خوف کا راج - ایم سرورصدیقی

پراسرارکروناوائرس کو اللہ کا عذاب قراردیا جارہاہے اس کی تباہ کاریاںجاری ہیں جس کے باعث پوری دنیا میں خوف کاراج ہے اربوں شہری گھروں میں قید ہوگئے ہیں۔عبادت گاہیں، تعلیمی ادارے، تجارتی مراکز اور کھیلوں کی سرگرمیاں بند ہیں۔ آباد علاقے سنسان اور ویران ہیں ۔

ہرروزدنیاکے مختلف ممالک سے ہلا کتوںکی خبروںسے مزیدخوف و ہراس پھیل رہاہے چین کے بعد کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملک اٹلی میں مکمل لاک ڈا ئون ہے پاکستان کے ہمسایہ ملک ایران میں بھی سینکڑوںلوگ کروناوائرس سے شدید متاثرہوئے ہیں ان حالات میں اعصاب قابو میں رکھ کر فیصلے کرناہوں گے لوگوںمیں تو پہلے ہی بہت خوف پھیلاہواہے اب روزانہ کی بنیادپر لوگ مشورے پہ مشورے دئیے جارہے ہیں کہ گھر میں بیٹھیں، باہر نہ نکلیں،شہر لاک ڈاون کر دیں ،فلاں اور فلاں کو بند کر دیں،آپ غور کریں ایسے مشورے کون دے رہا ہے؟

اول: وہ سرکاری ملازم جسے معلوم ہے چاہے دو ماہ بھی لاک ڈائون ہو جائے اسے تنخواہ پوری ملے گی۔

دوئم : وہ صحافی جنہیں یقین ہے پورا ملک بھی بند ہو جائے اخبار چھپتا اور ٹی وی چلتا رہے گا اور ہمیںتنخواہ مل جائے گی ۔

سوئم : وہ جن کے پاس وسائل ہیں یا وہ کسی اور وجہ سے سمجھتے ہیں کہ لاک ڈائون وغیرہ سے اس کی معیشت محفوظ ہے۔

ڈیلی ویجر اور مزدور بھی اسی دنیا میں جیتے ہیں صاحب،کبھی کسی چوک میں بیٹھے اس مزدور کے چہرے کو پڑھیے جسے دوپہر تک کام نہ ملا ہو اب سوچئے ان کے گھرمیں چہلہا کیسے جلے گا جناب یہ پاکستان ہے ہم یورپ والے چونچلے نہیں کر سکتے. وہاں بے روزگار کو بھوک سے مرنے کا ڈر نہیں ہے. ریاست اس کی کفالت کو موجود ہے. یہاں ایسا کچھ نہیں ہے. یہاں مزدور کی دیہاڑی نہ لگے تو اس کی جانے بلا کرونا کیا ہوتا ہے آپ آج دفاتر اور ہر طرح کا میڈیا بند کر کے سرکاری ملازمین اور صحافیوں کی لاک ڈاون کے دنوں میں 80 فیصد تنخواہ کاٹنے کا اعلان کریں دیکھتا ہوں کتنے دانشور باقی بچتے ہیں جو یہ میٹھے میٹھے مشورے دیتے ہیں کہ فلاں بند کر دو اور فلاں بند کر دو قابل عمل پالیسی بننی چاہیے. دانشورانہ پالیسی نہیں۔ اس حوالہ سے حکومتی اقدامات عام آدمی کے حالات کو مدِ نظررکھ کر کئے جاناضروری ہیں سوشل میڈیا پر ایک مراسلے کا بڑا چرچاہے کہ اٹلی دنیا کو پیغام دے رہا ہے جسے سننے اور ہدایات پر عمل کرنے کی اہمیت ہے قبل اس کے کہ بہت دیر ہو جائے! یہ مراسلہ جس نے بھی لکھاہے اس نے انپا دل سب کے سامنے کھول کررکھ دیاہے بڑی وضاحت سے کہاگیاہے کہ سب پر سلامتی ہوہم اٹلی کے شہر میلان میں رہتے ہیں ۔

میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں اور وضاحت کرتا ہوں کہ یہاں زندگی کیسی ہے؟ یہاں بہت تکلیف دہ حالات ہیں، میں بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کسی قسم کی کوئی غلطی نہ کریں اور ہم سے جو غلطیاں ہوئی ہیں ان کے نتائج سے سبق حاصل کریں اٹلی میں ہم اس وقت مکمل قید میں ہیں۔ہم گلیوں میں نہیں جا سکتے۔ پولیس ہر جگہ الرٹ کھڑی ہے اور ہر اس شخص کو گرفتار کر رہی ہے جو اپنے گھر سے باہر نکلتا ہے۔ ہر چیز بند ہے۔کاروبار، بازار، دکانیں اور تمام گلیاں بالکل سنسان ہیں۔ دنیا کے اختتام جیسا محسوس ہو رہا ہے۔ اٹلی، جو ایک پر رونق زندگی کی علامت تھا اب اسے ایک روشن مرحلے سے اندھیرے اور تاریک مرحلے کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، ایسا لگ رہا ہے جیسے یہ جنگ سے تباہ حال ملک ہو۔یہ ایک حقیقت ہے کہ میں کبھی نہیں چاہتا تھا کہ ایسے حالات میں زندگی گزاروں۔ لوگ یہاں پر بہت اداس ہیں، غمگین ہیں، شش وپنج میں ہیں، مضطرب ہیں اور بے یارومددگار ہیں۔اور وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ یہ آفت اور یہ حقیقت ان پر کیسے مسلط کی گئی۔ اور وہ یہ بھی نہیں سمجھ سکتے کہ یہ ڈراؤنا منظر کب ختم ہوگا۔

سب سے بڑی غلطی جو اٹلی میں کی گئی تھی وہ یہ تھی کہ اس وائرس کے پہلے حملے کے وقت لوگوں نے اس کو سنجیدگی سے نہیں لیا بلکہ اپنی معمول کی زندگی میں مصروف رہے۔کام کاج کی خاطر گلیوں میں چلتے پھرتے رہے گھومتے رہے اور وہ سمجھتے رہے کہ یہ لطف اندوز ہونے کا موسم ہے۔دوستوں سے ملنا جلنا اور شادی وغیرہ کے اجتماعات میں شامل ہونے کی وجہ سے سب نے غلطی کی اور آپ بھی وہی غلطی کر رہے ہیں۔ میں آپ سے ہاتھ جوڑ کر فریاد کرتا ہوں اور یہ کہتا ہوں کہ آپ احتیاط کریں، یہ نہ تو کوئی ہنسنے کی بات ہے اور نہ ہی کوئی مذاق کی بات۔ اپنی اور اپنے پیاروں کی حفاظت کریں، اپنے والدین اور دادا دادی اور نانا نانی کی حفاظت کریں۔ یہ بیماری ان کیلئے بہت خطرناک ہے۔یہاں روزانہ دو سو لوگ مر رہے ہیں، اس کی وجہ یہ نہیں کہ اٹلی میں ادویات نہیں ہیں بلکہ اعلی قسم کی ادویات موجود ہیں، ان اموات کی وجہ یہ ہے کہ کسی کے لئے کوئی محفوظ جگہ نہیں ہے۔

ڈاکٹر حضرات یہ طے کرنے کی کوشش میں ہیں کہ کس کو بچائیں اور کس کو مرنے دیں۔ یہ سب اس لئے ہو رہا ہے کہ لوگوں نے ابتداء میں حماقت کی اور اپنے شب و روز کو معمول کے مطابق رہنے دیا اور بیماری کے نئے ماحول کے مطابق حفاظتی اقدامات نہیں کئے۔ برائے مہربانی آپ ان غلطیوں سے سیکھیں، ہم ایک چھوٹے سے ملک میں رہنے والے ہیں اور ایک بہت بڑے سانحہ سے گزر رہے ہیں۔ غور کریں اور اس پر سختی سے عمل کریں سب سے التجاہے کہ ہجوم والی جگہوں میں مت جائیں۔ عوامی مقامات میں مت کھانے پینے سغ مکمل احترازکیاجائے ،کوشش کی جائے کہ آپ اپنے اہل ِخانہ کے ہمراہ زیادہ تر وقت اپنے گھر کے اندر گزاریں۔ محکمہ صحت کی ہدایات کو غور سے سنیں اور ان پر سختی سے عمل کریں اور ان کو مذاق مت سمجھیں ایک بات کا خاص خیال رکھیں کہ ایک دوسرے سے بات کرتے وقت کم از کم ایک میٹر کا فاصلہ رکھو، قریب مت آئیں اور ایک دوسرے سے گلے نہ ملیں ۔

احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں اور دوسروں کی غلطیوں سے سبق حاصل کریںہم آپ کو مشورہ دیتے ہیں کہ وٹامن سی استعمال کر کے اپنے جسم کی قوت مدافعت کو مضبوط بناؤ۔ طبی عملہ کے ساتھ تعاون اس بیماری کے خاتمے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔اس وقت اٹلی سارے کا سارا قید خانے میں تبدیل ہو چکا ہے جس کا مطلب ہے ساٹھ ملین لوگ قید میں ہیں۔ یہ سب کچھ روکا جا سکتا تھا اگر لوگ حماقت نہ کرتے اور ابتداء میں ہی احکامات پر عمل کر لیتے۔ اپنا اور اپنے محبت کرنے والوں کا خیال رکھیں اوراس پیغام کو لوگوں تک پہنچائیں۔

جی اس بات پر غورکریں کہ پاکستان تو ایک غریب ملک ہے یہاں عام آدمی کو بہت سے مسائل اور مشکلات کاسامناہے اس مشکل سے نکلنے کا ایک یہی راستہ ہے کہ ہم اخوت کو فروغ دیں ،ایک دوسرے کااحساس کریں کم وسائل ہم وطنوںکی روزمرہ ضروریات کا خیال کریں سفید پوش اہل ِ محلہ اور مستحقین کو راشن عطیہ کریںصلہ رحمی سے اللہ تعالیٰ بڑی سے بڑی مٹکلات ختم کردیتاہے۔

Comments

ونود ولاسائی

ونود ولاسائی

ونود ولاسائی نوکوٹ تھرپارکر سے تعلق رکھتے ہیں۔ سندھ یونیورسٹی جامشورو میں ایم فل سماجیات کے طالِب علم ، اور سماجی و ہیومن رائٹ کارکن ہیں۔ اسٹوری رائٹر کے طور پر شناخت بنانا چاہتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */