حکومت وفاق کی ہے یا وفاق المدارس کی - آصف محمود

کرونا وائرس کی وبا کے پیشِ نظر وفاق پاکستان نے تمام تعلیمی اداروں کی بندش کا فیصلہ کیا اور وفاق المدارس کو اس فیصلے کو قبول کرنے میں مزید دو دن لگ گئے۔

وفاق پاکستان کے اس واضح اور دوٹوک فیصلے کے باوجود مدارس کے طلبہ دو دن وفاق المدارس کے فیصلے کا انتظار کرتے رہے۔ سوال یہ ہے کہ ریاست کے اندر ریاست اور کسے کہتے ہیں؟

شام وزیر اعظم کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں تمام تعلیمی ادارے بند کرنے کا فیصلہ ہوا اور ایک گھنٹے کے اندر اندر تمام سرکاری اور نجی ادارے اس پر عمل پیرا ہو چکے تھے۔ سرکاری اداروں کے لیے نوٹی فیکیشن جاری ہو گیا اور نجی اداروں نے اپنے طلبہ کو ایس ایم ایس اور وٹس ایپ کے ذریعے اطلاع بھجوا دی کہ پانچ اپریل تک چھٹیاں ہوں گی۔ لیکن وفاق المدارس کو وفاق کا فیصلہ تسلیم کرنے میں دو دن لگ گئے؟

سوال یہ ہے کہ کیوں؟ وہ کون سے اہم امور تھے جن پر ان ایام میں غور و فکر فرمایا جاتا رہا؟ کیا وفاق المدارس کے طبی ماہرین کرونا وائرس کا سائنسی مطالعہ فرما کر تسلی کرنا چاہتے تھے وفاقی حکومت کا فیصلہ طبی نقطۂ نظر سے درست ہے یا غیر ضروری ہے؟ یا ان کا خیال تھا اگلی شام تک ان کے ماہرین کرونا وائرس کی ویکسین بنا کر وفاق کو بھجوا دیں گے اور پھر بچوں کو چھٹیاں کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی؟ وفاق کے واضح فیصلے کے بعد آخر وہ کیا حکمت تھی جس نے دو دن وفاق المدارس کو روکے رکھا؟

بظاہر اس کی ایک وجہ معلوم ہو رہی ہے۔ وفاق المدارس نے مدارس کے بچوں کو اور اپنے وابستگان کو یہ پیغام دیا ہے کہ ان کے معاملات میں فیصلہ کرنے کا حق وفاق کے پاس نہیں بلکہ وفاق المدارس کے پاس ہے۔ یہ وفاق کی رٹ کو ایک طرف رکھ کر وفاق المدارس کی رٹ قائم کرنے کی کوشش تھی جس میں مدارس کے بچوں کو دو دن انتظار کی سولی پر لٹکائے رکھا گیا۔ ایک ایسے عالم میں جب وبا پھیل رہی تھی، وفاق المدارس کے پیش نظر بچوں کی صحت اور سلامتی سے زیادہ اپنی رٹ کا تحفظ تھا۔ سوال یہ ہے کیا ایک جدید قومی ریاست ان رویوں کی متحمل ہو سکتی ہے؟

فی الوقت دو دن کی تاخیر سے ہی سہی چونکہ وفاقی حکومت کے فیصلے پر عمل ہو چکا ہے اس لیے وفاق المدارس کا یہ رویہ کہیں زیر بحث نہیں آیا لیکن سماجی مطالعے سے شغف رکھنے والے جانتے ہیں کہ اس رویے میں کتنی معنویت ہے۔ یہ رویے ایک طرز فکر کو جنم دیتے ہیں اور اس سے پھر حادثے جنم لیتے ہیں۔ حادثوں سے بچنا ہے تو ان رویوں پر گرفت کرنا ہو گی۔

مدارس دنیا بھر میں قائم ہیں۔ انڈونیشیا میں، غالبا، سب سے زیادہ دینی مدارس موجود ہیں۔ کیا یہ ممکن ہے انڈونیشیا کی حکومت ایک غیر معمولی وبا کے پیش نظر فوری طور پر تمام تعلیمی ادارے اور مدارس بند کرنے کا اعلان کرے اور مدارس کے مہتممین اپنے بچوں سے کہیں کہ حکوت کے فیصلے کو چولہے میں ڈالیے، اور ہمارے حکم کا انتظار کیجیے۔

ترکی، ایران سعودیہ ہر جگہ دینی مدارس موجود ہیں۔ کیا وہاں کوئی تصور بھی کر سکتا ہے وبا کے ہنگام ایک فیصلہ ہو اور مدارس کے مہتممین فوری طور پر اس پر عمل پیرا نہ ہوں؟ سندھ میں حکومت کو مہتممین مدارس سے باقاعدہ درخواست کرنا پڑی کہ بچوں کی صحت کے پیش نظر آپ بھی مدارس کو بند کر دیں۔ ذرا تصور کیجیے یہ فیصلہ کسی اور اسلامی ملک کی مرکزی حکومت نے کیا ہوتا تو کیا اس پر عمل درآمد کے لیے صوبائی حکومتوں کو اس طرح بے بسی سے درخواستیں کرنا پڑتیں؟

پاکستان میں ایک عجیب ہی معاملہ ہے۔ یہاں حکومت کے ہر فیصلے کو پاؤں کی ٹھوکر پر رکھنا کمال تصور کیا جاتا ہے اور اسے اکابرین کی عزیمت سے جوڑا جاتا ہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ اکابرین کی یہ عزیمت ہمیں بھارت میں کبھی نظر نہیں آئی۔ وہاں نریندر مودی ایک فیصلہ کریں تو کیا دارالعلوم دیوبند اور کیا جمعیت علمائے ہند، سب یوں سنتے ہیں اور اطاعت کرتے ہیں کہ سنگھ پریوار کے بالک بھی اس فرمانبرداری پر رشک کرتے ہوں گے۔ سوال یہ ہے کہ یہ اس عزیمت کے نشانے پر صرف پاکستان ہی کیوں ہوتا ہے؟ یہ عزیمت ہے یا تقسیم برصغیرکی کوئی نفسیاتی گرہ ہے جو کھلنے میں ہی نہیں آ رہی؟

جدید قومی ریاست کے اپنے کچھ تقاضے ہوتے ہیں۔ اس میں آئین کی حیثیت ایک عہد اجتماعی کی ہوتی ہے اور آئین کے تحت ایک نظم اجتماعی قائم ہوتا ہے۔ اس نظم اجتماعی کے فیصلے سے کسی کو اختلاف ہو تو اس کے اظہار اور داد رسی کے طریقے بھی آئین بھی موجود ہوتے ہیں۔ ایک نیشن سٹیٹ کے اندر کسی بھی سطح پر مزید ریاستیں قائم نہیں ہو سکتیں۔آئین کی عمل داری کا معاملہ پاکستان میں اگر چہ مثالی نہیں رہا لیکن اسے عذر بنا کر وفاق پاکستان کی جگہ وفاق المدارس کی رٹ قائم نہیں کی جا سکتی۔

اہل مذہب کا معاملہ یہ ہے کہ ان کی نمائندہ قوتیں اب داعی نہیں رہیں، وہ کشمکش اقتدار میں باقاعدہ حریف ہیں۔ چنانچہ اپنا ووٹ بنک قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اپنے وابستگان کے سامنے ہر حکومت کو آخری درجے میں دین دشمن ثابت کیا جائے اور پھر طے کر دیا جائے کہ مدارس کے باب میں حکومت کو مداخلت کی اجازت نہیں۔

سوال یہ ہے کہ ریاست کا آئینی تشخص اگر اسلامی ہے تو ریاست دینی معاملات میں فیصلہ سازی کیوں نہیں کر سکتی؟ ریاستی نظم کے تحت یہ الیکشن لڑتے ہیں، پارلیمان کی رکنیت لیتے ہیں، حکومتیں بناتے ہیں، وزارتیں لیتے ہیں، کمیٹیوں کی سربراہی اور اس سے جڑے مفادات اور مراعات سے فیض یاب ہوتے ہیں، اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن بنتے ہیں، رویت ہلال کمیٹی میں بیٹھ کر چاند چڑھاتے ہیں لیکن ریاست کو یہ اتنا سا حق بھی دینے کو تیار نہیں کہ وہ کرونا وائرس جیسی پریشان کن صورت حال میں مدارس کے بچوں کی زندگی کے پیش نظر چھٹیوں کا اعلان کر سکے۔

یہ وبا کے عالم میں دو دن صرف یہ ثابت کرنے میں لگا دیتے ہیں کہ فیصلے کا حق وفاق پاکستان کو نہیں وفاق المدارس کو ہے۔قانون اور سیاست کے ہاں یہ معمولی سی بات ہو گی، سماجیات کے طالب علم کے لیے یہ معمولی بات ہے۔یہ طرز عمل ایک فکری آتش فشاں ہے اور ہم اسے مسلسل نظر انداز کیے جا رہے ہیں۔

ایک قومی ریاست میں فیصلے وفاق کرتا ہے، وفاق المدارس نہیں۔ یہ بات وفاق کو بھی سمجھ لینی چاہیے اور وفاق المدارس کو بھی۔

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */