کورونا کے مقابلے کےلیے تین کام - ڈاکٹر محمد مشتاق

ہمیں بتایا گیا ہے کہ یہ ایسی بیماری ہے جس کا کوئی علاج ابھی تک دریافت نہیں ہوسکا ہے ۔ اس لیے ہمیں احتیاط کا کہا جاتا ہے تاکہ ہمیں یہ بیماری لگے ہی نہ۔ مزید ہمیں یہ کہا جاتا ہے کہ اگر بیماری لگے بھی تو بہترین قوتِ مدافعت سے اس کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے اور غالب ترین امکان یہ ہے کہ بیماری لگنے کے بعد بھی بخیر و عافیت بچ نکلیں گے۔

چنانچہ احتیاط اور قوتِ مدافعت کے ان دو پہلوؤں سے ہمیں بہت سی ہدایات دی جاتی رہی ہیں۔ مثلاً یہ کہ گھر سے باہر کم سے کم نکلیں، لوگوں سے ہاتھ نہ ملائیں، ہاتھ صابن سے خوب دھویا کریں، بھیڑ بھاڑ سے بچیں، مرغن غذاؤں کے بجاے سبزیاں اور پھل زیادہ کھائیں، غیر ضروری دوائیں نہ کھائیں، وغیرہ۔ یہ سب باتیں اہم ہیں اور ہمیں ان سب کا خیال رکھنا چاہیے، لیکن یہ کرنے کا ایک کام ہے۔ بحیثیتِ مسلمان ہمیں صرف اس پر اکتفا نہیں کرنی چاہیے۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ اللہ کسی کو ضرر سے بچانا چاہے تو کوئی اسے ضرر نہیں دے سکتا، اور وہ کسی کو نفع دینا چاہے کوئی وہ نفع روک نہیں سکتا۔ اس لیے جہاں احتیاط اور قوتِ مدافعت کےلیے تدبیر ضروری ہے ، وہاں اس سے پہلے ، اس کے ساتھ اور اس کے بعد مسلسل اللہ سے دعا بھی ضروری ہے۔ ہم ایک بہت بڑی آزمایش میں ہیں اور اس آزمایش سے ہمیں اللہ ہی نکال سکتا ہے۔ ہم بہت گنہگار ہیں، خطاکار ہیں، سیاہ کار ہیں، لیکن وہ بخشنے والا ہے، کریم ہے ، رحیم ہے۔ ہم اس کے سامنے گڑگڑائیں، فریاد کریں، روئیں، معافی مانگیں، توبہ کریں، سچے دل سے کریں، تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ ہمیں معاف نہ کرے۔

اس نے تو اعلان کیا ہے کہ اے میرے بندو جنھوں نے اپنے اوپر ظلم ڈھایا ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو کیونکہ اللہ ہر گناہ معاف کردیتا ہے، بس اس کا عذاب آنے سے پہلے اس کی طرف لوٹ آؤ، ورنہ بعد میں پچھتاؤگے ، مزید مہلت مانگوگے لیکن وہ لمحہ آجائے تو پھر ٹلتا نہیں ہے۔ اب بھی وقت ہے۔ موقع ہے۔ اپنی عاجزی ، اپنی بے بسی ، اپنی کمزوری کو دیکھو ، محسوس کرو اور جان لو کہ اللہ سے بچنے کی جگہ اللہ کے پاس ہی ہے ، اور کہیں نہیں ہے۔ اللہ توبہ قبول کرنے والا ہے، بخشنے والا ہے، مہربان ہے۔ ہم اسے پکارتے ہیں تو وہ سنتا ہے ۔ وہ تو شہ رگ سے زیادہ قریب ہے۔ وہ دل میں اٹھنے والے وسوسے سے بھی باخبر ہے۔ وہ تو مچھلی کے پیٹ میں بھی بندے کی پکار سن کر قبول کرتا ہے۔ جو ناممکن ہے وہ تو ہمارے لیے ناممکن ہے۔ جو اسباب و علل کا خالق ہے ، اس کےلیے ناممکن کو ممکن بنانا کیا مشکل ہے؟ اس نے تو کہا ہے کہ تم پکارتے ہو تو میں سنتا ہوں، تم دعا کرتے ہو تو میں قبول کرتا ہوں۔ بس اس نے توبہ قبول کرلی، دعا قبول کرلی، تو ساری جھنجھٹ ختم۔

بیماری سے بچ گئے ، یا شفا پالی تو اور بھی اچھا، اور موت بھی آئے تو کیا فکر ، کہ یہاں ہم نے ہمیشہ کےلیے تو رہنا نہیں ہے، لوٹنا تو اسی کے پاس ہے، ہمیشہ کی زندگی تو وہاں ہمارا انتظار کررہی ہے، ہم اس سے اس حال میں ملیں کہ وہ ہم سے ناراض نہ ہو، تو اور کیا چاہیے۔ اللہ کی رحمت کے حصول کا ایک آسان نسخہ یہ ہے کہ اس کے نبی پر درود و سلام بھیجو۔ ہم اللہ کے نبی پر ایک دفعہ درود و سلام بھیجتے ہیں تو اللہ ہم پر دس دفعہ رحمت کرتا ہے۔ کتنی کم نصیبی ہے اس امت کی کہ اب اللہ کے نبی کی مسجد پر بھی تالے لگنے لگے ہیں۔ باب السلام بھی بند ہوگیا ہے۔ سوچ کر ہی روح کانپ اٹھتی ہے۔ لیکن رحمت للعالمین کی امت پر رب العالمین کی مہربانی کا یہ عالم تو دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے کہ ہمیں اللہ کے نبی تک درود و سلام کا ہدیہ پہنچانے کےلیے نہ تو ویزے کی ضرورت ہے، نہ پاسپورٹ کی۔ ہم کتنی ہی دور ہوں، جہاں بھی ہوں، جب ہم اللہ کے نبی پر درود و سلام بھیجتے ہیں تو اللہ نے اپنے بعض فرشتے خاص اس مقصد کےلیے مقرر کیے ہیں کہ وہ یہ درود و سلام کا ہدیہ اللہ کے نبی تک پہنچادیں۔ اللھم صلّ علی سیدنا محمد و علی آلِ سیدنا محمد و بارِک و سلِّم ۔ نماز، استغفار ، درود و سلام، تلاوتِ کلامِ پاک، دیگر اذکار و تسبیحات ۔

اللہ کی طرف لوٹے بغیر، اپنے گناہوں کےلیے معافی مانگے بغیر، اس کی رحمت کےلیے دامن پھیلائے بغیر، ہم کیسے محض احتیاط اور قوتِ مدافعت کی بات کرکے یہ فرض کرسکتے ہیں کہ ہم کامیاب ہوجائیں گے؟ بیماری سے بچ بھی گئے، یا شفایاب بھی ہوئے تو لوٹنا تو بالآخر اسی کی طرف ہے۔ وہاں کا نقصان اصل نقصان اور وہاں کی کامیابی اصل کامیابی ہے۔ تیسرا کام یہ ہے کہ ہم اللہ کے بندوں کی مدد کریں، ان پر رحم کریں، ان کے قصور معاف کریں، انھیں اذیت نہ دیں، ان کے ساتھ بھلائی کریں، ان کا بوجھ ہلکا کریں، ان کا حق ادا کریں، انھیں ان کے حق سے زیادہ دیں۔ جو زمین والوں پر رحم کرتا ہے، آسمان والا اس پر رحم کرتا ہے۔ جن پر زکاۃ واجب ہے وہ زکاۃ دیں ، بے شک سال گزرنے میں ابھی وقت ہو لیکن پھر بھی دے دیں، اور اس کے علاوہ بھی صدقات کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کریں۔ کوشش کریں چھپ کردیں۔ یوں کہ دوسرے ہاتھ کو بھی معلوم نہ ہو۔ زیادہ سے زیادہ دیں۔ ہاتھ کھلا رکھیں۔ صدقہ بلاؤں کو ٹالتا ہے۔ اللہ کو قرض دیا تو کبھی گھاٹے میں نہیں رہیں گے۔ وہ کئی گنا زیادہ دےگا۔ تمھارے وہم و گمان سے بھی زیادہ۔ یہاں بھی۔ اور یہاں نہ بھی ملا تو وہاں تو دے گا ہی اور یوں دے گا کہ سارے درد، ساری تکالیف، ساری مشقتیں، سب کچھ بھول جاؤگے۔

جن پر زکاۃ واجب نہیں ہے، وہ بھی صدقات ادا کریں۔ اپنے بدن کا حق ہے، بیوی بچوں کا حق ہے، رشتہ داروں کا حق ہے، پڑوسیوں کا حق ہے، یتیموں کا حق ہے۔ کوئی پڑوسی بھی ہو اور رشتہ دار بھی ہو تو دوگنا حق ہوا۔ دیکھیں کسی کی مزدوری کم پڑ گئی ہوگی۔ کسی کو دیہاڑی ہی نہیں ملی ہوگی۔ کسی کے گھر میں چولہا تک نہیں جلا ہوگا۔ خود ہی ایسے لوگوں کو ڈھونڈ کر، ان کے مانگے بغیر، ان کو دے دو۔ زیادہ سے زیادہ دے دو۔ جتنا زیادہ دوگے، اتنا زیادہ اللہ خوش ہوگا، اور وہ خوش ہوا تو اور کیا چاہیے! احتیاط اور قوتِ مدافعت کی اپنی اہمیت لیکن گناہوں کی بخشش کےلیے گڑگڑانا پڑے گا، اس کے نبی پر درود و سلام بھیجوگے تو اللہ کی رحمت اپنی طرف متوجہ کرلوگے، اس کے بندوں کی تکلیف دور کروگے، تو کامیابی مل جائے گی، سرخرو ہوجاؤگے۔ یا اللہ، ہم خطاکاروں پر رحم کر، ہماری توبہ قبول کر، ہم سے یہ آزمائش دور کر اور ہمیں دنیا و آخرت کی رسوائی اور عذاب سے نجات دے۔ و صلی اللہ تعالیٰ علی خیر خلقہ محمد و علی آلہ و اصحابہ اجمعین، برحمتک یا ارحم الراحمین۔