عورت مارچ - آصف محمود

پدر سری معاشرے میں عورت مارچ پورے اہتمام سے زیر بحث ہے۔ سوال یہ ہے ہم ہر معاملے میں رد عمل کی نفسیات کا شکار کیوں ہو جاتے ہیں ۔ کیا یہ صلاحیت ہم سے چھن چکی کہ ہم چیزوں کو تحمل ، اعتدال اور خیر خواہی سے دیکھ سکیں؟

عورت کون ہے؟ ماں ، بہن اور بیٹی ۔ لیکن ان رشتوں کے ساتھ ساتھ وہ ایک زندہ وجود بھی ہے جس کی بطور انسان ایک شناخت ہے ۔ یہ وجود اگر اپنے خیالات کا اظہار کرنا چاہتا ہے تو یہ ایک فطری تقاضا ہے اور انسانی حق بھی ۔ اس حق پر یہ کہہ کر پابندی نہیں لگائی جا سکتی کہ جب ہم مرد تمہارے حقوق کی بات کرنے کو موجود ہیں تو تمہیں بولنے کی اجازت نہیں ۔رشتوں کا احترام اور رشتوں کا ایک شجر سایہ دار کی صورت عورت کے ساتھ رہنا ایک الگ بات ہے لیکن رشتوں کو حق ملکیت بنا کر خود کو مالک اور عورت کو محض محکوم اور بے زبان چیز میں تبدیل کر دینے پر اصرار بالکل ایک دوسری چیز ہے۔اگلے روز ایک بینر دیکھا ۔ دائیں بائیں دو نوجوان کھڑے تھے اور بینر پر لکھا تھا : مرد عورت کا محافظ ہے۔ محافظ مرد کے پاس کیا اس سوال کا کوئی جواب ہے کہ عورت کو خطرہ کس سے ہے؟ چڑیا ، طوطے ، بکری ، چیل ، کوے اور کسی بھڑیے سے یا اسے یہ خطرہ بھی کسی مرد ہی سے ہے؟ ہمارے سماج کے دو بنیادی مسائل ہیں ۔ ایک مردانہ سماج میں برہمن تہذیب کے اثرات اور دوسرا دین کے باب میں ہمارا نقص فہم ۔

ہمارے ہاں عورت کو آج بھی برائی کا استعارہ سمجھا جاتا ہے۔ سرخ دوپٹہ نظر آتے ہی یہاں ’’ فحاشی فحاشی‘‘ کی دہائی شروع ہو جاتی ہے ۔ عورت کے بارے میں ہماری نفسیاتی گرہیں بہت شدید ہیں اور یہ کھلنے میں نہیں آ رہیں ۔ چنانچہ یہاں خواتین پر جتنے بھی مظالم ہو جائیں اہل مذہب برائے وزن بیت مذمت سے آگے نہیں بڑھتے لیکن عورت مارچ کے خلاف پورے اہتمام سے رد عمل دیا جا رہا ہے ۔ یوں لگ رہا ہے عالم اسلام کے خلاف سب سے بڑی سازش عورت مارچ ہے اور اسے نہ روکا گیا تو مسلم امت کی نشاۃ ثانیہ کا خواب ادھورا رہ جائے گا ۔ہمارے ہاں عورت کے فرائض پر دیوان لکھے جاتے ہیں لیکن ان کے حقوق کی بات آتی ہے تو گونگے ، بہرے اور اندھے ہو جاتے ہیں ۔ ہمارے دامن میں ایک ایک قول زریں ہے کہ اسلام نے عورت کو سب سے زیادہ حقوق دیے ۔ اور یہ بات درست بھی ہے۔ لیکن سوال اسلام کا نہیں سوال مسلمانوں کا ہے ۔ اپنے اپنے گریبان میں جھانک کر بتائیے عورت کو جو حقوق اسلام نے دیے کیا ہم مسلمان عورت کے ان حقوق کو مختلف عنوانات کے تحت غصب نہیں کیے بیٹھے؟

یہاں تو عالم یہ ہے جن کی بہنوں کی شادیاں اس خوف سے قرآن پاک سے کر دی جاتی ہیں کہ نہ باہر بیاہی جائیں گی نہ جاگیر تقسیم ہو گی ، ان گھرانوں کے فرزندان گرامی پارلیمان میں معزز رکن کے طور پربر سوں تشریف فرما رہتے ہیں اور باسٹھ تریسٹھ پر پورا اترتے رہتے ہیں اور روشن خیال سیاست کی منڈیر کو بھی منور کرتے رہتے ہیں۔آزادی رائے اگر جمہوری معاشروں کا حسن ہے تو عورت کو اس حق سے کیسے محروم کیا جا سکتا ہے۔ مرد حضرات مختلف عنوانات کے ساتھ جلسے جلوس اور اجتماعات منعقد کر سکتے ہیں تو عورت مارچ کیوں نہیں ہو سکتا ۔ اخلاقی اقدار سے البتہ اسے بے نیاز نہیں ہونا چاہیے لیکن اخلاقی اقدار کے بارے میں حساسیت بھی صرف عورتوں کے لیے نہیں ہوتی اس کا اطلاق مردوں پر بھی ہوتا ہے۔عورت مارچ کے بارے جو ہدایات سامنے آئی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ان اقدار کے باب میں وہاں بھی حساسیت پائی جا رہی ہے اور ان کا خیال رکھا جا رہا ہے۔ تاہم ان اقدار کو اگر اس مارچ میں پامال کیا جاتا ہے تو سماج خود اس بے ہودگی کو ٹھکرا دے گا ۔

یہ سرے سے کوئی چیلنج ہی نہیں کہ اسے اس شدت سے موضوع بحث لایا جاتا ۔ اس صورت میں ناپسندیدگی کے اظہار اور اس حرکت پر نقد کرنے کا حق موجود ہے ۔اور یہ کافی ہے۔ ضرورت سے زیادہ رد عمل سے کبھی خیر برآمد نہیں ہوا۔ ہمیں بطور معاشرہ رد عمل کی نفسیات سے نکلنا ہو گا۔یہ نفسیات معاشرے کے ارتقاء کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ یہاں معاملہ یہ ہے کہ جہاں رائے کا اختلاف سامنے آیا وہاں عصبیت ہی فیصلہ کن عامل ٹھہری۔ جس نے ہماری تعبیر زندگی سے ہٹ کر کچھ کیا وہ راندہ درگاہ ہو گیا۔ اس کی حب الوطنی بھی مشکوک ہے اور وہ مسلمانوں کے خلاف سب سے بڑی سازش کا مہرہ بھی ہے۔ ہمیں یہ حقیقت جان لینی چاہیے کہ کوئے یار اور سوئے دار کے بیچ بھی کچھ مقامات ہوتے ہیں۔ معاشرے میں تنوع ایک فطری امر ہے۔ یہاں بہت سے کام بیک وقت ہو رہے ہوتے ہیں ۔ آرٹ اور کلچر کی دنیا میں بھی کام ہو رہا ہے اورفقہ اور علم الکلام کی دنیا میں بھی ۔

نور جہاں گانے گا رہی ہوتی ہیں اور سید مودودی اور امین احسن اصلاحی تجدیدو احیائے دین کا کام کر رہے ہوتے ہیں ۔ یہ سارے رنگ معاشرے کے رنگ ہوتے ہیں۔ بعض رنگوں میں گاہے شدت بھی آ جاتی ہے اور کچھ رنگ نظروں کو بالکل نہیں بھاتے۔ اس صورت میں کچھ چیزوں کو نظر انداز کر دینا چاہیے۔ نظر انداز کر دینا ممکن نہ ہو تو اپنی رائے کا اظہار کر کے آگے بڑھ جانا چاہیے ، لیکن اسے کسی جنگ و جدل کا میدان نہیں بنا لینا چاہیے۔ جو رنگ بھلا نہیں ہو گا وہ زیادہ عرصہ نہیں چلے گا۔ اس کی چمک دمک خود ہی ختم ہو جائے گی۔ معاشرے کا ایک اجتماعی ضمیر ہوتا ہے۔ یہ چھلنی کا کام کرتا ہے۔ اصلاح کے لیے کرنے کا کام اتنا ہی ہے کہ خرابی کی نشاندہی کر دی جائے اور اس اجتماعی ضمیر کومخاطب بنایا جائے۔ اس کے سامنے بات رکھ دی جائے کہ یہ درست ہے اور یہ غلط ۔ ہر بات پر لٹھ لے کر کھڑے ہو جانا اور ہر معاملے میں غیر معمولی رد عمل کی نفسیات سے سوچنا مناسب نہیں ہوتا ۔ معاشرے کو اگر فطری انداز سے آگے بڑھنا ہے تو اسے اختلاف اور تنوع کو برداشت کرنا ہو گا۔

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com