محبت فاتحِ عالم - شہلا عبدالجبار

دو مہینوں کی بیاہی ہوئی سارہ اپنی سسرال میں بہت پریشان تھی۔ ساس تو بیچاری بہت سیدھی سادی تھی البتہ سب سے بڑا مسئلہ اس کی جیٹھانی شیما بھابی کا تھا علی کی جاب دبئی میں تھی اور سارا کو وہاں جانے کے لئے کچھ لمبا عرصہ درکار تھا۔

سارے گھر پر شیما کی حکمرانی تھی اور اسے اپنی راجدھانی میں کسی کا عمل دخل بالکل پسند نہ تھا۔ شیما کے بچے بھی بہت شریر تھے۔ بچوں کی حرکتوں کی وجہ سے سارہ کا رویہ بھی تھوڑا سخت ہو گیا تھا۔ کسی شرارت پر سمجھاؤ تو رونےچیخنے لگتے اور پھر شیما سارہ کو سخت باتیں سنا دیتی۔ زندگی عذاب بن کر رہ گئی تھی۔

جب پریشانی حد سے بڑھ گئی تو سارہ نے علی سے اس بارے میں بات کی مگر وہ اتنی دور بیٹھ کے کر بھی کیا سکتا تھا۔اس نے سارہ کو سمجھایا کہ وہ پڑھی لکھی سمجھدار ہے اوپر سے دین کا بھی شعور ہےبجائے ناراض ہونے کہ وہ عفو درگزر سے کام لے اور بھابھی سے اپنے تعلقات بہتر بنائے۔اچھے رویے دلوں کو فتح کر لیتے ہیں تم دیکھنا انشاءاللہ بہتر تبدیلی آئے گی۔ایک دن جب بچے لوڈو کھیل رہے تھےتو وہ ان کے پاس آکر بیٹھ گئی۔

بھئی مجھے بھی آپ کے ساتھ کھیلنا ہے۔۔۔۔ کھلاؤں گے نا چاچی کو۔۔۔ اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔۔بچے پہلے تو حیران اس کی شکل دیکھنے لگے۔۔۔۔پھر بہت خوشی خوشی اس کو کھیل میں شریک کرلیا۔۔۔ ایک دفعہ اس نے بچوں سے پوچھا کہ کس کو کہانیاں سننا اچھا لگتا ہے سب بچے کہانی سننے کے بہت شوقین تھے اب تقریبا روزانہ رات کو بچوں کو کہانیاں سناتی۔ اکثر کہانیوں کا موضوع اچھے بچوں اور گندے بچوں کا موازنہ ہوتا اس نے بتایا کہ اچھے بچوں کو اللہ تعالی بھی انعام دیتے ہیں اور امی ابو بھی گفٹ دیتے ہیں اور گندے بچوں کو کوئی پسند نہیں کرتا اور ان کو سزائیں بھی ملتی ہیں۔

ہمارے امی ابو تو ہم کو کوئی گفٹ نہیں دیتے۔۔۔۔ ایک بچے نے منہ بسورتے ہوئے بتایا۔۔۔۔ اچھا بھئی چاچی دیں گی نہ تمہیں گفٹ پہلے اچھے بچےتو بن کے دکھاؤ ۔۔۔۔بچے خوشی خوشی اس پر راضی ہو گئے وہ جو کہتی بچے دل و جان سے مانتے۔شیما بھابی سے بھی اس کے تعلقات بہتر ہو رہے تھے وہ جب بھی باہر جاتی بچوں کے لئے کچھ نہ کچھ لےآتی۔شیما جب کبھی اچھی ڈریسنگ کرتی یا کوئی اچھی چیز بناتی تو سارا ان کی دل سے تعریف کر تی۔

اکثر شیما بھابھی بچوں کو اس کے پاس پڑھنے بھجوا دیتیں جس پر وہ بہت توجہ سے انہیں پڑھاتی ۔اسکول سے ان کی اچھی پروگرس رپورٹ مل رہی تھی بھابھی سارہ سے بہت خوش تھیں شام کی چائے سب مل کر پیتے تھے گھر کا ماحول کافی خوشگوار ہوگیا تھا۔ اب سارہ کو اچھی طرح احساس ہو گیا تھا کہ خاندان کو مستحکم کرنا دنوں کی بات نہیں بلکہ مسلسل کام کرنا ہوتا ہے اور پھر نیک روئیے بر ائیوں پر غالب آ ہی جاتے ہیں۔

(سو رہ حم سجدہ)
اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نیکی اور بدی یکساں نہیں ہوتے تم بدی کواس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com