ابھی وقت ہے سنبھل جائیں - ڈاکٹر عزیر سرویا

ہر عمل کا رد عمل ہوتا ہے۔ جو کیا جائے اس کے نتائج بھگتنا پڑتے ہیں۔ آپ آج بازاروں، دفتروں، مسجدوں کو آباد رکھیے، دو سے تین ہفتے بعد نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہیے۔ اگر تین فیصد شرح اموات کے ساتھ بھی آگے چلیں، صرف آبادی کا چالیس فیصد بھی اس کی لپیٹ میں آتا ہے تو چوبیس لاکھ اموات بنتی ہیں۔

مریضوں کی تعداد جوں ہی ہزار سے اوپر ہو گی (یا شاید اس سے بھی پہلے) آپ کا ہیلتھ سسٹم بیٹھ جائے گا۔ وینٹیلیٹر سفارشوں پے افسران یا سیاست دانوں کے دوست احباب کو ملیں گے اور عوام/غریب ایڑیاں رگڑ رگڑ کر گھروں پر یا ہسپتالوں کے باہر باری کے انتظار میں مریں گے . - کچھ عرصے بعد جب ڈاکٹر و عملہ بیمار ہو کے مرنے لگے گا تو میدان چھوڑ کر جانا شروع ہو جائیں گے ہیلتھ کیئر ملازمین (جیسا بلغاریہ میں ہوا) - انفیکشن زیادہ پھیلے گا اور اموات بڑھیں گی تو ریاست و عوام مریضوں کو چھوڑ لاشوں کا بندوبست کرنے سے بھی قاصر ہو جائے گی۔ انفیکشن کے ڈر سے لواحقین لاشیں گھروں سے باہر چھوڑیں گے، حکومت کے پاس مشینری نہ ہو گی ٹھکانے لگانے کی تو سڑکوں پر زومبی ایپوکلپس والی فلموں جیسے مناظر ہوں گے -

ابھی لاک ڈاؤن نہ ہوا اور لوگ یونہی غیر سنجیدہ رہے تو ان نتائج کے ظاہر ہوتے ہی پےنِک پھیلے گا جس سے لاک ڈاؤن خود بخود ناگزیر ٹھہرے گا۔ معیشت بیٹھ جائے گی، ایک طرف انفیکشن ملک الموت کا پیٹ بھرے گی دوسری جانب بھوک۔ ہر گھر یا خاندان کسی نہ کسی طور متاثر ہو گا۔ بھوک افلاس کی وجہ سے یا پیاروں کی اموات سے۔ بین الاقوامی برادری سے قرض لیا جائے گا یا امداد لے کر ملکی خود مختاری گروی رکھنا پڑے گی۔ اس کے علاوہ دوسرا آپشن مکمل انارکی ہو گا۔
یہ سب کچھ ہونے سے پہلے روکا جا سکتا ہے اگر ہم آج ہی سے مکمل سماجی دوری social distancing اختیار کر لیں۔ لاک ڈاؤن وقت کی ضرورت ہے، اگر حکومت نہیں کرتی تو کم از کم عوام کو جس حد تک ہو سکتا ہے social distancing پر قائل یا مجبور کرے۔ ورنہ ذہنی طور پے تیار رہیں لمبی آزمائش کے لیے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com