عورت مارچ اور مغرب کی منہ دکھائی - محمودفیاضؔ

میں لیسٹر کے بار میں ہاتھ میں گلاس لیے کھڑا تھا۔ گلاس میں کوک تھی یا رم، یہ آپ میرے اور میرے خالق کے لیے رہنے دیں۔ وہک اینڈ پر ہم ماس کمیونیکشنز کلاس کے پانچ لڑکے اور سات لڑکیاں ہینگ آؤٹ کر رہے تھے۔

میں گوروں کے دیس میں سرخ اینٹوں کی یونیورسٹی میں پڑھنے کے ساتھ یہاں کی وہ آزادی، سر مستی اور خوشی بھی انجوائے کرنا چاہتا تھا، جو ہم جیسوں کو صرف سفرناموں میں ملتی تھی۔

میوزک زور دار تھا اور ہر کوئی تھرک رہا تھا۔ لڑکوں میں ہم تین ایشیائی تھے جن کی للچائی کنکھیاں ہر گوری کے اعضا پر پھسل رہی تھیں۔ ایک پال تھا، گورا برطانوی جو اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ خرمستیوں میں مصروف تھا۔ اور کالا افریقی مارٹن جو انیسٹیزیا پر لائن مارنے کے چکر میں ساتھ آیا تھا۔

لڑکیوں میں انیسٹیزیا کے علاوہ اس کی دو یونانی اور دو اسپینی کلاس فیلوز تھیں۔ پال کی گرل فرینڈ کی ایک دوست بھی ہمراہ تھی جو غالبا لندن سے ویک اینڈ گذارنے آئی ہوئی تھی۔

لڑکیاں چہک رہی تھیں، اور میں سوچ رہا تھا کہ واقعی یہ آزادی اور خوشی شاید ہمارے کلچر میں عورت کو نہ مل سکے۔ انیسٹیزیا تھرکتے ہوئے میرے قریب آئی اور سرگوشی میں بولی، اس مارٹن سے میری بخشی کرواؤ میری توبہ یہ تو لیچڑپنے پر اتر آیا ہے۔ میں نے دیکھا، کالا افریقی مناسب ماحول دیکھ کر واقعی آپے باہر ہورہا تھا۔ میں نے گھور کر انیسٹیزیا کو دیکھا جو ایڈوینچر کے چکر میں اسکو ساتھ لائی تھی، اور ناچتے ہوئے مارٹن اور انیسٹیزیا کے درمیان آگیا۔ تھوڑی دیر کوشس کے بعد مارٹن انیسٹیزیا کو کونے سے باہر نہ آتے دیکھ کر مڑ گیا، وہاں عورت پر زبردستی نہیں کر سکتے اور مارٹن کو ویسے بھی ایک اسپینش لڑکی بڑی دیر سے اسکو اوکے سگنل دے رہی تھی۔ عورت مرد کے رشتے کو زندگی موت کا مسئلہ ہمارے یہاں ہی بنتا ہے۔ وہاں کانسینٹ ہر پل میں بدلتا ہے۔

مارٹن کے بار کے دوسرے کونے میں جانے کے بعد انیسٹیزیا ساتھ ہی کھڑی اپنی کلاس فیلوز سے باتیں کرنے لگی۔ مجھے انکی آدھی بات ہی سمجھ آ رہی تھی، کہ وہ یونانیوں کے ساتھ یونانی بولنے لگتی تھی، البتہ اسپینش کے ساتھ انگریزی میں بات کرتی تھی۔ جبکہ اسپینیش لڑکیاں بھی آپس میں اسپینش بولتی تھی، اور انکے ساتھ انگریزی۔

تھوڑی دیر میں مجھے لگا کہ کہ لڑکیوں کی چہکار نما آوازیں کچھ مدہم ہو کر مایوسی میں ڈھل رہی ہیں۔ ۔ ۔ انیسٹیزیا خیر انکو تسلی دے رہی تھی، مگر ان لڑکیوں کی بدن بولی ڈھلکے جا رہی تھی۔ ۔ ۔ یہ تیسرا مہینہ ہے، کوئی ڈھنگ کا لڑکا ملتا ہی نہیں ہے، ایک اسپینی لڑکی نے تیز سرگوشی کی۔ ۔ ۔ سب کے سب ایسے ہی ہیں، دوسری نے بار کے دوسرے کونے میں ایک جوڑے کو حسرت سے دیکھتے ہوئے کہا۔ ۔ ۔ وہ ڈرم والا مجھے اسمائیل دے رہا تھا، تیسری باقیوں کو بتا رہی تھی۔ ۔ ۔ اگر اگلے ہفتے تک کوئی کام کا بندہ نہ ملا، تو میں اسی کے ساتھ دوستی کر لونگی۔ ۔ ۔ عمرزیادہ ہے، اور گنجا ہے، مگر سیکسی لگتا ہے ۔ ۔ ۔ باقیوں نے گردن گھما کر ڈرم والے کی جانب دیکھا اور ترس بھری مسکراہٹ اپنی ساتھی کی طرف اچھالی۔

انیسٹیزیا انکو تسلی دے رہی تھی، اگلے ہفتے ہم یونیورسٹی کے دوسری طرف والے بار میں جائیں گے۔ وہاں سنا ہے بہت رش ہوتا ہے۔ ۔ تم فکر نہ کرو۔ ۔ اس کی اپنی آواز میں بھی تھکاوٹ تھی، ۔ ۔ ۔ میں ان سے زرا لاتعلق اپنے گلاس کو ہلا کر آئس کیوب شامل کر رہا تھا۔ ۔ ۔ انہوں نے اپنی باتیں جاری رکھیں۔

یہ سارے اچھے مرد نہ جانے کہاں مر گئے ہیں۔ لیسٹر میں تو لگتا ہے کوئی ڈھنگ کا مرد ہے ہی نہیں، ۔ ۔ ۔ اور خیر سے کوئی کہیں مل جائے تو یا تو وہ شادی شدہ نکلتا ہے اور یا وہ گے ہوتا ہے۔ ۔ ۔ اسپینی لڑکی دل کے پھپھولے پھوڑ رہی تھی۔ ۔ باقی لڑکیاں اسکی بات کانوں سے سن رہی تھیں جبکہ اپنے جسموں کو ہلکے ہلارے دیتے ہوئے انکی نظر ہر اس شخص کا طواف کر رہی تھی، جو بار میں داخل ہوتا تھا، ۔ ۔ ۔ داخلے کے بعد اگر وہ اکیلا ہوتا تو انکی نظروں میں امید بھر آتی، ۔ ۔ ۔ اور اگر وہ اندر داخل ہوتے ہی کسی سائیڈ پر منتظر لڑکی پر جھک جاتا تو اسپینی اور یونانی گالیوں کا آمیزہ فضا میں بکھر جاتا۔ ۔ ۔ ایسا خاص طور پر تب ہوتا جب بندہ شکل و حلیے سے معقول ہوتا۔ ۔ ۔

یکدم میرے حلق میں کڑواہٹ گھل گئی ۔ ۔ ۔ تب تک میں سمجھ رہا تھا کہ میں یورپ کے ایک شراب خانے میں مزے لوٹ رہا ہوں۔ ۔ ۔ سات لڑکیوں کے جلو میں بار جاتے ہوئے میں خود کو عیاشی کا دیوتا سمجھ رہا تھا۔ ۔ ۔ یکایک مجھے احساس ہوا کہ میں تو مغرب کی منہ دکھائی کی رسم میں شریک ہوں۔ ۔ ۔ یہ جو لڑکیاں میرے ساتھ کھڑی ہیں ، ان میں سے کوئی بھی وہاں عیاشی کرنے نہیں آئی، بلکہ اپنے لیے ایک محفوظ مستقبل کی امید میں اس معاشرے کی ایک رسم نبھانے آئی ہیں۔ ۔ ۔ ایک ایسی رسم جس کو نبھائے بغیر انکو انکا جیون ساتھی ملنا ناممکن ہے۔

میرے ذہن میں الٹی فلم چلنے لگی۔ ۔ ۔ کالج یونیورسٹی کی یہ لڑکیاں سر شام اپنے بہترین ڈریسز پہن کر تیار ہو رہی تھیں۔ ۔ ۔ سرجھاڑ منہ پھاڑ یونیورسٹی کلاس لینے والی انیسٹیزیا بھی ہلکا ہلکا میک اپ کر رہی تھی۔ ۔ ۔ اچھے سے اچھا لگنے کی پوری کوشش تھی۔ ۔ ۔ پھر لیسٹر ڈاؤن ٹاؤن میں آتے ہی ایک دو تین چار بار گھوم ڈالے، ۔ ۔ ہر اس بار کے سامنے میں دلچسپی سے اندر جانے کی کوشش کرتا کہ جہاں دو چار سے زیادہ لوگ نہ ہوتے، کہ یہاں بیٹھ کر سکون سے گپ شپ ہو سکتی ہے۔ ۔ ۔ مگر انیسٹیزیا اور اسکی دوستوں کو وہ بار ایک آنکھ نہ بھاتا۔ اب سمجھ آرہی تھی کہ انکا مقصد ایسی جگہ ہی پورا ہو سکتا تھا جہاں لوگ زیادہ ہوں۔ ۔ ۔ آپشن تو ملے۔

میں نے عجیب دکھ سے کنکھیوں سے ان چاروں پانچوں لڑکیوں کی آنکھوں میں جھانکا۔ ۔ ۔ مستقبل کے اندیشے، ۔ ۔ ۔ خود پر نظر نہ پڑنے کی شرمندگی، ۔ ۔ ۔ اپنے اکیلے ہونے کا احساس، ۔ ۔ ۔ جلد از جلد کسی ساتھ کی خواہش، ۔ ۔ ۔ سب انکے ماتھے پر دھرا تھا۔ ۔ ۔ اچھے مارکس لے کر اچھی یونیورسٹی میں داخلے کے بعد بھی انکو منہ دکھائی کی اس رسم سے گذرنا تھا ۔ ۔ ۔ اپنے لیے مناسب ساتھی ملنے تک۔ ۔ ۔ اور انکی باتوں سے لگتا تھا کہ ایسا پہلی دوسری بار میں نہیں ہوتا ۔ ۔ ۔ کئی کئی ساتھ بدلنے تک، یہ مشق جاری رہتی ہے۔ ۔ ۔ انیسٹیزیا ان لڑکیوں کو ہنسانے کے لیے اپنے یونانی گاؤں کی اس شرمیلی لڑکی کا قصہ سنا رہی تھی جو بستی کے کسی نوجوان کے ساتھ جانا پسند نہیں کرتی تھی، ۔ ۔ اور اسکی ماں اسکو کوسنے دیتی تھی ، کہ مردار گھر میں پڑی رہے گی کیا؟ ۔ ۔ ۔ باہر جا اور کسی کے ساتھ بھی ۔ ۔ ۔ ۔ اگلے الفاظ یورپین معاشرے میں رسم میں پھنسی ماں کی چیخ تھی۔ ۔ ۔ لڑکیاں پھیکی ہنسی ہنس رہی تھیں ، ، شائد تصور میں اس لڑکی کو جگہ خود کو رکھ کر انکو اتنی ہنسی نہیں آ رہی تھی۔

دوستو، لیسٹر کے اس بار میں میرا جسم ہاتھ میں گلاس لیے رہ گیا، اور خیال اڑتا ہوا یہاں آ گیا۔ ۔ ۔ جہاں خواتین کے رسالوں میں لڑکیوں کی منہ دکھائی پر منہ بھر بھر کر تنقید کی جاتی ہے۔ ۔ اور ان رسالوں کو پڑھنے والی لڑکی بھی چند بار کسی محفل میں چائے دینے پر اپنی روح زخمی کیے پڑی ہوتی ہے۔ ۔ کہ میرے ساتھ تو ظلم ہو گیا ، لڑکی ہونا اس معاشرے میں عذاب ہے۔ ۔ ۔ میرا دل چاہا کہ میں چیخ چیخ کر اپنی پاکستانی لڑکیوں کو بتاؤں کہ دس بیس بار بھی اگر اپنے ہی گھر میں عزت کے ساتھ آپ کو چائے پیش کرنا پڑ جائے تو کر لینا۔ اپنے معاشرے کی (بری ہی سہی) رسم سمجھ کر ۔ ۔ ۔ کہ ہر معاشرے نے اپنی بیٹیوں کے گھر بسانے کے لیے ایسا ہی کچھ انتظام کیا ہوا ہے۔ ۔ ۔ مگر کبھی بھی بھول کر یورپ کی لڑکیوں والی رسم میں مت پڑنا ۔ ۔ ۔ تمہاری روح پر وہ گھاؤ لگیں گے کہ تم نہ ہنس پاؤ گی نہ رو پاؤ گی۔

خیال واپس آیا تو میں نے خالی گلاس کاؤنٹر پر رکھتے ہوئے ان لڑکیوں کو دوبارہ دیکھا۔ ۔ ۔ انکے بے جان مگر ہلکورے لیتے جسم، اور منتظر نگاہیں مجھے پاکستان کے میلوں میں ناچنے والے ہیجڑوں جیسی لگیں ، جو تماشائیوں کی طرف سے ایک نوٹ گرنے کے منتظر اپنی کمر ہلا رہے ہوتے ہیں۔میری شام برباد ہو چکی تھی۔ تف ایسے لکھاری پنے پر، انسان انجوائے بھی نہیں کرپاتا۔

Comments

محمود فیاض

محمود فیاض

محمود فیاض نےانگلستان سے ماس کمیونیکیشنز میں ماسٹرز کیا اور بین الاقوامی اداروں سے وابستہ رہے۔ آج کل وہ ایک عدد ناول اور ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اساتذہ، کتابوں اور دوستوں کی رہنمائی سے وہ نوجوانوں کے لیے محبت، کامیابی اور خوشی پر لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */