شَفَاحُفْرَةٍ پارٹ کنارے ایک گڑھے کے 5 (خدا کا گھر) - فرح رضوان

مطاف میں طواف کی وقتی ممانعت کے بعد لوگوں نے دھڑا دھڑ صحن کعبه کی تصاویر وائرل کرنا شروع کردیں ….کوئی کماتا رہا ،کوئی دشمن کی سازش کہہ کر کوستا رہا ، باقی سپورٹ کرتے رہے اور پھر سب بھول بھال گۓ . دہلی میں اسی دوران مسلم کش فسادات نے تباہی مچائی ، لوگوں نے مذمت کی پھر بھول بھال گۓ -

ویسے آپس کی بات ہے کس کس کا شدت سے دل چاہا کہ یہ تو حجر اسود کو چھو لینے چوم لینے کا بہترین وقت ہے ! طواف بیت اللہ تو بالکل اسکی چاروں دیواروں کے ساتھ ساتھ لگ کر ہو جانا ہے ! تو آجائیں جلدی سے ہم صحن کعبه میں جارہے ہیں …. رب کعبہ کو ایک ساتھ پکارتے لبیک الھم لبیک ! میں حاضر ہوں اے اللہ ! میں حاضر ہوں ،میں حاضر ہوں ، نہیں کوئی شریک تیرا، میں حاضر ہوں! بلا شبہ ہر تعریف اور ہر نعمت تیرے لیے ہی ہے اور تیری ہی بادشاہت ہے - نہیں کوئی شریک تیرا - اور ہم ابھی طواف کررہے ہوتے ہیں کہ جماعت کھڑی ہو جاتی ہے؛تو ہم میں جو جہاں ہے اللہ سب سے بڑا ہے کہتا ہوا ہاتھ اوپر اٹھا کر کھڑا ہو جاتا ہے ،دستبردار ہو کر ہر ضرورت و خواہش سے اور ارد گرد کے افراد سے تعصب سے پاک ہو کر کہتا ہے سبحانک اللھم ….. پاک ہے تو اے پروردگار …. ہم میں سے سب اس کھلے صحن کعبه میں نماز پڑھتے ہیں ، کسی کا رخ شمال کو ہے ، کوئی جنوب کو ، کوئی مشرق میں تو کوئی مغرب میں مگر عین بیت اللہ کے سامنے ؛تو ہم جان پاتے ہیں کہ کسی کا رخ غلط نہیں سمت باطل نہیں سب کا منہ گو کہ الگ سمت میں ہی ہے .

مگر پھر بھی وہ کعبه کی طرف مونہہ کر کے نماز پڑھ رہا ہے ؛سب کی نماز ان شا اللہ قبول ہوگی -بس اتنا ہی آپس کی سوچ کا فرق ہم اگر قبول کر کے یہ جان لیں کہ ہم میں فرق رہے گا مگر ہمیں تفرقے میں ہرگز نہیں پڑنا ، لڑنا نہیں ہے - خوبیوں کو سراہنا اپنانا ہے ،اور فرق کو سوچ کے الگ زاویے مان کر تحمل سے اسی طرح برداشت کرنا ہے جیسے اپنے ہاتھ کی انگلیوں میں فرق کو سمجھتے ہیں کہ اس فرق کی وجہ سے ہی تو ہم کچھ بھی اپنے ہاتھ سے پکڑ کر قابو کر سکتے ہیں ،مومن ہر نماز میں صف بستہ ایک اللہ کے آگے ایک ہی وقت میں جھک کر خود کو مضبوط بناتے ہیں -یہ ساری انگلیاں بیک وقت ہتھیلی کی طرف جھکیں تو سب برابر ہو جاتی ہیں ،اور بنتی ہے مٹھی ؛بس اسی مٹھی سے ہم سب کو مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنا ہے اور تفرقے میں نہیں پڑنا - اسکے سوا ہر دوسرا آپشن وہ تباہی کا گڑھا ہے جسکے کنارے ہم آن لگے ہیں - بہتر ہے ہم اللہ کےگھر کی اس درجے صفائی کو استعارہ-قدرت کا اشارہ سمجھیں کہ عموما دل کو خدا کا گھر کہا جاتا ہے -توہم بھی اپنے اپنے دل میں پرانے بوسیدہ تعصبات خوف نفرت وسوسے سب کاداخلہ ممنوع کرکے سب کو باہر نکال کردل کی اعلی درجےکی صفائی کا اہتمام کرلیں-

ایک بہت اہم بات سے ہم صرف نظر کر رہے ہیں کہ مطاف میں طواف کی ممانعت ماہ رجب میں ہوئی ہے - جب ہم شدت سے واقعہ معراج سے جڑ جاتے ہیں -اور بار بار سورہ الاسری /بنی اسرائیل کی پہلی آیات کو قوٹ کیاجاتا ہے- اس بارصرف اتنا کرلیجیۓ کہ اس سورہ کی شروع کی دس آیات کی تفسیر لازم پڑھ یا سن لیجیۓ - اس حدیث کی روشنی میں جسکا مفہوم ہے کہ مسلمانوں تم ہر ہر وہ کام کرو گے جو بنی اسرائیل کر گزرے - ----کچھ آیات کوہم لگے ہاتھ سرسری سا دیکھے لیتے ہیں[ اور ہم نے موسٰی کو کتاب عنایت کی اور اس کتاب کو بنی اسرائیل کے لئے ہدایت بنا دیا کہ خبردار میرے علاوہ کسی کو اپنا کارساز نہ بنانا (2)]
کتاب تو ہمیں بھی ملی مگر ہم قرآن کے صرف پانچ حق میں سے چار ادا ہی نہیں کر پاتے- ----سوچیں ذرا کہ ہمارا کوئی بھی بڑا یا چھوٹا ہمارا ایک بھی جائز حق اچھی طرح یا وقت پر ادا نہ کر پاۓ تو ہمارا دل کیسا کھٹا ہو جاتا ہے اس سے ؛ جبکہ یہاں تو ہم برسوں سے سستی اور بے پرواہی سے اس الہامی مقدس کتاب کے حق روکے بیٹھے ہیں جس پر ایمان ہے کہ بابرکت رب کا بابرکت کلام ہے -

کیا عجیب لوگ ہیں ہم کہ کوئی کلپ آجاۓ کہ فلاں قوم قران میں تبدیلی کر رہی ہے تو غم و غصے کا شکار حیران پریشان رویہ ہوتا ہے؛ جبکہ وہی تبدیلی کا کام خود کر رہے ہوتے ہیں مزے سے ….یقین نہ آئے تو اپنا بزنس کس پر قائم ہے،رہائش کے لیے گھر کی بنیاد کیا ہے ؟ ہماری خوشیاں ہمارے لباس کیسے ہیں دیکھ لیں یہ تبدیلی کفار نے زبردستی تو نہیں کروائی- اگلی بات کیا ہے کہ [خبردار میرے علاوہ کسی کو اپنا کارساز نہ بنانا (2)] ارے ابھی تو ہم نے تہہ دل سے اونچا اونچا بولا تھا نا لبیک ... بلا شبہ ہر تعریف اور ہر نعمت تیرے لیے ہی ہے اور تیری ہی بادشاہت ہے، نہیں کوئی شریک تیرا...مگر بات یہی ہے نا کہ قول اور فعل میں تضاد بڑا ہے کہتے ہیں بادشاہت اللہ کی مگر مرضی تو اپنے نفس کی چلنے دیتے ہیں ، کیا ہم مزے ، معیشت مستی، معاشرتی دباؤ اور مصلحت سب میں اللہ کی بادشاہت کو خاطر میں لاتے ہیں ؟ کیونکہ ہم تعریف کس کی چاہتے ہیں ؟ آنکھ کان زبان جسم و جان یا صلاحیتوں کی نعمت، اللہ کی نعمت مان کر اسکی اطاعت میں لگاتے ہیں ؟ -کرتے تو اپنی ہی مرضی ہیں؛

بس فرق یہ ہے کہ کبھی بے شعوری میں سمجھ نہیں پاتے ،اور کبھی کھل کر اعلان نہیں کر پاتے - ایسے رویوں کے بعد انسان صرف اللہ کو کارساز بنانے والا توکل کر ہی نہیں پاتا -ایمان ہونے کے باوجود عمل کی قوت سلب ہوجاتی ہے ؛جیسے بظاہر لحیم شحیم انسانوں کے گھٹنے اپنے ہی وجود کا بار سہنے سے انکاری ہو جاتے ہیں- انکے ہاتھوں میں تو قوت ہوتی ہے مگر گھٹنوں کی کمزوری کے سبب وہ بوجھ ہاتھوں میں اٹھانے سے قاصر ہوتے ہیں -یا پھر اس طاقتوربچے کی طرح جو بھاری چیز اٹھا تو لیتا ہے مگر رکھتے وقت ناسمجھی کے سبب اپنے ہی آپ کو یا دوسروں کو نقصان پہنچا دیتا ہے - گزشتہ برسوں میں بہت سے مسلمانوں نے عمرہ و حج کو ہندوؤں کے گنگا اشنان جیسا سمجھ لیا ہے ،کہ جو چاہو اپنی اپنی مرضی سے کماؤ ،لگاؤ یا گنواؤ اور پھر عمرہ یا حج کر کے پوتر ہو جاؤ - پھرتیسری آیت سےآگے پڑھیں تو مسلمانوں کے حالیہ حالات کی خبریں تجزیے تبصرے سب مل جائیں گے وہ بھی ہرچینل سے چودہ سو سال پہلے اہم خبر سچی خبر سب سے پہلے خبر یہی تو چاہتے ہیں نا ! تو خدارا ان دس آیات بلکہ پوری سورہ کی تفسیر ضرور سنیں یا پڑھیں -

Comments

فرح رضوان

فرح رضوان

فرح رضوان کینیڈا میں مقیم ہیں۔ خالق کی رضا کی خاطر اس کی مخلوق سے لگاؤ کے سبب کینیڈا سے شائع ہونے والے ماہنامے میں قریباً دس برس قبل عائلی مسائل پرلکھنا شروع کیا تھا، اللہ کے فضل و کرم سے سلسلہ جاری ہے۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com