فیصلہ - روبینہ شاہین

رابعہ گھر کے کام کاج میں مصروف تھیں ڈسٹنگ کرتے ہوئے اچانک موبائل فون کی رنگ ہوئی موبائل کے اوپر سعدیہ کا نام لکھا ہوا تھا۔ رابعہ نے فون اٹھاتے ہی کہا "السلام علیکم سعدیہ" دوسری طرف سے سعدیہ کی روتی ہوئی سسکیاں سنائی دی" کیا بات ہے ۔

سعدیہ سب ٹھیک تو ہے نا" رابعہ نے بے چینی سے پوچھا۔ تھوڑی سی ہمدردی پاتے ہی ساتھ ہی اس کی آواز زور سے رونے میں بدل گئی رابعہ اور گھبرا گئی اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ سعدیہ کو چپ کیسے کرایا جائےکچھ دیر رونے سے ہلکا ہونے کے بعد سعدیہ کو احساس ہوا کہ وہ رابعہ کو پریشان کر رہی ہے۔" دیکھو رابعہ تم میری سب سے اچھی دوست ہو جو بات میں کسی سے نہیں کرسکتی وہ میں تم سے کر لیتی ہوں" سعدیہ نے کہا۔" ہاں تو بولو نہ کچھ بتاؤں گی تو پتہ چلے گا"رابعہ نے کہا۔ " تمہیں تو پتا ہے میری شادی کن حالات میں ہوئی ہے" سعدیہ نے رونا بند کرتے ہوئے کہا۔" ہاں مجھے سب پتہ ہےکچھ مہینے تو ہوئے ہیں تمہاری شادی کو اب کیا ہوگیا ہے جو اس قدر پریشان ہوگئی ہو" رابعہ نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے کہا۔

" تمہیں پتہ ہے سمیر کی میں دوسری بیوی ہو ایک کو انہوں نے شادی کے چھ ماہ بعد طلاق دے دی تھی" سعدیہ نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا۔" ہاں یہ تو مجھے پتا ہے" رابعہ نے کہا۔" تیسری بیوی کا فون آیا تھا اور وہ مجھے بتا رہی تھی سعدیہ نے کہا "یہ بات مجھ پر بجلی بن کر گری سمیر کہتے تھے کہ انہوں نے اپنے ماموں کی بیٹٰی سے ایک شادی کی تھی لیکن وہ ان کی تیسری بیوی تھی" رابعہ کاحیرانگی سے منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔ وہ بھی بہت پریشان ہوگئی" تمہارا مطلب کیا ہے تم کیا چاہتی ہو"رابعہ نے کہا۔ "میرے ساتھ بڑا دھوکہ ہوا ہے یہ سب کیسے برداشت کر لوں گی" سعدیہ کی آواز پھر بھر م"مجھ سے نہیں ہوتا برداشت اب میں بھی سمیر کو بدنام کروں گی ۔

میں اس دھوکے باز کے ساتھ نہیں رہ سکتی" سعدیہ کی آواز میں رونے کے ساتھ غصہ بھی تھا۔ اُنہوں نے مجھےتینوں بیویوں کے نکاح نامے اور طلاق نامہ بھی دکھا دیے ہیں کہ کن حالات میں انہوں نے یہ قدم اٹھائیں لیکن اب میں نے بھی فیصلہ کرلیا ہے کہ سمیر کو اب میں بھی بد نام کروں گی انہوں نے میرے ساتھ بہت بڑا دھوکا کیا ہے" سعدیہ نے غصے اور تکلیف کی حالت میں بولے جا رہی تھی۔ رابعہ کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ سعدیہ کو کس طرح حوصلہ سے "میں نے گھر کی چابیاں سمیر کو واپس کر دی ہے کہ اب میں کسی حالت میں ان کے ساتھ رہنے کو تیار نہیں اور انہوں نے بھی آج مجھے فیصلے کا حق دے دیا ہے اب باقی کچھ نہیں بچا" سعدیہ اپنے ہی جذبات میں بولی جارہی تھی۔

"دیکھ سعدیہ میری جان میری بات غور سے سنو یہ فیصلہ کرنا بہت آسان ہے سمیر بھائی بہت اچھے اور نیک شریف انسان ہے اگر حالات دھوکا کر جائے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اس ہی انسان کو دوبارہ چکی میں ڈال سے تم نے بڑی آسانی سے سوچ لیا لیکن تم یہ نہیں سوچا کہ تمہارا اپنا مستقبل کیا ہوگا اور تمہارے بچے کا مستقبل کیا ہوگا تم بھی دو شادیاں کرنی ہے کل کو بچوں کا مستقبل کیا ہوگا جب ایک طلاق کا لیبل لگ جائے تو عورت کو معاشرہ کیا مقام دیتا ہے تم جو بھی قدم اٹھاؤ سوچ سمجھ کر اٹھانا مصیبتیں تو ہر انسان کی زندگی کا حصہ ہے مقابلہ اور فیس تو انسان کو کرنا پڑتا ہےتم نے دھوکے باز کہ کر سمیر کو برا بنا دیا مگر تم نے سمیر بھائی کو سمجھنے کی کوشش کی ہو سکتا ہے وہ ویسے نہ ہو جیسے تم سمجھ رہی ہو کچھ عرصہ ان کے ساتھ رہ کر تم ان کو سمجھ سکتی ہو ایک دھوکا تم دونوں کی زندگی خراب تو کرے مگر تمہارا مستقبل بھی خراب کرے گا" رابعہ کی باتیں سن کر سعدیہ خاموش ہو گئی تھی۔

شاید اس طرح سے اس نے سوچا بھی نہ تھا کے آج طلاق دے کر اس کی نگاہوں میں جب رہا ہے مگر یہی طلاق کا لفظ اس کے ساتھ لگ گیا تو آنے والا اس کے بارے میں کیا سوچے گا وہ بھی اس سمیر کے مقابل آ جائے گی ۔چند دنوں بعد جب رابعہ نے سعدیہ سے رابطہ کیا تو وہ مطمئن نظر آئی اس نے اپنے بچے اور بہن بھائیوں کے ساتھ اپنے مستقبل کے متعلق بھی لائحہ عمل تیار کیا تھا" سمیر واقعے ہی ایک بہت اچھے انسان ہیں حادثات تو ہر انسان کی زندگی کا حصہ ہوتے ہیں اور فیس بھی انہیں خود کرنا پڑتا ہے کچھ عرصے بعد اللہ نے انہیں چاند سا بیٹا عطا کیا اور اسے ڈیڑھ سال بعد بیٹی نعمت سے نوازہ دو کھلونے پا کر سعدیہ تو جیسے دنیا ہی بدل گئی۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com