رحمٰن رحیم، ناراض ہے۔ رفاقت حیات

تم ذخیرہ اندوزی،ملاوٹ اورناپ تول میں کمی کیا کرتے تھےناں!لوتمہاری دکانیں،تمہارے بازار،تمہاری فیکٹریاں سب بند ہوگئیں۔

اے بنت حوا!
تم اپنے جسموں کی نمائش کیا کرتی تھی نا! لو اب گھر میں بیٹھ جاؤ،نہ کسی کو تم اپنا جسم دکھا سکو گی نا کوئی دیکھ سکے گا!میرا جسم میری مرضی کا کہا کرتی تھی نا!!لو اب اپنی مرضی کرکےدکھاؤ،گھر میں کیوں دبک کے بیٹھ گئی...؟؟؟

اے ابن آدم!

تم بازاروں میں بدنگاہی کیا کرتے تھے نا،لو وہ بازار ہی بند کردئیے گئے! شکر کرو تمہاری آنکھیں نہیں نوچ دی گئیں!ظاہر میں دوست اور دلوں میں بغض وکینہ رکھا کرتے تھے نا!
لو دیکھو اب ایک دوسرے سےگلےملنا تو درکنار ہاتھ تک نہیں ملاسکتے، چھو نہیں سکتے!جو اندر خبث رکھتے تھے،اس کا اب اثر دیکھو!اپنے خونی رشتہ داروں سے حسد رکھا کرتے تھے نا! دیکھو! خدا نے وہ ذریعے، وہ رستے ہی بند کروادئیے،جن سے تم اپنوں کےہاں جا کر زہر اگلا کرتے تھے!!

خدا بلاتا تھا نا تمہیں پانچ وقت کہ آؤ میرے بندے.. میرے گھر...،مجھ سے ملاقات کرو!تم نے ہمیشہ سنی ان سنی کردی نا!آج تمہارے لیے اپنے گھرکا دروازہ ہی بند کردیا!اپنے جیسوں کے ساتھ مل کر تم رب کی نافرمانیاں کیا کرتے تھے نا!اب اس نے تمہارا گھر ہی تمہارے لیےجیل بنا کے رکھ دیا!تمہارا عہدہ، تمہاری طاقت،تمہاری سپر پاورز کہاں ہیں؟؟؟خدا کی بنائی ہوئی ایک حقیرسے نظر نہ آنے والے مخلوق نے تمہیں ناکوں چنے چبوا دیئے ہیں!!اس نے ڈھیل دے رکھی تھی اور تم نے سمجھا کہ کوئی پوچھنے والا نہیں ہے،لو دیکھو! اب جب رسی کھنچی تو کیسی کیسی طاقتیں گھٹنوں کے بل گر پڑیں۔

اس نے ہلکا سا اشارہ دیا ہے کہ ابھی سنبھل جاؤ،سب کچھ سب کے ہاتھ میں نہیں ہے۔فرعون بھی شکست کھاگیا تھا!!قارون کی دولت بھی اس کے کام نہ آسکی،تم چیز ہی کیا ہو؟ کہاں خالق کہاں مخلوق؟؟ کیا مخلوق کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ اپنے خالق سے مقابلہ کرے؟ اس کے حکم کی خلاف ورزی کرے؟ نہیں،ہرگز نہیں! خدا کی اس ناراضی کوسمجھو!اور خود کو جھوٹیاں تسلیاں مت دو!ابھی ہلکا سا اس نے جھنجھوڑا ہے،سمجھو خدا کےلیے!

اپنے گھر میں، تنہائی میں بیٹھ کر،اپنے روٹھے ہوئے رب کو منالو!وہ مان لیتا ہے۔اور یہ بھی یاد رکھو کہ:-"بےشک اس کی پکڑ شدید ہے"