" کورونا " - عالیہ زاہد بھٹی

جاتی سردیوں کو میں نے اپنے آنگن میں واپس لوٹ کے آتے دیکھا تو پوچھ بیٹھی ... "کہو بی سردی!تم تو کراچی والوں کو فقط جھلک دکھلا کر چلے جانے کے مزاج کی حامل ہو یہ کیا معاملہ ہے کہ آج تم گرمی کو آنے ہی نہیں دے رہی ہو خیر تو ہے ؟اچھی خاصی بی گرمی نے چھب دکھلائ تھی ہم نے انورٹر بھی صحیح کرانے کو دے دیا کہ آپ پھر آگئیں؟ " بی سردی تھوڑا لجا کر بولی

"میں تو جانے کا سوچ ہی رہی تھی کہ حکمِ ربّی سے واپس آنا پڑا،سنا تھا کہ منیر نیازی نے کہا ہے ناں کہ
کج اُنج وی راواں اوکھیاں سن
کج گل وچ غم دا طوق وی سی
کج شیر دے لوگ وی ظالم سن
کج مینوں مرن دا شوق وی سی"
میں بی سردی کی پنجابی شاعری سے بہت مرعوب ہوئ اور سوال کیا .. "کون ظالم ہے اور یہ کیا مرنے مارنے کی باتیں کررہی ہو تم ؟ یہ کوئ نئ بات تو ہے نہیں مرنا مارنا اور مر جانا تو اس دنیا کا روز کا معمول ہے،رہے انسان تو کبھی سخت سردی سے مر جاتے ہیں تو کبھی گرمی میں جس کی جیسے موت لکھی ہے وہ وقت معینہ پر دار فانی سے کوچ کر جاتا ہے ؟ تمہارا کیا دخل؟" "ارے اس مرتبہ "طاغوت" نے مجھے استعمال کیا ہے . میں جارہی تھی کہ"بھائی طاغوت" نے مجھے روکا اور اپنی لیبارٹری میں تیار کردہ جراثیم کو میری ہواؤں کے پلّو سے باندھ کر چین کے شہر ووہان میں پھیلا دیا،بس پھر کیا تھا کچھ میرا رب بھی اپنے بندوں کو آزمانا چاہتا تھا اور کچھ "بھائی طاغوت" نے رب کی ڈھیل سے فائدہ اٹھا کر اس کے بندوں کو بھٹکانا تھا سو میرے رب نے "کن"کہا طاغوت نے "شر" کہا جراثیم نے مجھ سے مل" کر" ہاں کہاں اور یوں اک نیا وجود پیدا ہوا آؤ ملو اس سے یہ ہے ..."کورونا" ..میں سردی کی تاویلات سے چکرا کر اب اس کے متعارف کردہ " کورونا " کی طرف متوجہ ہوئی ، "ہاں بھئ کورونا نام اور کام سے تو تم اپنی بی "میڈونا "جیسی لگتی ہو اس نے دنیا میں بے حیائی پھیلائی اور تم بے اعتناعی پھیلا رہی ہو ،

یہ بھی پڑھیں:   کرونا اور ڈاکٹرز ۔۔ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

سلام نہیں کرنا ، مصافحہ بند ، معانقہ بند ، میل ملاپ بند بلکہ منہ ، ناک کان ،گلا سب بند باقی رہ گیا سانس کا سلسلہ وہ تو ابھی بھی حکم ربی پر ہی کاربند ،وہ مہارے ہاتھ واتھ میں نہیں محض ڈراوے ہیں تمہارے " میں نے بھی جی بھر کر لتے لئے اس موئی کورونا کے ... "تمہیں کس نے کہا کہ میں مؤنث ہوں" کورونا غرایا
"بھئ "میڈونا" کی نسبت میں نے تمہیں مؤنث کہہ دیا تم نے برا مان لیا اب تم بھی عورت کے حقوق کی عدم فراہمی پر اپنے آپ کو اس صنف سے الگ رکھنا چاہتی ہو تو ٹھیک ہے " میں نے جز بز ہو کر جواب دیا ... "اور سنو کسی گھمنڈ میں مت رہنا میں دنیا کے ایک سو ساٹھ ممالک میں پہنچ گیا ہوں،اور میری وجہ سے مرنے والوں کی تعداد 6ہزار کے قریب پہنچ گئ ہے" وہ رعونت سے بولا ... "اچھا اور میرے ملک پاکستان میں؟؟؟؟میرے شہر کراچی میں؟؟؟؟؟کیا اسکور ہے تم سے متاثر ہو کر مرنے والوں کا؟" میں نے ترنت سوال کیا .."ہمممممم ،ابھی تمہاری طرف حکم ربّی نہیں ہوا" وہ نگاہیں چرا کر بولا ..."یس!" میں نے اپنے ہاتھوں سے ٹیبل پر زور سے ہٹ کیا
"یہی تو میں کہہ رہی ہوں کہ کورونا ہو یا میڈونا .

