زندگی نو، نصف صدی کا تسلسل، تازہ شمارے کا جائزہ - سہیل بشیر کار

‌زندگی نو دہلی سے گزشتہ قریب 46 سالوں سے شائع ہوتا ہے۔ رسالہ نے ابتدا سے ہی فکری، علمی اور عملی مباحث کو اپنا موضوع بنایا۔ چند ماہ قبل رسالہ کی ذمہ داری ڈاکٹر محی الدین غازی صاحب نے سنبھالی، تب سے رسالہ میں اور بہتری آئی ہے۔ تازہ ترین شمارے یعنی مارچ کے شمارہ کو ہی دیکھیں۔ مضامین کا خوبصورت تنوع اور معیار کی بلندی متاثر کن۔ ہر مضمون میں جدت ہے، اعلی اور معیاری کنٹنٹ ہے۔

اشارات میں مدیر اعلی سید سعادت اللہ حسینی نے رائے عامہ کی تشکیل اور ذرائع ابلاغ کے موضوع پر ذرائع ابلاغ کی اہمیت پر جو لکھا، وہ اردو میں شاید پہلی بار لکھا گیا ہے۔ رائے عامہ اور میڈیا کے عنوان پر چند صفحات پر مشتمل مضمون میں انجینئر سعادت صاحب نے موجودہ حالات کے تناظر میں اچھے سے روشنی ڈالی ہے۔ یہ مضمون تمام اسلامی کارکنوں کو پڑھنے کی ضرورت ہے۔ مصنف نے نہ صرف مسائل بتائے ہیں بلکہ مطلوب عملی اقدامات بھی بتائے ہیں۔

"عائلی زندگی کی اسلامی قدریں" کے عنوان پر برادر محی الدین غازی نے چند پریکٹیکل پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے۔ اگر ان پہلوؤں پر عمل کیا جائے تو گھر کا ماحول قلبی سکون اور آنکھوں کی ٹھنڈک کا مسکن بن سکتا ہے۔ ہمارے ہاں عام طور پر حقوق کا چرچا ہے، اس کے برعکس مصنف نے قدروں پر بات کی ہے، اور اس حوالے سے یہ نئی چیز ہے۔

برادر ایس امین الحسن کئی سالوں سے شخصیت کے حوالے سے کامیاب پروگرام ملک اور بیرون ملک منعقد کرتے آرہے ہیں۔ شخصیت کے ارتقاء کے حوالے سے ایس امین الحسن کا مضمون "صلاحیتوں کا فروغ، ضرورت اور حکمت عملی" شمارے میں شامل کیا گیا ہے۔ انسانی وسائل کی ڈیولپمنٹ کے لیے امین صاحب کے مضمون سے بہترین رہنمائی لی جا سکتی ہے۔

"اکیسویں صدی میں کامیابی کا سراغ" گزشتہ 6 ماہ سے تسلسل سے شائع ہوتا رہا ہے۔ اس شمارے میں مخاطبین کے احساسات سمجھنے کا عملی طریقہ بتایا گیا ہے۔ سید شجاعت حسینی کئی مہینوں سے ہندوستان کے کامیاب اداروں کا خوبصورت تعارف پیش کر رہے ہیں۔ اس شمارے میں انہوں نے اسلامک فاؤنڈیشن ٹرسٹ چنئی، کا مفصل تعارف پیش کیا ہے۔ اس تعارف کو پڑھنے کے بعد کافی حوصلہ ملتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   صرف جماعت اسلامی - آصف محمود

غازی بھائی ہر شمارہ میں کسی ایک فکری ، نظری یا عملی بیانیے کو شامل کرتے ہیں اور اس عنوان پر تبصروں کی صورت میں ایک اچھی بحث کو بھی جگہ دیتے ہیں۔ اس شمارہ میں استاد مصطفی محمد طحان کا مضمون "اسلامی تحریکات اور دیگر نظریات و مقاصد والوں کے ساتھ اشتراک عمل کا مسئلہ'' شامل کیا گیا ہے۔ استاد نے اپنے مضمون میں دنیا کی کئی اسلامی تحریکات کا ماڈل پیش کیا ہےاور نظریاتی اعتبار سے مخالف یا مختلف گروہوں سے عملی شراکت کی حمایت کی ہے۔

حال ہی میں جرمن کے عظیم اسلامی مفکر مراد ہوفمین کا انتقال ہوا۔ ان کی زندگی اور ان کے کارناموں پر اچھا مضمون کتاب میں شامل ہے۔ ڈاکٹر عمر چھاپرا، اسلامی اکنامکس کے ایک عظیم اسکالر مانے جاتے ہیں، ان کو شاہ فیصل ایوارڈ بھی دیا کیا گیا ہے۔، ان کی زندگی اور ان کی کتابوں پر ڈاکٹر وقار انور صاحب نے خوبصورت مضمون پیش کیا ہے۔

نظریہ ارتقاء پر ڈاکٹر محمد رضوان صاحب کے مضمون میں اردو قارئین کے لیے کئی نئی معلومات ہیں۔ اس شمارہ میں اس کی پانچویں قسط ہے۔ تاریخ اسلام کے درخشاں مناظر پر شیخ علی طنطاوی کے دل کو چھو لینے والے مضامین شائع ہوتے ہیں۔ اس ماہ مضمون میں ایک خاتون میسون کی زندگی کے درخشاں پہلو کا ذکر ملتا ہے۔ سفر ہجرت پر مفتی کلیم رحمانی کا مضمون بھی شمارہ میں شامل کیا گیا ہے۔

رسالہ کا آخری مضمون رسائل و مسائل ہے۔ اس عنوان کے تحت ہر شمارہ میں گزشتہ کئی سالوں سے ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی قارئین کے سوالات کا جواب دیتے ہیں۔ اس شمارہ میں بھی جمعہ کا روزہ، مسجد میں غیر قانونی استعمال، اور قرآن مجید کا ادب و احترام کو لے کر سوالوں کا جواب دیا گیا ہے۔

‌رسالہ میں کسی ایک کتاب کے اہم اقتباسات کو جگہ جگہ پیش کیا جاتا ہے۔ ان اقتباسات سے پوری کتاب کا مدعا واضع ہوتا ہے۔ اس شمارے میں ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کی کتاب "تحریک اسلامی عصر حاضر میں" سے اقتباسات لیے گئے ہیں۔ اتنا خوبصورت رسالہ شائع کرنے کے لیے ڈاکٹر محی الدین غازی صاحب مبارکباد کے مستحق ہیں۔

Comments

سہیل بشیر کار

سہیل بشیر کار

سہیل بشیر کار بارہ مولہ جموں و کشمیر سے ہیں، ایگریکلچر میں پوسٹ گریجویشن کی ہے، دور طالب علمی سے علم اور سماج کی خدمت میں دلچسپی ہے۔ پبلشنگ ہاؤس چلاتے ہیں جس سے دو درجن سے زائد کتابیں شائع ہوئی ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.