آپ میری زندگی ہیں - گورگین بلوچ

گوہر سیاسیات کا فرسٹ سسمٹر کا طالبعلم تھا وہ لمبے قد گندمی رنگ کا خوبرو نوجوان تھا وہ اپنی خوبصورتی کی وجہ سے یونیورسٹی میں نام تھا لیکن عام خوبصورت لڑکوں کے مانند بد کردار نہیں تھا ۔

وہ خاموش مزاج اور دل کا صاف انسان تھا سفید کپڑے اوپر بلیک واسکٹ روز پہنا کرتا تھا اس کے دوست کم تھے اگر کچھ تھے ان سے بہت دور دور تھا۔سیاسیات میں علم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ وہ کسی طلباء تظیم میں ایک عہدے پر فائز تھے۔ کلاس میں دوست نا ہونے کی وجہ سے وہ کبھی کبھار کلاس میں چکر لگاتا تھا انہیں اسٹڈی کرنے کا بہت شوق تھا پوری رات بیٹھ کر ایک بند کمرے میں پڑھتا رہتا تھا لکھتا رہتا تھا ایک الگ زندگی الگ دنیا میں جی رہا تھا اس کے دنیا میں اسکی تنہائی کتابیں اور بند کوٹی کے علاوہ کچھ نا تھا،صبح سات بجے سونا شام چار بجے اٹھنا ایسا لگتا تھا وہ عدم مستقل مزاج کا انسان تھا۔

گوہر کے زاتی دوستوں میں سے ایک ارشد تھا ارشد کو گوہر کے متعلق سب معلوم تھا وہ بچپن سے ایک دوسرے کے دوست تھے ارشد کے ساتھ ان کا ملنا جلنا کبھی کبھار ہوتا ہے زیادہ تر وہ اکیلا ہوٹل میں بیٹھ کر چائے پی کر چلا جاتا تھا ہفتوں ہفتوں نظر نا آتا۔

ایک سال بعد گوہر کو فزا نامی ایک یونیورسٹی کے لیکچرار کے ساتھ برف باری کے موسم میں صبح آٹھ بجے ایک یونیورسٹی کی طرف جاتے دیکھا گیا ان کے فاصلے سے یہی لگ رہا تھا یہ پیار کے بندھن میں باندھے گئے ہیں ہلکی پھلکی برف تھی دنیا کی نظر ان دونوں پر تھے بچے اسکول جا رہے تھے روڈ میں ٹریفک نا ہونے کی وجہ سے ماحول اتنا ہی پر کشادہ تھا چرند پرند اس برف باری میں اپنے آشیانوں میں آرام فرما رہے تھے۔

مگر دو لیلی مجنوں دنیا سے بے خبر فٹ پاتھ پر سے دنیا کی نظروں سے ناواقف چل رہے تھے ۔فزا یونیورسٹی کی انتہائی پاک دامن شریف اساتزہ کرام میں شمار ہوتا تھا انکی پاک دامنی پوری یونیورسٹی میں مشہور تھی وہ اچھے خاندان کی لڑکی ہونے کے ساتھ ساتھ اسے اپنا پیشہ بہت عزیز تھا وہ روز یونیورسٹی آتی روز گوہر اور فزا ایک ساتھ دیکھتے ۔

دیکھتے ہی دیکھتے گوہر نے یونیورسٹی میں سب سے دوستیاں شروع کی روز شام گوہر اپنے دوستوں کے ساتھ کسی ہوٹل یا پبلک لائبریری میں نظر آتا گوہر ہنسی خوشی اسکی چہرے پر عیان تھی ابو ایک سرکاری ٹیچر ہونے ساتھ ایک قبائلی انسان تھا گوہر نے بنیادی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی تھی ابو سے بے پناہ ڈرتا تھا
نشہ جیسے چیزوں سے اسے نفرت تھا اس کی نشہ اسکی محبوبہ یعنی فزا کی آواز تھی اگر وہ آواز نا سںنتا نا پڑھ سکتا نا سو سکتا اسے اسکی روگ لگی تھی دن رات فون پر بات کرنا صبح یونیورسٹی میں ایک ساتھ ناشتہ کرنا فزا بھی اسی صورتحال سے گزر رہی تھی دونوں کی ذندگی میں بہار آئے تھے یہ وقت پانچ سال سے زیادہ عرصے نا گزرے۔

ایک دن فزا نے گوہر کو مجبور کیا وہ میرے بھائی سے ملیں ہماری ادھورے خواب کی بات کریں گوہر نے ہمت کرکے فزا کی بھائی سے اس کے آفس میں ملاقات کرنے گیا اسی اثنا گوہر کو ایک کال آئی امی کی طبعیت خراب ہوئی ہے وہ انتہائی تشویشناک حالات میں ہسپتال پہنچا دیا گیا اب گوہر ایک طرف رشتے کی بات کرنے آیا ہے ایک طرف امی جان۔

گوہر سے فزا کے بھائی کے سوالات ایسے تھے جیسے قبر میں فرشتوں کی سوال ہوتے ہیں گوہر ہر چیز کو ہاں کرتا چلا گیا اپ کو پتا ہے ہماری زبانیں روایتیں سب کچھ الگ ہیں ۔

دفتر سے باہر آتے ہی فزا کو یہ بتانے کی کوشش کی امی ہسپتال میں ہے اسکی آپریشن ہے میرا جانا نہیں ہوگا میرے پاس پیسے نہیں میں پہنچ نہیں سکتا گوہر یہ سب باتیں گبھراتے گھبراتے بول رہا تھ آپ دعا کریں فزا آپ سن رہے ہیں مجھے فزا سن رہے آپ۔۔۔۔۔کچھ جواب نہیں آیا۔۔۔ فزا نے فون رکھ کر دوسری طرف اپنی امی سے محو گفتگو تھی یہ ہماری زات نہیں لوگ کیا کہیں گے ؟یہ سب باتیں گوہر سن رہا تھا۔

گوہر نے ابو کو خط لکھا ابا جان میں یہاں شادی کرنا چاہتا ہوں ۔گوہر کے ابو نے خط کا جواب فون کال پہ دیا ۔اب آئے روایات کلچر زبان اور زات کے تلے اب کیا ہونا ہے ان کی جواب نے گوہر کو ایک بار پھر کمرے میں بند کروایا۔ تین مہینے بعد گوہر کو کال آئی آواز جانی پہچانی تھی آپ میری ذندگی ہو میرے جسم بے شک اس کے پاس ہے روح آپکے ساتھ گوہر چھپ چھاپ سن رہا تھا اس کے بعد کچھ نا بولااب ان فٹ پاتھ پر برف باریوں میں ایک لمبے بال والا لمبے کوٹ پہنا سگریٹ میں کش ما کش لگا کر گزرتا پھرتا ہے ۔

گوہر اب پہلے کی طرح نا کسی سے ملتا ہے اور نا کسی نے دیکھا نا کہیں جاتا ہے نا ہنستا ہے نا روتا ہے وہی کوٹی وہی تنہائی وہی گوہر وہی کتابیں پھر سے خاموشستاں میں مل گئے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com