قرار داد پاکستان اور آج کی 23 مارچ - عثمان عبدالقیوم

سوشل میڈیا کی سماجی ویب سائٹ پر قومیت پر مبنی موضوع زیر بحث نظر آیا ہر کوئی اپنے اپنے انداز سے اس موضوع پر گفتگو کر رہا تھا اپنے انداز سے دلائل دیتے ہوئے اپنی بات کو معتبر ثابت کرنے کی کوشش میں تھا لوگوں کے تاثرات پڑھتے پڑھتے ماضی کی یاد نے آواز دی کہ بچپن سے لے کر اب تک 23 مارچ کی پریڈ کو باقائدگی سے دیکھنے کا اہتمام کیا کرتا تھا۔

دوپہر کے وقت اکثر علاقہ میں ہونے والے پروگرامز میں شرکت کے لیے نکل جایا کرتا تھا مگر آج کی 23 مارچ کو اپنے گھر میں ہی موجود تھا نا باہر جا سکا۔ زندگی کی پہلی اداس 23 مارچ تھی۔ قوموں کی زندگی میں بعض لمحات انتہائی فیصلہ کن ہوتے ہیں جو اپنے نتائج اور اثرات کے اعتبار سے خاص درس اور تاریخ کا رخ موڑنے کی اہلیت رکھتے ہیں 80 سال قبل نا تو سوشل میڈیا تھا نا کوئی منظم ٹی وی چینل، وسائل بھی نا ہونے کے برابر تھے ناہی روابط کا انتظام بہت اعلی تھا مگر پھر بھی 23 مارچ 1940 کا دن بہت تاریخی بننے جا رہا تھا لاکھوں مسلمان اکھٹے ہوئے اور بنگال کے وزیر اعلیٰ مولوی فضل حق نے ایک قرار داد پیش کی جس کی تائید مسلمانوں نے دل و جان سے کی۔ یہ عظیم دن تھا جب انگریز کی غلامی سے نجات پانے کے لیے قرار داد پاکستان منظور کی گئی۔

اس قرار داد کی روشنی میں قائد اعظم محمد علی جناح نے سیاسی فہم و فراست، عزم و جرات، یقین محکم اور عمل پیہم سے دنیا کے نقشے پر ایک نئی مملکت کا اضافہ کیا جو برصغیر کے مسلمانوں کی ایک اہم اور اشد ضرورت تھی۔ اس تاریخی دن کے بعد برصغیر کے مسلمانوں نے ہندو و مسلم مسئلے کا حل نکالتے ہوئے تقسیم برصغیر کے ذریعہ سے الگ ملک پاکستان کے مطالبہ کو قومیت کی بنیاد پر شروع کیا تھا یہ وہ دن تھا جب جب رنگ و نسل کے سارے بت خانے توڑ کر مخالف عقائد کے سارے ماننے والے مختلف برادریوں سے تعلق رکھنے والے مختلف علاقائی و خاندانی ثقافتوں کے حامل تمام مسلمان ایک کلمہ توحید کی بنیاد پر پرچم پاکستان کے سائے تلے اکھٹے ہونے کا اعلان کیا۔

اس وقت کسی جٹ نے جٹستان، کسی آرائیں نے آرائیں آباد کی بات نہیں کی تھی نا پنجاب سے پنجابستان کی آواز آئی تھی نا کسی پٹھان، سندھی یا بلوچی نے اپنے نام سے منسوب ملک کئ بات کی تھی یہاں تک کہ سنی تھا یا شعیہ وہابی تھا یا دیو بند کسی نے بھی اپنے عقائد کی ترجیح کی بات نہیں کی تھی مذہبی و سیاسی طور پر انکی صفوں میں کسی قسم کا انتشار کی لہر نہیں تھی بلکہ یہ پیغام تھا ” ہماری صف بھی ایک ہے کیونکہ ہم سب کا رب ایک ہے سب ایک نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ الہ وسلم کی نبوت پر یقین رکھتے ہیں اور انہی پر نازل کتاب قرآن مجید پر ایمان رکھتے ہیں۔ اس یکجہتی کی آواز سے برصغیر میں موجود دشمنوں کو ایک پیغام گیا یہ سب اتفاق کی رسی میں آ چکے ہیں اب ہماری تدبیروں کا فائدہ نہیں یہ ایک صف کی شکل میں ایک آواز بن چکے ہیں اب پاکستان کا معرض وجود لازم ہو چکا ہے کیونکہ حصول پاکستان کے لیے اسکی کی بنیادیں استوارکرنے کے لئے متحدہ مسلمانوں کی ہڈیاں اینٹوں کی جگہ ،گوشت گارے کی جگہ ،اورخون پانی کی جگہ استعمال کرتے ہوئے قومیت کی اعلی مثال بن گئی تھی۔

انہی قربانیوں کے بعد 14 اگست 1947 کو وطن عزیز پاکستان کا قیام وجود عمل میں آیا۔ قارئین کرام آغاز میں جو باتیں لکھیں شاید آپ راقم سے زیادہ اس پر علم رکھتے ہوں مگر ان سب کا ایک خاص مقصد ہے اس وقت دنیا میں میں بہت سے ممالک بشمول پاکستان ایک کرونا وائرس جیسی وبا میں مبتلا ہیں اب تک سینکڑوں لوگ اس وبا کے شکار بن چکے ہیں اور بہت سے لوگ اس سے مقابلہ کرتے ہوئے جان گنوا بیٹھے ہیں۔ اس وقت پوری دنیا میں کورونا وائرس کا خوف پھیل رہاہے ، اپنا جسم اپنی مرضی تو ایک طرف ، ملکوں اور قوموں کی مرضی محدود ہوگئی ہے ۔ امریکا ، یورپ اور چین جیسی بڑی طاقتیں بے بس ہورہی ہیں . کرونا وائرس پر احتیاطی تدابیر اختیار کرنا قومی ذمہ داری ہے قوم کو اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے اس سے مقابلہ کے لیے صفائی سب سے اہم ستون ہے جیسا کہ احادیث مبارکہ سے بھی ہمیں صفائی کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔

"صفائی آدھا ایمان ہے" "الطَّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ "

اس حوالہ سے سب سے اہم کردار علما کرام اور میڈیا کا ہے مگر پچھلے کئی دنوں سے دیکھ رہا ہوں حکومت پاکستان کی جانب سے کچھ احتیاطی تدابیر بتائی گئیں ہیں جن پر ہمارے کچھ نامور علماء کرام جنکو عام عوام میں بہت پذیرائی حاصل ہے ان احتیاطی تدابیر کو اسلام منافی کہ رہے ہیں ماضی کی طرح آج بھی سیاسی غلامی کے پیش نظر تنقید کا مظاہرہ کر رہے ہیں دوسری جانب میڈیا کے لوگ صرف اپنی ریٹنگ کی خاطر ملک کی عزت داو پر لگائے بیٹھے ہیں بس اس تاک میں ہیں کہیں سے اسکی خبر ملے تو وہ اسکو ریٹنگگ نیوز کے طور پر چلا کر سب سے پہلے کا ایوارڈ لیں ان سے بڑھ کر سوشل میڈیا پر سیاسی و مذہبی کارکنان جو خود کو معروف سمجھتے ہیں آج بھی تنقید اور مزاق کر رہے ہیں قارئین کرام اس بات پر کوئی شک نہیں یہ اللہ کا عذاب ہے مگر اسلام ہمیں اس طرح کی آفات سے مقابلہ کرنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تلقین کرتا ہے 1940 سے تعبیر پاکستان سے تکمیل پاکستان کے ؛یے جس طرح ہم آہنگی و محبت و اتحاد سے جدوجہد ہمارے اسلاف نے کی تھی آج اس وائرس سے مقابلہ کے لیے 1940 والا جذبہ درکار ہے۔

آج بھی علماء مشائخ کو چاہئے شرعی اعتبار سے ہماری رہنمائی مثبت انداز سے کریں میڈیا اور علماء مشائخ کو چاہیے حکومت کے احکامات پر عمل کروانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں بلکہ ہم سب کو ایک عہد کرنا چاہیے گلی گلی نگر نگر سمجھانا ہے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم سے اس نظریے کی ترویج کرنی ہے پاکستان کے لئے یہ کام ایک مشن کے طور پر کام کرنا ہے عوام کی رہنمائی کرنی ہے کیونلکہ اس وقت پوری انسانیت امتحان سے دوچار ہے اور قوم کو خوف، دہشت اور مایوسی سے دور کرنے کا وقت ہے ۔ صفائی و حکومتی احکامات پر مکمل عمل دینی و قومی فریضہ سمجھ کر کرونا وائرس کا بخوبی مقابلہ کرنا ہے۔

اور ذمہ داری شہری کا ثبوت دیتے ہوئے یہ بتانا ہے کہ بچو اور بچاو فریضہ بھی ہے اور قومی ذمہ داری بھی ہے۔ اپنے طریقہ سے اس پر قومیت کا سبق دینا ہےمیڈیا،علمائے کرام،اساتذہ،وکلا،انجینئرزسمیت تمام طبقات عوام کے دکھوں کا مداواکرنے اوران کے زخمو ں پر مرہم رکھنے کیلئے اپنا کرداراداکریں۔ لوگوں لکو توبہ و استغفار کی طرف لائیں۔ کیونکہ ہم اسکی تعمیر میں ہم حصہ تو نا لے سکے کم از کم تعمیر شدہ پاکستان کی حفاظت تو کر سکتیں ہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */