حیا جزو ایمان ہے - عالیہ عثمان

حیا اور ایمان لازم و ملزوم ہیں حیا جاتی ہے توایمان بھی رخصت ہو جاتا ہےکسی بھی غلط حرکت بے جا اقدام یا فحش گوئی سے ہی جذبہ حیاہ یے جو روکتا ہے، اخلاقی تقاضوں کا لحاظ پیدا کرتا ہے اور سوسائٹی کی اعلی اقدار کا احترام سکھاتا ہے۔

بے حیائی کے اثرات ظاہری شخصیت پر جلد اثر انداز ہوتے ہیں لیکن اگر باطن میں حیا قائم ہو تو انسان خیر سے محروم نہیں رہتاایمانی حرارت جلدیابدیر بے حیائی کے اثرات کو زائل کر رہی دیا کرتی ہے جذبہ حیا کو توانا اور صحت مند رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ماحول وگردوپیش کو حیا باختہ مناظر اور کارروائیوں سے پاک رکھا جائے عرب میں شرم و حیا کا رواج بہت کم تھا هتیکہ بعض لوگ خانے کعبہ کا طواف بھی برہنہ کرتے تھے مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس قدر حیا دار تھے کے ابو سعیدخدری کہتے ہیں کہ آپ دوشیزہ لڑکی سے بھی زیادہ حیا دار تھے آپ کے نزدیک حیا ہی انسان کا اصل سرمایہ ہے جب وہ نہ رہے تو جو چاہے کرے آپ کا ارشاد ہے۔"
جب تجھ میں حیا نہ رہے تو جو چاہے کر گزر"امریکی صحافی خاتون ہیلن نےاپنے مطالعہ تحقیق کے بعد اخذ کیا کہ پردے کو رواج دو ،عورت کی بے جا آزادی پر پابندی باقی رکھو،مردوزن کے دے جا میل جول سے اپنے معاشرے کو پاک رکھو لیکن آج کل اس کے بالکل برعکس ہورہا ہے الحمدللہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اسلام کے نام پر یہاں جو کچھ ہو رہا ہے غیرت مند لوگوں کے سر شرم کے مارے جھک جاتے ہیں معصوم لوگوں کو بیوقوف بنایا جا رہا ہےاعتدال پسندی کا نام دے کر نوجوان نسل کو بربادکیا جا رہا ہے .

سارا امریکی کلچر ملک میں رائج ہو رہا ہے اسکول کالجزاور یونیورسٹیزمیں طلبا کی اکثریت بجائے علم سیکھنے کے غلط راہوں پر چلنے والے مشغلے اپنا رہے ہیں لڑکے لڑکیاں بن سنور کر اسے نکلتے ہیں جیسےبردکھوے کیلئے نکل رہے ہیں والدین کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہیں ۔اگر ماحول موافق ہو توفطری شرم و حیا کا جذبہ تمام شیطانی جذبوں پر غالب آ سکتا ہے ضمیر کی اصل قوت اس جذبے سے بنتی ہے، ضرورت ہے کہ اخبار و رسائل الیکٹرونک میڈیا کا ایک ایک فرد جوابدہی کے احساس کو تازہ کرتے ہوئے سوسائٹی کو بے حیائی کی لعنت سے بچائے قرآن کہتا ہے کہ " جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں بے حیائی پہلے بلاشبہ ان کے لئے دنیا و آخرت میں دردناک عذاب ہے۔:آج کل میڈیا کے ذریعے جو برائیاں جدید دور میں جسے ترقی کہاجا رہا ہے نئی نسل میں منتقل کی جا رہی ہیں ان کا حساب کون دے گا ؟ظاہر ہے جو حکمران ہمارے اوپر مسلط ہیں، قوم کی تباہی اور بربادی کا ہر جرم ان کے نام لکھا جا رہا ہے۔ اللہ تعالی ہم سب کو اپنی پناہ میں رکھے یہ قوم کے معمار جو ہمارا مستقبل ہیں اللہ انمیں شرم و حیا کا جذبہ قائم رکھے ان کی حفاظت فرمائے آمین ثم آمین_

ٹیگز