لاک ڈاؤن اور باجماعت نمازوں پر مساجد میں پابندی - عالم خان

عوام اور خواص کے درمیان لاک ڈاؤن اور باجماعت نمازوں پر مساجد میں پابندی پر بحث جاری ہے جہاں تک میں نے ان مباحثوں کو پڑھا تو بعض لوگ اصرار کرتے ہیں کہ باہر نکلنا چاہیے لاک ڈاؤن کی ضرورت نہیں اور مساجد وغیرہ پر پابندی درست نہیں کیونکہ اگر کوئی نکلا اور مرگیا تو شہید ہے اور اس کے لیے طاعون کی وہی روایات ابن کثیر (ت ۷۷٣ھ) کی البدایہ والنہایہ سے نقل کی جاتی ہے جس میں عبیدہ بن الجراح (رض) اور معاذ بن جبل (رض) کی لوگوں کو تسلی اور طاعون سے مرنے کی دعا ہے .

حالانکہ یہی البدایہ والنہایہ اگر چند سطر آگے پڑھا جائے تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت طاعون نے وبا کی شکل اختیار نہیں کی تھی کیونکہ جب طاعون نے وبا کی شکل اختیار کی اور پھیلنے لگا تو عمرو بن العاص (رض) نے شہریوں سے کہا تھا کہ ایک دوسرے سے دور ہوجاؤ اور انہوں نے یہی کیا جس سے طاعون کنٹرول ہوا (البدایہ والنہایہ ٤٣/١٠)
رہی بات باجماعت نماز کی اور اس حوالے سے دلائل کی تو بصد احترام عرض ہے۔ اول یہ کہ کیا جماعت سے نماز پڑھنا فرض ہے ؟ دوم کیا جماعت سے نماز پڑھنا صرف مساجد میں جائز ہے؟؟ کیا یہ صحیح بخاری اور مسلم کی صحیح حدیث نہیں کہ رسول اللہ (ص) نے اپنی اور اس امت کی خصوصیات میں یہ بھی شمار کیا تھا کہ یہ صرف ہماری خاصیت ہے کہ ہمارے لیے ہر جگہ کو مسجد قرار دیا گیا ہے (جعلت لي الأرض مسجدا وطهورا) اس لیے مسجد جانے پر اصرار کرنا جہالت ہی ہے ہم اپنے گھروں میں اپنی فیملی کے ساتھ باجماعت نماز بھی تو پڑھ سکتے ہیں کیا خوب صورت منظر ہوگا جب آپ امام ہیں اور آپ کے پیچھے آپ کے والدین، بہن بھائی یا بیوی بچے کھڑے ہیں تربیت بھی ہوگی اور مقصد بھی پورا ہوجائے گا لیکن ہماری کمزوری یہ ہے کہ ہمارا مقصد شریعت پر عمل کرنا نہیں صرف ٹانگ اڑانا ہی ہے۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مساجد کی طرف نکلنا چاہیے دعائیں کرنا چاہیں تاکہ یہ وباء ختم ہوجائے اور بعض اہل علم نے استسقاء کی مثال دی ہے کہ جب مصیبت ہو اور مسلمان اجتماعی دعائیں کریں تو اللہ اسکو رفع کردیتا ہے اور اپنی رحمت کا نزول فرماتا ہے یہ بہت فضول دلیل ہے اور اہل علم کی زبان میں قیاس مع الفارق ہے یہی کام مصر کے لوگوں نے سن (٨٣٣ھ) اور دمشق کے لوگوں نے سن (٧٤٩ھ) میں طاعون کے دوران کیا تھا اور اس کی وجہ سے طاعون اتنا پھیل گیا تھا جس کو آج تاریخ کی کتابوں میں طاعون کبیر کہا جاتا ہے حافظ ابن حجر (ت ٨٥٢ھ) نے اس حماقت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ دعا کی ممانعت نہیں لیکن ایسے حالات میں ایک جگہ جمع ہونا اور دعائیں مانگنا بدعت ہے اس لیے کہ اس طرح کے اجتماعات وبائی امراض پھیلنے کا سبب بنتے ہیں اور تاریخ گواہ ہے کہ قاہرہ اور مصر میں اس اجتماع کے بعد طاعون اتنا پھیلا تھا کہ ہر روز ایک ہزار سے زائد انسانوں کی موت ہوتی تھی۔
حاصل کلام یہ ہے کہ اگر وزرات صحت اور تجربہ کار ڈاکٹرز کہہ رہے ہیں کہ اجتماعات نہ کریں تو گھروں تک محدود ہوجائیں اور وہاں باجماعت نماز بھی پڑھیں دعا بھی کریں لیکن مساجد اور بازار جانے کے لئے اصرار نہ کریں یہ الگ بات ہےکہ بعض دوست شکوہ کرتے ہیں کہ بازار کھلے اور مساجد بند ہیں تو یہی تو ہماری غلطی ہے کہ ہمیں علم ہے کہ ایک جگہ جمع ہونا درست نہیں اور پھر بھی بازاروں اور مارکیٹوں کے چکر لگاتے ہیں اس میں انتظامیہ کا کیا قصور ہے ۔
لہذا ! ہم سب کو چاہئے کہ اپنے حصے کے فرائض ادا کریں اور دنیا کو محفوظ بنانے میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com