متفقہ حکمت عملی ہی واحد راہِ نجات ہے - حبیب الرحمن

نیکی و شر کا تصادم ایک ایسی جنگ ہے جو روزِ قیامت تک جاری رہی گی۔ بے شک اس میں کوئی شک نہیں کہ بہر حال غالب نیکی کو ہی آنا ہے لیکن جب تک زندگی ہے اور پوری کائینات میں کوئی ایک ذی روح بھی باقی ہے چراغِ مصطفوی سے شرارِ بو لہبی کا ٹکراؤ جاری رہے گا اور یہی وہ ٹکراؤ ہے جو تمام جن و بشر کیلئے ایک امتحان ہے۔

اور جو بھی نیکی و شر کے اس تصادم میں نیکی پر قائم رہے گا اور اس کے پائے ثبات میں ذرا بھی لرزش نہیں آئے گی وہی کامیاب ہونے والوں کی فہرست میں شمار کیا جائے گا اور اللہ کے حضور انعام و اکرام کا مستحق ٹھہرایا جائے گا۔
اختلافات جہاں دین کا حسن ہیں وہیں اگر اختلافات ضد، اڑ، ہٹ دھرمی، انا اور بڑائی اختیار کرلیں تو اتنے بد شکل اور بھیانک ہو جاتے ہیں کہ ہنستی بستی بستیوں کو ویرانوں میں بدل کر رکھ دیتے ہیں۔کچھ اختلافت ایسے ہوتے ہیں جو نئی نئی راہیں کشادہ کرتے چلے جا جاتے ہیں۔ ایسے سارے اختلافات اس بات کی علامت ہوتے ہیں کہ لوگ کچھ سیکھنا چاہتے ہیں، کسی بات کی گہرائی میں پہنچ کر اس میں مزید اچھائیاں اجالنا چاہتے ہیں اور اپنے اپنے نقطہ نظر کو سامنے رکھ کر انسانیت کی خدمت کیلئے کوئی نئی بات تراشنا چاہتے ہیں۔ ایسے تمام افراد دانا، دانشمند، محقق اور علم کی روشنی رکھنے والے ہوتے ہیں اور دنیا ان کو ہمیشہ ہمیشہ یاد رکھتی ہے۔ کچھ لوگ وہ بھی ہوتے ہیں جو کسی بھی فرد سے محض اس لئے اختلاف رکھتے ہیں کہ یا تو وہ صاحب حیثیت نہیں ہوتا، یا ان کے قبیلے سے باہر کا ہوتا ہے، یا اپنے خود ساختہ اختیار کئے ہوئے رتبے سے بہت نیچے کا ہوتا ہے، یا بلحاظِ مذہب و مسلک ان سے مختلف ہوتا ہے یا ایسی حقیقتیں بیان کر رہا ہوتا ہے جو خود ان کی عقل و فہم سے بالا تر ہوتی ہیں۔

ایسے تمام لوگ کم عقل، جاہل، انا پرست، ضدی اور مغرور ہوتے ہیں اور بعض اوقات تمام تر حقانیت کو سمجھتے بوچھتے بھی اپنی ہٹ پر قائم رہتے ہیں۔ یہی وہ اختلاف برائے اختلاف ہے جو فتنہ و شر پیدا کرتا ہے اور اس کے خطرناک نتائج کی زد میں نہ صرف معصوم اور بے قصور لوگ آتے ہیں بلکہ وہ جہالت کے اس سیلاب میں خود بھی تنکوں کی طرح بہہ جاتے ہیں۔اس وقت پاکستان ہی نہیں، پوری دنیا ایک آزمائش میں گھری ہوئی ہے اور دنیا کا ہر ملک اس مشکل وقت سے نکلنے کیلئے اپنی اپنی حکمتِ عملی ترتیب دینے میں لگا ہوا ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک پاکستان سے کہیں پہلے اس آنے والی آزمائش کی تیاریاں کر چکے تھے لیکن پھر بھی وہ اپنے عوام کو ذہنی طور پر یہ قائل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے تھے کہ ان کو جو جو ہدایات بھی دی جا رہی ہیں، وہ سب ان کو اختیار کرنا بہت ہی ضروری ہیں۔ اکثر ممالک کے لوگوں نے اس بات کو غیر سنجیدگی سے لیا جس کی وجہ سے وہ اچھے نتائج نہ حاصل ہو سکے جو ہونے چاہئیں تھے۔ سب سے زیادہ غیر سنجیدگی کا مظاہرہ اٹلی کی جانب سے دیکھنے میں آیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہاں آنے والی یہ آزمائش ان پر موت کا سایہ بن کر مسلط ہو چکی ہے اور اب عالم یہ ہے کہ حالات وہاں کی حکومت اور ان کے ہر ادارے کی بس سے باہر ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے ایک ہنستا مسکراتا ملک سسکیوں اور آہوں سے گونج رہا ہے اور عالم یہ ہو گیا ہے کہ وہاں مردہ انسانوں کی لاشیں اٹھانے والے بھی ڈھونڈے نہیں مل رہے ہیں۔

پاکستان حفاظتی اقدامات اٹھانے میں پہلے ہی بہت تاخیر کا شکار ہو چکا ہے اور اس تاخیر کے باوجود بھی واضح طور پر بہت ساری ہدایات پر عمل کروانے کے معاملے میں شدید لاپرواہی کا شکار ہے۔ بے شک غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے والے زیادہ تر وہ افراد ہیں جو کم علمی کا شکار ہیں اور اپنے تئیں یہ خیال کر بیٹھے ہیں کہ جس طرح دنیا یا پاکستان کے مقتدر حلقے عوام کو عمل کرنے کی ہدایات جاری کر رہے ہیں یا جس انداز میں سروں پر چھا جانے والے اس طوفان کی خطرناکی بیان کر رہے ہیں وہ مبنی بر حقیقت نہیں اور ان کے خیال میں ایسی ہدایات کسی حد تک دین سے بغاوت والا عمل بھی ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ افراد جو صاحب علم بھی ہیں، جن پر بھاری قومی ذمہ داریاں عائد ہیں اور وہ مسند اقتدار پر بھی براجمان ہیں، وہ بھی بہت سارے ضروری اقدامات اٹھا تے ہوئے ہچکچاہٹ اور کسی حد تک نادانی کا شکار دکھائی دے رہے ہیں۔ انھیں یہ بات بہت اچھی طرح معلوم ہونی چایئے کہ ان کا لیت و لعل سے کام لینا کسی بھی بڑی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔

دنیا میں جہاں بھی کورونا کے اس طوفان نے قیامت برپا کی ہوئی ہے وہاں حکام بالا نے بہت ہی سخت اقدامات اٹھائے ہیں۔ ساری دنیا اس بات پر متفق ہے کہ اس کا سب سے بڑا علاج یہی ہے کہ خود کو محصور کر لیا جائے اور بہر لحاظ کھلی فضا میں جانے سے گزیز کیا جائے ورنہ کورونا ایک ایسا انسان دشمن وائرس ہے جو ایک انسانی جسم سے دوسرے انسانی جسم میں نہایت تیزی کے ساتھ منتقل ہوجاتا ہے۔ دنیا میں اب تک وہی ممالک زیادہ لپیٹ میں آئے ہوئے ہیں جن کے خیال میں شاید ایسا ممکن نہیں تھا اور وہ اب تک آنے والی بیماریوں کے وائرس کی طرح اس وائرس کوبھی ان ہی کے جیسا خیال کر رہے تھے۔ پاکستان کے طول و عرض میں بھی یہی مسئلہ سب سے زیادہ گھمبیر ہے اور ملک کے عوام اس کو بہت ہی غیر سنجیدگی کے ساتھ لے رہے ہیں اور پر ہجوم جگہوں میں آنے جانے سے منع کرنے کے باوجود بھی ہر ہجوم اور بھیڑ میں گھس جانے سے گریز کرتے نظر نہیں آ رہے جو ایک بہت ہی تشویش کی بات ہے۔
لوگ تو نادان ہیں اور بیشمار وجوہات کی وجہ سے شاید ان سب کیلئے اپنے آپ کو تنہا کر لینا ممکن بھی نہیں جس کی وجہ سے پاکستان میں یہ سوچ پیدا ہو رہی ہے کہ قید تنہائی اختیار کرنے پر عوام اپنی کم علمی کی وجہ سے تیار نہیں تو ایسا جبراً کروانے کے اقدامات کئے جائیں۔ صوبہ سندھ اور بلوچستان نے تو ایسے قدم اٹھانے کا اعلان کر دیا ہے اور عوام کو آگاہ بھی کر دیا ہے کہ اگر عوام نے جاری کی جانے والی ہدایات پر عمل نہ کیا گیا تو ان کے ساتھ سختی بھی کی جا سکتی ہے لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ وفاق اب تک غیر سنجیدہ ہے اور وہ کسی بھی شہر کو لاک ڈاؤن کرنے کیلئے تیار نہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ لاک ڈاؤن کے احکامات جاری نہ کرنے کے سلسلے میں وزیر اعظم کے تحفظات میں بہت وزن ہے اور پورے ملک کو لاک ڈاؤن کرنے کی وجہ سے روزانہ کی اجرت پر کام کرنے والے فرد کی مشکلات کا خیال ان کی ہاں اور ناں کے بیچ کئی سوال کھڑے کئے ہوئے ہے لیکن ان کو یہ بات بھی خوب اچھی طرح معلوم ہے کہ زندگی ان سارے خدشات سے کہیں افضل ہوا کرتی ہے۔ انسان زندہ ہوگا تو اپنے لئے روز گار کا کوئی اور راستہ نکال ہی لے گا لیکن اگر زندہ ہی نہیں ہوگا تو پھر نہ افراد ہونگے اور نہ ہی راستے۔ ان کے اسی احساس نے ان کو پورے ملک کو سر بمر کرنے سے باز رکھا ہوا ہے جس کی وجہ سے صوبوں اور وفاق کے درمیان اختلافات کا ایک تاثر ابھر رہا ہے جس کو بہر حال دور ہو جانا چاہیے۔اسی بات کو سامنے رکھتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ "اب حکومت اور سیاسی جماعتوں کے پاس غلطی کی گنجائش نہیں، سب کو مل کر کورونا سے لڑنا اور اپنی قوم کو محفوظ بنانے کے لیے ہر وہ کام کرنا ہوگا جس سے لوگوں کی زندگیاں بچائی جاسکیں۔ کورونا سے خود بھی بچنا ہے اور اپنے اردگرد موجود لوگوں کو بھی بچانا ہے"۔ انھوں نے مزید یہ بھی کہا ہے کہ "حکومت تنہا اتنی بڑی آفت سے نہیں لڑسکتی۔ اس لیے تمام سیاسی جماعتوں اور ہر فرد کو مل کر اس کے خلاف اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہوگا"۔

یہ بات حقیقت ہے کہ کسی بھی ملک میں کوئی بھی بڑی تباہی آجائے تو تنہا حکومت اس سے نہیں نمٹ پاتی۔ ملک میں موجود تمام محکمے، سماجی اور فلاحی ادارے حکومت کے دست و بازو بن کر ملک و قوم کو آزمائشوں سے نکالا کرتے ہیں۔ جماعتِ اسلامی ہمیشہ ایسے کڑے وقت میں کسی لالچ کے بغیر بے لوث خدمت کرتی آئی ہے اور اپنی سابقہ روایات کو بر قرار رکھتے ہوئے اب بھی ہمہ وقت مصیبت میں گھرے عوام کی حتی المقدور خدمت میں مصروفِ عمل ہے۔ جماعت اسلامی اور الخدمت فاؤنڈیشن نے اپنے تمام اسپتال اور300 سے زائد ایمبولینس اور عملے کو قوم کی خدمت کے لیے پیش کر دیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے ایسے موقع پر یہ بھی کہا ہے کہ ایسے ابتلا و آزمائش کے موقع پر اختلافات سے اجتناب برتا جائے اس لئے کہ وفاق اور صوبوں کے اختلافات مشکلات میں اضافے کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔

امید تو یہی کی جانی چاہیے کہ اس آزمائش کی گھڑی میں افرا، جماعتیں، حکومت، ادارے، صوبے اور وفاق اپنی ساری الجھنوں اور خدشات کو سامنے رکھتے ہوئے نہایت سنجیدگی کے ساتھ یک زبان ہوکر اور مشترکہ حکمتِ عملی ترتیب دے کر کوئی متفقہ قدم اٹھائیں گے تاکہ ملک کو اس آفت ناگہانی سے نکالا جا سکے اور کورونا وائرس کے اس عذابِ ناگہانی سے نجات حاصل کی جا سکے۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو (آمین)۔