فیصلہ تو کرنا ہے- ہارون الرشید

-جو اقوام اپنے فیصلے خود صادر نہیں کرتیں، وہ خود کو حالات اور دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتی ہیں۔ کرونا پہلی افتاد ہے اور نہ آخری۔اگرچہ بعض اعتبار سے ایسی سنگین کہ تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں۔طاعون، انفلوئنزااور یورپی ہیضے کے برعکس ہلاکتوں کا تناسب کم ہے مگر غیر معمولی سرعت سے پھیلنے والی۔ یہی اصل مسئلہ ہے۔ دنیا کے امیر ترین ممالک کے پاس بھی کافی سازو سامان اور موزوں ادویات مہیا نہیں۔ برطانیہ کے سیکرٹری ہیلتھ نے کل بہت بے بسی اور بے چارگی کا اظہار کیا۔ باقی دنیا کا عالم بھی یہی ہے۔ پاکستان میں بھی سب سے بڑا مخمصہ یہی ہے۔ بہترین علاج تنہائی ہے۔ دو آدمیوں کے درمیان فاصلہ۔ ہاتھوں کو صاف کرنے والا لوشن یعنی سینی ٹائزر۔ قوموں کے مزاج صدیوں میں ڈھلتے ہیں۔ معاملے کی سنگینی کا ادراک کم ہے اور اسی نے حکومت کو مخمصے میں مبتلا کر رکھا ہے۔ وقت اپنے فیصلے خود صادر کرتاہے اور رفتہ رفتہ بتدریج ہم مکمل لا ک ڈاؤن کی طرف بڑھ رہے ہیں۔سندھ اور پنجاب میں فیصلہ ہو چکا‘باقی علاقوں میںاعلان کسی بھی وقت متوقع ہے۔ مخمصے کی وجہ یہ ہے کہ بے چارے غریبوں کا کیا بنے گا۔

بہت تیزی کے ساتھ کوئی جامع منصوبہ تشکیل نہیں دیا جا سکتا۔ خدا کا شکر ہے کہ ہمارے لوگ رحم دل ہیں۔ ہزاروں نہیں، لاکھوں افراد دوسروں کی مدد کر رہے ہیں۔’’اخوت‘‘ اور ’’الخدمت‘‘ سمیت کم از کم چار تنظیمیں بروئے کا رآچکیں۔ سوشل میڈیا پر اعلانات ہیں کہ مجبور خاندانوں کے پتے بھجوائے جائیں۔ باقی دنیا کے مقابلے میں پاکستانی قوم اوسطاً دو گنا خیرات کرتی ہے۔انشاء اللہ ایثار کا یہ جذبہ اور بڑھے گا۔ تنہاحکومت نہیں، یہ پوری قوم کی جنگ ہے۔ کوئی بھی شخص جو خود کو تنہا کر لیتا اور حفاظتی اقدامات کرتا ہے‘ ممکن ہو تو ایثار بھی، وہ اس جہاد میں شریک ہے۔ غیر ذمہ داری کے مرتکب سبوتاژ کے عمل کا حصہ ہیں۔ ایسی ہر بڑی مصیبت اپنے ساتھ گھبراہٹ لاتی اور قوتِ فیصلہ کومجروح کرتی ہے۔ چند برس پہلے ایک بڑے بحران سے ہم گزر چکے ہیں۔ تب بھی ایسا ہی شدید کنفیوژن تھا۔ یہ دہشت گردی کی جنگ تھی۔ خوا زہ خیلہ میں ایک کرنل نے مجھ سے کہا: محاذ پر آنے سے پہلے والد سے دعا کی درخواست کی۔ انہوں نے کہا: میں تمہارے لیے دعا کروں اور ان کے لیے بھی یعنی قاتلوں کے لیے بھی۔ اللہ اور رسول ؐکا پرچم انہوں نے اٹھا رکھا تھا۔ قوم مخمصے میں مبتلا۔ ملالہ پر فائرنگ ہوئی تو بہت سوں نے اسے ڈرامہ قرار دیا تھا۔ اخبار نویسوں کے لیے اپنی پہلی بریفنگ میں جنرل کیانی نے کہا کہ دشمن اور دوست میں تمیز مشکل ہے۔

کبھی اچھا خیال عام ذہن میں بھی پھوٹتا ہے۔ دوسری بریفنگ میں عرض کیا کہ فلاں بزرگ سے انہیں مشورہ کرنا چاہئیے۔ قرآنِ کریم یہ کہتاہے کہ ذہن جب الجھ جائیں تو رہنمائی اہلِ علم سے طلب کرنی چاہئیے۔ مشاورت کا دائرہ انہوں نے پھیلا دیا اور اللہ نے ان کی مدد کی۔ پے درپے ایسے واقعات ہوئے کہ سوات میں آپریشن ممکن ہو گیا۔ معاہدہ ہو جانے کے باوجود صوفی محمد نے آئین، پارلیمنٹ اور بینکوں بلکہ تمام سرکاری اداروں پر عدم اعتماد کا اعلان کر دیا۔ایک جلسہ ء عام میں ان کا خطاب اعلانیہ بغاوت کے مترادف تھا۔ فضا بدلنا شروع ہوئی۔ پھر سیاسی جماعتیں یکجا ہوئیں اور فوجی قیادت کو فیصلہ صادر کرنے کی اجازت دی۔ برہمی تو افغانوں کا قتلِ عام کرنے والے امریکہ پہ تھی۔پاکستان میں اس نے امریکہ نواز حکومت کو ہدف کر لیا۔ جنرل مشرف نے حماقت یہ کی کہ پاکستان میں افغان سفیر ملّا ضعیف سمیت بہت سے لوگوں کو امریکہ کے حوالے کر دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جنونیوں کے ہاتھ میں جواز آگیا۔ ملّا عمر کی فکر سے ہمدردی رکھنے والوں نے خود کش بمباروں کے گروہ تیار کرنا شروع کیے تو بھارت ان کی مدد کو پہنچا۔ افغانستان کی خفیہ ایجنسی این ڈی ایس بھی؛با ایں ہمہ فوجی قیادت یکسوہوئی اور تائید میسر آئی تو قاتلوں سے نمٹنے کا تہیہ کر لیا گیا۔ آنے والے کئی سال شدید خون ریزی کے تھے۔ ہر ہفتے تین سے پانچ بڑے دھماکے ہوتے۔ ساٹھ ستر ہزار شہری جان سے گئے۔ مارکیٹوں، مزارات، ایک آدھ مینا بازار اور چرچ کے علاوہ فوجی اور سرکاری دفاتر، حتیٰ کہ فوجی علاقے کی مساجد بھی ہدف تھیں۔

بالاخر آئی ایس آئی اور فوج کے صدر دفتر یعنی جی ایچ کیوپر بھی حملے ہوئے۔ جی ایچ کیو میں ہدف چیف آف آرمی سٹاف کو یر غمال بنانا تھا۔ ایک سپاہی نے جان دے کر ان کی حفاظت کی۔ ان کے دفتر کی نشاندہی سے انکار کر دیا۔ اس مہارت، یکسوئی اور عرق ریزی کے ساتھ جنرل کیانی بروئے کار آئے کہ مورخ بے ساختہ تحسین کرے گا۔ جب بھی دہشت گردی کی تاریخ لکھی جائے گی، حیرت اور رشک کے ساتھ بتایا جائے گا کہ گھنی آبادی، کھیتوں اور باغات سے بھرے سوات میں 90دن میں آپریشن مکمل اورمکین واپس چلے گئے۔ یاد ہے کہ ایک بریفنگ کے دوران، ماحول پر جب اداسی کے سائے تھے، دھیمے اور نجیب رحیم اللہ یوسفزئی نے حسرت سے کہا:اگر گندم کی فصل کٹنے کا انتظار کیا جا سکتا؟ اس پر ایک مشہور اخبار نویس نے کہا ’’گندم بچا لو یا ملک۔‘‘ چند دن بعد جب ہیلی کاپٹر میں خوازہ خیلہ کا سفر کیا تو گندم کے سنہری کھیتوں کو دیکھتے ہوئے آنکھیں بھر آئیں۔سوچا:یوسفزئی کو مستردکرنے والے اخبار نویس نے ان کھیتوں کا نظارہ کیا ہوتا۔ اگر اسے معلوم ہوتا کہ سرما کی تاریک سردراتوں میں گیہوں کے کھیتوں کو سینچنا کتنا دشوار ہوتاہے تو شاید وہ موزوں تر لفظ منتخب کرتا۔ ابھی کچھ دیر پہلے اسی اخبار نویس کا موقف سوشل میڈیا پر دیکھا ہے ’’نخرے چھوڑواور لاک ڈاؤن کرو‘‘۔

اس کا موقف تب بھی درست تھا، اب بھی۔ یہ گزارش البتہ ہے کہ غم و آلام میں لہجے شائستہ ہونے چاہئیں۔ بحران میں قوتِ فیصلہ کا فقدان اور بھی تباہ کن ہوتاہے۔ گنگرین کے مریض کی انگلی کاٹنی پڑے تو بروقت کاٹنی چاہئیے مگر مریض کو ڈانٹنا ضروری نہیں۔ بیس برس ہوتے ہیں، بخار معالج کے پاس لے گیا۔بتایا کہ سبب تمباکو نوشی ہے۔ ’’اب آپ کیا کریں گے؟‘‘ اس نے کہا۔ حیرت سے معالج کو دیکھا اور عرض کیا:ظاہر ہے کہ بحال ہونے تک سگریٹ نہیں پیوں گا۔ ڈاکٹر نے چپل میں ملبوس اپنا پاؤں آگے بڑھایا اور کہا: میں گنگرین کا شکار ہو چکا۔ اس لیے کہ میں سگریٹ نوشی ترک نہ کر سکا۔ خاموشی احترام کا تقاضا تھا۔ جی میں خیال یہ ابھرا، اللہ آپ کی مدد کرے۔ لیبیا، شام، عراق اور افغانستان دہشت گردی کی نذر ہوئے۔ آج تک اپنے قدموں پر وہ کھڑے نہیں ہو سکے۔ امریکی فوج کی واپسی کے باوجود، سدا کا باغی افغانستان غیر ملکی امداد کا محتاج رہے گا۔ دو لاکھ کی فوج ختم نہیں کی جا سکتی اور قومی معیشت اس کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنا بھی مشکل ہوگا۔ جو اقوام اپنے فیصلے خود صادر نہیں کرتیں، وہ خود کو حالات اور دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتی ہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com