سلیم ساغر ؔ کی رباعیات، موجودہ تناظر میں - ڈاکٹر اشرف لون

رباعی کا نام سامنے آتے ہی راقم السطور کے ذہن میں امجد اور فرید پربتی(مرحوم) کا نام بھی ذہن میں گردش کرنے لگتا ہے۔اور یہ حقیقت ہے فرید پربتی ایک اچھے شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ رباعی کے ایک اچھے استاد بھی تھے۔
آج جب مغرب والوں نے غزل اور ہائیکو کو اپنایا ہے اور اس میں طرح طرح کے خیالات پیش کیے ہیں۔

لیکن ہمارے یہاں مختلف اصناف شعر کو طاق نسیاں کیا گیا۔ مرثیہ کی مثال سامنے کی ہے۔ہمارے یہاں رباعی کو اب صرف ’’ خیام یا رباعیات خیام‘‘ سے مختص کیا گیا ہے۔ ادب کا معیار اس حد تک گر گیا ہے کہ ابھی ہم افسانے کی دنیا میں اپنی ٹانگوں پر بھی کھڑ ے نہ ہوئے تھے کہ ہم میں کچھ لوگ افسانچہ کو ادب کی اہم صنف کہنے لگے ہیں ۔ اس صورت حال پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے ۔تنقید اور نام نہاد دانشوری کا شعبہ اُن کے ہاتھوں میں آگیا ہے جن کو کسی دوسرے کاروبار میں ہونا چاہیے تھا اور غلطی یا کسی مجبوری سے اس شعبے میں آگئے ہیں۔

سیاسی اور عالمی سطح پر دنیا جس کا مزہ آج چکھ رہی ہے ، ہم اس کا مزہ کئی دہائیوں سے چکھ رہے اور لوگوں کا اپنی بپتا بھی سُنا رہے ہیں۔پچھلے آٹھ مہینے کون بھول سکتا ہے۔وہی بھول سکتا ہے جس نے اپنے ضمیر بلکہ اپنے آپ کا بھی سودہ کر لیا ہو۔اور بدقسمتی سے عذابوں کی اس بستی میں سودہ کرنے والوں کی کمی بھی نہیں۔ بہرحال بات رباعی سے شروع ہوئی تھی۔ مذکورہ باتیں اس لیے ذہن میں آئیں کہ آج کی دنیا میں کوئی بھی چیز سیاست سے خالی نہیں یہاں تک کہ ادب کو بھی اس نے اپنی جھپیٹ میں لیا ہے۔ اب جب کہ نئی وبائی بیماری ’’کرونا وائرس‘‘ کے چلتے عوام کو گھر پر ہی رہنے کی ، اور قرنطینہ اختیار کرنے کی تلقین کی جارہی ہے۔دنیا کے مختلف رسالوں و اخباروں میں اس کے چلتے طرح طرح کی خبریں بھی نشر ہورہی ہیں۔کچھ خبریں ایسی بھی ہیں فلاں ناول و افسانے میں اس وباکی پیشن گوئی کی گئی تھی اور کہیں پر چرچا ہے کہ اس وبا میں کن کتابوں کا مطالعہ ضروری ہے تو کئی لوگوں کا ماننا ہے کہ ان دنوں میں گھر پر رہتے اچھی شاعری ، افسانہ یا ناول لکھا جاسکتا ہے جیسا کہ شیکسپئیر نے 1606ء میں وبا کے دوران میں کننک لئیر، میکبتھ اور انٹنی اور کلوپترا جیسے شاہکار ڈرامے لکھے ۔

ان دنوں اسپینی ادیب گبریل گارسیا مارکیز کا ناول ’ ’ وبا کے دنوں میں محبت‘‘ ہر کسی کی زبان پر ہے۔ کچھ لوگوں نے تو اس کا مطالعہ بھی شروع کیا ہے اور کچھ لوگ جنہوں نے اس کو پہلے کئی کئی بار پڑھا تھا ،وہ بھی نئے سرے سے اس کا مطالعہ کررہے ہیں۔دوسری تصنیف جس کا ذکر بار بار ہورہا ہے، اڈگر ایلن پو کا افسانہ ’’ سرخ موت کا رقص‘‘ہے ۔ البرٹ کامیو کا ناول ’’وبا ‘‘ کا ذکر بھی ہورہا ہے۔ ادھر ہمارے یہاں بھی جلد ہی انگریزی میں ایک ناول ’’ ہمارے اوپر ایک وبا‘‘(The Plague Upon Us) شا ئع ہورہا ہے ۔ناول کے مصنف ہیں شبیر احمد میر۔ یہ ناول کس وبا کے مطلق ہے اس کا پتہ تو ناول کا مطالعہ کرنے کے بعد ہی چلے گا۔ بہرحا ل اندازہ تو یہی ہے کہ سیاسی وبا اور اس کے اثرات ناول کا موضوع ہوگا، کیوں کہ کہا جاتا ہے کہ جہاں سیاسی اتھل پتھل ہر وقت رہتی ہو اور یہ نہ پتہ چلے کہ اگلے لمحے میں سیاسی سطح پر کیا ہوگا، ماننا چاہیے کہ وہاں کی ہر چیز میں سیاست ہوتی ہے۔

یقین کیجیے کہ میں نے گبریل گارشیا کا ناول ’’ وبا کے دنوں میں محبت ‘‘ پچھلے سال ان دنوں میں پڑھا جب یہاں سیاسی وبا کے زیر اثر لوگ اپنے گھروں تک محدود کر دیے گئے تھے۔ اور آئیندہ کچھ دنوں میں اس کا مطالعہ کرنے کا پھر سے ارادہ ہے۔لیکن فی الحال میرے زیر مطالعہ جموں و کشمیر کے ایک ابھرتے ہوئے کامیاب نوجوان شاعر سلیم ساغرؔ کی رباعیاں ہیں۔اور راقم السطور کا ماننا ہے ان رباعیات میں بیشتر یہاں پھیلے سیاسی وبا کے زیر سایہ ؎ لکھی گئی ہیں ۔اسی لیے تو ان رباعیوں پر اس سیاسی وبا کا اثر صاف دیکھا جاسکتا ہے۔ سلیم ساغرؔکا شمار جموں و کشمیر کے ان نوجوان شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے یہاں کے درد و کرب کو بڑی خوبصورتی سے اپنی شاعری میں سمویا ہے۔ ان رباعیوں میں کشمیر میں پچھلے تیس سال سے پنپ رہے حالات کا عکس صاف نظر آتا ہے۔ان کے اندر درد بھی ہے ، کسک بھی اور ایک طرح کا احتجاج بھی:

؎ جب بھی دیکھو چاکِ جگر سینا ہے

حالات کا زہر اب یہاں پینا ہے

ہنس بول سکیں، ہم کو کہاں چین نصیب

جینا ہے اگر یہی تو کیا جینا ہے

اور ہم حالات کا زہر پچھلے ستر سال سے پی رہے ہیں۔پچھلے تیس سال میں اس زہر میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ حالات نے ہم سے ہنسی بھی چھین لی ہے۔ ماں ، بہنیں اور بیٹیا سینا پیٹ پیٹ کر آہ وزاری ،اور انصاف کے لیے فریاد کررہی ہیں لیکن ’’منصف ‘‘ ہے کہ ٹس سے مس نہیں ہورہا ہے ۔ نوجوان کو چین نصیب نہیں، پہلے تو رات کے خوفناک اندھیرے میں کہیں گُم ہوجاتے یا کھو جاتے تھے ، لیکن اب تو دن دہاڑے یہاں غائب ہورہے ہیں۔ہر دن لاشیں اٹھ رہی ہیں۔زندگی عذاب بن گئی ہے۔ظلم تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے لیکن وہیںہر دن اس ظلم کو نظر انداز کر کے مسخروں کے ٹولے اپنی سیاست چمکانے میں لگے ہوئے ہیں۔

؎ تم لاکھ کہو یہ دنیا داری ہے

مجھ پر تو کھلی ساری عیاری ہے

اس چرب زبانی کے لیے دل میں مرے

جذبہ ہے اگر کوئی تو بے زاری ہے

لوگوں پر تو عیاری کب کی کھُل چکی ہے لیکن ظالم کا پنجہ اتنا سخت ہے کہ آزادی ناممکن تو نہیں لیکن مشکل ضرور ہوگئی ہے۔ہر طرف بیزاری پھیلی ہوئی ہے، جس کا سلسلہ یہاںکئی برسوں سے چل رہا ہے۔محبت، اخوت، کا جذبہ بھی ماند پڑھ گیا ہے، بس ایک ہی جذبہ باقی رہ گیا ہے اور وہ ہے جذ بہ بیزاری ، ہر چیز سے بیزاری کہ غم کے اندھیرے نے ہر ایک کو اپنی جھپیٹ میں لیا ہے۔اور یہ کہ کب ظلم کی یہ رات ختم ہو اور ہم بھی آزادی کی صبح دیکھ سکے۔

سلیم ساغر نے ان رباعیوں میں عصری حالات کو جس خوبصورتی سے پیش کیا ہے وہ انہی کا حصہ ہے۔ رباعی ایک مشکل فن ہے،یہ ہم سب جانتے ہیں اور رباعی میںسیاسی مسائل کو جگہ دینا ایک شاعر کی بہت بڑی کامیابی کہی جاسکتی ہے۔ادیب کے لیے بڑامسئلہ تب کھڑا ہوجاتا ہے جب ریاست یا اسٹیٹ مشنری کی طرف سے اُس کے اظہار پر پابندی عائد کرنے کی کوشش کی جاتی ہو۔ جب ہر طرف دھواں ہی دھواں ، یہاں تک کہ چراغوں سے روشنی کے بجائے دھواں ہی دھواں اٹھتا ہو اور یہیں پر عوام شاعر، ادیب و انشور سے روشنی کی امید رکھتے ہیں۔اور یہاں پر روشنی کی مشعل سے مطلب شاعر کے وہ الفاظ ہیں جن سے وہ حکمرانوں کی نیندیں حرام کرتا ہے اور عام قارئین کے ساتھ ساتھ ’’منصف‘‘ تک اپنی بات پہنچاتا ہے۔ اس سلسلے میں ساغرؔ کی یہ رباعی ملاحظہ ہو:

؎ ہر شام چراغوں سے دھواں اٹھتا ہے

بے کیف ایاغوں سے دھواں اٹھتا ہے

محفل نہیں جمتی ہے ترے بن ساقی

ماوف دماغوں سے دھواں اٹھتا ہے

کون باحِس انسان اس سے واقف نہیں کہ یہاں پچھلے تیس سال سے چراغوں سے روشنی کے بجائے دُھواں ہی دُھواں اٹھ رہا ہے اور اس دُھویں نے سب کو اپنی جھپیٹ میں لے لیا ہے۔محفلیں درہم برہم ہوگئیں ہیں۔ہر طرف خوف و دہشت کے سائے پھیلے ہوئے ہیں۔نصف رات کے کرفیو نے لوگوں کی نیندیں بھی حرام کی ہیں۔

اور یہ رباعی :

؎ دل چسپ نظاروں کو ادھر دیکھا ہے

پُر کیف بہاروں کا گزر دیکھا ہے

جنت کا نمونہ اسے کہنے والے

کشمیر کبھی خون سے تر دیکھا ہے

ظاہر سی بات ہے کہ سلیم ساغر ؔنے مختلف موضاعات کو اپنی شاعری میں جگہ دی ہے اور بڑی خوبصورتی اور کامیابی کے ساتھ ۔لیکن چونکہ حالات ہی ایسے ہیں کہ راقم السطور ان ہی رباعیوں کو یہاں رقم کررہا ہے جو عصری حالات اور یہاں پھیلے ’’سیاسی وبا‘‘ سے مطابقت رکھتی ہیں۔رومان و داستان اور حسن و عشق پر بات پھر کبھی۔کہ بقول فیض ؔ: اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا۔اور جیساکہ اوپر ذکر ہوا وبا کے دنوں میں محبت پر کبھی تفصیل سے بات ہوگی ۔یہاں تو شاعر آہ و زاری کر رہاہے:

؎پیروں کی یہ زنجیریں رہے گی کب تک

سر پر تیرے شمشیر رہے گی کب تک

یوں وادی ِکشمیر رہے گی کب تک

زنداں کی تصویر رہے گی کب تک

قوم کے مکاروں اور موجودہ سیاست کے لیے :

؎ اس قوم نے ہر دور میں غربت جھیلی

مکاروں کی ناپاک سیاست جھیلی

دیکھی ہی نہیں چیز ہے کیا آزادی

صدیوں سے غلامی کی مصیبت جھیلی

ہم تو پچھلے آٹھ مہینے سے پابندیوں میں جھکڑے ہوئے ہیں۔جب زبانوں پر مہر نہ لگاسکے تو الفاظ، قلم اور سیاہی ہی کی رسد اور ذرایع کو بند کیا۔لیکن ذہنوں پر تو تالے نہیں لگاسکتے اور ہمارا حافظہ تو اتنا کمزور نہیں۔تاناشاہوں نے ہر طرف جال پھیلا رکھے ہیں اور لوگوںپر ہر قسم کے ظلم ڈھائے ہیں لیکن تاریخ نے تاناشاہوں کو بالآخر ملیا میٹ کیا ہے اور تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا ہے۔سلیم ساغرؔ کی اس رباعی کی معنویت آج کے اس تاناشاہی دور میں مزید بڑھ جاتی ہے:

؎ سچائی کے اقرار پہ پابندی ہے

ہر جھوٹ کے انکار پہ پابندی ہے
اس دور جہالت میں کہیں کیا ساغرؔ

احساس پہ ، اظہار پہ پابندی ہے

سلیم ساغرؔ کی رُباعیات پر بات کرتے ہوئے مسعود سامون نے صحیح لکھا ہے:’’ سلیم ساغرؔ کی طبیعت موزوں ہے اور چھ رباعیات میں چوبیس اوزان کو استعمال کرکے انہوں نے اس صنف کے عروضی پہلو پر اپنی مکمل گرفت کا ثبوت پیش کیا ہے۔اس نوجوان شاعر نے جس طرح کامیابی سے اپنی رباعیوں میں فنکارانہ چابک دستی سے مختلف موضوعات کو برتا ہے، قابل داد ہے۔‘‘ایسے حالات میں جب ہم ایک ’’غیر اعلانیہ امرجنسی ‘‘ میں جی رہے ہیں، ہر طرف قدگنیں لگی ہوئی ہیں اور ادیبوں، صحافیوں اور دانشوروں کو ’’منتخب ڈکٹیٹروں‘‘ سے مختلف قسم کی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، یہاں تک کہ عام گفتگو کو علامتی انداز میں پیش کرنے پر زور دیا جارہا ہے کہ کہیں ظالم تک بات نہ پہنچ جائے۔باتیں بہت کہنا تھیں ، لیکن جیسا کہ سلیم ساغر نے خود کہا ہے:۔

؎ ہر ظلم کی تفسیر نہیں لکھ سکتے

دن رات کی تعزیر نہیں لکھ سکتے

آزادی ٔ ِ اظہار ترا کیا کہنا

زنجیر کو زنجیر نہیں لکھ سکتے