سفرِ معراج کے مشاہدات - محمد ریاض علیمی

معراج النبی ﷺ حضور علیہ الصلاۃ والسلام کا ایک عظیم معجزہ ہے۔ اس معجزہ کا ذکر قرآن میں بھی صراحت کے ساتھ ملتا ہے کہ اللہ رب العزت نے اپنے پیارے حبیب ﷺ کو راتوں رات مسجد حرام سے لے کر مسجد اقصیٰ تک سیر کرائی ۔

مسجدِ اقصیٰ سے آگے کاسفر احادیثِ مبارکہ میں صراحت کے ساتھ موجود ہے۔ سفر معراج ایک ایسا معجزہ ہے جس پرایمان رکھنا مدارِ ایمان ہے اور اس کا انکار کفر کی گھاٹیوں تک لے جاتا ہے۔ اس عظیم سفر میں اللہ رب العزت نے اپنے پیارے حبیب ﷺ کو ملاقات کا شرف بخشا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سفر میں انبیائے کرام سے ملاقات کے ساتھ ساتھ بے شمار مشاہدات فرمائے ۔اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو اپنے دیدار ِ پاک اور عظیم قدرتوں کے مشاہدوں کے علاوہ مجرموں کے عذاب کا معائنہ بھی کروایا۔بیت المقدس پر انبیائے کرام کی امامت فرمانے کے بعد جب رسول اللہ ﷺ کا سفر آسمانوں کی جانب شروع ہوا توآپ ﷺ کو اپنی امت کے مختلف احوال دکھائے گئے جن میں بے نمازی، زکوٰۃ ادا نہ کرنے والوں، جھوٹی گواہی دینے والوں، حرام کھانے والوں ، شراب پینے والوں، زنا کرنے والوں اور تکبر کرنے والوں پر ہونے والے عذاب کے احوال اور ان کی کیفیات دکھائی گئیں۔

اسی سفر میں کچھ دور ایک مقام پر رسول اللہ ﷺ کوکثیر تعداد میں بے نمازی مردو عورت دکھائے گئے جوانتہائی تکلیف میں مبتلا ہیں ۔ وہ لوگ زمین پر سیدھے لیٹے ہوئے ہیں اور ان کے سروں کو بڑے بڑے وزنی پتھروں سے کچلا جاتاہے جس سے ان کا سر پاش پاش ہوجاتا ہے ۔ سر کچلے جانے بعداسی وقت دوبارہ صحیح ہوجاتا ہے اور پھر بڑے بڑے پتھروں سے سر پاش پاش کیا جاتا ہے۔ آپ ﷺ کو بتایا گیا کہ یہ وہ مرد و عورت ہیں جو نماز کے وقت سوتے رہتے تھے اور ان کے سر نمازوں کے لیے تکیوں سے نہیں اُٹھتے تھے۔

تارکِ زکوٰۃ:
ایک مقام پر رسول اللہ ﷺ کو دکھایا گیا کہ کچھ لوگ ایک میدان میں برہنہ کھڑے ہیں اور ان کی شرمگاہیں تھوڑی تھوڑی ڈھکی ہوئی ہیں اور ان کا سارا جسم ننگا ہے۔ اُن کی حالت یہ ہے کہ وہ جنگل کی گھاس، جنگل کے کانٹے ، جنگل کے پتھر اور اینٹ وغیرہ سب کچھ کھا تے جاتے ہیں لیکن کسی بھی وجہ سے ان کا پیٹ نہیں بھر تا۔ آپ ﷺ کو بتایا گیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو بخیلی کی وجہ سے اپنے مال کی زکوٰۃ اور خیرات نہیں دیتے تھے۔

مردار خور قوم :
ایک مقام پر رسول اللہ ﷺ کو دکھایا گیا کہ کچھ عورتیں اور مرد جمع ہیں جن کے سامنے ایک طرف پاکیزہ ،نفیس اور نہایت عمدہ کھانا رکھا ہے جبکہ دوسری طرف بدبودار اور سڑا ہوا گوشت رکھا ہے جس میں کیڑے پڑے ہوئے ہیں ۔ وہ لوگ پاکیزہ گوشت کھانے کے بجائے سڑا ہوا بد بو دار گوشت کھاتے ہیں۔ اس قوم کے متعلق رسول اللہ ﷺ کو بتایا گیا کہ یہ وہ مر دو عورت ہیں جن کے پاس اپنی بیویاں ہوں او ر وہ بدکار عورت کے پاس رات گزاریں اور وہ عورتیں ہیں جو اپنے حلال شو ہر کو چھوڑ کر بدکار مرد کے پاس رات گزاریں۔

