کورونا وائرس اور ہمارے ینگ ڈاکٹرز - ڈاکٹر محمد مشتاق

خبروں کے مطابق ینگ ڈاکٹرز پھر ہڑتال کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ، بقول ان کے، ان کو مناسب حفاظتی اقدامات کے بغیر ہی کورونا وائرس کے مریضوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری دی جارہی ہے۔

"حقوقِ انسانی" اور "شہری آزادی" کی بنیادوں پر اٹھائی گئی "طبی اخلاقیات" کا ایک اہم سوال یہ ہوتا ہے کہ کیا ڈاکٹر پر یہ لازم ہے کہ وہ مریض کا علاج کرے؟ کب یہ ڈیوٹی ڈاکٹر پر عائد ہوتی ہے؟ واضح رہے کہ جب تک دیکھ بھال کی ذمہ داری نہ ہو، ڈاکٹر کی "غفلت" کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ چنانچہ ان طبی اخلاقیات کی رو سے ڈاکٹر پر ابتداء میں یہ ذمہ داری نہیں ہے لیکن جب وہ یہ ذمہ داری اپنے اوپر لے لے (assume کرے، فقہی اصطلاح میں التزام کرے)، تو پھر اس پر لازم ہے کہ وہ مریض کا ہر ممکن خیال رکھے اور اس سلسلے میں غفلت نہ برتے۔ تاہم ہمارے ینگ ڈاکٹرز کا معاملہ اس سے مختلف ہے کیونکہ وہ تو سرکاری ملازم ہیں اور بطورِ سرکاری ملازم نوکری قبول کرکے وہ پہلے ہی یہ ذمہ داری اپنے اوپر لے چکے ہیں۔ اب وہ "ہڑتال" کا حق نہیں رکھے۔ چنانچہ ان کے ہڑتال کی وجہ سے اگر کسی کو نقصان پہنچتا ہے تو وہ اس کے ذمہ دار ہوں گے۔ ہاں، یہ ضروری ہے کہ ینگ ڈاکٹرز، اور تمام ڈاکٹرز، کو مناسب حفاظت فراہم کی جائے کیونکہ اس کے بغیر وہ چاہیں بھی تو دل جمعی کے ساتھ کام نہیں کرسکیں گے اور یوں ان کے ہونے سے مریض کو فائدہ کیا، الٹا نقصان ہی پہنچنے کا احتمال ہوگا۔

یہاں تک آگئے ہیں تو ایک اور پہلو پر بھی غور کرلیں کہ آپ کی ریاست کے پاس ایک قانون ہے جسے وہ کسی بھی وقت اپنی زنبیل سے نکال پر activate کرسکتی ہے اور وہ ہے جبری ڈیوٹی کا قانون۔ اس قانون کو لاگو کیا گیا، اور مجھے خدشہ ہے کہ جلد ہی کیا جائے گا، تو پھر آپ کی مرضی ہو یا نہ ہو، ڈیوٹی دینی پڑے گی۔
لیکن وہ میرے حقوق، میری آزادی؟ کون سے حقوق، کون سی آزادی؟ یہ باتیں ڈرائنگ روم میں کافی پیتے ہوئے اچھی لگتی ہیں۔ اس وقت ہم حالتِ جنگ میں ہیں۔ بھاڑ میں جائیں حقوق اور آزادی کے تصورات۔ معاشرہ اور ریاست زیادہ اہم ہیں۔ کہاں ہیں ہمارے شوقیہ لبرل دوست اور میرا جسم، میری مرضی والی آنٹیاں؟

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد میں شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل ہیں، اس سے قبل شعبۂ قانون کے سربراہ تھے۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */