کرونا اور ڈاکٹرز ۔۔ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

سرحد پر جوان فوجی لڑتا ہے اور حکمت عملی سینئیر لیول پر طے کی جاتی ہے یعنی معمر فوجی۔ ۔میدان میں گولی، بارودی سرنگ یا بم دھماکے کا سامنا فوجی جوان،لیفٹیننٹ، کپتان یا میجرکرتے ہیں ۔ یعنی نوجوان اور جوان خون ۔ دیکھ لیجیے جتنے نشان حیدر ہیں سبھی زیادہ سے زیادہ میجر لیول تک دیے گئے ہیں کیونکہ بہادری کا اظہار اور شہادت کا موقع انہی کا نصیب ہوتا ہے ۔

بعد از شہادت ان کی فیملی کی دیکھ بھال کی ذمہ داری فوج اٹھاتی ہے ۔ بعینہ تمام سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کا پہلا واسطہ ینگ جونئیر ڈاکٹرز یعنی میڈیکل اسٹوڈنٹس۔ ہاوس آفیسر اور میڈیکل آفیسر سے پڑتا ہے۔ رجسٹرار اور سینئیر رجسٹرار انتظامی پوسٹس ہیں بنیادی طور پر وہ بھی میڈیکل آفیسر کیٹیگری میں ہی شامل ہیں۔ یہ سبھی محاذ جنگ پر لڑنے والے فوجی کی طرح موت اور زندگی کی سرحد پر جہاد کر رہے ہوتے ہیں۔ ان کے جہاد یا شہادت پر کسی تمغے کوئی انعامات وعدہ نہیں کیے گئے ۔ نہ ان کے لیے ترانے گائے جائیں گے ۔ نہ ان کی شہادت کے بعد ان کی فیملی کو کسی قسم کا بونس، پلاٹ یا پینشن جاری کی جائے گی ۔ یہ زندہ ہیں تو ان کے گھر کامعاشی پہیہ چل رہا ہے ۔ ان ینگ ڈاکٹرز کا مطالبہ یہ ہے کہ کرونا وبا سے لڑنے کے لیےان کی زندگی کی حفاظت کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا ۔ ایسی صورت میں وہ کرونا کے مریضوں کا علاج کس طرح کریں ۔ کرونا کے مریض سے کانٹیکٹ کا مطلب خود بھی انفیکٹ ہونا ہے ۔ یعنی خود بھی مریض بن جائیں۔ ابھی عام انسان کو ان کا یہ مطالبہ مسیحائی کے خلاف لگ رہا ہے لیکن انسانی حقوق کے خلاف ہرگز نہیں ۔

کیا سرحد پر فوجی اسلحے ہیلمٹ بلٹ پروف گیئر کے بنا ڈیوٹی کر سکتا ہے؟ کیا مورچے کا مطالبہ غیر حقیقی ہو گا؟ آپ چائینیز ڈاکٹرز کی تصاویر دیکھیں ان کا حفاظتی لباس دیکھیں ۔پھر اپنے ینگ ڈاکٹرز دیکھیں عام سادہ ماسک کرونا سے بچاو نہیں کرتا ۔ نہ ہی عام لباس ۔ این 95 ماسک نہ صرف مہنگا ہے بلکہ میسر بھی نہیں شارٹ ہے ۔ اور اسے حاصل کرنے کے معاملے میں عام آدمی اور ڈا کٹر ایک ہی پلیٹ فارم پر کھڑے ہیں۔ سینیٹائزرز مارکیٹ میں میسر نہیں ۔ ہسپتالوں میں مہیا نہیں ۔ڈاکٹر عام انسان سے زیادہ جانتا ہے کہ شدید خطرے کی صورت میں اسے وینٹیلیٹر ملے گا یا نہیں۔ عام انسان کے لیے بیماری اگر سو فیصد ڈراونی چیز ہے تو ڈاکٹر کے لیے اسی بیماری کا خوف دو سو فیصد ہے کیونکہ نہ صرف وہ بیماری سے واقف ہے بلکہ اس سے پیش آ سکنے والی پیچیدگی سے بھی واقف ہے نیز اپنے ملک میں میسر کافی/ناکافی طبی سہولیات بھی اس سے پوشیدہ نہیں ۔ اس لیے اگر ینگ ڈاکٹرز جو اپ کے ،ہمارے بھائی بند اور بچے ہی ہیں ان کا خوف سمجھیے انہیں طعن و تشیع کا نشانہ مت بنائے ۔ ان کی حفاظت کے مطالبے میں ان کے شریک ہوں ۔

ان کا خوف سمجھیں ۔آج کل سادہ فلو بھی کرونا کا خوف ساتھ لیے ہوئے ہے ۔ تو جنہیں اپنے ہاتھوں سے کرونا کے مریض ہینڈل کرنے ہیں ان کے خوف کا لیول کیا ہو گا۔ یہ بھی جان لیں کہ یہ ینگ ڈاکٹرز آج جذبہ جہاد یا جذبہ شہادت سے مجبور ہو کے ننگے ہاتھوں اس کرونا جہاد میں کود بھی پڑیں تب بھی دو سے تین ہفتوں کے بعد ان میں سے بیشتر بیمار ہو کے ڈیوٹی کرنے کے قابل نہیں رہینگے ۔ اور عوام کچھ نہیں کر پائے گی ۔ جیسے وقت محنت اور وسائل سے سرحد پر کھڑا فوجی تیار ہوتا ہے اسی طرح یہ بیماری اور موت کے فرنٹ پر لڑنے والے مجاہد تیار کیے جاتے ہیں ۔ ان کی حفاظت کے لیے مادی وسائل بھی بہم کیجیے اور روحانی دعائیں بھی ان کے ہمراہ کیجیے ۔ انہیں اپ کی تھپکی اور شاباش بھی درکار ہے ۔
سلامت رہیے ۔

تصاویر میں چینی مجاہدین اور پاکستانی غاروں کی تصاویر کا فرق دیکھ لیجیے ۔

Comments

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com