نظم ،عورت مارچ -حافظ شاہین افضل

مسئلہ مرد و زن کا ہے ہی نہیں

جو یہ کہتا ہے جھوٹ کہتا ہے

مسئلہ مغربی تمدن ہے

جس میں ابلیس چھپ کے رہتا ہے

جس کی بنیاد دجل و مکر وفریب

جس کی بنیاد حرص نفسانی

جو خدا و رسول سے باغی

مدعا جس کا کار شیطانی

جس میں ہو جہل کی پذیرائی

اور بو جہل کی پذیرائی

واں کوئی انکا نام کیا لے گا؟

جن کے دم سے جہان روشن ہے

جن سے اندھوں نے پائی بینائی

جس نے مردوں کی کی مسیحائی

اور جو اس کے نام لیوا ہیں

بلال و بو زر و صدیق ہوں یا مولا علی

جناب فاطمہ و عائشہ یا زینب ہوں

ہر ایک اپنی حقیقت میں اک ستارہ ہے

حیا و نور کا عفت کا استعارہ ہے

انہیں بھی رب نے سنایا ہے حکم پردے کا

انہیں کے حق میں خدا نے قرآں اتارا ہے

اک طرف دانش رسولاں ہے

اک طرف جاہلوں کا ٹولہ ہے

معاملہ جہل اور علم کا ہے

مسئلہ روح اور جسم کا ہے

مسئلہ مرد و زن کا ہے ہی نہیں

جو یہ کہتا ہے جھوٹ کہتا ہے

کوئی مانے یا اب نہیں مانے

سچ تو یہ ہے۔۔کسی کا دوش نہیں

رستہ اس سیل بے حیائی کا

خود ہی ہموار کر دیا ہم نے

اپنی عورت کو آبرو سمجھا

دوسری کو نہ جانے کیا سمجھے!

صفت عثمان (رض) ہم بھلا بیٹھے

حق کی پہچان ہم بھلا بیٹھے

عظمت رفتگاں بھلا بیٹھے

رفعتوں کے نشاں بھلا بیٹھے

خود فریبی یہاں مسلط ہے

ہر کوئی اپنی دھن میں رہتا ہے

مجھ سے غلطی ہوئی مری توبہ

"میں ہی مجرم ہوں" کون کہتا ہے؟

یہ بلا اب تو سر پہ آنی ہے

کون یاں غم کسی کا سہتا ہے؟

برف پگھلے، کہاں ٹھہرتی ہے

آگ بھڑکے دھواں تو رہتا ہے

بات تو سمجھ آنے والی ہے

مسئلہ اپنی لغزشوں کا ہے

مسئلہ مرد و زن کا ہے ہی نہیں

جو یہ کہتا ہے جھوٹ کہتا ہے

خیر اب ہو گیا جو ہونا تھا

جو نہیں ہو سکا وہ کرنا ہے

کفر کے ہاتھ توڑ دینے ہیں

دجل کو بے نقاب کرنا ہے!

دجل کو بے نقاب کرنا ہے!

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com