کرونا سے نمٹنے کیلیے چین نے کیا کیا - محمد سلیم

آپ نے پوچھا کہ چین میں کیا احتیاطات برتی گئیں، یا ہمیں کیا کرنا چاہیئے؟ تو اس کا جواب کچھ یوں بنتا ہے کہ:ہمارے ہاں بظاہر تو کاروبار زندگی پھر سے رواں دواں ہو چکا ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ حکومت نے اپنی نگرانی بھی ختم کر دی ہے۔ چین میں اب ہر نئے وارد ہونے والے بندے کو 14 دن کیلیئے قرنطین کیا جائیگا۔ جن ممالک کے باشندوں پر قرنطین فرض کیا گیا ہے ان سے 6 ہزار یوان (1 لاکھ 38 ہزار روپے) ایڈوانس لیئے جائیں گے۔ کھانا پینا ٹیسٹ اور ہوٹلنگ چارجز منہا کر کے 14 دن کے بعد جو بچا واپس کر دیا جائیگا۔

لوڈنگ والی جگہوں پر اور گوداموں مین کمپیوٹر منسلک نہیں ہوتے اس لیئے وہاں کسی غیر ملکی کے جانے پر پورا ریکارڈ مرتب کیا جاتا ہے۔ دو حکومتی سرٹیفیکیٹ کوڈ دیکھنے کے بعد (نام/ موجودہ پتہ/ پاسپورٹ نمبر/ چین میں آمد کب ہوئی/ موبائل نمبر/اس وقت کا ٹمپریچر/ پچھلے 14 دن میں صحت کا معیار) کا اندراج کر کے اندر جانے دیا جاتا ہے۔
گودام میں اگر آپ کا مقصد زیادہ وقت گزارنا تھا (پندرہ منٹ سے زیادہ)۔ تو ایسے مین گودام کا مینیجر ایک رجسٹر میں پولیس کیلیئے آپ کی معلومات پر مبنی رپورٹ لکھ لے گا۔ دیہاتیوں نے اپنے گاؤں بستیوں کو جاتی سڑکوں پر اپنے رضاکار بٹھا رکھے تھے جو ابھی تک نہیں ہٹائے گئے۔ کسی غیر ملکی کو تو اندر داخل ہونے ہی نہیں دیتے۔ یہی کچھ اجنبیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ کل مجھے ٹمپریچر محسوس ہو رہا تھا۔ سپر مارکیٹ میں جانا تھا تو ڈر رہا کہیں انٹری گیٹ پر چیکنگ والوں کے ہاتھوں روک ہی نہ لیا جاؤں۔ اسی وجہ سے سب سے پہلے ایک حلال سٹور پر گیا جس کا عملہ مجھے جانتا ہے۔ کچھ خریداری کی اور ان کے انسٹرومنٹس سے اپنا ٹمپریچر چیک کروایا۔ مطمعن ہونے کے بعد سپر مارکیٹ گیا۔ کوئی بھی انسان سفید چوہا نہیں ہے جسے تجرباتی طور پر بیماری لگا دی جائے۔ ایران کے پارلیمینٹیریئن اور کینیڈا کے وزیر اعظم کی بیوی بھی اگر اس وائرس کا شکار ہو سکتی ہے تو بلا تفریق کوئی بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیئے احتیاط تو بلا تفریق کی جانی چاہیئے۔

کل ایک بحرینی گلوکارہ کو یہ مرض لگا ہے اس کے عشاق تڑپ اٹھے ہیں۔ پاکستان میں لا پرواہی برتنے والے وہ نوجوان جو سارا دن سڑکوں پر گزارتے ہیں اور انہیں دس بارہ کلو سڑکوں کا غبار اور آلائش کھا کر بھی کچھ نہیں ہوتا، انہیں یہ وائرس چمٹ بھی گیا تو ان کا ایمیونیٹی سسٹم انہیں بچا لے گا۔ مگر اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ وہ اس مرض کا تحفہ اپنے گھر میں بیٹھے بزرگ والدین اور چھوٹے بچوں کوجا کر نہیں بانٹیں گے؟چین میں ایک ایسا کیس بھی سامنے آیا تھا کہ جس نوجوان لڑکی کو یہ مرض لگا وہ اس مرض کا کیریئر ہونے کے باوجود بھی صحتمند رہی جبکہ اس کے سارنے گھر والے اور ملنے ملانے والے اس مرض کی زد میں آ کر ڈھے گئے۔ مرض کے انتشار کے بعد تو باہر نکلنا بھی اپنے آپ کو مصیبت کی دعوت دینا ہو گا۔ تاہم اس وقت کھلی فضاء میں رہنا ٹھیک ہے۔ غذاء کا خاص خیال رکھا جائے اور اپنے مدافعتی نظام کو بہتر بنایا جائے۔ ایران انتہائی ساف ستھرا ملک ہے اور یہی کچھ سعودی عرب کی صورتحال ہے۔ ہمارے زائرین وہاں کیا لینے جاتے ہیں اگر کوئی ثقافتی اثرات ادھر نہیں لاتے تو۔

صفائی کا غربت سے بالکل تعلق نہیں اس کا تعلق کود انسان سے ہے۔ اس لیئے ہمیں صاف رہنا، ہاتھ دھونا اور دیگر امور عجیب لگ رہے ہیں۔ مجھے یہ کہتے ہوئے عجیب لگ رہا ہے کہ پاخانے میں حاجت کے بعد (استنجاء کرنے کے بعد) بھی کچھ لوگ ابھی تک صابن سے ہاتھ دھونا نہیں سیکھ پائے۔ ان کا سابن سے ہاتھ دھونے کی تاکید پر جگتیں بنانا کوئی انوکھی بات نہیں۔ پاکستان میں اقربا پروری کی چھوٹی حد تک مثال یوں دیکھ لیجیئے کہ دس بندوں کی قطار میں کھڑا ہونے سے بچنے کیلیئے بھی کوئی واقف تلاش کیا جاتا ہے۔ ایسے میں دکاندار یا سپر مارکیٹ والے حکومت سے تعاون کریں گے اور گھر سے باہر آنے والوں کا ریکارڈ مرتب کریں اس پر تو سوچا ہی نہیں جا سکتا۔ بڑے لیول پر قرینطین سے استثناء دینے کی جو چول ماری گئی ہے وہ آپ کے سامنے ہے۔ میں نے ایک بار ایک مشہور عالم دین کے پیچھے جمعہ ادا کیا۔ انہیں جان سے مار دینے کا ٹھریٹ تھا اور ویسے بھی روز دو فریقین ایک دوسرے کے چن چن کر بندے مار رہے تھے۔ مسجد میں تلاشی لیکر داخل ہونے دیا جا رہا تھا۔ ایک نوجوان لڑکا صرف اس وجہ سے پوری تقریر کو بد مزہ کر گیا کہ وہ تلاشی سے استثناء چاہتا تھا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com