رخصتی - طوبیٰ ناصر

تمھیں پتہ ہے ہمارے گاؤں کا نام زرگام کیوں ہے؟ عبد الاحد نے جھیل کا پانی زرتاشہ کی طرف اچھالتے ہوئے پوچھا تھاپانی کے قطرے اپنے اوپر پڑھنے کی وجہ سے زرتاشہ نے مصنوعی غصے سے عبد الاحد کی طرف گھورتے ہوئے پوچھا تھا کیوں؟

کیونکہ تم یہاں رہتی ہو عبدالاحد نے محبت سے زرتاشہ کی طرف دیکھا تھا تو زرتاشہ کے حیا سے گال سرخ ہو گئے تھے اور عبد الاحد اسی منظر کا تو انتظار کر رہا تھا وہ جانتا تھا ایسے چھوٹے چھوٹے جملوں سے بھی وہ اسی طرح شرما جایا کرتی تھی اور وہ ایسے ہی محظوظ ہوا کرتا تھا۔زرگام کا کیا مطلب ہوتا ہے؟ زرتاشہ نے بات بدلی تھی۔ سونے کا گاؤں عبدالاحد نے ایک لمبی سانس بھری تھی ۔اور جھیل کے کناروں تک بچھے سنہرے کھیتوں کو دیکھا اور کہنے لگا جنت ہے ہمارا گاؤں،ہماری ریاست، ہمارا کشمیر۔تمھیں پتہ ہے مجھے عشق ہے کشمیر سے اور مجھے اپنی اس ریاست کو آزاد کروانا ہے کفر سے، ظلم سے عبدالاحد کی آنکھوں میں آنگار جلنے لگے تھے اور وہ کسی اور ہی سوچ میں گم ہو گیا تھا۔عبدالاحد اور زرتاشہ ایک سال پہلے نکاح کے خوبصورت بندھن میں بندھے تھے اس بندھن نے ان کو محبت کے جذبے سے روشناس کروایا تھا وہ دونوں بہت خوش تھے نکاح کے بعد عبدالاحد کو مجاہدین کی ٹریننگ حاصل کرنے کے لیے پاکستان جانا تھا اسلئے رخصتی نہیں کی گئی تھی .

عبدالاحد ابھی ایک سال کی ٹریننگ نے بعد کشمیر لوٹا تھا اور دو دن کے بعد وہ زرتاشہ کو رخصت کروا کر ہمیشہ کے لیے اپنے گھر لانے والا تھا اس لیے وہ دونوں بہت خوش تھے اور جھیل کنارے بیٹھے سنہرے مستقبل کے خواب بن رہے تھے لیکن وہ جانتے تھے انھیں ایسے خواب دیکھنے کی کہاں اجازت ہے۔ کوئی اس کو رُلاؤ۔۔۔ ایسے سکتے میں نہ بیٹھنے دو۔۔۔ بیٹا ہوش کرو۔۔۔ کوئی زرتاشہ کے کندھوں کو ہلا رہا تھا ۔۔۔ محتلف آوازیں اس کے کانوں سے ٹکرا رہی تھی۔۔ اس نے خالی خالی نظروں سے سب کو دیکھا تھا۔۔ منظر بدل چکا تھا۔۔ ابھی تو وہ جھیل کنارے بیٹھی تھی۔۔۔اور وہ عبدالاحد۔۔ وہ باتیں کر رہا تھا وہ کدھر گیا۔۔۔۔ زرتاشہ جیسے ابھی ہوش میں آئی تھی عبدالاحد۔۔۔ عبدالاحد کدھر ہے اس نے پوچھا تھا لیکن وہ تو جانتی تھی آج اس کی رخصتی تھی وہ اپنے ہاتھوں میں مہندی لگائے سرخ جوڑا پہنے بیٹھی تھی جب اسے بتایا گیا تھا کے بھارتی فوج نے عبدالاحد کے گھر میں چھاپا مار کر اسے دہشتگرد کا الزام دے کر گرفتار کر لیا تھا۔ اور اسے کلمہ کفر کہنے پر مجبور کر رہے تھے .

عبدالاحد نے مزاحمت کرتے ہوئے انھی کا اسلحہ لے کر ان پر حملہ کر دیا تھا جس سے دو بھارتی فوجی جہنم واصل ہوئے تھے لیکن اسی دوران عبدالاحد کو بھی گولیاں لگی اور وہ شہید ہو گیا تھا اور آزادی کی طلب میں کفر سے لڑتے ہوئے ایک اور جوان جان کی بازی لگا کر جنت کا ٹکٹ حاصل کر چکا تھا وہ آنکھیں جو اپنی رخصتی کے خواب دیکھ رہی تھی انھیں کیا پتہ تھا یہ آنکھیں اپنی روح کو اس دنیا سے رخصت ہوتا دیکھیں گی۔ یہ تو کشمیر کی ہر گھر کی کہانی تھی زرتاشہ یہی سوچتے ہوئے گھر سے نکل آئی تھی اور آج پھر جھیل کنارے کھڑی تھی لیکن وہ آج اکیلی تھی۔۔۔ لیکن نہیں وہ اکیلی کہاں تھی عبدالاحد کی یادیں تھی اور اس کا ایمان اور یقین تھا جو وہ اسے دے گیا تھا کے ہمیں اپنی ریاست سے پیار ہے اور ہم آزادی کے لیے آخری دم تک لڑیں گے۔ اپنے ایمان کا کبھی سودا نہیں کریں گے ہمیشہ صبر،ہمت اور حوصلے سے کھڑے رہیں گے کے ابھی فرض باقی ہے جانے والے اپنا کام پیچھے رہنے والوں کے سپرد کر گے ہیں اور اس ادھورے کام کو مکمل ہونا ہے زرتاشہ نے ایک نظر زرگام گاؤں پر ڈالی تھی تو اسے لگا یہ اس کی آنکھیں نہیں ہیں یہ تو عبدالاحد کی آنکھیں ہیں اور کہہ رہی ہیں یہ ہمارا گاؤں ہے ہماری ریاست ہے،ہمارا کشمیر ہے اور یہ آزاد ہو کر رہے گا۔