خواب - محمدمشفق رضا نقوی

زندگی بہت خوبصورت ہے اور اس کو اور زیادہ خوبصورت اور پر کشش بنانے کیلئے ہمیں خواب دیکھنے چاہیں، بغیر خواب کے زندگی کسی صحرا سے کم نہیں اور یقیناً آج تک کسی نے بھی صحرا میں پھول کھلتے نہیں دیکھے نہ ہی سرسبز لہلہاتے کھیت نہ باغات نہ دلکش مناظر۔

صحرا کا تصور ذہن میں آتے ہی انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ جیسے وہ کہیں تنہا، بے یارو مددگار گھوم رہا ہو جہاں سمت کا بھی پتہ نہیں چلتا راستے گم ہو جاتے ہیں. ہر طرف ریت ہی ریت یعنی مایوسی ہی مایوسی ،خواب ہی زندگی کی نوید ہوتے ہیں اور ان کے بغیر انسان کسی مردے سے کم نہیں، اللہ پاک نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے یعنی تمام مخلوقات سے افضل و اعلیٰ اور یہ خواب ہی ہیں جو انسان کو دوسری مخلوقات سے ممتاز اور نمایاں بناتے ہیں۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان کیسے خواب یا کس طرح کے خواب دیکھے،اور کون لوگ ہیں جن کو خواب دیکھنے کا حق حاصل ہے، دراصل اس بات کا تعلق کسی کی حیثیت یا جنس سے نہیں بلکہ اس کی ہمت سے ہوتا ہے۔

تاریخ شاہدہے اور ہمارے معاشرے میں بھی بے تہاشا ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ لوگوں نے اپنی ہمت کے بل بوتے پر ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ اپنے خوابوں کی تعبیر کی خاطر زندگی کے ہر میدان میں محنت و لگن سے کام کیا اور راہ میں آنے والی تمام مشکلات کو ہمت اور خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہوئے اپنی منزل کو پالیا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے نہ خود منزل پائی بلکہ دوسروں کیلئے مشعل راہ بھی بنے۔ ایسے ہمت اورعزم و حوصلے والے افراد کو دیکھ کر یہاں مجھے جگر مراد آبادی صاحب کا شعر یاد آ گیا.

ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں

ہم سے زمانہ خود ہے زمانے سے ہم نہیں

انسان خواب کیوں نہیں دیکھتا اور اگرچہ دیکھتا بھی ہے تو اسے شرمندہِ تعبیر کیوں نہیں کر پاتا۔دراصل خواب دیکھنا تو آسان ہے مگر اس کو شرمندہِ تعبیر کرنے کیلئے بہت پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں اور ایک انجانا خوف کہ اگر وہ فیل ہو گیا تو زمانہ اسے جینے نہیں دے گا، اس وجہ سے کوئی یہ خطا ء نہیں کرتا،ہر ناکامی کے بعد کامیابی ہوتی ہے جیسے سیاہ رات کے بعد سویرا ہوتا ہے ،بس انسان کو مستقل مزاج ہونا چاہیے۔ کامیابی اس کے قدم چومے گی،اور زمانہ صرف کامیاب لوگوں کو سلام کرتا ہے ان کے گن گاتا ہے۔ آج میں آپ کو ایک طریقہ بتاتا ہوں جس سے آپ اپنی اپنی بلکہ اپنے اپنے پیاروں کی زندگی میں انقلاب برپا کر سکتے ہیں۔

خواب کو انگریزی میں Goals of life کہتے ہیں. آپ ان گولز کو دو حصوں میں تقسیم کر لیجئے ، short terms Goals اور Long terms Goals ،شارٹ ٹرم گولز وہ ہوتے ہیں جو آپ کچھ دنوں میں یا کچھ مہینوں میں پورے کر سکیں اور ان کو پورا کر کے آپ لانگ ٹرم گولز کی جانب بڑھ جائیں. پہلے اپنے تمام گولز کو کسی کاغذ پر نوٹ کر لیں. پھر ان میں دیکھیں کہ جو آپ کچھ دنوں میں یا ماہ میں پورے کر سکتے ہیں ان کو الگ لکھ لیں اور ایک تاریخ مقرر کر لیں جس تک آپ اس ٹارگٹ کو پورا کریں گے،حتیٰ کہ آپ کو گھر کا کوئی سامان بھی خریدنا ہو تو اس کے لیے تاریخ مقرر کر لیں اور مقررہ وقت سے پہلے اسے خریدنے کی کوشش کریں۔

اس طرح آپ کے اندر بڑے خوابوں کو پورا کرنے کی ہمت بھی پیدا ہو گی اور مقابلے کا حوصلہ بھی. انسان کی فطرت ہے جب وہ ناکام ہوتا ہے تو مایوس ہو جاتا ہے اور جب اسے کامیابی حاصل ہوتی ہے تو اس کی ہمت اور حوصلہ بڑھ جاتا ہے، اور کامیاب ہونے کے لیے وسائل سے زیادہ ہمت اور حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے.
اپنے خوابوں کو مختلف جگہوں اپنے کمرے میں تصویری صورت میں یا لکھ کر لگا لیں تاکہ آپ کو ہر روز ہر وقت یاد رہے کہ اس کام کو مقررہ وقت سے پہلے کرنا ہے اور آپ میں جوش و ولولہ پیدا کیے رکھے گا ۔

انسان کی یہ بھی فطرت ہے کہ جب وہ کچھ ایسا مواد دیکھتا ہے یا پڑھتا ہے کہ جس سے اس کے اندر کچھ جوش و ولولہ اور کچھ بڑا کام کرنے کا جذبہ پیدا ہو تو وقتی طور پر تو وہ بہت کارآمد ثابت ہوتا ہے مگر رفتہ رفتہ اس کے اثرات ذیل ہوتے جاتے ہیں اور پھر اسے دوبارہ چارج ہونے کی ضرورت پڑتی ہے. وہ تصویر یا جو آپ نے اپنے کمرے میں لکھ رکھا ہے وہ آپ کو یاد دہانی کرائے گا. مثلاً آپ موٹر سائیکل لینا چاہتے ہیں تو اس کا پوسٹر کمرے میں لگا لیں جب آپ اس بائیک کو دیکھیں گے تو زیادہ محنت کریں گے جو آپ کے لیے موٹیویشن کا سبب ہو گا، اس کا یہی فائدہ ہوتا ہے کہ آپ کو اپنے گولز ہمیشہ یاد رہتے ہیں اور آپ ان کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

جب ایک گول یا ٹارگٹ پورا ہو جائے تو اس تصویر کو ہٹا کر اگلے اور اس سے بڑے ٹارگٹ کا پوسٹر لگا لیں اور تاریخ مقرر کر لیں. ہمیشہ بڑے خواب اور گول سیٹ کریں جیسے تیر انداز جب نشانہ باندھتا ہے تو وہ ٹارگٹ سے زرا اوپر نشانہ لیتا ہے کیونکہ کشِ ثقل کی وجہ سے تیر خود بہ خود نیچے آتا ہے اور اپنے ہدف پہ ہی لگتا ہے۔ہمارے معاشرے میں کشِ ثقل نما کئی لوگ موجود ہیں جو آپ کو آگے بڑھتا نہیں دیکھ سکتے اور آپ کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں ان لوگوں کی باتوں سے مزید ہمت اور حوصلہ حاصل کریں اور ثابت کریں کہ وہ غلط اور آپ درست ہیں۔

بقول حضرت اقبال ؒ

تندیِ بادِ مخالف سے نا گھبرا اے عقاب

یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کیلئے

اپنے اوپر کام کریں اور اپنی خوبیاں اور خامیاں پہچانیں جبکہ خامیوں پربھی توجہ دیں اور ان کو دور کرنے کی کوشش کریں. مختلف ٹریننگ پروگرامز میں شریک ہوں اور اپنی زندگی کے سارے اہم مقاصد اور خواب پورے کرنے کی بھرپور کوشش کریں. آج کے دور میں ہمارے پاس ایسے سینکڑوں ذرائع موجود ہیں جن سے ہم گھر میں بیٹھے بٹھائے بہت کچھ سیکھ اوربہت کچھ کر سکتے ہیں بشرطیکہ ہم اس طرف توجہ دیں، انٹرنیٹ کے جہاں نقصانات ہیں وہاں اس کی اِفادیت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ہے یہ اب ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم چیزوں کا استعمال کس طرح کرتے ہیں۔

اگر آپ اپنے آپ کو بہتر بنا لیں اور جب آپ کسی مقام پر پہنچ جائیں گے تو آپ کے بچے کل آپ سے بہتر ہوں گے اور یہ ارتقائی عمل جاری رہے گا اور ایک دن پاکستان میں ترقی اور خوشحالی ہو گی جبکہ مادروطن کا ہر فرد آسودہ حال ہو گا ۔ انشاء اللہ

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com