کیا آپ نے دجالی دور کے فتنوں کے بارے میں پڑھا ہے- افشاں نوید

ایک فتنہ یہ بتایا گیا ہے کہ چیزوں کی حقیقت جاننا مشکل ہو جائے گی۔ سچائئ پردوں میں چھپی ہوگی۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعا سکھا کر گئے ہیں کہ ۔ وکشف لی وجوہ الحقائق۔ اے اللہ ہم پر حقائق کو کشف کردے۔

فرض کریں آپ کے سامنے ایک اسکرپٹ پڑا ہے۔"ایک ڈرامہ ٹی وی پر چلنا ہے،جو ہلچل مچادے۔غیر معمولی مقبولیت کی بلندیوں کو چھولے۔اس کا ہیرو قومی ہیرو کا درجہ پالے،فلاں ذھین رائٹر سے یہ کام کرانا ہے،پھر اس کا رائٹر منظر عام پر آئے۔وہ ہیرو کا درجہ پالے گا(ہم میں سے کتنے خلیل الرحمٰن قمر کو "میرے پاس تم ہو"سے پہلے جانتے تھے؟)پہلے وہ ڈرامے اور پھر ہاٹ ایشوز پر بات کرے، سچ بولے اور وہ باتیں کرے جو مولوی اور ملا کرتے ہیں تو مسترد کر دی جاتی ہیں۔

اب اسلام پسند حلقوں میں بھی وہ مقبولیت کی انتہا کو پہنچ جائے گا۔لوگ اس کو مجاھد اور اس کی گفتگو کو جہاد باللسان سے تعبیر کرنے لگیں گے(آپ کو فیس بک کے ہزاروں کمینٹس سے اس کا بخوبی اندازہ ہواہوگا)۔وہ معاشرے کے منفی عنصر کو پوری قوت سے للکار کر مثبت حلقوں کی آنکھوں کا تارہ بن جائیگا۔ٹوئٹر میں وہ ٹاپ ٹرینڈ پر آئے گا۔۔(ذھن میں رکھئے گا دجالی فتنہ سے بات شروع ہوئی ہے).

ایک طرف فیمنزم کی تحریک ہے جو معاشرے میں عفریت کو ہوا دے رہی ہے۔ وہ خم ٹھونک سامنے کھڑا۔لشکر کا پرچم اس کے ہاتھ میں آجائیگا"۔اسکرپٹ کے مطابق۔۔۔۔یکایک وہ ہوا کہ۔۔۔۔۔ خیر پسندوں کے خیالی تاج محل زمین بوس ہو جاتے ہیں۔ فیمینزم کی تحریک والیاں پچاس برس کی مسلسل جدوجہد اور سرمایہ لگا کر بھی وہ کام نہ کرپاتیں جو کچھ لفظوں اور جملوں نے کردیا۔نقصان کس کا ہوا جن کا ہوا وہ جی جان سے محسوس کررہے ہیں۔ کبھی شرمین عبید پاکستان کا جھلسا ہوا چہرہ دکھاتی ہیں ۔

کبھی خلیل دنیا کو بتاتے ہیں کہ یہ پے پاکستانی مسلمان مرد!انکی فلموں اور آئٹم سانگز سے قطع نظر وہ عورت مارچ کے حوالے سے ٹاک شوز میں قرآن وحدیث کے حوالے دیتے تھے اور ایک سچے مسلمان کے طور پر اپنا تعارف کراتے تھے اور ننانوے فیصد لوگوں کے ہیرو بن گئے تھے۔اسلام کی تعلیمات مجہول نہیں ہیں۔وہ کہتا ہے سلام کرکے ہٹ جاؤ۔ہعنی جب کسی شخص کو نہ گفتگو پر کنٹرول ہو نہ جذبات پر،نہ یہ پتہ ہو کہ میرے بالمقابل صنف نازک ہے۔نہ یہ پتہ ہو کہ لاکھوں عوام کے نزدیک میرا کیا مقام ومرتبہ ہے وہ خاک میں مل سکتا ہے۔

