ٹرینگ ، ٹرینگ ، فون کی گھنٹی بجتی ہے - صائمہ عبدالواحد

ریسیور اٹھاتے ہی ایک مرد بھاری آواز میں ہیلو کرتا ہے فون کرنے والی خاتون سلام کرتی ہیں اور ریسیور اٹھانے والے شخص سے مخاطب ہوتی ہیں ، میں آج کی عورت ہوں، سنا ہے آپ بیک وقت مرد و عورت کے حقوق کے علمبردار ہیں۔

رائٹر: جی! آپ نے بالکل ٹھیک سنا ہے .. آج کی عورت : سنا ہے آپ رائٹر بھی ہیں. ،، رائٹر: جی جی آپ نے بالکل ٹھیک سنا ہے۔
آج کی عورت: اوہ! اس کا مطلب ہے کہ آپ میرے مسائل لازماً دنیا کے مردوں تک پہنچائیں گے۔رائٹر : جی خاتون ! ہم اپنے قلم کا پورا حق ادا کریں گے آپ فرمائیے! آپ کیا کہنا چاہتی ہیں ۔ آج کی عورت : بات شروع کرنے سے پہلے آپ کو یہ وعدہ کرنا ہوگا کہ آپ تحمل سے میری بات سنیں گے ۔رائٹر : جی جی خاتون میں جانتا ہوں اگر عورت بولنا شروع کردے تو اسے کون چپ کروا سکتا ہے۔ آج کی عورت : اس کا مطلب ہے آپ میری بات تسلی سے سنیں گے بات شروع کرنے سے پہلے میں آپ کو یہ بتانا چاہتی ہوں کہ میں مردوں کے خلاف نہیں ہوں اور نہ ہی میں مرد کی قوّامیت کے خلاف ہوں بنیادی طور پر میں کسی ایک مرد کو خواتین کے حقوق کا قاتل بھی نہیں سمجھتی۔ میں یہ دیکھتی ہوں کہ بعض اوقات عورت مرد کے ساتھ مل کر دوسری عورت کے حقوق کی دشمن بن جاتی ہے میں آپ کو الجھانا نہیں چاہتی مگر میں کیا کروں میں خود ڈسٹرب ہوں مجھے سمجھ نہیں آتا کہ جو حقوق مجھے اللہ اور اس کے رسول نے دیے ہیں وہ مجھے ایک اسلامی معاشرے میں کیوں نہیں مل رہے۔

جب میں پیدا ہوتی ہوں اگر میں دو بیٹوں کے بعد پیدا ہوئی تو خیر ہے میرے آنے پر خوشی بھی منائی جائیگی مجھے ہاتھوں ہاتھ لیا جائے گا لیکن اگر میں کسی گھر میں چوتھی یا پانچویں بیٹی بن کر پیدا ہوگئی تو سمجھ لیجئے میرے نصیب وہیں سے پھوٹ گئے مجھے منحوس، باپ پر بوجھ اور نہ جانے کون کون سے القابات سے نوازا جائیگا بلکہ مجھے ہی نہیں مجھ سمجھ میری تمام بہنوں کو طعنے ملیں گے اور یہ طعنے دینے والیاں کوئی اور نہیں بلکہ میری اپنی پھوپھی دادی اور میری دوسری رشتے دار عورت ہی ہونگی ۔میں پڑھائی میں بہت اچھی ہوں لیکن مجھے آگے پڑھنے کا موقع نہیں دیا جاتا میرے باپ مجھے آگے پڑھانا چاہتے ہیں مگر میرے مطابق رشتہ نہ ملنے پر پریشان رہتے ہیں ۔ میں پڑھ لکھ کر اچھی نوکری کرناچاہتی ہوں مگر اس معاشرے کے وحشی مرد میرے ماں باپ کو خوفزدہ رکھتے ہیں ۔ ایسا بھی ہوتا ہے لڑکی اگر پڑھی لکھی ہو اور جاب پیشہ ہو تو سسرال والوں کے لالچ بڑھ جاتی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ اپنے نکھٹو اور آوارہ لڑکے کے لئے ایک کماؤ بیوی لے آئیں اور پھر آرام سے اس کی کمائی کھائیں۔ اگر میں بہت زیادہ پڑھی لکھی ہوں نوکری پیشہ ہوں تو میرے شوہر، میرے سسرال کو میرے کردار پر شک ہونے لگتا ہے.

بعض اوقات مجھ پر بدکردار ہونے کا الزام لگا کر مجھے گھر سے نکال دیا جاتا ہے میں اپنی حدود میں رہ کر دنیا میں جینا چاہتی ہوں لیکن کیا کروں یہ مردوں کا معاشرہ مجھے جینے ہی نہیں دیتا۔ میرا شوہر مجھے ہر وقت طلاق کی دھمکیاں دیتا رہتا ہے مجھ سے میرے بچے چھین کر مجھے میری مامتا سے دور کر دیتا ہےمجھے تڑپاتا ہے۔ مجھے طلاق دے کرمیرے ماں باپ کی عزت کو اپنے پیروں تلے روند دینا چاہتا ہے ۔ میں تمام شوہروں کو برا نہیں کہتی۔ میرا شوہر بہت اچھا ہوتا ہے میرے اور میری اولاد کے ناز نخرے اٹھاتا ہے کہیں میں اپنی اولاد کی خاطر رسوا ہوتی ہوں کہیں اپنے بھائیوں کے ہاتھوں رسوا ہوتی ہوں اگر کسی کی دوسری بیوی ہوں تو پھر میرا وراثت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا میرے شوہر کے مرنے کے بعد اس کے پہلے بچے ساری جائیداد پر قابض ہو جاتے ہیں جبکہ اللہ نے میرا حصہ مقرر کیا ہے۔ اگر میں کسی وڈیرے یا جاگیردار کی بہن ہوں تو میرا جاگیردار بھائی میری شادی قرآن سے کروادیگا مجھے کمرے میں بند رکھا جائے گا ۔ کیونکہ میرے بھائیوں کو ڈر ہے کہ میری شادی کے بعد میرے شوہر میرے بچے میرے باپ کی جائیداد میں حصہ دار بن جائیں گے جب کہ اللہ اور اس کے رسول نے مجھے اس وراثت میں حصہ دار ٹھہرایا ہے۔

آج میں دیکھتی ہوں کہ فیمینزم کا نعرہ لگانے والیاں میرے بنیادی مسائل سے نا آشنا ہیں۔ میں گھروں میں کام کرنے والی ماسی ہوں میرے چھ سے آٹھ بچے ہیں میرا شوہر یا تو کماتا ہی نہیں یا پھر اس کی کمائی میں ہمارا گزارا نہیں ہوتا۔ میں اپنے بچوں کو بھوک سے بچانے کے لئے کام کرتی ہوں میں دیکھا جائے تو ہر شعبے سے وابستہ ہوں، میں نرس ہوں، بس میں کنڈکٹر ہوں، میں ڈاکٹر ہوں، میں ایک آفس میں کام کرتی ہوں، میں ٹیچر ہوں ، میں پروفیسر ہوں، میں پائلٹ ہوں، پولیس اور فوج کے شعبے سے بھی وابستہ ہوں غرض میں صبح نکلتی شام اور کبھی کبھار رات کو سڑکوں پر دھکے کھاتی گھر پہنچتی ہوں اس معاشرے کے وحشی مرد میری اس مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں مجھے زیادتی کا نشانہ بناتے ہیں۔ مجھ پر ہر روز تشدد کرتے ہیں میری غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میری پھول سی بچی کو مسل کر رکھ دیتے ہیں۔ میں حوا کی بیٹی کسی جگہ محفوظ نہیں۔ میں فیمنزم کا نعرہ لگانے والیوں سے کہنا چاہتی ہوں کہ میں یورپ کی عورت کی طرح آزادی نہیں چاہتی مجھے یورپ کی عورت کی طرح حقوق نہیں چاہیئے، میں مردوں کے مد مقابل آنا نہیں چاہتی مجھے عزت کی روٹی اور اپنے گھر کا سکون چاہیے ۔

جہاں میں اپنے بچوں کو اپنے پروں میں ڈھانک کر انہیں اس معاشرے کے وحشی درندوں سے بچا سکوں۔ان کی صحیح تربیت کرکے کے انہیں معاشرے کا بہترین مرد بنا سکوں ایسا مرد مرد جو عورت کو عزت دینا جانے۔ میرا خیال ہے رائیٹر صاحب میں آپ کا زیادہ وقت لے رہی ہوں مگر کیا کروں ابھی تو میری بات شروع ہوئی ہے ۔رائٹر: بہن فرمائیے حقیقت یہ ہے کہ میں بھی سننا چاہتا ہوں کہ آج کی عورت کیا کہنا چاہتی ہے۔آج کی عورت : سچ پوچھیے تو آپ کے منہ سے بہن کا لفظ سن کر بہت اچھا لگا بہن اور بیٹی کے الفاظ ہمارے لئے وقار کا باعث ہیں میں آپ کو بتلاؤں آدھےلباس پہن کر پھرنے والیوں کو میں عورت نہیں سمجھتی میں تو ان کو آج کی عورت کے لیے ذلت کا سامان سمجھتی ہوں۔ ہم عورتوں کا وقار اسی لئے بلند نہیں ہوتا کیونکہ عورتیں روپوں کی خاطر کھلونا بنتی ہیں تمام عورتوں کی عزت مٹی میں ملا دیتی ہیں۔ لیکن یہ مردوں کا معاشرہ ہے کبھی مرد عورت کو کھلونا بنا دیتا ہے اور اسے جیسے چاہے استعمال کرتا ہے اسمیں تو ان عورتوں کا کوئی قصور نہیں ہوتا۔میں عورتوں کے ٹی وی اور میڈیا پر کام کرنے کے خلاف نہیں ہوں اور نہ ہی میں عورت کے گھر سے باہر کام کرنے کے خلاف ہوں.

میں چاہتی ہوں کہ عورت اپنی عزت اور وقار کو قائم رکھے، اپنے علم وہنر کا استعمال کرے مگر اپنے دائرہ کار میں رہ کر ۔میں یہ چاہتی ہوں کہ عورت کے سپرد وہ کام کئے جائیں جن کو کرتے ہوئے ان کی خانگی زندگی اور ان کے بچے متاثر نہ ہوں ۔ میں فیمنزم کا نعرہ لگانے والیوں سے کہنا چاہتی ہوں آج ہر شعبے میں عورت کو گھسیٹا جا رہا ہے جبکہ عورت و مرد کے کام کے دائرہ کار الگ ہیں ان کی ذہنی اور جسمانی صلاحیتیں بھی الگ ہیں عورت فل ٹائم جاب نہیں کرسکتی اور نہ ہی نائٹ ڈیوٹی کرنا اس کے لیے آسان ہے تو کیوں نہ اس حوالے سے کام کیا جائے کہ عورتیں جن شعبوں میں باآسانی اپنے فرائض سر انجام دے سکتی ہیں انہیں شعبوں سے عورتوں کو منسلک کیا جائے۔ ہر شعبے میں عورت کو نہ گھسیٹا جائے۔ میرے نزدیک فیمنزم کا نعرہ لگانے والی عورتیں بھی مردوں کے ہاتھ کھلونا ہیں یہ دراصل عورت کے حقوق کی علمبردار نہیں بلکہ کیپیٹلزم کی شاخ ہے یہ عورت کو گھر سے باہر نکال کر کاروبار کو چمکانا چاہتی ہیں۔اگر عورت مرد ایک ہی دائرے میں کام کریں گے، اگر عورت مرد کے برابر کمائےگی، اس کے شانہ بشانہ قدم سے قدم ملا کر چلے گی، تو پھر کیوں کر مرد کو قوام سمجھے گی، کیسے اسلامی معاشرہ وقوع پذیر ہوگا۔

اسلام کا مطلوب معاشرہ عورت کو اس کے بنیادی حقوق فراہم کر سکتا ہے اس کے لئے رائٹر صاحب ضروری ہے کہ ہرشعبے میں مردوں کے ساتھ عورتوں کو نہ گھسیٹا جائے۔ جیسے رائٹر ہونا، لکھنے لکھانے کا کام، یہ کام عورتیں بآسانی گھر بیٹھے کر سکتی ہیں۔
رائٹر :کھنکارتے ہوئے ۔ آج کی عورت: نہ نہ رائٹر صاحب ! میں آپ کے رائٹر ہونے کے خلاف نہیں ہوں یہ تو ذہنی صلاحیتیں ہیں جو مرد و عورت میں بیک وقت ہو سکتی ہیں۔مگر اس میدان میں عورتیں بھی بہترین خدمات سرانجام دے سکتی ہیں، بلکہ دے رہی ہیں۔میں سمجھتی ہوں کہ اسلام کی آغوش میں میرے لیے رحمت اور مرد کا ساتھ ہی میرے تحفظ کا ضامن ہے۔ میں ان سے چھٹکارا حاصل نہیں کرنا چاہتی لیکن جہاں مرد اپنے فرائض سے کوتاہی برت رہے ہیں ان تک اپنی بات ضرور پہنچانا چاہتی ہوں۔میں آج کی عورت مردوں کو بتانا چاہتی ہوں کہ میں اس کے لیے رحمت ہوں اس کے وجود کا حصہ ہوں ایک بیٹی کی صورت میں، میں اس کی جنت ہوں ایک ماں کی صورت میں، میں اس کی بہترین رفیق اور ساتھی ہوں ایک بیوی کی صورت میں ، میں اس کے بچپن کی دوست ہوں ایک بہن کی صورت میں، وہ میرا ایک حق ادا کرنے کے لیے آگے تو بڑھتا ہے تو میں خود ہی اس کے سارے حق ادا کر دیتی ہوں۔

میرے وجود میں تخلیق کائنات نے سارے رنگ بکھیر دیے ہیں۔ ایک مرد کا مکان گھر نہیں بن سکتا جب تک ایک عورت اسےگھر نہ بنائے تو پھر ایک بستی، ایک شہر، ایک ملک کے مکانات میرے بغیر کیسے گھروں میں تبدیل ہو سکتے ہیں جب تک کہ میں اس میں اپنی وفا اور محبت کے رنگ نہ بھر دوں ۔میں ان رنگوں کو بھرنے کا موقع چاہتی ہوں میں اپنے ملک، اپنےشہر اور اپنےگھر کو ہرا بھرا گلستان دیکھنا چاہتی ہوں بلکہ ایک بات اس سے بڑھ کر کہنا چاہتی ہوں کہ تخلیق کائنات میں۔۔۔ میں اکیلی رنگ نہیں بھر سکتی جب تک کہ مجھے ایک محرم مرد کا ساتھ میسر نہ ہو۔ رائٹر صاحب آپ سن رہے ہیں نہ
رائٹر: جی جی ! آپ درست کہہ رہی ہیں بلکہ آپ نے مجھے ایک نئی سوچ اور ایک نیا زاویہ فراہم کیا ہے اور معاف کیجئے گا میں بھی اسی معاشرے کا ایک مرد ہوں اور مجھ سے بھی کئی عورتیں attached ہیں ہو سکتا ہے کہ میں بھی جانے انجانے کہیں نہ کہیں ان عورتوں کےحقوق غصب کرنے کا مرتکب رہا ہوں۔عورت ریسیور رکھ دیتی ہے مگر ساتھ ہی اس معاشرے کے ایک مرد کو ایک نئی سوچ دے جاتی ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com