گھر کیسے بنتے ہیں - ام عبداللہ بن عمر

گھر بنتا ہے مرد اور عورت سے ، نکاح ایک خاندان کی بنیاد ہے ۔ اگر نکاح نہ ہو تو خاندان وجود میں نہ آٸیں اور نہ انسانی ماحول اور معاشرہ بن سکے۔اسلٸے اسلامی نے نہ صرف نکاح کی ترغیب دی ہے بلکہ نکاح کے بعد ازدواجی زندگی کو خوشگوار بنانے کا حکم دیا ہے۔

نبی کریمﷺ کی عملی زندگی میں ہمارے لٸے مکمل راہنماٸی موجود ہے۔ پیارے نبیﷺکا ارشاد گرامی ہے کہ”مومنوں میں کامل ایمان والا اپنی عورتوں کیساتھ حسن اخلاق والا ہے اور تم میں سے پسندیدہ وہی ہیں جو اپنی عورتوں کے نزدیک پسندیدہ ہیں“ آپﷺ اپنی ازواج کیساتھ کتنا حسن اخلاق اور خوش اسلوبی سے رہتے تھے اس کا اندازہ حضرت عاٸشہ رضی اللہ عنہا کی اس بات سے ہوتا ہے،فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ چند حبشی نوجوان نیزہ بازی کھیل رہے تھے کہ آقاﷺ نے مجھ سے فرمایا اے عاٸشہ! کیا تم ان حبشی کھلاڑیوں کا کھیل دیکھنا چاہتی ہو؟

میں نے کہا جی ہاں! آپﷺ دروازے پر خود کھڑے ہوگٸے اور میں آکر آپﷺکے پیچھے کھڑی ہوگٸی اور آپ ﷺ کے پیچھے کندھا مبارک اور کان مبارک کے درمیان سر کرکے دیکھتی رہی،آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں اس روز مجھے لوگوں کا یہ جملہ یاد آیا کہ ابوالقاسمﷺ بہت عمدہ اخلاق والے ہیں“پھر حضور ﷺنے فرمایا اے عاٸشہ!اب کافی ہے میں نے کہا یارسول اللہ!جلدی نہ کیجٸے حضور ﷺمیرے لٸے کھڑے رہے پھر کچھ دیر بعد فرمایا اب کافی ہےمیں نے کہا یارسول اللہ!جلدی نہ کیجٸے اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ آقاﷺ کیسے اپنی ازواج کی خوشی کا خیال فرماتے تھے۔

اور دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ صرف مرد پر منحصر نہیں کہ وہی ازدواجی تعلقات کو خوشگوار بناۓ عورت کیلٸے بھی ضروری ہے کہ وہ خندہ پیشانی،محبت اور اپناٸیت سے پیش آٸے۔میاں بیوی دو پہیوں کی ماند ہوتے ہیں ،گھر کی گاڑی انھیں دو پہیوں سے وجود میں آتی ہے اگر دونوں ایک دوسرے کا خیال کریں گے تو زندگی خوشگوار گزرے گی میرا اپنا ذاتی تجربہ ہے کہ اگر میاں بیوی دونوں اپنے حقوق کا سوچتے رہیں تو زندگی کبھی بھی خوشگوار نہیں ہوسکتی لیکن اگر دونوں اپنے فرائض اور دوسرے کے حقوق کا خیال کریں تو گھر کا ماحول بھی محبتوں بھرا ہوگا اور زندگی بھی حسین ہوجاٸے گی۔

میاں بیوی جب تک ایک دوسرے کو سمجھ کر ایک دوسرے کی پسند نا پسند کا خیال رکھ کر چلیں تو زندگی اچھی گزرتی ہے۔اگر دونوں اپنی مرضی کے مطابق چلیں شوہر بیوی کی پسند کو نظر انداز کردے اور بیوی نے کبھی شوہر کی پسند پوچھی ہی نہ ہو وہاں ازدواجی زندگی سے لطف اندوز کیسے ہوا جاسکتا ہے؟؟؟خوشگوار زندگی کیلٸے ازحد ضروری ہے کہ اپنی پسند پر دوسرے کی پسند کو ترجیح دی جاٸے۔دوسرے کی خوشی کی خاطر اپنی خوشی قربان کی جاٸے،پھر زندگی ایسی پرلطف ہوگی کہ خوشی قربان کرنے پہ بھی خوشی ہوگی۔

اسی طرح ایک دوسرے کی غلطیوں اور خامیوں کو بھی نظر انداز کرکے زندگی کو حسین بنایا جاسکتا ہے کیونکہ طبعی گرانی انسانی طبیعت کا تقاضہ ہے۔آپﷺ اور آپکی ازواج میں بھی طبعی گرانی ہوجاتی تھی جیساکہ حضور ﷺ حضرت عاٸشہ رضی اللہ عنہا سے فرماتے تھے:اے عاٸشہ! جب تم مجھ سے راضی ہوتی ہو اور جب ناراض ہوتی ہو تو مجھے پتہ چل جاتا ہے حضرت عاٸشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: کیسے؟ ارشاد فرمایا جب تم خوش ہوتی ہو تو قسم کھاتے ہوٸے” *ورَبِّ محمد* اور جب ناراض ہوتی ہوتو *وَرَبِّ ابراھیم* کہتی ہو حضرت عاٸشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا:یارسول اللہﷺ ! میں فقط آپکا نام ہی تو چھوڑتی ہوں ورنہ آپکی محبت تو میرے دل سے جدا نہیں ہوتی۔

غور کیجٸے آقاﷺ اور اماں عاٸشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا میں کتنی محبت تھی؟ مگر پھر بھی طبعی گرانی کبھی نہ کبھی آہی جاتی تھی اس سے معلوم ہوا کہ یہ صورت حال انہونی نہیں اور نہ کوٸی بڑی بات ہے ہاں البتہ ایسی صورتحال کو لے کر نامناسب معنی کا جامہ پہنانا خطر ناک ہے اسی سے معاملات بگڑتے ہیں،حالات خراب ہوتے ہیں اور گھر اجڑ جاتے ہیں۔

اس سلسلے میں بڑی ذمہ داری مرد کی ہے کہ وہ اپنے رویے کو لچکدار اور حکیمانہ رکھے سخت مزاجی سے کام نہ لے کیونکہ عورت صِنَفِ نازک ہے اس پہ بے جا سختی سے فاٸدہ نہیں بلکہ نقصان کا اندیشہ ہے۔بعض اوقات آدمی سختی پہ اتر آتا ہے اور عورت کے رویے جو اسکی طبیعت کاحصہ ہیں انھیں ختم کرنا چاہتا ہے یہ غلط سوچ ہے اسکی مثال تو ایسے ہے کہ ایک بادشاہ کا باز اڑ کرکسی بھولی بڑھیا کے گھر جابیٹھا بڑھیا نے دیکھا تو کہنے لگی کیسا خوبصورت پرندہ ہے لیکن پتہ نہیں کس بے قدرے کے پاس رہا ہے جس نے اسکا خیال نہیں کیا کہ اسکی چونچ ٹیڑھی ہوگٸی بے چارہ کھاتا کیسے ہوگا؟اسکے ناخن کتنے بڑھے ہوٸے ہیں اسکو چلنے میں کتنی تکلیف ہوتی ہوگی۔

بوڑھی اماں کو بہت ترس آیا اس نے قینچی اٹھاٸی اور اسکی چونچ بھی کاٹ دی اور ناخن بھی کاٹ دیے بادشاہ کے نوکر جب باز کو تلاش کرتے کرتے بڑھیا کے گھر پہنچے تو باز کو دیکھ کر حیرت سے پوچھنے لگے اماں یہ کس نے کیا؟اماں نے بڑے فخریہ انداز میں بتلایا کہ میں نے کیا ہے تم نے تو اس کیساتھ ظلم کررکھا تھا شاہی نوکروں نے سر پِیٹ کے کہا او اماں!یہی ٹیڑھی چونچ اور لمبے ناخن ہی تو اسکا حسن و جمال تھے جو تونے کاٹ ڈالے اب یہ بےکار ہوگیا ہے۔

ایسے ہی عورت کی حساسیت اور نزاکت اسکا کمال ہے۔ اگر عورت میں سے ان چیزوں کو ختم کردیا جاٸے تو وہ بےکار ہوجاٸے گی ۔ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ عورت ٹیڑھی پسلی سے پیداکی گٸی ہے۔اگر تم اسے سیدھا کرنےکی کوشش کروگے تو یہ ٹوٹ جاٸے گی اور اگر اسے اسکے حال پہ چھوڑ دوگے تو یہ مزید ٹیڑھی ہوتی چلی جاٸے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */