افغانستان - آصف خورشید رانا

دنیا بھر میں کرونا وائرس کی وباء سے ہونے والی اموات میں خطرناک حد تک اضافہ ہورہا ہے۔چین سے شروع ہونے والی اس وبا ء نے دنیا کے کئی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اس وقت یورپ، امریکہ، سعودی عرب اور ایران سمیت بیسیوں ممالک اس وائرس سے لڑنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہے ہیں۔

پاکستان بھی مختلف سطح پر احتیاطی تدابیر اختیار کر رہا ہے۔ تعلیمی اداروں میں تعطیلات، تمام قسم کے بڑے مذہبی، سیاسی اورمعاشرتی اجتماعات پر پابندی لگائی جا چکی ہے۔ دنیا اس وائرس سے نبٹنے کے لیے لاک ڈاؤن کی صورتحال اختیار کر رہی ہے۔ دنیا بھر کے طبی ماہرین اس کوشش میں مصروف ہیں کہ کسی طرح سے اس وائرس کو روکنے اور اس کا شکار ہونے والوں کو بچایا جا سکے۔یقینی طور پریہ سلسلہ خطرناک رخ اختیار کر رہا ہے اور اس کا پھیلاؤ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔تاہم یہ امید کی جا سکتی ہے کہ یہ وائرس قابو کر لیا جائے گا اور دنیا کو اس سے نجات دلانے کی کوششیں کامیاب ہو جائیں گی۔ البتہ گزشتہ انیس سال سے جاری افغان جنگ کے ختم ہونے کی امید نظر نہیں آرہی۔جنگ کا یہ وہ وائرس ہے جو کسی صورت ختم نہیں ہو رہا۔ کرونا وائرس سے پہلے علاقائی ممالک کی خصوصی کوششوں کی بدولت امریکہ طالبان مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی تھی اور دونوں گروہوں کے درمیان قیام امن کے لیے مختلف نکات پر اتفاق رائے کر لیا گیا تھا۔ امن معاہدے میں پہلی دراڑ مبینہ افغان صدر اشرف غنی کے اس بیان سے پڑی جس میں طالبان قیدیوں کو رہا کرنے سے انکار کیا گیا تھا .

تاہم طالبان کی طرف سے واضح پیغام دیا گیا کہ اس اقدام سے مقامی حکومت سے مذاکرات نہیں کیے جا سکیں گے جس کے بعد اشرف غنی حکومت کو تسلیم کرنا پڑا اور کہا گیا کہ طالبان کے ساتھ معاہدے پر عملدرآمد کے لیے نیک نیتی کی بنیاد پر قیدیوں کی رہائی کی شرط کو تسلیم کرتے ہیں۔ افغانستان میں اگرچہ طالبان کی جانب سے غیر ملکی افواج پر حملوں کا سلسلہ بند ہو چکا ہے تاہم افغان نیشنل آرمی کے خلاف ان کی کارروائیاں جاری ہیں دوسری جانب افغان سیکورٹی اداروں کی جانب سے بھی طالبان کے خلاف حملوں کا سلسلہ جاری ہے جس سے مستقبل کے منظرنامے کی تصویر واضح ہوسکتی ہے کہ غیر ملکی افواج کے انخلاء کے بعد افغانستان میں دوبارہ اقتدار کی کرسی کے لیے خانہ جنگی کا سلسلہ پھر سے برے پیمانے پر شروع ہو جائے گا۔ اس وقت افغانستان دو صدور کے تحت کام کر رہا ہے۔صدر اشرف غنی جنہیں عالمی اسٹیبلشمنٹ خصوصا ً امریکہ کی مکمل حمایت حاصل ہے اور افغان امور کے لیے امریکی ایلچی زلمے خلیل اشرف غنی کے لیے ماحول سازگار بنانے اور انہیں صدر تسلیم کرنے کے لیے مختلف مقامی اہم رہنماؤں سے مذاکرات کررہے ہیں۔

زلمے خلیل زاد نے گزشتہ دنوں سابق افغان صدر اور اہم رہنما جنرل دوستم کوملٹری مارشل اور چیف آف آرمی سٹاف بننے کی پیشکش کی تھی جس کے بدلے میں اشرف غنی کو صدر تسلیم کرنا تھا تاہم جنرل دوستم نے اس پیشکش کو ٹھکراتے ہوئے کہا ہے کہ اشرف غنی کے ذریعے ایک افغان قوم کو ایک نئے جال میں پھنسانے کی تیاری کی جارہی ہے۔جنرل دوستم کے اس انکار سے کابل میں سیاسی بحران شدید ہو چکا ہے۔دوسری جانب عبداللہ عبداللہ ہیں جن کومقامی سطح پر اور مقامی وار لارڈز کی حمایت حاصل ہے۔ دونوں صدور کی ضد اور کسی ایک صدر پر اتفاق رائے نہ ہونا افغانستان میں ایک نئے سیاسی بحران کو جنم دے گا۔ صدر اشرف غنی پشتون قبائل کا پس منظر رکھتے ہیں۔پاکستان کے پشتون علاقوں میں بعض عناصر کی جانب سے ”لرو بر“ کا نعرہ لگایا۔یہ نعرہ جہاں پاکستان کی یکجہتی اور وحدت کے لیے نقصان دہ تھا وہاں افغانستان کے غیر پشتونوں کے لیے بھی خطرے کی علامت تھا۔ ان عناصر کی جانب سے افغان صدر اشرف غنی کی غیر مشروط اور بلا جواز حمایت سے غیر پشتون طبقے میں خطرہ محسوس کیا گیا جس کے باعث اشرف غنی کی حکومت کی مقبولیت میں بھی کمی آتی گئی۔

یہاں یہ ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ افغانستان میں پشتون طبقے کی اکثریت موجود ہے تاہم مجموعی لحاظ سے غیر پشتونوں کا علاقہ ذیادہ بنتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ”لروبر“ کے نعرے نے یہاں بھی ہیجان پیدا کر دیا اور غیر پشتون اس نعرے کو اپنے لیے خطرہ محسوس کرنے لگے۔ اشرف غنی کی حکومت کابل سے باہر بہت کم علاقوں میں ہے حتی کہ کابل میں بھی بعض مقاماقت پر اس کی عملداری بہت کمزور ہے۔پشتون علاقوں کی اکثریت میں افغان قوم طالبان کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے تاہم بین الاقوامی فورسز کی حمایت اشرف غنی کی کمزور حکومت کو سہار ا دے رہی تھیں۔ اب امریکہ طالبان معاہدہ کے بعد غیر ملکی فورسز کا انخلاء لکھا جا چکا ہے جس پر ایک طرف اشرف غنی پریشان نظر آرہے ہیں تو دوسری غیر پشتونوں کو بھی یہ خطرہ ہے کہ اشرف غنی حکومت ”لروبر“ کے نعرے لگانے والے شرپسند عناصر کے ساتھ مل کر ان کی قومیت کے خلاف کوئی نیا محاذ نہ کھڑا کردیں جس کی وجہ سے انہیں اپنی شناخت کا مسئلہ پیدا ہو جائے۔ افغانستان میں غیر ملکی فورسز کے سہاروں پر کچھ عرصہ تو کوئی حکومت بنا سکتا ہے تاہم مسقتل بنیادوں پر مقامی وارلارڈز اور سیاسی شخصیات کی حمایت کے بغیر کوئی بھی حکومت سیاسی استحکام حاصل نہیں کر سکتی۔
افغانستان میں اگر سیاسی استحکام نہیں ہوتا تو پھر حکومت کا وجود محض ایک کابل تک محدود ہو جاتا ہے اور اس کی عملداری ختم ہو جاتی ہے جس کے بعد مختلف علاقوں میں وارلارڈز کا راج نظر آتا ہے۔موجودہ سورتحال میں اشرف غنی حکومت بے یقینی سے دوچار نظر آرہی ہے جس کا واضح نتیجہ خانہ جنگی کی صورت میں نظر آرہا ہے ایسی صورت میں عالمی اسٹیبلشمنٹ کے لیے بھی اشرف غنی کی حمایت جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ خاص طور پر جب کہ وہ اس خطے سے انخلاء کا فیصلہ کر چکے ہوں۔

طالبان امریکہ معاہدہ ایک ایسی مثبت پیش رفت ہے جو یقینی طور پر صرف افغانستان میں ہی نہیں پورے خطے کے امن کے لیے امید کی کرن ہے تاہم اشرف غنی حکومت اپنا مستقبل دیکھتے ہوئے اس میں مختلف قسم کی رکاوٹیں ڈالنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ایک طرف تو امن معاہدے کے مطابق طالبان قیدیوں کی رہائی میں تاخیری حربے استعمال کیے جارہے ہیں تو دوسری طرف طالبان کے خلاف افغان نیشنل آرمی کی کارروائیوں سے بھی امن معاہدہ بری طرح متاثر ہو سکتا ہے۔ گزشتہ دنوں ایک طرف تو افغان فورسز کی جانب سے طالبان کے خلاف آپریشن کے دعوے کیے جارہے ہیں تو دوسری جانب افغان حکام نے تسلیم کیا ہے کہ ان کی چیک پوسٹ پر ایک اہلکار طالبان گروہ میں شامل ہو گیا جس کے بعد اس نے اپنے ہی اہلکاروں کو فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ایسی صورت میں جبکہ پشتون اکثریت طالبان کے ساتھ مل رہی ہے اور مختلف علاقوں میں ان کی عملداری پر افغان قوم کا اعتماد بڑھ رہا ہے،طالبان قیدیوں کی رہائی کسی نئے المیہ کو جنم دے سکتی ہے۔ افغان حکومت نے گزشتہ روز 1500طالبان قیدیوں کی رہائی میں تاخیر کر دی جس کے باعث طالبان میں غم و غصہ پایا جا رہا ہے اور خدشہ ہے کہ یہ عمل افغان انٹرا ڈائیلاگ کے عمل کو سست کر دے گا یا پھر ختم بھی کر سکتا ہے جس کا نتیجہ یقینی طور پر امن معاہدے کے خاتمے کی شکل میں سامنے آسکتا ہے۔

امن معاہدے کی تکمیل کے لیے یقینی طور پر کچھ وقت درکار ہو گا تاہم اگر تمام مراحل خوش اسلوبی کے ساتھ مکمل ہو جاتے ہیں تو اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کی لڑائی کس نہج پر پہنچے گی۔یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب سوچ کر پھر سے وہی دورسامنے آجاتا ہے جب کابل پر حکومت کرنے کے لیے مختلف گروہ ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑے تھے۔ افغان قوم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب کوئی بیرونی قوت افغانستان پر حملہ آور ہوتی ہے تو یہ سب اکٹھے ہو کر اس پر جھپٹ پڑتے ہیں تاہم جب بیرونی قوتیں چلی جاتی ہیں تو ان کے ہتھیار آپس میں ہی ایک دوسرے کے خلاف اٹھ جاتے ہیں۔ طالبان کی قوت کو دنیا تسلیم کر چکی ہے اوت تاریخی اعتبار سے بھی طالبان ہی تھے جنہوں نے افغانستان سے وارلارڈز کا خاتمہ کرکے انہیں کابل حکومت کا فرمانبردار بنایا تھا۔ افغان نیشنل آرمی کی تربیت اس حد تک نہیں ہو سکی کہ وہ مقامی خانہ جنگی پر قابو پا سکے۔ اس لیے علاقائی طاقتوں بالخصوص چین، روس، پاکستان اور ایران کو اس پر غورو خوض کرنا چاہیے کہ مستقبل میں جس خانہ جنگی کا تدارک کیسے ہو سکتا ہے۔ اگر اس خانہ جنگی کو نہ روکا گیا تو یہ ممالک بھی اس کے اثرات سے بچ نہیں سکیں گے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com