کرونا - عروج یوسف

ہر طرف ایک ہی بات،ہر طرف ایک ہی شور ،احتیاط،علاج، خوف مگر وہ رب جو اس وائرس کو پیدا کرنے،پھیلانے اور اس سے بچانے پر قدرت رکھتا ہے' اس کا کوئی ﮈر نہیں۔اور یہ معمولی وائرس بھلا کیا تباہی مچا سکتا ہے؟

اس سے کہیں بڑے وائرس اور فتنے جو اس ملک میں پھیل رہے ہیں ہیں ان کو روکنے ان سے بچاؤ کے لئے کوئی احتیاط نہیں؟ فحاشی اور بے حیائی کا وائرس، ہمارے ملک کو پوری طرح سے اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے ،ہماری موجودہ اور آنے والی نسل پوری طرح برباد ہو رہی ہے ۔ چاہے وہ "شرفاء "کے گھروں میں ہونے والی شادیاں ہوں،یا فلموں اور ﮈراموں ,کے ایوارﮈ شوز۔جہاں جتنا کم اور فحش لباس'اتنی کامیاب کے فارمولے پر عمل ہو رہا ہے ۔ ﮈراموں کے ﺫریعے ہماری نوجوان نسل کو کون سا میسج دیا جا رہا ہے؟خدا جانے! ایک عورت دو مردوں کے ساتھ تو معمولی سی چیز بن گئی ہے۔ ایک اور وائرس جو پچھلے کئی سالوں میں بڑی تیزی سے پھیلا اور پھیلتا ہی جارہا ہے وپ حقوق نسواں کا وائرس ہے۔یہ وہ وائرس ہے جس کو پھیلانے والیاں کہیں سے عورتیں نہیں لگتیں۔ نہ اپنے انداز سے،نہ لباس سے اور نہ گفتار سے ۔کردار' اللہ بہتر جانے! جس رب نے پیدا کیا، نعمتیں دیں، ہر انسان کو زندگی گزارنے کے کچھ اصول و ضوابط مقرر کئے ، مردوں پر انکی ﺫمہ داریاں ﮈالیں، کچھ حقوق و فرائض مقرر کئے، عورتوں پر انکی ﺫمہ داریاں ﮈالیں اور انکے ﺫمے کچھ حقوق و فرائض لگاۓ، یہ اسی رب کے سامنے ﮈٹ کر کھڑی ہو گئیں' جس نے زندگی دی، جس کی دی ہوئی سانسوں تک پر ان کو اختیار نہیں، یہ اس رب کے بناۓ ضابطہ زندگی کو ماننے سے انکاری ہیں۔

مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ ان کو کون سے حقوق چاہیں؟ اللہ پاک نے تو جنت تک کو ماں کے، ایک عورت کے قدموں تلے رکھ دیا۔ عورت اپنے شوہر کے لئے سجے سنورے تو ثواب، اگر اس کے گھر کے کام کاج کرتے ہوۓ بال بکھرے اور چہرے پر تھکن ظاہر ہو تو جنت کی بشارت۔ اور بھلا کس چیز کی طلب ہے؟اعتراض کس چیز پر ہے؟مرد کو قوام بنایا ہے اس پر ؟ تو یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ اپنا مال اپنےگھر والوں پر خرچ کرتے ہیں،کیا ہے ان میں یہ حوصلہ؟
وہ گرمی'سردی'بارش'دھوپ'بیماری میں باہر نکلتے ہیں روزی روٹی کماتے ہیں، اللہ تعالی نے عورت کو گھر کی ملکہ بنایا اور عورت کو اس پر بھی اعتراض ہے؟ اور کیا چاہیے؟اگر اپنے پیدا کرنے والی کی نازل کردہ کتاب کو پڑھ کر دیکھیں تو ہر بیماری کی شفاء اور ہر مسئلے کا حل مل جاۓ، اس وائرس کا علاج اس کتاب کے سوا کہیں نہیں۔ مگرافسوس کہ اس کو جزدان میں لپیٹ کر طاقوں کی زینت بنا دیا گیا اور اب ایک ایک در کھٹکھٹا کر لا علاج بیماریوں کا علاج تلاش کیاجا رہا ہے، "کہہ دیجئے یہ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے، پس جو چایے ایمان لے آۓ اور جو چاہے انکار کردے، بے شک ہم نے ظالموں کے لئے آگ تیار کر رکھی ہے۔" (القرآن)

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com