عورت مارچ اور آزادی کا نعرہ - صہیب جمال

پرسوں عورت مارچ نام کے پیج پر مجھے کسی نے مینشن کیا ، اس عورت مارچ کی ایک وڈیو کلپ پر صرف یہ پوچھا کہ کس سے آزادی ؟ باپ سے آزدی ؟ شوہر سے آزادی ؟ بھائی سے آزادی ؟ عجیب عجیب جوابات آنے لگے ، کچھ خواتین کہنے لگیں ۔

مرد سے آزادی ، ان سے پوچھا "کون مرد ؟ پڑوسی ؟ ٹیچر ؟ سبزی والا ؟ مرغی والا ؟ گوشت والا ؟ درزی ؟ چوکیدار ؟ ڈرائیور ؟ بوائے فرینڈ ؟ " پھر کوئی کہنے لگا کہ "عورتوں پر جو تشدّد کرتے ہیں حقوق نہیں دیتے ایسے مردوں سے " میرا جواب تھا "ایسے مردوں سے تو مردوں کو بھی آزادی چاہیے" ان کو بتایا کہ لفظ "آزادی" پہلے سمجھائیں ورنہ ایک بڑی آبادی کی حمایت سے آپ دور ہو جائیں گے" کوئی کھل کر نہیں کہہ پا رہا تھا ۔

مجھے ان مٹھی بھر موم بتّی بردار عورتوں کو یہ بتانا ہے کہ انصاف مانگیں ، انصاف کا نظام مانگیں ، آسان اور سستا انصاف مانگیں ، قانون کی بالا دستی مانگیں ، ایک ایسے نظام کا مطالبہ کریں ایسے معاشرہ کی جدوجہد کریں جہاں عورت سونا اچھالتی کراچی سے کشمیر تک پیدل سفر کرے اور اس کو کسی سے کوئی خطرہ نہ ہو ۔تھوڑی دیر میں ایک مہذہب عورتوں کا ہمدرد ، کہنے لگا آپ گھٹیا سوج رکھتے ہیں ، عورتوں کو غلام بنانے کی سوچ ہے ، آپ جیسے مرد عورتوں پر تشدّد کرتے ہیں۔

یہ سن کر مجھے اپنے آپ پر ہنسی آئی ، جب چھوٹا تھا تو ماں نے مارا ، بڑا ہوا تو بہن نے مارا ، خالہ نے بھی مارا ۔۔۔۔ میں کافی دیر تک سوچتا رہا ، کس کا عورتوں سے مقابلہ ہے ؟تھوڑی دیر بعد چیک کیا تو عورت مارچ پیج پر میرے لیے کمنٹس کا آپشن بند تھا ، میں یہی سوچتا رہا کہ جو آزادی مانگ رہے ہیں خود ان کے اندر کسی کی مخالفت سننے اور آزادی دینے کی کتنی جرأت ہے ۔

جعلی آزادی کے نعرے کے پیچھے عزائم کیا ہیں ؟ ایلیٹ کلاس کی ان عورتوں کو کس قسم کی آزادی چاہیے ؟ کیونکہ ان کے تیور بتا رہے ہیں ان کو آزادی چاہیے انصاف نہیں ، تو موم بتی باجیو ! آپ آزاد تو مرد بھی آزاد ، برابری پر بات ہوگی ، مرد آزاد ہوا تو یاد رکھنا ، موم بتی کی ضرورت نہیں رہے گی۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com