگا۔ یورپ ایشیاءاور افریقہ کے بعد ڈالر کا علاقہ صرف دونوں امریکی بر اعظم رہ جا ئیں گے۔ ڈالر کے وائرس کا خاتمہ بھی اتنا ہی فائدہ مند ہو گا جتنا کرو نا وائرس کا۔اس طرح مقامی سکے جاندار ہو سکیں گے ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */