بہترین لکھاری افشاں نوید سے ایک ملاقات

حریم ادب : آپ کا تعارف ؟
افشاں نوید : افشاں نوید نام ہے۔کراچی یونیورسٹی سے معاشیات میں ماسٹرز کیا ہے ۔سن 88 شادی کے بعد ماسٹرز مکمل کیا اور دینی علوم میں گریجویشن شہادت العالیہ تقریباً دس برس پہلے کیا ہے۔ پانچ بچے ہیں ماشاءاللہ تین بیٹیاں ڈاکٹر ہیں جنھوں نے ڈاؤ یونیورسٹی سے ایم بی بی ایس کیا ہے۔ دو بیٹے ہیں ۔ایک ایچ آر پروفیشنل ہے۔اور دوسرا انجینئر۔ شوہر مالیاتی ادارے سے وابستہ رہے ہیں۔

حریم ادب : قلم سے دوستی کیوں اور کیسے ہوئی؟ مقصد میں کس حد تک کامیابی ملی؟
افشاں نوید : قلم سے دوستی کالج کے زمانے میں ہوئی۔ میری ہمنام کلاس فیلو ڈائجسٹ وغیرہ میں لکھتی تھی ہلکی پھلکی تحریریں۔ تو مجھے شوق ہوا اور بہت اچھا لگتا تھا جب کوئی چھوٹی سی بھی چیز چاہے وہ پسندیدہ شعر ہی ہو اپنے نام سے شائع ہوتا تھا۔ بات جہاں تک مقصد میں کامیابی کی ہے تو اخبار یارسائل میں لکھنے والوں کو قاری کا فیڈبیک دیر میں ملتا ہے لیکن سوشل میڈیا پر فوری مل جاتا ہے جو الحمدللہ حوصلہ افزا ہوتا ہے. کامیابی کا ایک معیار تو لوگوں کا فیڈبیک ہے لیکن ایک آپ کے ضمیر کا مطمئن ہونا بھی فیڈ بیک ہے کہ آپ اپنی بات پہنچا کر طمانیت قلب پاتے ہیں تو یہ بھی ایک طرح کا فیڈ بیک ہوتا ہے .
حریم ادب :آپ کی تحریریں معاشرے میں شہرت پانے والے لغو اور نقل شدہ ادب سے بالکل مختلف ہیں. کیا آپ کو نہیں لگتا اس طرح نام اور مقام بنانے میں طویل وقت درکار ہوگا ؟
افشاں نوید : اس کا جواب وہ لوگ بہتر دے سکتے ہیں جو نام اور مقام بنانے کے لیے لکھتے ہیں اس وقت شہرت پانا کوئی دشوار امر نہیں رہا۔ چائے والا ایک وڈیو کلپ کے ذریعے شہرت پا سکتا ہے۔یو ٹیوب پر شہرت کے متوالوں کے جمعہ بازار لگے ہیں۔

کوئی اٹھارہ برس کی عمر میں شادی کر کے ہیرو بن سکتا ہے، کوئی کسی کا مذاق اڑاتا ہے اور وڈیو وائرل ہوجاتی ہے ۔ سچی بات تو یہ ہے کہ مقام اللہ ہی دیتا ہے ہمیں اخلاص کے ساتھ اپنا کام کرنا چاہیے اس فکر سے بے نیاز ہو کہ مقام کب اور کتنا ملتا ہے۔ لوگوں کی نظر میں اچھا مقام ملنا اگرچہ ایک سعادت ہے لیکن بہت سے ایسے لوگ ہیں جن کو کوئی نہیں جانتا ،وہ گمنام رہنا پسند کرتے ہیں بڑے بڑے علمی و فکری کام کرتے ہیں مگر تشہیر سے کوسوں دور۔کچھ روزوشب خدمت خلق میں مصروف ہیں۔ ان کی زندگی بہت کامیاب اور مطمئن ہے لیکن ان کا نام کہیں نہیں چھپتا۔ تو کامیابی نام اور مقام میں قید نہیں ہے۔
حریم ادب : آپ کی کاوشوں اور اس مقام تک پہنچنے میں آپ کے اہل خانہ خصوصاً شوہر, باپ, بھائی اور بیٹوں کا کیا اور کیسا کردار رہا ؟
افشاں نوید : آپ نے اس مقام تک پہنچنے میں باپ بھائی اور شوہر کے کردار کی بات کی ۔تو پہلی بات تو یہ کہ میں نہیں سمجھتی میں کسی مقام تک پہنچ گئی ہوں۔چپکے سے بتاؤں میں خود کو لکھاری بھی نہیں سمجھتی۔جب دل کا درد بڑھتا ہے تو واردات قلبی قلم کا سہارا لیتی ہے۔ایسے ہزاروں لوگ ہیں۔ الحمداللہ الفاظ بھی رزق ہیں۔اللہ کی عطا ہیں۔ جہاں تک باپ اور بھائی کا تعلق ہےشادی سے پہلے تو دو چار سال ہی کچھ لکھا۔

شوہر کا معاملہ ہے تو یہ تو نہیں کہہ سکتی کہ وہ میری تحریروں کو پڑھتے ہیں یا پسند کرتے ہیں کیونکہ کبھی تبصرہ نہیں کیا۔ البتہ میرا لکھنا انہیں برا نہیں لگتا۔
تین عشرے پہلے اخبار کی میگزین ایڈیٹر کہتی تھیں اس موضوع پر تحریر فوری بھیج دیں کل کاپی جانی ہے۔ بعد نماز فجر لکھنے بیٹھتی اور ناشتے تک تحریر اپنے میاں کو لفافے میں ڈال کر تھما دیتی۔تین منزلیں سیڑھیاں چڑھ کر وہ ایڈیٹر کو پہنچاتے۔ایک دن فون آیا کہ شاید یہ اس صدی کے آخری آدمی ہیں جو بیوی کی ایک تحریر کے لیے تین منزلیں چڑھ کر آتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ گھر کے مردوں کے تعاون کے بغیر تحریر کیا کچھ بھی نہیں ہو سکتا لیکن ذمہ داری عورت کی ہے کہ وہ اپنی کسی بھی صلاحیت کے اظہار میں گھر اور گھر داری کے توازن کو متاثر نہ ہونے دے۔
حریم ادب : آپ کس معاشرے کی نمائندگی کرتی ہیں ؟ نیز آپ آج کی عورت کو کیا دلوانا چاہتی ہیں ؟ عزت, شہرت, دولت ؟
افشاں نوید : اول تو ہم کون ہوتے ہیں دلانے والے(اسمائیلی ایموجی) جو جس چیز کو طلب کرتا ہے اس در سے وہی پاتا ہے۔ اس دور کی عورت کو شعور کی ضرورت ہے سماج کو ایک شعوری ماں اور باعمل مسلمان عورت درکار ہے جو وقت کے چلیلنجز کو سمجھ سکے نہ صرف اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرے بلکہ اپنی اولاد کی بھی ایسی تربیت کرے کہ وہ بحیثیت مسلمان اپنے کردار کو پہنچان سکیں۔

کیونکہ کامیابی کا مطلب صرف دنیاوی کامیابی اور اعلیٰ معیار زندگی کا حصول نہیں ہے۔ جہاں تک سوال ہے کہ آپ معاشرے میں کس کی نمائندگی کرتی ہیں تو ہم مسلمان پاکستانی عورتیں اسی سماج کا حصہ ہیں۔جیسا برا بھلا ہے سب ہمارا ہے۔
حریم ادب : کتنی مرتبہ آپ کو یہ احساس ہوا کہ کاش میں حجابی نہ ہوتی ؟
افشاں نوید : حجاب اسلام کا حکم ہے اور کوئی مسلمان عورت کبھی یہ نہیں سوچ سکتی۔ وہ حجاب نہ بھی کرتی ہو تب بھی عزت کرتی ہے حجاب کی۔ اور جو حجاب کو پسند نہیں کرتے انکے لیے زبردستی بھی نہیں ہے لیکن میرا خیال ہے ایسی کم ہی عورتیں ہوتی ہیں جو مردوں کے دباؤ سے پردہ کرتی ہیں جو ایسا کرتی ہیں حجاب کے فائدے دیکھ کر وہ بھی حجاب چھوڑنے کا نہیں سوچتیں۔
حریم ادب : کونسے روئے، مزاج اور مطالبات تکلیف دیتے ہیں؟
افشاں نوید : ظاہر ہے کہ وہ روئیے اور مزاج جن میں لچک نہیں ہوتی۔ اور بات اتنی ہے کہ میں نے "ادب بے ادبوں" سے سیکھا ہے ۔ جو روئیے دوسروں کے تکلیف دیتے ہیں ہمیں چاہئے کہ خود ایسے رویوں اور مزاج سے گریز کریں اور کسی سے پہنچنے والی تکلیف کو سوار نہ کریں۔ انسانی دنیا ہے سب ہمارے جیسے نہیں ہوتے نہ ہم ہی سب کے معیار پر پورا اترتے ہیں!!

حریم ادب : آج کی عورت سے کیا چاہتی ہیں؟ اس کو کیسا دیکھنا چاہتی ہیں؟
افشاں نوید : ہم جیسا دوسرے کو دیکھنا چاہتے ہیں کیا خود ویسے بن گئے ہیں؟؟ اصل میں ہماری"چاہتیں" بہت زیادہ ہیں اور دوسروں سے بہت کچھ چاہتے ہیں ۔لوگ ایسا کریں،لوگ ذمہ دار شہری بنیں،لوگ کرپشن نہ کریں، لوگ دیانتداری اپنائیں،لوگ اپنے بچوں کی اچھی تربیت کریں وغیرہ لیکن اگر ہم خود کو اس "چاہت" میں پہلے نمبر پر رکھ لیں تو معاشرہ بدل جائے گا۔معاشرہ لوگوں کے بدلنے سے نہیں میرے بدلنے سے بدلے گا۔
حریم ادب : وہ پیغام جو آپ اپنی تحریروں کے ذریعے دوسروں تک پہنچانا چاہتی ہیں ؟
افشاں نوید : پیغام ،الحمدللہ میری تحریروں کے ذریعے پہنچتا رہتا ہے۔پیغام بڑا سادہ سا ہے کہ ہمیں اجتماعی معاملات میں بھی حساس ہونا چاہیے اور اپنی ذات کا قیدی نہیں ہونا چاہیئے۔۔ بحثیت عورت اپنی توانائی کو محسوس کرنا چاہیے اور میدان عمل میں اپنا مثبت رول ادا کرنا چاہیے۔
حریم ادب : اے کاش...... ؟
افشاں نوید کاش۔۔۔ جو مریخ پہ کاشتکاری کے خواب دیکھ رہے ہیں اور سمندر کی تہوں میں دفن خزانوں کے متلاشی ہیں کاش کہ زمین پر انسانوں کی طرح رہنا جانتے تو اللہ کی زمین یوں فساد کی آماجگاہ نہ بنتی۔
حریم ادب پاکستان نے یوم خواتین کے سلسلے میں یہ انٹرویو کیا)

Comments

افشاں نوید

افشاں نوید

روزنامہ جسارت میں کالم لکھتی ہیں۔ نوید فکر کے نام سے کالموں کا مجموعہ شائع ہو چکا ہے، اسی عنوان سے 5 ماہناموں میں تحاریر شائع ہوتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.