آپ بتائیے کیا وہ ایک مخبوط الحواس شخص کی صورت میں سامنے نہی آئے،کیا ہمیں انکی ذہنی حالت پر شک نہیں ہوا؟صحت مند رویہ یہ تھا کہ ہم ھجراجمیلا کا رویہ اپنا کر۔۔۔باوقار طور پر آگے بڑھ جاتے۔اگر آپ کی بھری تقریب میں کوئی فسادی کسی خاتون پر آستین چڑھا لے( قطع نظر اسکے کہ ان خاتون کا سوشل اسٹیٹس کیا ہے۔)ہم ایسے مرد کے بارے میں یہی رائے قائم کریں گے کہ بیچارے ڈسٹرب ہیں ذہنی حوالے سے۔

گھر والے کہیں گے اس حالت میں ان سے میل جول رکھنا درست نہیں۔جب ایک گھر کے افراد اتنی دانش رکھتے ہیں تو ایک قوم کیوں نہیں؟؟ہمارا وقت دنیا کا قیمتی ترین سرمایہ۔لاکھوں پوسٹیں،کروڑوں شئیر۔ہم سب اب تک اسی ٹاک شو میں قید ہیں۔پھر میڈیا انھیں بلا رہا ہے پوچھ رہا ہے گالی کیوں دی؟یہ کیوں کہا۔پھر ہم تبصرہ در تبصرہ۔جو تاریخ امم قرآن بتاتا ہے ہمیں اس سے سبق لینا چاھئے۔حضرت سلمان کی قوم کیوں جادو ٹونے کی گرویدہ ہوگئ۔قوم کے کچھ بڑوں کا بریڈ اینڈ بٹر اس سے چلتا ہوگا۔۔۔قومیں ہٹلر کے پیچھے بھی چل پڑتی ہیں اور چنگیز خان کے ہیچھے بھی۔

آج ہم نے اپنی رہبری میڈیا کو تھما دی۔وہ کہتا ہے پی ایس ایل سب کچھ ہے ۔ہم اسی کو دیکھنے سننے،کہنے،گانے بجانے لگتے ہیں،وہ کہتا ہے کرونا موت لا رہا ہے وہ ٹاپ ٹرینڈ بن جاتا ہے۔وہ کہتا ہے علی ظفر نے دھوم مچادی نیا گانا لانچ کرکے آن کی آن میں ایک کروڑ تک اس کی رینج پہنچ جاتی ہے۔قوم کی اکثریت سوچنے سمجھنے والی نہیں ہوتی۔وہ فالوورز ہوتے ہیں۔کیا قرآن نہیں کہتا واقعہ افک کے ضمن میں کہ۔۔کیوں تمہاری ایک زبان سے دوسری زبان اس کو لیتی چلی گئی۔۔۔یعنی شر کی ترویج خود شر ہے۔

ہمارے پاس مثبت بہت کچھ ہے یہ میڈیا ایک ریپ،ایک بلڈنگ کےحادثہ۔ایک ڈکیتی کو قوم کے اعصاب پر سوار کرکے اعصاب توڑ دیتا ہے۔نہ ماروی ایشو ہیں نہ قمر۔۔یہ سب ایجنڈوں کا کھیل ہے۔ریٹنگ کا ذریعہ ہے۔سرمایہ دار کو صرف سرمایہ سے غرض ہوتی ہے قوم کے مستقبل سے نہیں۔

ساری دنیا میں جرائم ہوتے ہیں صرف ہمارے ملک میں ریٹنگ منفی خبروں کو ملتی ہے۔ہمیں زندہ رہنا ہے قوموں کی برادری میں سر اٹھا کر۔۔۔پھر اس کے لیے جوش کے بجائے ہوش اپنانا ہوگا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */