کورونا وائرس کسی کے لئے نعمت اور کچھ کے لیے بلائے جان - فریال فیصل

اس انتہائی چھوٹی جاندار چیز جس نے بازار، بینک، ہوٹل، بڑے مال، ، ایئرپورٹس، ریلوے اسٹیشن، بس سروس اور نہ جانے کیا کیا بند کروا دیے لیکن یہاں سوچنے کی کی بات یہ ہے کہ کیا ہم نے رب کی نافرمانی اور گناہوں کو بند کیا؟ کیا نفسانی خواہشات پر تالا لگایا؟ کیا کانوں کو لغویات سے بچانے کے لیے شٹر ڈاون کیے ؟ کیا اپنی ایگو اور تکبر کو کورنٹائن کیا ؟ کیا راتوں کو اللہ کی عبادت میں میں گزارنے کا ارادہ کیا ؟ کیا قرآن کی تفاسیر کا مطالعہ کرنے کا ارادہ کیا؟ کیا لوگوں کی مدد کرنے کا ارادہ کیا؟ کیا غریبوں اور مسکینوں کی تکلیف کا اندازہ کیا؟

کیا کشمیر کے لوگوں کی آہ و زاری کو دل سے سنا؟ کیا کشمیر کی عوام پر ہونے والے ظلم اور زیادتی پر آواز نہ اٹھانے پر دل میں شرمندگی محسوس کی؟ اگر یہ سب آپ کے ساتھ ہوا ہے تو پھر کرونا وائرس نے آپ کو کچھ دنوں کے لیے مشینی زندگی سے نکال کر انسانوں کی طرح رہنے پر مجبور کردیا ہے اور ہاں اس وائرس سے ہمارے مرنے کے چانسز شاید اتنے نہیں لیکن مشین یا زومبی بننے سے مرنے کے چانسز بہت زیادہ ہیں کیوں کہ یہ ہمیں دل سے ہی مار دیتے ہیں اور ایک دوسرے کی تکلیف بالکل محسوس نہیں ہونے دیتے۔۔۔ میں پچھلے کچھ مہینوں سے یہ سوچ رہی تھی کہ جس طرح ہم زندگی گزار رہے ہیں اور جس طرح ہم ایک دوسرے سے نفرت اور سخت رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں .اگر ہم پر کوئی آزمائش آگئی تو ہم تو ویسے ہی مر جائیں گے کیونکہ جو قومیں اپنی بہترین روایات کو بھول کر مغرب کی جھوٹی چمک کے پیچھے اندھوں کی طرح بھاگتی ہیں وہ قومی چھوٹی سی چوٹ سے ٹوٹ جاتی ہیں ہیں۔۔۔ آج مغرب کے ممالک کو دیکھ کر اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ واقعی قارون کا خزانہ بھی خالی ہوتا ہے اور بڑے بڑے فرعون رب کے آگے جھکتے ہیں اللہ تعالی کا شکر ادا کیجیے کیا آپ مسلمان ہیں آپ ایک امتی ہیں ۔۔۔آپ سب سے درخواست ہے کہ اپنے دین کو تھام لیجئے۔۔ اپنے رب کو منا لیجئے۔۔۔ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت زندہ کریں ۔۔۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگیوں کو پڑھیں۔۔۔ احادیث کا مطالعہ کریں اپنے دین کو شعوری طور پر قبول کریں۔۔۔

یقین جانیے آپ کا دین سب سے پیارا ہے۔۔ سب سے خوبصورت ہے ۔۔۔آپکا رب آپ سے بہت محبت کرتا ہے آپ ایک قدم بڑھائیں وہ دس قدم بڑھاتے ہیں اپنے رب کو منا لیں وہ ناراض ہیں اللہ جی کو منا لیں وہ بہت رحیم ہے وہ بہت کریم ہے نمازوں کو دل سے ادا کرنا شروع کردیں ۔۔۔قرآن کو دیکھیں تو مسکرائے کہ یہ میرے رب کا کلام ہے اور عرش سے اترا ہے۔۔۔ جب آسمان کی طرف دیکھیں تو تصور کریں کہ اس سے بہت اوپر عرش پر میرے رب موجود ہیں اور وہ میرے لئے کافی ہیں اللہ تعالی کی محبت کو محسوس کر کے روئیں۔۔۔رب کی محبت میں آنسو بہائیں اور رات کے آخری پہر رب کی رضا تلاش کیجئے۔۔۔ تہجد گذار بنیں اور راتوں کو رب کی قربت حاصل کرنے کی کوشش کیجئے اور سب سے ضروری چیز صبح و شام کے اذکار کیجئے اور صبر کیجئے اگر یہ سب آپ نے کرلیا تو یقین جانیے یہ آپ کی زندگی کا بہت اہم موڑ ہوگا اور جنت آپ کے قریب ہو جائے گی۔۔۔ اگر آپ نے جنت کو مقصد بنا لیا تو یقین جانیے زندگی حسین ہوجائے گی اور آپ گناہوں سے پاک اللہ کی محبت سے بھرپور زندگی گزاریں گے اور اس سے بڑا کوئی سکون نہیں ہوتا۔۔۔۔ جس نے اس زندگی کا مزہ چکھ لیا وہ واپس گناہ والی زندگی کی طرف واپس نہیں جا سکتا یہ گارنٹی ہے۔۔۔۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com