عورت کا گھر سے باہر نکلنا - تزئین حسین

اس مضمون کا مقصد عورتوں کو مردوں کی طرح کسب معاش کے لئے گھروں سے نکالنے کی ترغیب دینا نہیں ہے- نہ مردوں کی قوامیت کو چیلنج کرنا ہے- نہ عورتوں کو جسمانی محنت کے شعبوں میں اپنے آپ کو منوانے کے لئے راضی کرنا ہے-

ہاں دوررسول، دور صحابہ اور قرون وسطیٰ کے عہد کا جائزہ لے کر "قرن بیوتکن" کا مفہوم سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے کہ کیا اسلام جائز حدود کے اندر الله کی دی ہوئی صلاحیت کے استعمال، مجبوری کی حالت میں کسب معاش, یا معاشرے کی بہتری کے لئے رضا کا رانہ طور پر عورت کے گھر سےباہر نکلنے پر پابندی لگاتا ہے یا اسکی اجازت دیتا ہے- خواتین ڈے اور خصوصاً عورت مارچ کے تناظر میں ہمیں معاشرتی اسٹیریو ٹائپس سے بلند ہو کر اس اہم موضوع کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں- کوئی ٢٠٠٢ کی بات ہے, پاکستان کے ایک مقبول دینی اور فلاحی جماعت کے نمائندہ اخبار میں اس جماعت کے سربراہ کے لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے خیالات پر ایک مختصر تحریر پڑھنے کا اتفاق ہوا- موصوف کا خیال تھا کہ خواتین کی تعلیم انتہائی محدود ہونی چاہئے- مغربی طرز کی تعلیم کے تو خیر وہ خلاف تھے ہی, خواتین کو زیادہ دینی تعلیم کے بھی دینے کے خلاف تھے- انکا کہنا تھا بعض والدین اپنی بچیوں کو فخریہ عالمہ کا کورس کرواتے ہیں جو غلط ہے- اپنی زوجہ محترمہ کے محاسن کے بارے میں وہ فخریہ بتاتے تھے کہ انہیں فون پر بات کرنا نہیں آتی تھی-

انکا یہ بھی کہنا تھا کہ لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے کے بجائے گھر کا کام کرنا چاہئے اور اگر گھر کے کام کے بعد وقت بچتا ہے تو ہمیں بتائیں, ہم مدرسوں کے جھاڑو، برتن، صفائی کے کام سرانجام دینے کی ڈیوٹی ان پر لگا دیں گے- الفاظ مختلف ہو سکتے ہیں لیکن مولانا کا مفہوم یہی اور انداز اس کہیں زیادہ حقارت آمیز تھا-
الله کی بنائی ہوئی اشرف المخلوقات کی ذہنی صلاحیت کو یکسر نظر انداز کر کے اسکی کمزور جسمانی اہلیت کو بوجھ ڈھونے والے ایک گدھے کی طرح استعمال کرنے کا خیال راقم کے ساتھ ساتھ ہر دماغ رکھنے والی عورت کے لئے تکلیف دہ ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس آج امت جس فکری، علمی اور اخلاقی انحطاط سے گزر رہی ہے اور جس انتہا پسندی کا شکار ہے، اسکے کچھ طبقات خواتین سے متعلق ایسے ہی خیالات رکھتے ہیں- راقم کو پچھلے دو سالوں میں سوشل میڈیا پر براہ راست ایسے "پڑھے لکھے" لوگوں اور مصنفین کی رائے جاننے کا اتفاق ہوا جنکے خیالات ان بزرگ کے خیالات کا پرتو ہیں- ایک طرف عورت مارچ کے شرکاء ہیں جو 'میراجسم میری مرضی'، کھانا خود گرم کر لو'، 'اپنے موزے خود ڈھونڈ لو'، جیسے اشتعال انگیز نعرے لگا کر عورتوں کے حقوق کی جدوجہد کی تحریک کو غلط سمت میں موڑ رہی ہیں .

اوردوسری طرف ہمارے معاشرے کے روایتی طبقات ہیں, جو ان حقوق سے واقف ہی نہیں جو عورت کو قران، سیرت رسول اور دور صحابہ میں حاصل تھے- راقم کے نزدیک عورت مارچ کا حل یہی ہے کہ اسلام پسند طبقات سنجیدگی سے پاکستانی عورت کے اصل مسائل کو سامنے رکھ کر اسکے حقوق کی تحریک چلائیں اور اسے وہ حقوق دلوانے کی کوشش کریں جو اسکے مذہب نے اسے دیئے ہیں- یہ مضمون عورت کے گھر سے نکلنے سے معاشرتی اسٹیریو ٹائپس کے پہلو پر بحث کا آغاز کر رہا ہے- امید ہے دوسرے مصنفین بھی عورتوں کے اسلامی حقوق پرقلم اٹھائیں گے- آج ١٧ سال گزرنے کے بعد بھی مجھے مذکورہ بالا عالم دین کہلانے والے اور بہت بڑا حلقہ رکھنے والے صاحب کے خیالات یاد آتے ہیں تو تکلیف ہوتی ہے کہ انکے نزدیک صنف نازک صرف گدھوں کی طرح جسمانی بوجھ اٹھانے کے لئے پیدا کی گئی ہے- مجھے آج اس تحریر کی یاد اس لئے بھی آئی کہ بعض بظاہر دیندار نوجوانوں کے خیالات دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ آج ٢٠٢٠ میں یہ فکر پاکستان میں خاصی مقبول ہو چکی ہے کہ اسلام خواتین کو گھر سے نکلنے یا دینی یا دنیا وی تعلیم کے خلاف ہے یا کسی بھی صورت میں کسب معاش کا حق یا معاشرے کی بہتری کے لئے اپنی صلاحیتوں کے استعمال کا حق نہیں دیتا-

ان نوجوانوں کا کہنا ہے کہ جنسی ہراسانی سے بچنا ہے تو عورت کو گھر میں محدود رہنا چاہئے- اگر عورت گھر سے نکلے گی تو اسکے ساتھ یہ تو ہوگا کیونکہ یہ مرد کی فطرت ہے- یہ انتہا پسندانہ سوچ کہاں تک مسلم معاشروں میں نفوذ کرگئی ہے اسکا اندازہ لگانا مشکل ہے- کوئی دس سال پیشتر میں نے سعودی عرب کے ایک اخبار میں پڑھا کہ سعودی علماء کی کونسل میں کسی نے حج کے لئے مسجد الحرام کی ایک منزل عورتوں کے لئے مخصوص کرنے اورمردوں اور عورتوں کے طواف کو علیحدہ کرنے کی سفارش کی، جسے سعودی علماء نے متفقہ طور پر انتہا پسندی کہہ کر مسترد کر دیا- یاد رہے آج سے دس سال پیشتر سعودی علماء دینی معاملات میں فیصلہ دینے میں آزاد ہوتے تھے اور یہاں انہوں نے بہت اصابت رائے کا ثبوت دیا- اسی طرح ایسے طبقات بھی موجود ہیں، جنکا کہنا ہے کہ عورت اگر اپنے پیروں پر کھڑی ہو گئی، معاشی طور پر با اختیار ہو گئی تو وہ باغی ہو جاتی ہے اور اپنے بچوں اور شوہر کی پرواہ نہیں کرتی اور اسی لئے طلاقوں کی تعداد بڑھ گئی ہے- مقصد یہ کہ عورت کو مالی طور پر بااختیار نہ ہونے دین اور نہ اتنی تعلیم حاصل کرنے دیں کہ وہ ایسا سوچ سکے-

اس سے آگے بڑھ کر ہمارے ایک دیندار دوست نے جنکی اپنی بیٹیاں چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ اور انجنیئر ہیں، آج ایک وڈیو شئیر کی جس کے مطابق عورتوں کی تعلیم، ترقی اور انکے حقوق کی بات کرنا مغرب کی سازش ہے، جسے میڈیا کے ذریعے آگے بڑھایا جا رہا ہے اور اسی لئے طلاقیں ٩٩ فیصد عورتیں مانگ رہی ہیں- کچھ سال پہلے ٹی وی پر ایک دیندار سلیبرٹی کا ایک تاک شو دیکھا جن کا کہنا تھا کہ عورتوں کو ڈرائیونگ نہیں کرنی چاہیے- اینکر خاتون نے یہ پوچھنے کی جرآت کی کے اگر کسی خاتون کے گھر میں مرد نہیں تو؟ سلیبرٹی غصے میں آ گئی کہ استثنیٰ کا تذکرہ نہ کریں- مغرب میں اسلام کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے کہتے آئے ہیں کہ اسلام عورتوں کو گھر میں مقید کردیتا ہے اور اسے مرد کی ملکیت بنا دیتا ہے- افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے کچھ کم نظر، کم علم، اور ذہنی طور پر ہندوستان کے ماحول سے آلودہ حضرات جو ہندو مت کے تصورات کو اسلام سمجھتے ہیں، وہ بھی اس معاملے میں مغرب کی پیروی کرتے نظر آتے ہیں- اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اس معاملے میں بڑی تعداد میں دینی حلقے بھی افراط و تفریط کا شکار ہو رہے ہیں-

میرا مشاہدہ ہے کہ عرصہ بیس سال سے کینیڈا میں رہائش پذیر بعض پاکستانی حضرات ، خواتین کی تعلیم کے حوالے سے اس مغالطے کا شکارہیں کہ یہ دینی طور پر صحیح نہیں- یہی صورت حال سوشل میڈیا پر کچھ دینی حلقوں کی والز پر نظر آتی ہے - عام طور سے پاکستان بلکہ جنوبی ایشیا میں عورت کا گھر سے نکلنا اور مخلوط ماحول میں اسکی موجودگی کو بہت سی معاشرتی برائیوں کی بنیاد سمجھا جاتا ہے اورخود اسکی حفاظت اور اسے جنسی ہراسانی سے بچانے کے لئے بھی اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ وہ بغیر کسی شدید ضرورت کے گھر سے قدم باہر نہ نکالے- لیکن کیا دور رسول میں بھی ایسا ہی ہوتا تھا ؟ آئیے اس سوچ اور نقطہء نظر کے مختلف پہلوؤں کو صحابیات کے عملی طرز عمل سے جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں - حضرت انس راوی ہیں اور صحیح مسلم اور بخاری دونوں کی روایت ہے کہ رسول اللہﷺ ام حرام بنت ملحان کے پاس جو عبادہ بن صامت کے نکاح میں تھیں تشریف لے جایا کرتے تھے- یاد رہے حضرت انس کی والدہ ام سلیم اور ام حرام بہنیں تھیں اور حضورﷺ کی رشتے میں خالہ ہوتی تھیں (ابن عبدالبررحمہ اللہ تعالی وغیرہ کا کہنا ہے کہ یہ رضاعی خالہ تھی - )

آپ صلیٰ الله علیہ وسلم ایک دن ان کے پاس تشریف لے گئے تو انہوں نے آپ کو کھانا کھلایا اوررسول اللہ ﷺ کو وہیں نیند آگئی ، پھر آپ بیدار ہوئے تو ہنس رہے تھے؟ آپ نے فرمایا کہ میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کیے گئے جو اللہ کی راہ میں جہاد کر رہے تھے، سمندر کے بیچوں بیچ جہاز پر سوار بادشاہوں کی طرح تختوں پر بیٹھے ہوئے تھے، ام حرام رضا الله نے کہا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ اللہ سے دعا کریں کہ مجھ کو ان میں شامل کر دے، نبی ﷺ نے ان کے لیے دعا کی، پھر آپ نے اپنا سر مبارک رکھا اور سو گئے، پھر بیدار ہوئے تو ہنس رہے تھے میں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ﷺ آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں، آپ نے فرمایا میری امت میں سے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کیے گئے جو اللہ کی راہ میں جہاد کر رہے تھے، جیسے پہلی بار فرمایا تھا، ام حرام نے کہا یا رسول اللہ ﷺ دعا کریں کہ اللہ مجھ کو ان میں شامل کر دے آپ نے فرمایا تو پہلے لوگوں میں سے ہے- (صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 1929)-

سوال یہ ہے کہ اگر دین کا منشا یہ ہے کہ عورت گھر میں ہی مقید رہے تو ایک جلیل القدر صحابیہ کی یہ مجال کیسے ہوئی کہ آنحضرت سے جہاد میں شرکت کی درخواست کرتیں اوروہ بھی ایسے جہاد میں جو اس دور کے حساب سے بہت لمبی مسافت پر تھا اور ظاہر ہے بہت پر خطر اور پر صعوبت تھا- سمندری جہاد اس دور میں اتنا پر خطر سمجھا جاتا تھا کہ حضرت عمر فاروق رضی الله تعالیٰ عنہہ نے اپنے دور میں مسلمان لشکروں کو اسکی اجازت نہیں دی کہ وہ مسلمان کی جان کی حفاظت کے حوالے سے بہت محتاط تھے- لیکن پھر بھی سرکار صلیٰ الله نے ام حرام رضی الله کو اس خواہش سے منع نہیں فرمایا کہ ایسا سوچنا عورتوں کے لئے جائز نہیں ہے- وہ انہیں سمجھا سکتے تھے کہ اسلامی لشکر میں تمہارا کیا کام ؟ تم اپنے گھر میں بیٹھو اور گھر کے کام سر انجام دو- اسکے بجائے سرکار صلیٰ الله علیہ وسلم نے انکے لئے دعا فرمائی- اور اس دعا کی قبولیت کا ثبوت قبرص کی سر زمین پر ام حرام کی قبر مبارک کی صورت آج بھی دیکھا جا سکتا ہے- اس ایک حدیث سے بہت سی باتیں واضح ہوتی ہیں- کسی عورت کا جائز حدود میں گھر سے نکلنا بغیر مجبوری کے بھی جائز ہے- وہ معاشرے یا امت کے لئے جہاد جیسے فریضے میں شرکت کی خواہش رکھ سکتی ہے اور اس پر عمل پیرا بھی ہو سکتی ہے-

عورت کا عبادت، حصول تعلیم، کسب معاش، خریداری، معاشرے کی بہتری، دین کی دعوت کے لئے گھر سے نکلنا قران، دور رسول اور دور صحابہ کے واقعات سے ثابت ہے- جو حدود و قیود اسلا م عورت کے لئے متعین کرتا ہے وہ خود اس بات کا ثبوت ہیں کہ اسکا باہر نکلنا مطلقاً منع نہیں- آگے آنے والی دور نبوی کی مثالیں جو متفقہ احادیث سے لی گئی ہیں واضح کرتی ہیں کہ حدود کے پابندی کے ساتھ مسلمان عورت دینی اور دنیاوی ضرورتوں کے لئے مجبوری اور بغیر مجبوری بھی گھر سے نکل کر اپنا کردار ادا کر سکتی ہے-

جہاں تک کفالت کا تعلق ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ کفالت کو اسلام ہر صورت مرد کی ذمہ داری بتاتا ہے- یہاں تک کہ اگر فقہہ کے نزدیک اگر کسی جسمانی معذوری یا کسی دوسری وجہ سے وہ خود نہ کما سکے تو اپنے خاندان کی کفالت بھیک مانگ کر بھی کرنی جائز ہے- خود مال دار عورت اپنے نادار شوہر کو زکواة دے سکتی ہے- لیکن اس سے یہ مطلب لینا کہ اسلام کسی بھی حالات میں عورت کے گھر سے باہر نکلنے یا کسب معاش کو ناجائز قراردیتا ہے، صحیح نہیں- ابتدائی اسلامی ادوار اور قرون وسطیٰ بلکہ انبیاء کے قصے بھی اس تصور کی نفی کرتے ہیں- عورت کو مجبور نہیں کیا گیا کہ وہ کسب معاش کے لئے گھر سے نکلے لیکن دین، جائز حدود میں رہتے ہوئے، تعلیم حاصل کرنے، تفریح، کسب معاش، یا معاشرے کی فلاح کے لئے کام کرنے کے خلاف نہیں ہے-

دور رسالت سے مثالیں
سیرت میں مذکور ہے کہ آنحضرت صلیٰ الله علیہ وسلم نے ام المومنین حضرت عائشہ کے ساتھ دو مرتبہ دوڑ کا مقابلہ کیا- (بخاری: باب الاصحاب فی المسجد ٤٥٤) ظاہر ہے یہ دوڑ مسجد نبوی کے کسی حجرے میں نہیں ہوئی ہوگی- قران میں مذکور واقعہ افک سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ واقعہ سفر کے دوران پیش آیا لیکن اس پورے واقعہ میں قران کہیں یہ نہیں کہتا کہ آئندہ خواتین گھر سے نہیں نکلا کریں گی-

اسی طرح خواتین کو حج کی اجازت ہی نہیں دی گئی اسے فرض قرار دیاگیا ہے- اگراسلام واقعی عورت کو گھر تک محدود رکھنا چاہتا ہے تو حج جیسے پر صعوبت سفر کی اجازت اسے کیوں دی جاتی- صحابیات کو پانچ وقت مسجد میں نماز کی اجازت موجود تھی- روایت کے مطابق حضرت عمر رضی الله تعالیٰ نے نا پسندیدگی کے باوجود اپنی زوجہ کومسجد جانے سے نہیں روکا اور وہ انکی شہادت کے وقت انکے اقتداء میں مسجد نبوی میں جماعت میں شامل تھیں-
برصغیر میں اسکا رواج نہیں بلکہ اسے معاشرتی طور پراسکی ممانعت ہے، لیکن ہمارا دین عید کی نمازکے لئے خواتین کو عید گاہ جانے کا با قاعدہ حکم دیتا ہے- دور نبوی میں مسجد جانے کی ہی نہیں جہاد میں عورتوں کی شرکت کی خواہش کو بھی قابل تعریف سمجھا گیا ہے-

حضرت عائشہ سے متعلق بیشتر احادیث سے ثابت ہے کہ وہ تقریباً ہر سفر میں نبی اکرم صلیٰ آلہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتی تھیں اور انکا تذکرہ قران و حدیث میں انتہائی پسندیدہ الفاظ میں کیا جاتا ہے - تیمم کے حکم کے حوالے سے حضرت عائشہ کی سفر میں شرکت پر تشکر کے جذبات کا اظہار کیا گیا ہے-

قران تو واقعہ افک کو بھی رحمت ہی قرار دیتا ہے- اس پر تفصیلی تبصرے میں کہیں یہ حکم موجود نہیں کہ آئندہ خواتین سفر پر نہیں جائیں گی - اسکے علاوہ مسلم سوسائٹی کے اخلاقی انحطاط کی ذمہ داری کہیں بھی خاتون پر نہیں ڈالی گئی- ورنہ ایسا بھی ہو سکتا تھا کہ ایسے واقعات سے بچنے کے لئے خواتین کے گھر سے نکلنے پر کوئی پابندی لگا دی جاتی بلکہ اسکے بجائے اسلامی معاشرے کو ایسے معاملات میں اخلاقی انحطاط سے بچنے کے لئے سورۂ نور میں تفصیلی ہدایا ت دی گئیں-

اسکے علاوہ دور نبوی میں تقریباً ہر غزوے میں خواتین کی شرکت کا ذکر ملتا ہے- ان میں پانی پلانے زخمیوں کی مرہم پٹی کرنے کے علاوہ کم از کم ایک خاتون ام عمار رضی الله عنہا کا باقاعدہ تلوار لے کر جہاد کرنے کا بھی تذکرہ بارہا موجود ہے-

کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک ایمرجنسی صورت حال تھی اس سے عمومی حالات میں خواتین کے گھر سے نکلنے کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا- لیکن دوسری طرف ہم یہ دیکھتے ہیں کہ دورنبوی میں عام حالات میں بھی پنج وقتہ نماز، اور دین کے علم کے حصول کے لئے خواتین کے آنحضرت کے پاس حاضری اور اپنی زندگی کے حوالے سے سوالات کرنے کا ذکر ملتا ہے- ایسی کوئی روایت نہیں ملتی جب ان خواتین سے کہا گیا ہو کہ تم اپنے گھر میں بیٹھو، تمہاری طرف سے یہ سوالات تمھارے شوہر یا محرم رشتے دار کر سکتے ہیں اور وہی تمہیں دین سکھائیں گے-

یہ بھی پڑھیں:   ٹرینگ ، ٹرینگ ، فون کی گھنٹی بجتی ہے - صائمہ عبدالواحد

ہم دیکھتے ہیں کہ خواتین اپنے مسائل حضورص سے دریافت کرتیں یہاں تک کہ ایک واقعہ میں ایک خاتون نے بھری محفل میں آنحضرت سے نکاح کی خواہش کا اظہار کیا- پیارے رسول کے تامل پر ایک اور صحابی نے اسی محفل میں ان صحابیہ سے عقد کی خواہش کی جسے قبول کیا گیا- (صحیح بخاری کتاب نکاح: حدیث نمبر ٢٤) اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ مساجد میں خواتین کے حصے اس دور میں آج کی طرح الگ نہیں ہوا کرتے تھے-

عورتوں کی تعلیم کتنی اہم ہے کہ حدیث میں اپنی بیٹیوں، بیوی یہاں تک کے کنیزوں کو بھی تعلیم دلانے کا حکم دیا گیا ہے-
عالم اسلام کے معروف اسکالر ڈاکٹر حمید الله جنہوں نے اسلام پر مغربی مستشرقین کے اعتراضات کے جواب دینے کے لئے اپنی پوری زندگی وقف کر دی، نے خطبات بھاولپور میں ابتدائی ادوار میں آنحضرت کے وحی اترنے کے بعد خواتین کی علیحدہ محفل میں تعلیم کا بھی ذکر کیا ہے- انھوں نے سرکار ص کی طرف سے ایک خاتون کو جماعت سے مردوں کو نماز پڑھانے کی اجازت کا بھی تذکرہ کیا ہے گو بعد کے ادوار میں ہمیں ایسی کوئی اور روایت نہیں ملتی-

بعض لوگ اس معاملے میں یہ استدلال دیتے ہیں کہ سیرت رسول کی بات اور تھی اور اب ماحول بہت خراب ہو گیا ہے اس لئے اب خواتین کے گھر سے نکلنے پر پابندی لگا دینی چاہیے- یہی بات حضرت عائشہ سے بھی مروی ہے کہ انہوں نے دور نبوی میں جو ماحول دیکھا تھا، انحضرت ص کے وصال کے بعد اس میں بہت تبدیلی آ گئی تھی- لیکن حضرت عائشہ کے قول کے باوجود اور حضرت عمر کی ناپسندیدگی کے باوجود عورتوں کے مسجد میں جانے پر پابندی نہیں لگائی گئی کہ کہ دین میرے سرکار صلیٰ الله علیہ وسلم کی زندگی میں مکمل ہو گیا تھا- اب اس میں ترمیم اور اضافے کی گنجائش ختم ہو گئی تھی-

خواتین کے مسجد میں جانے کی روایت کو قرون وسطیٰ اور بعد کے ادوار میں بھی قائم رکھا گیا اور آج بھی عربی بولنے والے ملکوں میں مسجد میں خواتین کی حاضری ایک عام سی بات سمجھی جاتی ہے- لیکن بر صغیر اور افغانستان میں کسی وجہ سے شروع سے یہ روایت نہیں پنپ سکی- خطے کی لاکھوں مساجد میں سے بہت کم میں باقائدہ خواتین کی نماز کی سہولت موجود ہے- عموماً وقت پڑنے پر مجبوراً اجازت دے دی جاتی ہے لیکن کچھ کراہت کے مظاھرے کے ساتھ- کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جو مذہب نماز اور دین کا علم حاصل کرنے کے لئے عورتوں کو (مخصوص حدود میں) پانچ وقت نماز کے لئے گھر سے نکلنے کی اجازت دیتا ہو وہ اسکو طالبان کی طرح گھر تک محدود کرنے کے حق میں کیسے ہو سکتا ہے؟

لیکن با لفرض اگر یہ بات مان بھی لی جاتی ہے کہ کوئی صحابیہ گھر سے مذکورہ امور کے لئے گھر سے نہیں نکلتی تھیں تو بھی اس دور میں رفع حاجت کے لئے تو گھر سے نکلنا ہی پڑتا ہو گا- اسکا انتظام تو ظاہر ہے مسجد نبوی سے منسلک حجروں میں نہیں کیا جا سکتا تھا- حقیقت یہ ہے کہ برصغیر میں ہم ایک ایسے اسلام کی پیروی کر رہے ہیں جسے ہندو مت کی چھلنی سے گزار کر مزید پاکیزہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے-

دور نبوی میں عورتوں کے گھر سے نکل کر معاش کی جدو جہد، جہاد اور تفریح کی مثالیں
ابتدائی اسلامی ادوار اور قرون وسطیٰ بلکہ انبیاء کے قصے بھی اس تصور کی نفی کرتے ہیں کہ عورت کا دائرہ صرف گھر تک محدود ہے- قران میں مذکور حضرت شعیب رضی الله کی بیٹیوں کا کنویں پرمویشیوں کو پانی پلانے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا انکی مدد کرنا اس کا ثبوت ہے- سوال یہ ہے کہ حضرت شعیب علیہ سلام کی بیٹیوں کو اگر باپ کی ضعیفی کی وجہ سے بکریوں کو پانی پلانے کے لئے گھر سے نکلنا پڑ سکتا ہے تو آج کسی غریب عورت کی اس مجبوری کو ہم دین کے نام لیوا سمجھنے پر راضی کیوں نہیں؟

بخاری کی روایت ہے کہ اسماء بنت ابو بکر دو میل کے فاصلے سے اپنے شوہر کے باغ سے کھجوریں توڑ کر لاتیں- ’ابو بکر صدیق کی بیٹی اسماء رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ زبیر رضی اللہ عنہ نے جب مجھ سے شادی کی تو ان کے پاس سوائے ایک اونٹ اور گھوڑے کے کوئی مال تھا اور نہ غلام۔ میں اس گھوڑے کو چارہ ڈالتی، اور پانی پلاتی تھی،میں مشکیزے کی مرمت کرتی، آٹا گوندھتی، لیکن میں روٹی صحیح نہیں بنا تی تھی، انصاری ہمسائیاں مجھے روٹی بنا دیتی تھیں، وہ نہایت راست باز خواتین تھیں۔اور میں زبیر کی اس زمین سے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں دی تھی، وہاں سے کھجور کی گٹھلیاں سر پر اٹھا کر گھر لاتی تھی، وہ زمین ہمارے گھر سے دو تہائی فرسخ (دومیل)کے فاصلے پر تھی۔ (بخاری، رقم ۵۲۲۴)
یاد رہے یہ دور نبوی کا واقعہ ہے اور یہ صحابیہ حضرت عائشہ رضی الله کی ہمشیرہ اور ابو بکر صدیق رضی الله کی بیٹی تھیں-

الله کے رسول نے خواتین کے کام کرنے اور اپنی کمائی سے صدقہ کرنے کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھا- یہاں تک کے طلاق کی عدت کے دوران بھی- ’’جابر بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ میری خالہ کو طلاق ہوئی، اس نے چاہا کہ وہ اپنے باغ کی کھجوریں برداشت کریں، تو ایک آدمی نے میری خالہ کو ڈانٹتے ہوئے گھر سے نکلنے سے روکا۔ تو میری خالہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، توآپ نے اس کی بات سن کر فرمایا: ہاں ہاں تم اپنے باغ سے پھل توڑو، جس کے بعد امید ہے تم صدقہ و زکوٰۃ بھی دو گی یا تم کوئی اوربھلا کام کرو گی۔‘‘ ( صحیح مسلم رقم ۱۴۸۳)

یہ چند مثالیں جو ہم سامنے رکھ رہے ہیں- طوالت کے پیش نظر ایسی تمام مثالیں رقم کرنا ممکن نہیں- کیا عورت پہلی دفعہ ماڈرن دور میں گھر سے نکلی ہے؟ عورت ہر دور اور ہر خطے میں گھر سے باہر نکلی ہے .ایک غلط فہمی ہمارے ہاں یہ پائی جاتی ہے کہ عورت پہلی مرتبہ ماڈرن دور میں گھر سے نکلی اور اسے مغربی معاشرے یا فیمنسٹ تحریک نے گھر سے نکالا-

جہاں تک مغربی عورت کا تعلق ہے یہ صحیح ہے کہ پہلی جنگ عظیم سے پہلے مغربی دنیا میں بھی عورتوں کو با قاعدہ کمانے کے لئے گھر سے باہر صنعتی مزدور کا کردار نہیں دیا گیا تھا لیکن اسکے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ عورت ہر دور میں دنیا کے ہر خطے میں گھر سے باہر نکلی ہے- وہ حضرت مریم کی طرح عبادت کے لئے معبد میں بھی مقیم رہی ہیں اور حضرت شعیب کی بیٹوں کی طرح باپ کی ضعیفی میں بکریوں کو پانی پلانے بھی نکلی ہیں- قبل اسلام کی عورت اگر با اختیار نہ ہوتی تو حضرت خدیجہ رضی الله کی طرح بزنس کیسے کرتی اور خود اپنے ہونے والے ہونے والے شوہر کو پسند کرکے رشتہ کیسے بھیجتی، ابو طالب کی زوجہ فاطمہ کی طرح اورحضرت عمر رضی الله کی بہن کی طرح گھر کے مردوں کے خلاف جا کراور حضرت سمیہ رضی الله کی طرح غلامی میں اسلام کیسے قبول کرتی-

عورتوں نے کھیتوں میں بھی کام کیا ہے اور جکومتیں بھی کی ہیں (چاہے انکی حکومتیں مستثنیات میں ہی شامل کیوں نہ ہوں)، اپنے حکمران شوہروں کو سیاسی مشاورت بھی دی ہے اور سلطنت عباسیہ اور مغلیہ سلطنت کے سنہرے ادوار میں دی ہے) استثنیٰ کے طور پر سہی عہد جدید کے عظیم مفکر ابو الاعلیٰ مودودی نے فاطمه جناح کی الیکشن میں ملٹری ڈکٹیٹر اور وقت کے حکمران ایوب خان کے مقابلے میں علی الاعلان حمایت کی-

جدید دور میں جماعت اسلامی خواتین کا ایک بہت منظم تعلیمی اورفلاحی نیٹ ورک رکھتی ہے جوخواتین کے گھر سے نکلے بغیر ممکن نہیں- یہ خواتین اپنے گھر اور بچوں کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ ورکنگ وومن ٹرسٹ، وومن لیگل ایڈ، اور بیٹھک اسکول جیسے پروجیکٹس بھی چلا رہی ہیں اور سیلاب اور زلزلے میں بھی انکی خدمات سے انکار نہیں کیا جا سکتا- اسکے علاوہ اندروں سندھ، بلوچستان، کے پی کے اور پاکستان کے دیگر پس ماندہ علاقوں میں دین کی دعوت کے حوالے سے بھی انکے کام کی افادیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا- ظاہر ہے یہ سب کچھ گھر سے نکلے بغیر ممکن نہیں ہوتا- آج بیرون ملک خصوصاً مغرب میں مقیم پاکستانی خواتین اگر اعتماد کے ساتھ حجاب اور نقاب کر رہی ہیں- اپنے بچوں کی اسلامی تربیت کا شعور رکھتی ہیں تو بہت حد تک اس کا کریڈٹ اسلامی تنظیموں کی ان خواتین کو جاتا ہے جنہوں نے اپنی گھریلو اور کبھی کبھی پروفیشنل ذمہ داریوں کے ساتھ گھر سے نکل کر قران کی تعلیم کو عام کیا اوراسلامی لٹریچر دوسری خواتین تک پہنچایا- معذرت کے ساتھ ہمیں چار دیواری کے حوالے سے اپنے بیانیہ پر نظر ثانی کرنا ہو گی-

سیرت رسول اور دور صحابہ میں ہمیں عورت کے گھر سے باہر نکلنے کے خلاف کوئی روایت نہیں ملتی- قران خود عورت کو نا محرم مرد سے بات کرتے ہوئے اپنا لہجہ سخت رکھنے کا حکم دیتا ہے کہ اگر کسی کے دل میں کوئی برا ارادہ ہے تو وہ پنپنے نہ پائے- یاد رہے نا محرم مردوں سے ضرورت کے تحت بات چیت کو ممنوع قرار نہیں دیا گیا لیکن پھر بھی پاکستان کے بعض علاقوں یا بعض مکاتب فکر کے لوگوں کے نزدیک اس چیز کو تقریباً حرام سمجھا جاتا ہے -

عورت کا گھر سے نکلنا نا گزیر ہے
اس معاملے کا ایک پہلو یہ ہے کہ ہمارے ہاں ایسے حلقوں کی کمی نہیں جو معاشرے کی ہر برائی کا ذمہ دار عورت کی بے پردگی اور گھر سے باہر نکلنے کو سمجھتے ہیں اور اسے تعلیم اور مجبوری میں کسب ماش کے لئے گھر سے باہر نکلنے والی عورت کو عزت دینے کے لئے تیار نہیں- یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہ حلقے مرد پر غض بصر یعنی نگاہیں جھکا کے رکھنے کو یا دیگر پابندیوں کو اسکی فطرت کے خلاف سمجھتے ہیں- اس لئے یہ جنسی ہراسانی وغیرہ کو مرد کی فطرت کہہ کر نظر انداز کرتے ہیں بلکہ انکا کہنا ہے عورت گھر سے نکلے گی تو یہ تو ہو گا اسکے ساتھ-

اپنے شوہر کے گھر، مال اور بچوں کی حفاظت اور نگرانی بلا شبہ عورت کی ذمہ داری ہے لیکن یہ بات سمجھنے کی ہے کہ عورت کا گھر سے نکلنا بھی نا گزیر ہے- آپ عملاً اس گھر میں محبوس نہیں کر سکتے نہ ہی یہ مذہب کا منشا ہے- تعلیم اور ملازمت نہ بھی کریں تو عورتوں کو بہت سے دوسرے مقاصد کے لئے گھر سے باہر نکلنا ہوتا ہے- ہمارے روایتی ہندوستانی پاکستانی معاشرے میں بھی ننھیال یا ددھیال جانے کے لئے دوسرے شہروں کا سفر، بس یا ٹرین سے جو فیملی کے ساتھ کیا جاتا ہے، اسکول، مدرسہ، ہسپتال، بازار اور دیگر کئی کاموں کے لئے گھر سے نکلنا عورت کے لئے ناگزیر ہے-

ہم اپنے ارد گرد عورتوں کو کپڑے سی کر اپنے بچوں کی تعلیمی اخراجات پورے کرتے دیکھتے آئے ہیں- کراچی شہر میں ہزاروں نہیں لاکھوں ماسیاں اپنے گھروں کو چلانے کے لئے، اپنے بچوں کو بھوک سے بچانے اور انکی بنیادی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے دوسروں کے گھروں کے برتن جھاڑو اور دوسرے کام کرنے پر مجبور ہیں-

آج بھی پاکستان کے دیہاتی علاقوں میں بڑی تعداد میں عورتیں بلکہ نو عمر بچیاں کھیتوں میں کام کرتی ہیں اور ظاہر ہے اتنی سخت محنت وہ مجبوری میں کرتی ہیں- یہ بیچاری عورت صدیوں سے کسب ماش میں مرد کی مدد کر رہی ہے لیکن اسے اپنے کمائے ہوئے مال پر اختیار کم ہی ملتا ہے- اچھی تعلیم سے یہ اپنی اور اپنی آئندہ نسلوں کی زندگی بہتر بنا سکتی ہے اور اپنے حقوق کے لئے مناسب آواز بھی اٹھا سکتاہے مگر ہم اسکے چار دیواری سے نکلنے ہی کہ خلاف ہیں-

عورت کو ضرورت کے تحت بھی اور اگر وہ اپنی ذمہ داریوں کے علاوہ معاشرے کی بہتری کے لئے رضاکارانہ کام کرنا چاہتی ہے یا گھریلو آمدنی میں اضافے کے لئے یا کسی مجبوری کے تحت کسب معاش کرنا چاہتی ہے تواس کی ممانعت نہیں- دوسری طرف اگر وہ نہ کرنا چاہے تواسے مجبور بھی نہیں کیا جا سکتا ہے کہ وہ گھر سے باہر نکل کر یہ ذمہ داریاں ادا کرے- یہ ہرعورت اپنے مخصوص حالات اپنی صلاحیتوں اور رحجان کو دیکھتے ہوے اپنے خاوند اور گھر والوں کی اجازت اور مشورے کے بعد فیصلہ کر سکتی ہے کہ اس کے اور اسکے خاندان کے لئے کیا بہتر ہے-

ڈرائیونگ اور اس نوعیت کے دوسرے کام جن میں مردوں سے اختلاط کا اندیشہ ہو کے علاوہ ہمارے ہاں اکثرعورت کے گھر سے باہر نکلنے اور معاش کی جدو جہد میں حصہ لینے کی ہی مخالفت ہوتی ہے- اور بہت دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ ان طبقات کی طرف سے بھی ہوتی ہے جو خود اپنی بیٹیوں کو ڈاکٹر انجنیئر وکیل اور صحافی بنانے کی تعلیم دے رہے ہیں-

ہم پھر دہرائیں گے کہ کفالت مرد کی ذمہ داری ہے اس پر کوئی بحث نہیں، لیکن جہاں تک عورت کے گھر سے باہر نکلنے اور اسکی تعلیم یا ملازمت کی مخالفت کا سوال ہے تو یہ اسلام کا منشا ہرگز نہیں ہے- لیکن مجھے تعجب ہے کہ چار دیواری کے نام پر اسکی وکالت وہ لوگ بھی کرتے نظر آتے ہیں جو اپنی بچیوں کو ڈاکٹر بھی بنا رہے اور انجنیئر بھی اور دین کی دعوت لئے بھی انہیں گھروں سے نکال رہے ہیں لیکن قولی طور پریہ لوگ ایک اشتہارمیں چاردیواری کے ذکر پر چراغ پا ہو جاتے ہیں- ہمارا یہ طرز عمل کیوں ہے یہ ایک طویل بحث کا متقاضی ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے قول اور عمل میں اس معاملے میں بہت تضاد ہے- یہاں تک کہ خود ملازمت کرنے والی دینی بہنیں، ایسی بھی جو بیرون ملک مقیم ہیں اور اپنی گھریلو اور پروفیشنل ذمہ داریاں انجام دے رہی ہیں، چار دیواری سے باہر نکلنے کے خلاف باتیں کرتی نظر آتی ہیں-

ہم مراعات یافتہ خواتین جنھیں انکے والدین اور ملکی وسائل نے بہترین اور مہنگی تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا- ہمیں وہ مالی وسائل حاصل ہیں کہ ہم اپنی پروفیشنل ذمہ داروں کے لئے بھی، اپنی تعلیم کے لئے بھی، سیر و سیاحت کے لئے بھی اور دین اور امت کی خدمات کے لئے بھی ملکی اور بیرون سفر کے مواقع حاصل ہوتے ہیں اور پارلیمنٹس میں بیٹھنے کے بھی- کیا ہم چار دیواری کے نام ان غیر مراعات یافتہ طبقات کی خواتین کی تعلیم، علاج، اور کسب معاش یا معاشرے میں اپنے بچوں کوبنیادی سہولتیں اور عزت کی زندگی گزرنے کے لئے گھر سے نکلنے کی مخالفت کرنی چاہیے؟ اسی حوالے سے ہمیں مغرب اور کارپوریٹ کلچر کے حوالے سے اپنے تعصب کے رویے کا از سر نو جائزہ لینا ہو گا-

ہماری عورتیں گھروں سے باہر کیوں نکل رہی ہیں؟
پچھلے دنوں سوات پر ایک فیچر کے دوران مجھے وہاں کے مقامی لوگوں نے بتایا کہ اب لوگوں میں اپنی بیٹیوں کو تعلیم دینے کے رواج میں بہت اضافہ ہو رہا ہے اسکی وجہ یہ ہے کہ لوگ انہیں تعلیم دلوا کر اپنے پیروں پر کھڑا کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ معاشی طور پر کسی کی محتاج نہ ہوں- میرے نزدیک صرف سوات یا نچلے طبقے میں نہیں پاکستانی اور ہندوستانی معاشرے کے ہر طبقے میں پچھلی کئی دھائیوں سے لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم کے پیچھے یہی سوچ کام کر رہی ہے- ہمارے والدین سمیت ہم میں سے ہر فرد کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ وہ جتنی بہتر تعلیم اپنی بچیوں کو دلوا سکتا ہو دلوائے اور انہیں انکے پیروں پر کھڑا کیا جائے- ہمارے پاس اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین کی پوری کھیپ موجود ہے- (یہ کھیپ ورک فورس کا حصہ کیوں نہیں بن سکی، یہ ایک دوسرا موضوع ہے، اس پر پھر کبھی بات کریں گے-) لیکن دوسری طرف ہم وہ قوم ہیں جو عملاً اپنی بیٹیوں کو ضرورت سے زیادہ رسمی تعلیم دلوانے کے باوجود ایریل کے اشتہار پر چراغ پا ہو جاتی ہے- کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے؟

یہ بھی پڑھیں:   اسلام کی نظر میں بہترین خواتین - مکرمہ کلیم

برا نہ منائیں تو ہمیں اس حقیقت کو مان لینا چاہیے کہ ہر معاشی طبقے کے لوگ اس بات کی اہمیت کو محسوس کر رہے ہیں کہ بیٹیوں کو پڑھایا جائے- اور یہ ٹرینڈ صرف پاکستان میں نہیں پوری مسلم دنیا میں کئی عشروں سے پروان چڑھ رہا ہے- امیگرنٹس کو خدمات فراہم کرنے والے کینیڈا کے ایک سماجی ادارے کی ایک ذمہ دار نے ٢٠١٣ میں مجھے بتایا کہ کسی بھی مغربی ملک کے مقابلے میں پاکستان اور ایران سے زیادہ انجنیئر خواتین کینیڈا پہنچ رہی ہیں- ان میں آزاد گھرانوں کی بے پردہ لڑکیاں بھی شامل ہیں اور بہت بڑی تعداد میں دینی گھرانوں کی حجاب اور نقاب لینے والی بچیاں بھی شامل ہیں-

ہماری خواتین مردوں کے شعبوں میں اپنے آپ کو منوانے کی کوشش کیوں کر رہی ہیں؟ اس معاملے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ عورتیں بھی گھر سے باہر نکل رہی ہیں جنھیں گھر سے باہر کام کرنے کی ضرورت نہیں- یہاں مناسب محسوس ہوتا ہے کہ لگے ہاتھوں یہ بھی ڈسکس کر لیا جائے کہ آخر ہماری عورتیں باہر کیوں نکل رہی ہیں؟ اور کیا واقعی ہمیں اس ٹرینڈ کے لئے انہیں یا مغرب یا کارپوریٹ کلچر کو مورد الزام ٹھہرانا چاہیے؟

یہاں بات ان خواتین کی بات نہیں ہو رہی جو اپنی کسی مجبوری کی وجہ سے گھروں دفاتر یا کلچر کی وجہ سے کھیتوں میں کام کرنے پر مجبور ہیں اور شوقیہ کسی شعبه کو اختیار نہیں کرتیں- یہاں ہم اپر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والی ان خواتین کی بات کرتے ہیں جو شوقیہ یا اپنی صلاحیت کے اظہار کے لئے ایسے شعبوں میں جانا چاہتی ہیں جو مردوں کے لئے مخصوص ہیں یا انکی جسمانی اہلیت کے لئے زیادہ مناسب ہیں جیسے انجینرنگ وغیرہ- ان میں اکثریت ان بچیوں کی ہوتی ہے جن کا تعلق پڑھے لکھے خاندانوں سے ہوتا ہے اور ان کے نسبتاً خوش حال والدین انہیں شروع سے پروفیشنل تعلیم کے لئے تیار کرتے ہیں-

میں اس وقت موضوع کو معاشرے کے اس رحجان کے پیچھے جو محرکات ہیں ان تک محدود رکھنے کی کوشش کروں گی- کہا جا سکتا ہے کہ یہ مغربی تھذیب کے اثرات کی وجہ سے ہے- پچھلے دنوں عورتوں کی فلاح کے ایک ادارے کی سربراہ سے اس موضوع پر بات چیت ہوئی تو انکا کہنا تھا کہ یہ میڈیا اور مغربی طرز کے اسکولوں کی تعلیم کے با عث ہے کہ لڑکیوں کی تعلیمی ترجیحات اب ملازمت پر مرکوز ہوتی ہیں- میرا یہ ماننا ہے کہ ایسا کئی دہایوں بلکہ پچھلی دو نسلوں سے ہو رہا ہے- مغربی تھذیب کے دوسرے اثرات ہمارے ہاں اس تیزی سے منتقل نہیں ہوئے لیکن اپنی بچوں کو انکے پیروں پر کھڑا کرنے کی خواہش ہمارے ہاں بہت زور پکڑ گئی ہے-

عام طور سے دینی حلقوں جو بظاہرعورتوں کو چار دیواری میں رکھنے کی حمایت کرتے ہیں پروفیشنل تعلیم کے اس رحجان کا مقصد مغرب کی تقلید بتاتے ہیں- لیکن میری ذاتی رائے میں اسکا سب سے بڑا سبب مغرب کی تقلید نہیں ہندو مت سے ذہنی طور پر آلودہ معاشرے کا عورت کے ساتھ حقارت آمیز سلوک اور سسرال میں اسے کمزور اور اکیلا سمجھ کر اسکے ساتھ نا روا سلوک ہے-

اب سوال یہ ہے کہ خواتین مردوں جیسے پیشوں میں اپنے آپ کو منوانے کے لئے کیوں جاتی ہیں؟ اسکی وجہ یہ ہے کہ ذہن شروع دن سے اس بات کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ لڑکے کو ایک لڑکی پر فوقیت دی جاتی ہے- ایک ذہین اور حساس بچی اپنے بچپن میں ہی یہ محسوس کر لیتی ہے کہ ایک نالائق لڑکے کو معاشرہ اس سے زیادہ اہمیت دیتا ہے- اس معاشرے میں اگر اسے اپنے آپ کو منوانا ہے تو اسے لڑکوں کی طرح "بڑے کام" کرنے پڑیں گے- اسے گھر اور کچن کے کاموں کا حقارت سے تذکرہ کر کہ اسے قدم قدم پر یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ تمہارا کام صرف چولہا ہانڈی اور مستقبل میں سسرال والوں کی خدمت کرنا ہے-

اسکے علاوہ بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم کے رحجان میں اضافہ کی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ کل کو اسے بے دست و پا سمجھ کر شوہر یا سسرال والے اس پر ظلم نہ کریں- ہم مانیں یا نہ مانیں بہت بڑی تعداد میں لڑکیوں کے والدین اور لڑکیاں خود پروفیشنل تعلیم کی بھیڑ چال میں اسی لئے شامل ہوئی ہیں کہ کل کو سسرال میں وہ ظلم نہ سہنے پڑیں جو ہم سے پہلے کی نسلوں کو سہنے پڑے- لیکن دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس سے بھی معاشرتی مائنڈ سیٹ میں کوئی فرق نہیں آیا ہے- ایک طرف ہم اپنی بیٹی کو اس قابل بنا کر اسکا مستقبل محفوظ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو دوسری طرف دوسرے کی پڑھی لکھی مالی طور پر مستحکم بیٹی کو آج بھی وہ عزت دینے پر تیار نہیں جو ایک گھریلو بچی کو بھی ملنی چاہیے- نتیجہ یہ کہ خلع کے واقعات واقعی بڑھ رہے ہیں اور اسکا الزام بھی ہم لڑکیوں پر ہی ڈالتے ہیں- کیونکہ پہلے لڑکی ہر طرح کا ظلم و ستم برداشت کر کہ بھی ہر طرح اپنا گھر بچاتی تھی اور اسکے گھر والے بھی اسے جنازہ ہی اٹھنے کا مشورہ دیتے تھے لیکن اب وہ اور اسکے گھر والے سوچتے ہیں کہ دو روٹیوں کے لئے ہماری بیٹی اتنا ظلم کیوں برداشت کرے- یاد رکھیں ظلم الله کو بھی نا پسند ہے- کوئی معاشرہ اگر ظلم پر تماشائی بنا رہے یا حیلے بہنوں سے کمزور فریق کو ظلم برداشت کرنے کا ہی سبق دیا جاتا رہے تو عذاب کی لپیٹ میں پورا معاشرہ آتا ہے-

اور چونکہ اب دین کا علم بھی اسے پہلے سے زیادہ ہے تو وہ یہ بھی جان گئی ہے کہ الله کے دین کے مطابق اسے ظلم سے اپنے آپ کو بچانے کا حق حاصل ہے- عورت مارچ پر سب و شتم کے دوران ہمارے ایک سیکولر مائنڈڈ فیس بک کونٹیکٹ نے پوسٹ لگائی،" جو عورت ٹائر بدل سکتی ہے وہ شوہر بھی بدل سکتی ہے-" دل چاہا کہ انھیں جواب دیا جائے کہ شوہر تبدیل کرنے کا طریقہ تو الله اور اسکے رسول صلیٰ الله نے چودہ سو سال پہلے بتا دیا تھا- لیکن کچھ سوچ کر اس ترقی پسندانہ پوسٹ پر رد عمل ظاہر کرنے سے باز رہی- یعنی سیکولر اور لبرل طبقات بھی عورت کے حوالے سے رجعت پسندانہ سوچ ہی رکھتے ہیں-

ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ قران اور صحیح احادیث کے واضح احکامات کے باوجود مذہبی حلقے ابھی تک عورت کی علیحدگی کے حوالے سے متذبذب ہیں- مفتی تقی عثمانی جیسے سلجھے ہوئے عالم کی بھی یہ رائے ہے کہ ایک دفعہ شادی ہو جائے تو علیحدگی کا حق صرف مرد کے پاس ہے، عدالت بھی نکاح فسخ کرنے کا اختیار نہیں رکھتی- گواسلامی نظریاتی کونسل نے عدالت کے فسخ نکاح کے حق کو مانا ہے-

کیا عورت کو مالی خود مختاری نہیں ملنی چاہیے؟
جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا، اسلام نے چودہ سو سال پہلے عورت کو مالی خود مختاری دی جبکہ مذہب میں ایک صدی پیشتر تک عورت کو اپنے مالی اثاثوں پر کنٹرول حاصل نہیں تھا- ہم آج طلاقوں کی شرح بڑھ جانے کی سب سے بڑی وجہ عورت کا مالی لحاظ سے مستحکم ہونا قرار دیکر اس رحجان کی مخالفت کرتے ہیں، کیونکہ ہماری ہندو معاشرے سے متاثر ہماری ذہنیت اسے مالی طور پر بے دست و پا کرکہ اس پر ہر ظلم روا رکھنے کے لئے اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ کہیں وہ مالی طور پر مستحکم ہو گئی تو اسکے لئے ذلت اور ظلم برداشت کرنا ممکن نہیں رہے گا اور عملاً ہو بھی یہی رہا ہے- ہم بھول جاتے ہیں کہ قران خود عورت کو کچھ مال دے کر خاوند سے نجات حاصل کرنے کو جائز قرار دیتا ہے او راسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جس نے چودہ سو سال پہلےعورتوں کو مالی آزادی عطا کی- (آیت ریفرنس)

بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ عورت کا مرد کے طور پر منوانے کی کوشش کرنے کی بڑی وجہ مغربی نظریات یا کارپوریٹ میڈیا نہیں، اسکے ساتھ روا رکھی جانے والی تفریق، حقارت کا رویہ، اور سسرال میں اسے کمزور سمجھ کر ظلم و ستم ہے- اگر ہم چاہتے ہیں کہ مڈل اور اپر مڈل کلاس کی عورت بلا ضرورت گھر سے نہ نکلے تو ہمیں سسرالی معاشرے کے رویہ میں تبدیلی لانا ہو گی- جسکے بارے میں ملک کے معروف تبلیغی خطیب مولانا طارق جمیل کہتے ہیں کہ ہمارا سسرالی معاشرہ بڑا ظالم معاشرہ ہے- اور اسے انسان کے طور پر ہی عزت و تکریم دینی ہو گی- اسکے لئے نفرت اور حقارت کے جذبات کو عزت اور اکرام کے جذبات سے بدلنے کے لئے ذہن سازی کرنی ہوگی-

کیا پڑھی لکھی عورت اپنے گھر خاوند اور بچوں کو نظر انداز کر رہی ہے؟جیسا کہ اوپر بیان ہوا، پچھلے چالیس پچاس سالوں میں پاکستانی خواتین کی ایک بڑی تعداد نے پروفیشنل شعبوں میں تعلیم حاصل کی اور اب انکی تیسری نسلیں جوان ہو رہی ہیں- یہ ایک دوسری بحث ہے کہ سب نہیں لیکن ان کی بھی بڑی تعداد اپنی خاندانی ذمہ داریوں کی تکمیل کو اپنا فرض اولین سمجھتی ہے اور اسکے لئے اپنی پروفیشنل تعلیم اور کیرئیر کی قربانی دیتی ہے جس سے قوم کا قیمتی سرمایہ اور پروفیشنل سیٹ ضائع ہوتی ہے اور ایک کام کرنے والے لڑکے کا حق مارا جاتا ہے - لیکن انکا اپنے بچوں اور خاندان کے لئے اپنا محنت سے کمایا ہوا پروفیشن چھوڑنا اس بات کا ثبوت ہے کہ انکی پہلی ترجیح انکا گھر ہے-

مبالغہ پر مبنی مضامین کی خیالی تصویر کے برعکس جن میں یہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ پڑھی لکھی عورت اپنے خاوند اور بچوں کو ٹائم دینے کا موقع نہیں ملتا، تعلیم یافتہ عورتوں کی اکثریت گھر بھی سنبھال رہی ہے، بچے بھی پیدا کرتی ہے، بعض اوقات انکی ہوم اسکولنگ بھی کرواتی ہے، اور جہاں تک ہو سکتا ہے معاشرے کی بہتری اور دین کی دعوت و تبلیغ کے لئے بھی مختلف طریقوں سے کام کرتی ہے-

قصہ مختصر یہ کہ معاشرے کی برائیوں کا یہ علاج نہیں کہ عورت کے گھر سے نکلنے کو ممنوع قرار دے دیا جائے- عورت کو بہت سی مجبوریوں کے لئے گھر سے نکلنا پڑ سکتا ہے اور وہ اپنے خاندان کی ذمہ داریاں ادا کر کہ جماعت اسلامی کی خواتین کی طرح فلاح عامہ اور دینی اور دنیاوی تعلیم کے شعبوں میں اور دیگر شعبوں میں بھی اپنی ذمہ داریاں ادا کر سکتی ہے اور کر رہی ہے- اسکی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کا بعض مخصوص شعبوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے جہاں وہ اپنی گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ سہولت سے کام کر سکے - دین کی حدود میں رہ کر کتاب و سنت کے مطابق یہ سب ذمہ داریاں ادا کی جائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں- اسکی صلاحیت کے مثبت استعمال کے لئے ہمیں اسے تفریق، جنسی ہراسانی اور استحصال سے بچانا ہو گا- اسے حفاطت اور عزت کے ساتھ کام کرنے کے لئے سہولیات فراہم کرنی ہونگی-

راقم کی رائے میں اس معاملے میں اسلام اور فیمنسٹ تحریک کے نقطہء نظر میں یہ فرق ہے کہ موخر الذکر نے عورت کو مالی خود مختاری دلوانے کے لئے عورت کے خود کمانے کو لازمی قرار دیا جبکہ اسلام وراثت میں حصے، مہر، نان نفقے، عورت کے مالی اخراجات کی ذمہ داری اسکے شوہر یا گھر کے مردوں پر ڈال کرعورت کو بغیر کمائے بھی معاشی طور پر خود مختار بناتا ہے لیکن اسکے باوجود اسے کام کرنے اور اپنی کمائی پر تصرف کا حق دیتا ہے- اسی لئے قرون وسطیٰ میں آزاد خواتین یہاں تک کہ کنیزوں تک نے سماجی بھلائی کے کاموں میں حصہ لیا- دنیا کی تاریخ کی پہلی یونیورسٹی جہاں آج تک تعلیم جاری ہے، ایک مسلمان خاتون نے قیروان میں بنوائی- مسلم اسپین میں مدینتہ الزہرا نامی شہر ایک کنیز کی وراثت کی کثیر رقم سے تعمیر ہوا-

ہمارے معاشرے میں ایسے طبقات موجود ہیں، جو مذہب کے نام پر عورت کو گھر میں مقید رکھنے کا پرچار کرتے نظر آتے ہیں- پاکستان میں ایسے علاقے بھی موجود ہیں جہاں مذہب کے نام پر تعلیم، علاج، کسب معاش کے لئے اسے گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں ہے- اسے آگے بڑھنے اور اپنی زندگی بہتر کرنے ایک عزت کا مقام حاصل کرنے کی چار دیواری کے نام پر مخالفت کی جاتی ہے- اسکے لئے بہانہ اسکی اپنی حفاظت کو بنایا جاتا ہے حالانکہ گھر کے اندر بھی عورت محفوظ نہیں- میں اس موضوع پر لکھتی رہی ہوں کہ گھروں کے اندر بھی ہماری بچوں کی اکثریت جنسی زیادتیوں اور ہراسانی کا شکار ہوتی ہیں- انہیں زبردستی کی شادی، کاروکاری، غیرت کے قتل، بہن بھائی میں تفریق، شادی بیاہ کی رسموں میں حقارت، اور سسرال میں ظلم کا سامنا رہتا ہے- لیکن انکی حفاظت کو بہانہ بنا کر انکی تعلیم کو بعض جگہ محدود کر دیا جاتا ہے جسکے ذریعے وہ ان زیادتیوں پر مؤثر آواز اٹھانے کی اہلیت حاصل کر سکتی ہے-

یہ بات یاد رہے کہ پڑھی لکھی عورت ان مظالم کا شکار کم ہوتی ہے اور اگر ہو جائے تو انکے خلاف آواز اٹھا سکتی ہے- ان حالات میں سمجھ دار والدین اپنی بچیوں کو انکے پیروں پر کھڑا کرنے کوشش کرتے ہیں- دوسری طرف ایک غریب بچی کے لئے اپنی زندگی میں بہتری لانے کے لئے تعلیم اور کسب معاش کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں- ایسے میں مذہب اور روایت کے نام پر اسے چار دیواری میں مقید کرنے کی حمایت بہت بڑا ظلم ہے جس سے انصاف پسند طبقات کو بچنا چاہیے-

اس بات پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ جب ہماری نسبتاً خوش حال گھرانوں کی شہروں میں رہنے والی پڑھی لکھی خواتین تک انکے حقوق کے حوالے سے اسلام اور قران کا صحیح مفہوم نہیں پہنچے گا توکیا وہ ان لوگوں کی طرف راغب نہیں ہونگی جو کم ازکم صحیح یا غلط خواتین کے حقوق کی بات تو کر رہے ہیں؟

اگر ہم عورت مارچ کا کوئی معقول جواب دینا چاہتے ہیں تو ہمیں ان نظریات کے خلاف آواز اٹھانی چاہئے جس میں عورت کو محض جسمانی بوجھ اٹھانے والے گدھے سے زیادہ کوئی حیثیت حاصل نہیں- اسکے ساتھ ہی عورت کو اگر ہم گھر بھیجنا چاہتے ہیں تو ہمیں اسے بہ حیثیت عورت اسکے حقوق دینے ہونگے، اسکو انسان کے طور پر برابری کی بنیاد پر تکریم دینی ہوگی- گھر، معاشرے، سسرال میں اسکے استحصال اور تذلیل پر مبنی رویہ ختم کرنا ہو گا ورنہ ہم عورت مارچ کے اس طوفان کو نہیں روک سکتے-

آخر میں پیارے رسول کی پیشنگوئی پر مبنی وہ حدیث کہ ایک وقت آئے گا جب ایک عورت عرب کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک سونا اچھالتی ہوئی جائے گی اور اسے الله کے علاوہ کسی اور کا خوف نہیں ہو گا- یاد رہے اس حدیث میں الله سے اور صرف الله سے ڈرنے والی خاتون کا ذکر ہو رہا ہے کسی لبرل، سیکولر، یا فیمنسٹ نظریہ رکھنے والی عورت مارچ کی شریک خاتون کا نہیں-