،بے حیائی کا طوفان ہو یا بیماری کی یلغار سب میرے رب کے حکم کے آگے ہیں لا چار،تم لاکھ جسم انسانی سے چمٹ کر اسے آلودہ کرو جب تک اس جسم کے اندر موجود روح میں رب کے ساتھ ڈائریکٹ ڈائلنگ کا ارتکاز موجود ہے تم تو کیا تمہارا باپ بھی اٹھ کر آجائے تو اس جسم کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا کہ اس کی روح اپنے بنانے والے سے متصل ہے اور اس کا وصال یعنی اس کی اپنے خالق کے ساتھ دائمی ملاقات(موت) اس کی روح کا آزار نہیں بلکہ باعث مسرت و انبساط ہے ،جاؤ تم جاکر ڈراؤ زندہ لاشوں کو جو جیتے جی اپنے رب سے تعلق منقطع کر کے زندہ مُردوں کی صورت گھوم رہی ہیں، تم ان پاک جسموں کی مومن روحوں کو نہیں ڈراسکتے کہ جو جب سونے لگتے ہیں تو کہتے ہیں کہ .. "اے میرے رب تیرے ہی لئے میں جیتا اور مرتا ہوں" . وہ جب نیند سے بیدار ہوتے ہیں تو پھر اسی کو پکارتے ہیں کہ
"تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جس نے ہمیں موت کے بعد دوبارہ زندہ کیا اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے"
جن کو جب تکلیف پہنچتی ہے تو کہتے ہیں کہ
"ہم اللہ ہی کے لئے ہیں اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے"

یہ بھی پڑھیں:   کرونا نے عالمی معیشت کی بنیادیں ہلا دیں - قادر خان یوسف زئی

جو صبح سے رات اور رات سے صبح تک متعدد بار پکارتے ہیں ہر نوالہ ، ہر لقمہ ، ہر دانا اور ہر گھونٹ جو بھرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ
"اللہ کے نام کے ساتھ،نہیں کوئ شے نقصان پہنچا سکتی اس کے نام کی برکت سے ،زمین میں اور نہ آسمان میں،اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے"
موت جن کے لئے انتقال یعنی رب کے پاس منتقل ہو جانا ہے،ان کو تم"کورونا" سے ڈراتے ہو کہ جس سے ابھی تک میرے ارض پاک پر کوئی اللہ کے پاس منتقل نہیں ہوا، جو اپنے پیٹوں پہ بم باندھ کر ٹینکوں کے نیچے لیٹ جانے کی تاریخ رقم کرچکے، جو اگلی صفوں میں گولی نہیں گولہ کھا کر اپنے رب سے ملنے کے شوق کی تاریخ رکھتے ہیں تم اس ملت کو ڈراتے ہو تمہیں پتہ نہیں شاید کہ اقبال بھی کہہ گئے کہ
"اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر - خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی"
سو جان لو ہم تمہاری ترکیب سے نہیں اپنے رب کی گواہی کی ترکیب سے جان،جان آفرین کے سپرد کریں گے،تمہارے ذریعے موت لکھی ہے یا کسی اور بیماری یا گولی وگولے سے مقصد زندگی"شہادت"ہے جو ہم قول سے بھی دیں گے اور عمل سے بھی دیں گے انشاء اللہ"
میری اس ساری تقریر میں چونکہ وہ دعائیں بھی تھیں کہ جن کو پڑھ کر کوئ بیماری تو کیا زہر بھی اثر نہ کرے ، سو یہ تو بے چارہ , "کورونا" تھا جمعہ جمعہ آٹھ دن کی پیدائش ، بھاگ گیا دم دبا کے .....اور میں بلاتی رہی ...."سنو ناں، سنو ناں،کورونا"

ٹیگز