آنکھ میں موتیا اُتر آیا- خالد مسعود خان

ہم جنوبی پنجاب یعنی وسیب والوں کے ساتھ روا رکھی جانے والی نا انصافیوں اور زیادتیوں کی فہرست اتنی طویل ہے کہ ایک کالم میں بیان کرنا ممکن ہی نہیں۔ ان زیادتیوں اور نا انصافیوں کا سارا سہرا حکمرانوں کی بے حسی اور وسیب کے عوامی نمائندوں کی بزدلی کو جاتا ہے۔

ملک خالد کے بقول: یہ نا انصافیاں اس تسلسل سے اور لگاتار ہو رہی ہیں کہ اول تو اب ہم کورونا ہی نہیں آتا‘ اور اگر آتا ہے تو اس رونے پر ہمیں خود پر شرم آتی ہے۔ تاہم ایمانداری کی بات ہے کہ مجھے ان نا انصافیوں اور زیادتیوں کا رونا روتے ہوئے قطعاً شرم نہیں آتی۔ اور بھلا آئے بھی کیوں؟ اگر ہمارے حکمرانوں کو اپنی بے حسی اور نا اہلی پر خیال نہیں آتا۔ اگر وسیب کے عوامی نمائندوں کو اپنی بزدلی پر شرم نہیں آتی تو آخر مجھے اس نا انصافی کا رونا روتے ہوئے بھلا کیوں شرم آئے؟ مجھے علم ہے‘ میرے اس کالم پر بہت سے ایسے لوگ جو قومی یکجہتی کے نام نہاد ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں‘ اعتراض کریں گے کہ میرا مؤقف یا موجودہ رونا نہ صرف یہ کہ بے وقت ہے بلکہ اس ایمرجنسی کی صورتحال میں اس قومی یکجہتی کے منافی ہے جو اس وقت درکار ہے۔ ان کیلئے عرض ہے کہ پیٹ درد پر رونا اسی وقت زیب دیتا ہے جب پیٹ میں درد ہو رہا ہو۔ بعد از مرگ واویلے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ رہ گئی بات قومی یکجہتی کی‘ تو جس طرف میں اشارہ کرنے جا رہا ہوں ایسے اقدامات قومی یکجہتی کو نقصان پہنچاتے ہیں اور ان کی بروقت نشاندہی قومی یکجہتی کیلئے دور رس مثبت نتائج لاتی ہے۔

ہم جنوبی پنجاب والوں کے مقدر کی خرابی دیکھیں۔ گزشتہ پونے دو سال سے ہمیں صوبہ جنوبی پنجاب کی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگائے رکھنے کے بعد ایک سب سیکرٹریٹ کے ''لارے‘‘ پر ٹرخانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس مسلسل ٹرخانے کے عمل کے دوران ایک بڑا مزیدار کام یہ کیا کہ صوبہ جنوبی پنجاب اور صوبہ بہاولپور کے حامیوں کو آپس میں نبرد آزما کروا دیا اور ابھی تک یہ فیصلہ نہیں ہو سکا کہ صوبہ جنوبی پنجاب تین ڈویژنوں یعنی ملتان‘ بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان کے گیارہ اضلاع یعنی ملتان‘ خانیوال‘ لودھراں‘ وہاڑی‘بہاولپور‘ بہاولنگر‘ رحیم یار خان‘ ڈیرہ غازی خان‘ لیہ‘ راجن پور اور مظفر گڑھ ہوں گے یا پنجاب کے بیس اور صوبہ خیبرپختونخوا کے دو اضلاع‘ کل ملا کر بائیس اضلاع پر مشتمل صوبہ جنوبی پنجاب بنے گا۔ ان فالتو والے گیارہ اضلاع میں پنجاب سے پاکپتن‘ ساہیوال‘ میانوالی‘ بھکر‘ ٹوبہ ٹیک سنگھ‘ جھنگ‘ سرگودھا‘ چنیوٹ اور خوشاب‘ جبکہ خیبرپختونخوا سے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک شامل ہیں۔ پہلی بھسوڑی تو یہ ہے کہ صوبے میں کون کون سے اور کتنے اضلاع ہوں گے۔

دوسری حل طلب بات یہ ہے کہ صوبہ جنوبی پنجاب بنے گا یا صوبہ ملتان اور بہاولپور دو علیحدہ علیحدہ صوبے بنیں گے۔ خیر صوبہ بننا تو دور کی بات ہے ابھی تک تو یہ بھی طے نہیں ہو سکا کہ اس مجوزہ صوبے کا سب سیکرٹریٹ کہاں بنے گا؟ ملتان میں یا بہاولپور میں؟ اس معاملے پر سارا پھڈا اس سارے علاقے سے مسلم لیگ ق کے واحد ممبر قومی اسمبلی طارق بشیر چیمہ نے ڈالا ہوا ہے اور وہ ق لیگ کی اتحادی پوزیشن کے پیش نظر حکومت کو صاف صاف بلیک میل کر رہے ہیں۔ دوسری طرف ہمارے پیارے شاہ محمود قریشی ہیں جو اپنے نمبر بنانے کی تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں اور انہوں نے اس مجوزہ سب سیکرٹریٹ کا ‘جو ابھی بھی پردہ غیب میں ہے‘ وہ حشر کیا ہے کہ ایک لطیفے کے مطابق خالصہ ایجوکیشنل سوسائٹی نے خالصہ کالج امرتسر کے ساتھ کیا تھا۔ بچپن سے ایک لطیفہ سن رہے ہیں کہ ایک بار خالصہ ایجوکیشنل سوسائٹی کا اجلاس ہوا اور طے پایا کہ اس سوسائٹی کے زیر اہتمام خالصہ کالج قائم کیا جائے۔ کثرت رائے سے یہ طے پایا کہ یہ کالج امرتسر میں بنایا جائے گا۔ اب جالندھر والوں نے رولا ڈال دیا کہ ہمیں بھی اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے کوئی سہولت دی جائے۔ تب متفقہ طور پر یہ فیصلہ ہوا کہ کالج امرتسر میں بنایا جائے گا جبکہ اس کالج کا ہاسٹل جالندھر میں بنایا جائے گا۔

جب کالج اور ہاسٹل دونوں تعمیر ہو گئے تب یہ مشکل آن پڑی کہ خالصہ کالج امرتسر کے وہ طلبہ جو ہاسٹل میں رہتے ہیں روزانہ صبح اسی کلو میٹر سفر طے کر کے امرتسر کیسے آئیں گے اور کالج ٹائم کے بعد واپس ہاسٹل کیسے جائیں گے؟ یہی حال اس مجوزہ سب سیکرٹریٹ کا ہے۔ بہاول پور والے طارق بشیر چیمہ نے زور لگا کر ایڈیشنل چیف سیکرٹری بہاولپور میں تعینات کروانے کی منظوری لے لی ہے اور جوابی طور پر ملتان سے شاہ محمود قریشی نے ایڈیشنل آئی جی پولیس کو ملتان میں تعینات کروانے کی منظوری لے لی ہے۔ کالج امرتسر میں اور ہاسٹل جالندھر میں۔ دونوں شہر خوش ہو گئے اور عملی طور پر مشکل اور تکلیف عوام کو بھگتنی پڑے گی۔ دونوں سیاسی رہنمائوں نے عوام کی تکلیف کی قیمت پر اپنا اپنا سیاسی پوائنٹ سکور کر لیا ہے۔ قارئین! معذرت خواہ ہوں کہ بات کہیں کی کہیں چلی گئی۔ پونے دو سال سے صوبہ تو رہا ایک طرف سب سیکرٹریٹ کی بیل بھی منڈھے نہیں چڑھ سکی اور اس دوران کورونا کے جن کے بوتل سے باہر آنے کے فوراً بعد قرنطینہ سنٹرز کے لیے دو دن میں یہ فیصلہ ہو گیا ہے کہ جنوبی پنجاب کے ساتھ عشروں سے ہونے والی نا انصافیوں کی تلافی کی خاطر جنوبی پنجاب کے ہر ڈویژن میں ایک قرنطینہ سنٹر بنا دیا جائے‘ سو اب ڈیرہ غازی خان‘ بہاولپور اور ملتان میں تین عدد قرنطینہ سنٹرز بنا دئیے گئے ہیں۔

اہل جنوبی پنجاب کو مبارک ہو کہ انہیں صوبے یا سب سیکرٹریٹ سے بھی پہلے یہ قرنطینہ سنٹرز عطا کرکے انکے ساتھ جاری عشروں کی ناانصافی اور زیادتی کا ازالہ کر دیا گیا ہے۔ ملتان میں قرنطینہ سنٹر انڈسٹریل اسٹیٹ میں قائم کیا گیا ہے جو اب تقریباً شہر میں ہی تصور ہوتی ہے۔ ان قائم شدہ قرنطینہ سنٹرز میں حفظان صحت اور متعدی وبا سے محفوظ رکھنے کے انتظامات کا جو حال ہے اس کے پیش نظر خدشہ نہیں بلکہ یقین ہے کہ یہ قرنطینہ سنٹر ملتان شہر کے لوگوں کے لیے ایسا وبال جان ثابت ہوگا جس کے اثرات سالوں تک بھی دور نہ کیے جا سکیں گے۔ میرا یہ خدشہ ممکن ہی نہیں ‘ یقین ہے کہ بہت سے دانشوروں کو خود غرضی اور قومی یکجہتی کے منافی نظر آئے گا لیکن ہماری حکومتوں کا پولیو کے خاتمے کے لیے جاری مہمات کا اب تک جو نتیجہ نکلا ہے وہ ہمارے سامنے ہے۔ ہم سے عشروں بعد یہ مہم شروع کرنے والے ممالک پولیو فری ہو چکے ہیں لیکن پوری دنیا میں صرف پاکستان اور افغانستان باقی رہ جانے والے وہ دو ممالک ہیں جن میں یہ موذی مرض ابھی تک نہ صرف موجود ہے بلکہ گزشتہ دو چار سالوں سے اس کے نئے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

کیا جنوبی پنجاب نے سارے پنجاب کے کورونا کے مریضوں کے لیے قرنطینہ کی سہولت فراہم کرنے کا ٹھیکہ اٹھا رکھا ہے؟ اگر یہ قومی ذمہ داری ہے تو یہ ذمہ داری باقی علاقے کیوں پوری نہیں کر رہے؟ کیا سنٹرل اور اَپر پنجاب کی کوئی ذمہ داری نہیں کہ وہ اس مشکل وقت میں اپنا حصہ ڈالیں اور کم از کم اپنے علاقوں سے تعلق رکھنے والے متاثرین کی صحت یابی میں اپنا حصہ ڈالیں؟ اگر قرنطینہ سنٹرز میں وہ ساری سہولیات اور حفاظتی اقدامات مکمل کر لیے گئے ہوتے جو ایسے معاملات سے نمٹنے کیلئے ضروری ہیں تو میں شاید رونا نہ روتا۔ لیکن حال یہ ہے کہ یہ قرنطینہ سنٹرز صحت مند لوگوں اور کورونا سے پاک علاقوں میں کورونا وائرس پھیلانے کے سارے لوازمات سے لیس ہیں۔ ایسے میں ہم وسیب والوں کا احتجاج کرنا اور اس ''کرم فرمائی‘‘ پر رونا بنتا ہے۔ رہ گیا ہمارے وسیب کا وزیراعلیٰ اور اس علاقے کے سارے ارکان اسمبلی‘ تو ان کی نا اہلی کے طفیل ہی تو ہم کو یہ دن دیکھنا نصیب ہو رہے ہیں۔ ان سے کسی قسم کی حق گوئی کی توقع عبث اور فضول ہے۔ اللہ ہم وسیب والوں پر اپنا کرم کرے۔ سب کہو! آمین۔وسیب کے ساتھ جو ہوا ہے اس پر اطہر شاہ خان جیدی کا ایک قطعہ:
رنگ‘ خوشبو‘ گلاب دے مجھ کو
اس دعا میں عجب اثر آیا
میں نے پھولوں کی آرزو کی تھی
آنکھ میں موتیا اُتر آیا