ہیروں کی نرسری - بریرہ صدیقی

کیسی نرالی شان ہے اس مذہب کی، ڈوبتے ڈوبتے پھر ایک نئے طورسے جلوہ گر ہونا ، کیسا عجیب مزاج ہے اس دین فطرت کا،کہ اس کی جس شاخ کو جب کبھی کچلنے، توڑنے اور مسخ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

وہ پہلے سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ اپنے شجر سے پیوست ہوتی اور برگ و بار لاتی ہے۔ معجزہ یہ بھی ہے کہ شرار بولہبی کی شرانگیزچنگاریوں نے جب کبھی چراغ مصطفوی صلی اللہ علیہ وسلم کی لو کو نعوذبااللہ مدھم کرنا چاہا ہے، اللہ کے دین کےنور نے آن کی آن میں ان چنگاریوں کو یوں خاکستر کیا کہ سیرت کے چراغ چارسو جل اٹھتے ہیں ،اور کائنات میں پھر سے چراغاں ہو جاتا ہے، سیرت کے بھولے اسباق پھر سے دہرائے جاتے ہیں اور ابلیس اپنی ذریت اور لاو لشکر سمیت منظر سے غائب ہوجاتا ہے۔

فرانس کا یہودی ربی، برس ہا برس کی تحقیق کے بعد، چائے خانے میں اضطرابی کیفیت میں بیٹھا ، گومہ گو کا شکار ہے۔عجب معمہ ہے مسلمانون کے مزاج کا، جتنا مذاق ان کے شعائر کا اڑالو یہ برداشت کرجاتے ہیں، بلکہ کتنے ہی معاملات میں خود اپنا تمسخر اڑاتے ہیں، آپس کی ناچاقی میں سب سے بڑھ کر ہیں ، لیکن جیسے ہی ان کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات (اطہر) کو نشانہ بنایاجائے، یہ دیوانے دنیا کے ہر کونے سے اٹھ کر یوں جمع ہوجاتے ہیں جیسے کبھی الگ نہ ہوئے ہوں۔ شدت پسندی تب ان میں اپنے عروج پر نظر آتی ہے۔ انہیں ختم کرنا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک آخری مسلمان کے دل میں ان کے نبی ص سے محبت کا ذرہ موجود ہے۔

اسے کیا خبر کہ جنوں کی فصلوں کے بیج تو عین انھی محلاتی سازشوں کے بیچوں بیج انجانے میں بوئے جاتے ہیں۔ اسے کیا خبر کہ بابری مسجد کے گنبد کو مسمار کرنے کے لیے ہتھوڑے سے پہلی ضرب لگانے والا بلیر سنگھ، مسلسل چوبیس سال ان ضربوں کی خلش اپنے ضمیر پے محسوس کرتا ہے اور پھر اس کی زندگی کا وہ سورج طلوع ہوتا ہے جس کے بعد دنیا اسے "محمد امیر" کے نام سے جانتی ہے اور جوسو مساجد کی تعمیر میں مددکی قسم کھاکر دیوانہ وار اب تک نوے مساجد کی تکمیل میں پیش پیش رہا ہے۔ ڈنمارک کی تو پوری سرزمین گواہ ہےکہ جس سال گستاخانہ خاکوں کی نمائش کا ارادہ کیا جاتا ہے۔

اسلام کو جاننے اور اس پر تحقیق کا شوق اس سال اس قدر پروان چڑھتا ہے جس کے نتیجے میں محض ڈنمارک میں چارہزار اور پوری دنیا میں پچیس ہزار کلمہ گو پیدا ہوتے ہیں۔ ایسی ہی سازشوں کے نتیجے میں کبھی خود برطانوی وزیراعظم کی سالی ایمان کی دولت سے مالا مال ہوتی ہے تو کبھی طالبان کی قید میں رہنے والی ایوان ریڈ لی پوری دنیا میں اسلام کی سفیر بنتی ہیں۔

اور پھر جب تذکرہ شمع رسالت کے پروانوں کا ہو جسے انگریز مستشرق گولڈزیئر بجا طور پر " ہیروں کی نرسری "کہتا ہے۔ اصحاب رسول ص کی سیرت کا مطالعہ کرنے کے بعد لکھتا ہے ، مجھے یوں لگا یہ تو گویا ہیروں کی نرسری ہیں، جن میں سے ہر ایک کی الگ آب وتاب اور چمک دمک ہے، اور جب ان کو یکجا کر کے دیکھا جائے تو رنگوں اور روشنیوں کا ایک حسین امتزاج بنتا ہے۔ ذرا ایک نظر اس نرسری میں ڈال کر دیکھیے اور ان سے ملیے۔ ارحمھم ۔ ان سب سے بڑھ کر شفیق اور مہربان ، یہ خلیفہ الرسول ص جناب ابی بکر رض ہیں۔

اعدلھم ، ان سب سے بڑھ کر عدل و انصاف کرنے والے، امیر المومنین حضرت عمر فاروق رض۔ اور ایک پردہ دار باحیا خاتون سے زیادہ شرم و حیا رکھنے والے جناب عثمان غنی رض۔ اور اشجعھم، علم اور شجاعت میں سب سے بڑھ کر حضرت علی رض۔اور حلال و حرام کے فرق کو سب سے زیادہ سمجھنے والے معاذ بن جبل رض۔ اور جس نے ابی بن کعب رض کی قرات کو سنا قرآن پاک اسے سیدھا دل میں اترتا محسوس ہوا۔ تلاوت قرآن کو خوش الحانی سے پڑھنے میں کوئی آپ کا ثانی نہ تھا ۔ اور یہ زید بن حارثہ رض ہیں، ایک ماہر قانون دان۔۔ وراثت کے قانون کی باریکیوں کو آپ سے بہتر کوئی جاننے والا نہ تھا۔

سیدنا ابوبکر صدیق رض کو نہایت محبت سے ایک بار نبی کریم ص نے " عتیق اللہ" کہا اور ساتھ وضاحت کی کہ آپ تو آگ سے آزاد ہیں۔ اور فرمایا کہ اگر میں کسی کودلی دوست بناتا تو ابوبکر رض کو بناتا۔ آپ کا گھرانہ وہ واحد مسلم گھرانہ تھا جس میں والد ابو قحافہ رض، تینوں بیٹے اور دونوں بیٹیاں حضرت عائشہ اور اسما رض اور تمام نواسے اصحاب رسول بنے۔ واقعہ معراج پیش آتا ہے تو لوگ ایک نئی امید کے ساتھ دوڑے دوڑے پہنچتے ہیں اور پھولی سانسوں سے خبر دیتے ہیں۔ ھل لک الی صاحبک یزعم اسری بہ الیلت الی بیت المقدس؟ کیا اب بھی آپ اپنے صاحب ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی تصدیق کرتے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ راتوں رات انھوں نے مسجد حرام سے مسجد اقصی کی سیر کی؟ ایک لمحہ سوچے بغیر کمال اطمینان سے جواب دیا جاتا ہے۔ "

اگر میرے نبی ص نے یہ ارشاد فرمایا تو یقینا سچ فرمایا اور میں بلاجھجک اس کی تصدیق کرتا ہوں" ۔ آخری حربہ آزمایا جاتا ہے۔ " کیا یہ بہت حیران کن نہیں کہ وہ ایک رات میں بیت المقدس گئےاور صبح ہونے سے پہلے واپس آگئے؟" ۔ زیادہ اطمینان سے جواب دیا۔ " یقینا ہے۔۔لیکن میں صبح وشام جن آسمانی خبروں کی تصدیق کرتا ہوں کیا وہ ان سے بھی بڑھ کر تعجب والی بات نہیں؟"۔آج جسے حضرت ابوبکر صدیق کی شان میں ہرزہ سرائی کی جرات ہوئی اس کے بعد کے مناظر کا تصور بھی اس نے کب کیا ہوگا کی یوں مناقب ابوبکر صدیق بیان کرنے کومحفلیں سج جائیں گی۔

تاریخ میں سیرت صحابہ کے اوراق پھر سے کنگھالے جائیں گے اور جانثاران صحابہ کے دستے جوق در جوق نکل کھڑے ہوں گے۔ کیا اس بدنصیب کو وہ حدیث رسول ص یاد نہیں کہ" میرے اصحاب کو برا مت کہو، اگر کوئی شخص احد کے پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کر ڈالے تو ان کے ایک ذرہ برابر نہیں ہوسکتا"۔ ( صحیح بخاری)۔

Comments

Avatar

بریرہ صدیقی

بریرہ صدیقی شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں اور مختلف قومی جرائد اور دلیل کے لیے بھی لکھتی ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی سے انگلش میں ماسٹرز کے بعد چار سال جرمنی میں قیام بھی کر چکی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com