اے رب تیرا بھروسہ - ایمان زاہد بھٹی

ڈیڈی کی آواز آئی.............." کہ اٹلی میں پھر سے آج چھ سو سے اوپر افراد ہلاک ہوگئے" ، میں جو کتابوں میں سر دیۓ پڑھنے کی کوشش کر رہی تھی ایک دم چونک گئ اور اگلے ہی لمحے مجھے اپنے چاچو ،چاچی اور چھوٹے چھوٹے 3 لاڈلے کزنز کا خیال آیا جو اٹلی میں رہائش پذیر تھے جن سے ویڈیو کال پر تقریباً ہر دوسرے دن بات ہوتی رہتی تھی مگر کچھ دن سے کال نہیں آئی تھی . "ڈیڈی آپ ہر وقت BBC نیوز لگا کر نہ بیٹھا کریں سچ میں بہت ٹیشن ہوتی ہے " میں نے ڈیڈی سے کہا

" پاکستان میں 600 سے اوپر کورونا کیسز "! ڈیڈی نے پھر سے کرونا ہی کی بات کی گویا مجھے نظر انداز کیا ہو ........ "ویسے ڈیڈی ایک آیڈیا بتاؤں" گویا میں نے ڈیڈی کی توجہ چاہی ... ڈیڈی نے خبروں سے نظریں ہٹا کر مجھے سوالیہ نگاہوں سے مسکراتے ہوئے دیکھا ....... "ہم لیپ ٹاپ پر ہی کیوں نہ کرفیو لگا دیں اس طرح نہ خبریں دیکھیں گے اور نہ ہی ٹیشن ہو گی۔" بٹیا آگر میں یہ سب نہیں دیکھوں گا تو اس کرونا جیسی وبا سے کیسے بچ سکوں گا اور دوسری بات یہ کہ مومن ہمیشہ با خبر رہتا ہے" میں آہستگی سے سر ہلاتے ہوئے اپنی کتابیں ڈرائنگ روم سے اٹھا کر اپنے کمرے کی طرف روانہ ہو گئ کیونکہ میں یہ بات اچھی طرح جانتی تھی کہ اگر میں نے مزید کورونا کے بارے میں کچھ اور سن لیا تو شاید نفسیاتی ہو جاؤں ..... میں دوبارہ کتابیں کھول کر پڑھنے بیٹھ گئی مگر ایک الجھن سی تھی جو مجھے پڑھنے نہیں دے رہ تھی اور اس الجھن کی وجہ میرے چاچو کی فیملی کا اٹلی رہنا جہاں کورونا جیسی وبا نے ڈیرہ ڈالا ہوا تھا . یہ وبا تو خیر اب پاکستان میں بھی آ گئی ہے مگر اتنے بڑے پیمانے پر نہیں پھیلی چاچو کا اب وہاں رہنا مجھے سچ میں پریشانی میں ڈال رہا تھا اور میرا اس الجھن میں آنا اور اپنے چاچو کی فیملی کے لئے پریشان ہونا ایک قدرتی جذبہ تھا پڑھائی سے دل اچاٹ ہو چکا تھا .

رات کے 11:30 بج رہے تھے میں نے دروازہ کھو لا اور کمرے سے باہر جھانک کر دیکھا تو ڈیڈی ابھی بھی لیپ ٹاپ گود میں رکھے BBC نیوز دیکھ رہے تھے اور ممّا صبح کے لئے آن لائن لیکچر تیار کر رہی تھیں اور میرے بہن بھائی اپنے اپنے کمروں میں سونے جا چکے تھے . "ڈیڈی آپ نے اب مجھے بہت ٹیشن میں مبتلا کر دیا ہے مجھ سے اب کچھ بھی نہیں پڑھا جا رہا آپ ابھی چاچو کو فون کر کے پوچھیں کہ وہ لوگ ٹھیک ہیں سب" . میں نے موبائل فون پر ویڈیو کال ملا کر فون ڈیڈی کی طرف بڑھایا ،تو کچھ ہی دیر بعد چاچو سامنے سکرین پر آ گۓ حال چال پوچھا تو معلوم ہوا کہ وہاں کی بہت بری حالت ہےکورونا سے مرے ہوۓ بندوں کو نہ ہی غسل دیا جاتا ہے اور نہ ہی نماز جنازہ ادا کرنے دیا جاتا ہے . ابھی چاچو ڈیڈی کو اس صورتحال سے آگاہ ہی کر رہے تھے کہ میں فوراً سلام کر کے بیچ میں کود پڑی ."چاچو آپ پاکستان کیوں نہیں آ جاتے" " نہیں بیٹا ایسا ممکن نہیں آگر خدانخواستہ میں اس۔بیماری کا شکار بھی ہو گیا تو شہید ہوں گا اور اسلام کے مطابق دیکھا جائے تو اس وقت اٹلی سے ہجرت نہیں کر سکتا بس تم دعا کرتی رہنا " میں نے بھی کچھ اپنی طرف سے۔احتیاط کرنے کی ہدایات دی اور فون رکھ دیا .

یہ بھی پڑھیں:   کورونا وائرس کسی کے لئے نعمت اور کچھ کے لیے بلائے جان - فریال فیصل

مجھے سب سے ذیادہ فکر اپنی چاچی کی تھی جو کہ 9 سال پہلے ہی مسلمان ہوئیں تھیں چاچو سے بات کر کے تھوڑا اطمینان ہوا لیکن پھر بھی کچھ کمی تھی جو الجھن ختم نہیں ہو رہی تھی . 12 بج چکے تھے ممّا ڈیڈی اپنے کمرے میں جا چکے تھے میں نے بھی اسی میں عافیت جانی اور اپنے کمرے میں آکر بستر پر سے کتابیں اُٹھا کر سائڈ ٹیبل پر رکھ دیں اور لائٹ بند کر کے سونے کی کوشش کرنے لگی . مگر نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی ........ دو رکعت نماز کی نیت سے وضو کر کے جاےءنماز بچھائی اور اللہ سے دعاؤں میں باتیں کرنے لگی ...." اللہ جی میں یہ بات جانتی ہوں کہ یہ وبا آپ نے برے لوگوں کو عذاب دینے کے لئے بھیجی ہے مگر میرے اللہ جی! پلیز آپ میرے چاچو اور ان کے بچوں کو اس وبا سے محفوظ رکھئے گا ...بلکہ سب کو اپنی عافیت میں رکھیں . اللہ جی میری چاچی جو آج سے نو سال پہلے پورے یقین کے ساتھ آپ پر ایمان لے کر آئیں ان کے اس ایمان کو مزید پکّا کر کے اس کا اجر دیجئے گا . انہیں تنہا نہ چھوڑیے گا ان سمیت ہم سب کے دلوں میں توکّل علی اللہ ڈال دیں .........اللہ یہ کورونا کیا کوئ بھی میرے چاچو، چاچی اور ان کے بچوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا جب تک آپ نہ چاہیں... اللہ جی ہر انسان نے آپ ہی کی طرف لوٹ کر آنا ہے . ہم سب کو ایسی موت سے بچا جس میں نماز جنازہ بھی نہ پڑھایا جائے.

اللہ سب کو اپنی عافیت میں رکھ اللہ سب کو کورونا سمیت ہر پریشانی اور مصیبت سے نجات دلا آمین . میں نے دعا کے بعد دونوں ہاتھوں کو منہ پر پھیرا ہی تھا کہ یک دم میرے ذہن میں وہ چیز آ گئی جس کی کمی مجھے محسوس ہو رہی تھی . مجھے زرا بھی نہ خیال آیا کہ کہ دنیا کی احتیاطی تدابیر بتا رہی ہوں . مگر اس کے ساتھ ساتھ میں نے صبح و شام کی دعا نہیں بتائی ، کہ جس کو پڑھ لینے سے انسان اللہ کے حصار میں آ جاتا ہے . اسے کچھ نہیں ہوتا میں نےان کو سب احتیاطی تدابیر کا بتا دیا مگر یہ نہیں بتایا کہ ... حسبُنا اللہُ نعم الوکیل . کا ورد کیا جائے تو کورونا کیا دنیا کی کوئی چیز بھی نقصان نہیں پہنچا سکتی . میں اتنی ہی کم عقل بن گئ تھی اس وقت کہ دنیا کی احتیاطی تدابیر بتا رہی تھی مگر اللہ سے احتیاطی تدابیر نہیں مانگی اللہ سے حفاظت مانگنے کا کہنا بھول گئی . یہ وہ کمی تھی جو مجھے محسوس ہو رہی تھی اگر انسان کے اندر توکّل علی اللہ ہو تو کوئی کورونا کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا . ۔میں اس وقت اتنی جذباتی ہو گئ تھی کہ مجھے معلوم ہی نہیں ہو پایا کہ چاچو کو دنیا کی احتیاطی تدابیر کے علاوہ اللہ کی پناہ سے جوڑ دیتی تو مجھے ان کی موت کا خوف کبھی نہ ہوتا . بلکہ میں اس کی ذات کو اپنا اور سب اپنوں کا وکیل بنا لوں تو پھر مجھے کوئی غم نہیں ہوگا.. کہ جس وکیل،جس کا والی،اللہ ہو اسے پھر کوئی ڈر نہیں ہوگا. انشاء اللہ