امانت میں خیانت کرنے والا:
حضور نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا جو نہایت کمزور ہے ، لیکن کمزوری کے باوجود وہ چاہتا ہے کہ لکڑی کا بڑا وزنی گٹھا اٹھا کر اپنے کندھوں پر رکھے ، مگر وہ اس پر قدرت نہیں پاتا۔ آپ ﷺ کو بتایا گیا کہ یہ وہ خائن (خیانت کرنے والا)شخص ہے جس کے پاس لوگوں کی اتنی امانتیں ہیں کہ جن کو وہ ادا نہیں کرسکتا۔ لیکن اس کے باوجود اور اکٹھی کرتا جا تا ہے۔

فتنہ پرداز واعظ:
براق ایسے مقام پر پہنچا جہاں بعض لوگوں کے حلق چیرے جاتے ہیں اور ان کے منہ میں چھریاں پھونکی جاتی ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ کو بتایا گیا کہ یہ وہ فتنہ پرداز واعظ ہیں جن کے واعظوں سے مخلوقِ الٰہی میں اختلاف اور فساد پیدا ہوتا تھا۔اور ان کا وعظ قرآن اور حدیث کے بالکل خلاف ہوتا تھا جس سے مسلمانوں میں شدید اختلاف پیدا ہوتا تھا۔اس کی سزا میں قیامت تک ان کا یہی حال رہے گا۔

مغرور اور متکبر لوگ:
ایک مقام پر رسول اللہ ﷺ نے ملاحظہ فرمایا کہ ایک جنگل ہے اور اس کی زمین میں باریک باریک سوراخ ہیں اور ان سوراخوں میں سے بڑے بڑے جسم اور بڑے بڑے سینگوں والے ناگوری بیل نکل نکل کر باہر آ تے ہیں اور پھر کوڑوں کے ڈر سے وہ دہشت زدہ ہوکر انہی باریک سوراخوں میں اپنے سینگوں اور اپنے ہاتھ پاؤں کا زور لگا گر داخل ہونا چاہتے ہیں۔ آپ ﷺ کو بتایا گیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں چھوٹا منہ اور بڑی بات کیا کرتے ہیں۔ اور غرور و تکبر کے کلمے منہ سے نکالتے ہیں۔

سود خور:
ایک جگہ آپ ﷺ نے ملاحظہ فرمایا کہ کچھ لوگ خونخوار صورتوں والے موجود ہیں جن کے پیٹ گنبد کی طرح اونچے ہیں اور شیشے کی طرح ایسے شفاف ہیں کہ ان کے پیٹ میں سانپ بچھو بھرے ہوئے صاف نظر آ تے ہیں پھر جب کوئی شخص ان وزنی پیٹ والوں میں سے اٹھنا چاہتا ہے تو وہ پیٹ کے بوجھ کی وجہ سے فوراً گرپڑتا ہے اور پھر ایک خونخوار ہیبت ناک گھوڑا اس کے پیٹ کو کچلتا ہے جس پر وہ لوگ دھاڑیں مار مار کر روتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کو بتایا گیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جوسود خوری کرتے تھے اور قیامت تک اسی عذاب میں مبتلا رہیں گے۔

یتیموں کا مال کھانے والے:
کچھ آگے رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کی ایک جماعت کو ملاحظہ فرمایا جن کے چہرے اونٹوں کی طرح ہیں اور فرشتے ان کے منہ اورچہروں کو چیر کر بڑے بڑے انگارے ان کے منہ میں بھر رہے ہیں اور پھر وہ انگارے ان کے حلق سے نکل کر اسی وقت پاخانے کے راستے سے باہر نکل جاتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کو بتایا گیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو یتیموں کا مال کھاتے ہیں۔

ظالم عورتیں:
ایک مقام پر حضور نبی کریم ﷺ نے دیکھا کہ عورتوں کا ایک گروہ ہے جن کو چھاتیوں کے بل اور پیروں کے بل الٹا لٹکایا گیا ہے اور ان سب کو آگ کے کوڑے مارے جارہے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کو بتایا گیا کہ یہ وہ ظالم اور ناپاک عورتیں ہیں جو ناجائز بچے جنم دے کر اپنا عیب چھپانے کے لیے ان بچوں کو قتل کرتی تھیں۔

غیبت کرنے والا:
ایک جگہ پر حضور ﷺ نے دیکھا کہ چند آدمی ایک مقام پر جمع ہیں اور ایک شخص کو ان سب نے مل کر پکڑا ہوا ہے اور اس شخص کے جسم کا گوشت کاٹ کاٹ کر اس کے منہ میں دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسے چباؤ اور کھاؤ جیسے دنیا میں تو اپنے بھائیوں کا گوشت کھاتا تھا۔ آج اس کے بدلے میں اپنا گوشت چبانا پڑے گا۔ رسول اللہ ﷺ کو بتایا گیا یہ وہ شخص ہے جو دنیا میں لوگوں کی غیبت کیا کرتا تھا۔

شراب خور:
رسول اللہ ﷺ نے آگے کچھ لوگوں کو دیکھا جن کے منہ سیاہ اور نیلی آنکھیں نہایت ڈراؤنی ہیں اور نیچے کا ہونٹ زمین پر گھسٹتا ہے اور اوپر کا ہونٹ سر پر رکھا ہوا ہے۔ ایسا بدبودارپیپ اور لہو ان کے منہ سے جاری ہے جس سے تمام میدان سڑ رہا ہے۔ آقا ﷺ کو بتایا گیا کہ یہ شراب پینے والے لوگ ہیں جو قیامت تک اسی عذاب میں مبتلا رہیں گے۔

جھوٹے گواہ:
آگے چل کر رسول اللہ ﷺ نے ملاحظہ فرمایا کہ ایک میدان نہایت خوفناک خنزیروں سے لبریز ہے جن کا تمام جسم انسانوں جیسا ہے اور چہرہ خنزیروں جیسا ہے اور ان کی زبان ان کی گُدی چیر کر الٹی طرف کھینچی جارہی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو بتایا گیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے جھوٹی گواہی دینے کو اپنا معاش بنا رکھا ہے۔ یہ لوگ نہایت ڈھٹائی سے جھوٹ بولا کرتے تھے۔

نوحہ بیان کرنے والے:
رسول اللہ ﷺ کا گزر عورتوں کے ایک ایسے گروہ پر ہوا جن کو آگ کے کپڑے پہنا کر آگ کے کوڑے مارے جاتے تھے۔ اُن کوڑوں کی تکلیف کی وجہ سے وہ عورتیں کتوں کی طرح آواز سے چیختی اور روتی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کو بتایا گیا کہ یہ وہ عورتیں ہیں جو میت پر نوحہ کرتی تھیں۔

نافرمان اولاد:
ذرا آگے چل کر رسول اللہ ﷺ نے دیکھا کہ ایک بڑی جماعت کو آگ میں جلایا جاتا ہے اور جب وہ جل کر راکھ ہوجاتے ہیں تو پھر زندہ ہوکر بیٹھ جاتے ہیں۔ پھر آگ انہیں جلاتی ہے پھر وہ زندہ کردیے جاتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کو بتایا گیا کہ یا نبی اللہ یہ وہ لوگ ہیں جو ماں باپ کی نافرمانی کرکے ان کے دل جلایا کرتے تھے۔ قیامت تک یہ لوگ اسی طرح عذاب میں مبتلا رہیں گے۔

تکبر کرنے والے:
رسول اللہ ﷺ نے دیکھا کہ کچھ لوگ بڑے بڑے پہاڑوں کے برابر دو چکی کے پاٹوں میں پسے جارہے ہیں ۔ وہ بار بار زندہ ہوتے ہیں اور بار بار پسے جاتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کو بتایا گیا کہ یہ مغرور اور متکبر لوگ ہیں جو غرور کیا کرتے تھے۔الغرض مذکورہ بالا عبرت ناک مشاہدات کے علاوہ رسول اللہ ﷺ کواور بھی کئی مشاہدات ہوئے جس کا مقصد یہ ہے رسول اللہ ﷺ اپنی امت کو گناہ اور اس پرہونے والے عذاب کی ہیبت ، شدت اور اور کیفیت بتاکر اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرائیں اور ان کو نیکیوں کی جانب راغب کریں۔ اللہ جل شانہ ہمیں بھی گناہوں سے بچنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */