کورونا وائرس کا چیلنج لبرلزم کےلیے! - ڈاکٹر محمد مشتاق

مذہب کےلیے کورونا نے کیا چیلنج پیش کیا ہے؟ اس پر کافی بحث ہوچکی اور یہ بات واضح ہوچکی کہ جسے ہمارے لال بجھکڑ اپنے تئیں مذہب کےلیے چیلنج سمجھتے ہیں وہ چیلنج مذہب کےلیے نہیں بلکہ مذہب کے متعلق ایک بے بنیاد تصور کےلیے ہے؛ ایک ایسے تصور کےلیے جو مذہب نے پیش ہی نہیں کیا۔ مثال کے طور پر دوا ، علاج، تدبیر سے مذہب نے نہ صرف یہ کہ روکا نہیں بلکہ اس کا حکم بھی دیا ہے۔ اسی طرح مذہب نے خدا کو پکارنے کو کسی خاص جگہ یا وقت کے ساتھ مخصوص کیا ہی نہیں بلکہ اس کا تو دعوی ہی یہ ہے کہ:
دل کے آئینے میں ہے تصویرِ یار - جب ذرا گردن جھکائی ، دیکھ لی!

ان پہلوؤں پر اچھی خاصی گفتگو ہوچکی۔ اب ذرا دیکھتے ہیں کہ کورونا وائرس نے لبرلزم کےلیے کیا چیلنجز پیدا کیے ہیں اور ہمارے لبرل دوست، اگر وہ واقعی شوقیہ نہیں بلکہ حقیقی لبرل ہیں، تو وہ ان چیلنجز کے متعلق کیا راے رکھتے ہیں؟ کیا ان چیلنجز کے بعد وہ لبرلزم سے توبہ تائب ہو کر "مشرف بہ کوئی اور ازم " ہوجائیں گے یا وہ لبرلزم کےلیے کوئی عذرخواہی پیش کرنے کو ترجیح دیں گے؟ ان چیلنجز میں ایک بڑا چیلنج یہ ہے کہ کورونا وائرس نے فرد کی آزادی کے تصور کو یکسر ختم کرکے رکھ دیا ہے اور فرد کی مرضی، اس کی آزادی، اس کے حق پر معاشرے اور ریاست کے حق کو قطعی فوقیت دے دی ہے۔ اس فوقیت کے کئی مظاہر ہیں۔
مثلاً کون سا فرد کہاں جانا چاہتا ہے، یہ اس کی مرضی نہیں ہوگی، بلکہ ہم دیکھیں گے کہ کیا اس کے جانے میں ہمارا نقصان تو نہیں ہوگا؟ چنانچہ ہم ضروری سمجھیں تو اس کی مرضی کے بغیر اسے "قرنطینہ" کے نام پر قید کرسکتے ہیں۔ وہ چیخے،چلائے، اپنے "شہری حقوق " اور "شخصی آزادی" کے واسطے دے، لیکن ہم نہیں سنیں گے۔
یہ بات صرف ملک کے اندر ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کی ہی نہیں ہے، نہ ہی کسی دوسرے ملک کے شہری کو اپنے ملک میں داخلے کی اجازت نہ دینے کی حد تک ہے، بلکہ اپنے ہی شہریوں کو اپنے ہی ملک میں، اپنے ہی گھر میں ، اپنے ہی لوگوں میں آنے کی اجازت ہم تب تک نہیں دیں گے جب تک ہم مطمئن نہ ہوں کہ اس سے ہمیں خطرہ تو نہیں ہے!

یہ بھی پڑھیں:   لوگوں نے پوچھا ہے - مفتی منیب الرحمن

اور ہاں، ہم صرف یہی نہیں دیکھیں گے کہ ہمیں اس سے خطرہ ہے کہ نہیں ، بلکہ ہم ہی یہ اختیار رکھتے ہیں کہ اس کے بارے میں فیصلہ کریں کہ اسے خطرہ ہے کہ نہیں ہے! "میرا جسم، میری مرضی" کی بات کہاں رہ گئی؟ اب تو تمھارا جسم، ہماری مرضی کا وقت ہے۔ چنانچہ تم چاہو یا نہ چاہو، ہم تمھیں تمھارے مفاد کی خاطر قرنطینہ میں رکھیں گے، تمھیں تمھاری مرضی کے خلاف کھانا دیں گے، تمھیں تمھاری مرضی کے خلاف دوا دیں گے، تمھاری مرضی کے خلاف تمھارے ٹسٹ کریں گے، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم تمھیں قیدِ تنہائی کی سزا دیں، اور یہ سب کچھ ہم تمھارے مفاد میں کریں گے کیونکہ تم اپنے مفاد کا درست فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہو، تم جان ہی نہیں سکتے کہ تمھارے حق میں کیا بہتر ہے۔ جیسے ہم معاشرے کےلیے خطرے کا باعث بننے والے مجرموں کو قید کرتے ہیں، جیسے ہم معاشرے کا سکون برباد کرنے والے پاگلوں کو پاگل خانے میں ڈالتے ہیں، ایسے ہی معاشرے میں وائرس پھیلانے والے فرد کو ہم معاشرے سے کاٹ دیں گے۔ وہ جو ہمیں کہا جاتا تھا کہ مریض کی مرضی کے بغیر اس کے ٹسٹ نہیں کیے جاسکتے، مریض کی مرضی کے بغیر اس کا علاج نہیں کیا جاسکتا، مریض کی مرضی کے بغیر اس کے جسم کے ساتھ کچھ بھی نہیں کیا جاسکتا،

مریض اپنی زندگی اور اپنے جسم کے متعلق فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے، اور کوئی دوسرا اس کے مفاد کا فیصلہ کرنے کا مجاز نہیں ہے، وہ سارا کچھ تو محض افسانہ ثابت ہوگیا۔ اب یہ سارا کچھ کیا جاسکتا ہے ، مریض کی مرضی ہو یا نہ ہو، بلکہ اس کی مرضی کی ایسی کی تیسی! اچھا، اور وہ جو ہمیں کہا جاتا تھا کہ جمہوریت سب سے اعلی و ارفع نظام ہے، آمریت بری چیز ہے، جبر ناجائز ہے، وہ ساری باتیں بھی تو محض کہانیاں ہی ثابت ہوگئیں کیونکہ چین اور جنوبی کوریا نے دکھا دیا کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کا بہترین طریقہ جبر اور آمریت ہے۔ لوگوں کو ٹیں ٹیں نہ کرنے دو، ریاستی طاقت کا بھرپور استعمال کرو، کسی پر ذرا بھی شبہ ہو کہ وہ وائرس زدہ ہے تو زبردستی اسے الگ تھلگ کرو، بعد میں ثابت ہوا کہ اسے وائرس نہیں تھا تو کوئی مسئلہ نہیں، اسے فارغ کردو، لیکن جب تک مطمئن نہ ہو اسے ہلنے نہ دو، پوری ریاستی مشینری کو جنگی بنیادوں پر وائرس کے خلاف متحرک کردو، تبھی تم اطمینان کی سانس لے کر کہہ سکو گے کہ چین اور جنوبی کوریا کی طرح ہم نے بھی وائرس پر قابو پالیا ہے! اس سب کچھ میں شخصی آزادی اور انسانی حقوق پامال ہوتے ہوں تو ہوتے رہیں۔ انسان ہی نہیں ہوگا تو اس کے حقوق کا کیا سوال؟

یہ بھی پڑھیں:   کرونا وائرس ، پاکستان نے دنیاسے کیا سیکھا - شیخ خالد زاہد

چند انسانوں پر سختی کرکے ، ان پر جبر کرکے، ان کی آزادی سلب کرکے، ان کے حقوق پامال کرکے، ہم باقی انسانوں کو بچالیں گےاور ان کی زندگیوں کو محفوظ اور خوبصورت بنالیں گے۔ اس وقت مجبوری کی حالت ہے۔ ہمیں ایمرجنسی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ حالات وہ نہیں رہے کہ ہم شخصی آزادی کی لگژری افورڈ کرسکیں۔ بوقتِ ضرورت، دوسروں کے مفاد میں ، ان کی مرضی کے بغیر فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔ ہم حالتِ جنگ میں ہیں۔ وغیرہ وغیرہ ۔ اچھا ؟ لیکن یہ سب مان لوں تو میں لبرل کہاں بچتا ہوں؟ لبرل عقیدے کے مطابق تو یہ سب کچھ ناجائز ہے۔ فرد ہی یہ فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے کہ اس کے حق میں کیا بہتر ہے اور کیا نہیں۔ کسی اور کے پاس یہ اختیار نہیں۔ ریاست تو شرِّ محض ہے۔ لبرلزم نے ریاست کو صرف مجبوری کی حد تک مانا تھا۔ لیکن آپ نے تو مجبوری کا دائرہ اتنا پھیلا دیا ہے کہ فرد کی آزادی بے معنی ہوگئی ہے۔ فرد، جو لبرلزم کے عقیدے کے مطابق ایک انتہائی خود غرض اکائی ہے، کیوں یہ سب کچھ برداشت کرے ؟

پس نوشت: نام نہاد مذہبی لبرلز سے گزارش ہے کہ اس پوسٹ کے جواب میں مذہب سے استدلال نہ کریں بلکہ لبرلزم کے اصول پڑھ کر جواب دینے کی کوشش کریں۔ جی ہاں، پڑھ کر۔

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد میں شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل ہیں، اس سے قبل شعبۂ قانون کے سربراہ تھے۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.